Inquilab Logo

اس مرتبہ لوک سبھا میں اپوزیشن تعداد کے ساتھ ہی صلاحیتوں کے لحاظ سے بھی مالا مال ہے

Updated: June 23, 2024, 3:34 PM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai

گزشتہ لوک سبھا میں اپوزیشن بہت کمزور تھی، اس کے باوجود راہل گاندھی، ششی تھرور، مہوا موئترا، گورو گوگوئی، سپریہ سلے، ڈمپل یادو اور اسدالدین اویسی جیسے اراکین نے حکومت کے ناک میں دم کررکھا تھا۔ اس مرتبہ ان اراکین کے ساتھ ہی کچھ اور چہرے بھی پارلیمنٹ میں موجود ہوں گے، جنہیں دیکھ کر حزب اقتدار کے یقیناً پسینے چھوٹیں گے۔ ان میں اکھلیش یادو، چندر شیکھر آزاد، عمران مسعود، میسا بھارتی اور پپو یادو جیسے سینئر اراکین کے ساتھ ہی اقراء چودھری، پریہ سروج، ضیاء الرحمان برق، ساگر کھانڈرے، سنجنا جاٹو، تنوج پونیا اور شفیع پرامبل کے نام قابل ذکر ہیں۔

Chandrasekhar Azad Nagina (Uttar Pradesh) Azad Samaj Party (Kanshi Ram). Photo: INN
چندر شیکھر آزاد نگینہ (اترپردیش) آزاد سماج پارٹی (کانشی رام)۔ تصویر : آئی این این

جن لوگوں نے کھیتی کسانی کی ہے، وہ جانتے ہیں کہ سرکش بیل کو قابو میں کرنے کیلئے اسے ’ناتھ‘ پہنایا جاتا ہے۔ اس کے بعد نہ صرف اس کی ساری سرکشی ختم ہوجاتی ہے بلکہ آسانی سےجہاں ضرورت ہو، اسے دائیں بائیں گھمایابھی جاسکتا ہے۔ گزشتہ دنوں انتخابی نتائج ظاہر ہوئے تو اسے دیکھ کر کچھ ایسا ہی لگا کہ اس مرتبہ رائے دہندگان نے مرکز کی ’بے لگام‘ حکومت کو ’ناتھ‘ پہنادیا ہے اور اس کی بے قابو چال کو قابو میں کرنے کیلئے اپوزیشن کو طاقت بخش دی ہے۔ ۱۸؍ویں لوک سبھا میں ایک جانب جہاں حکمراں طبقے کی طاقت کم کرکے اسے۲۹۳؍ پر محدود کردیا ہے وہیں دوسری جانب اپوزیشن کو اسی تناسب میں طاقت اور مضبوطی عطا کی ہے۔ حکومت پر نظر رکھنے والی جماعتوں کو اس مرتبہ ۲۵۰؍ سے زائد سیٹیں ملی ہیں۔ حزب اختلاف کی یہ مضبوطی صرف تعداد کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ صلاحیتوں کے لحاظ سے بھی ہے۔ 
 گزشتہ لوک سبھا میں اپوزیشن بہت کمزور تھی، اس کے باوجود راہل گاندھی، ششی تھرور، مہوا موئترا، گورو گوگوئی، سپریہ سلے، ڈمپل یادو اور اسدالدین اویسی جیسے اراکین نے حکومت کے ناک میں دم کررکھا تھا۔ اس مرتبہ اُن اراکین کے ساتھ ہی کچھ اور چہرے بھی پارلیمنٹ میں موجود ہوں گے، جنہیں دیکھ کر حزب اقتدار کے یقیناً پسینے چھوٹیں گے۔ ان میں اکھلیش یادو، چندر شیکھر آزاد، عمران مسعود، میسا بھارتی اور پپو یادو جیسے سینئر اراکین کے ساتھ ہی اقراء چودھری، پریہ سروج، ضیاء الرحمان برق، ساگر کھانڈرے، سنجنا جاٹو، رقیب الحسین، عبدالصمدصمدانی، سیانی گھوش، مولانا محب اللہ ندوی، پشپیندر سروج، پرینکا جرکی ہولی، شفیع پرامبل، ورشا گائیواڑ، دپیندر سنگھ ہڈا، عیسیٰ خان چودھری اور تنوج پونیا کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان اراکین کے ساتھ ہی امید کی جاتی ہے کہ بہت جلد اس فوج میں اپوزیشن کی ایک طاقتور اور مضبوط آواز کے طور پر پرینکا گاندھی بھی شامل ہوجائیں گی جنہیں دیکھ اور سن کر حکمراں طبقے کی نیند حرام ہوجاتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بی جے پی کے ساتھ ٹی ڈی پی اور جے ڈی یو کا رشتہ کتنا مستحکم؟

سولہویں اور سترہویں لوک سبھا سے اٹھارہویں لوک سبھا کس قدر مختلف ہوگی، ذیل کی سطروں میں ہم انہیں کا سرسری جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔ گزشتہ لوک سبھا میں اپوزیشن کے اراکین کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے پارلیمانی اجلاس میں انہیں بولنے کا موقع کم ملتا تھا، لیکن اس بار کم و بیش حزب اقتدار کے برابر ہی حزب اختلاف کو بھی موقع ملے گا۔ گزشتہ لوک سبھا میں اپوزیشن کے اراکین کی تعداد چونکہ کم تھی، اسلئے وہ کمزور بھی تھی، جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اکثر اس کے اراکین کو مختلف بہانوں سے ایوان سے باہر کردیا جاتا تھا لیکن اس بار یہ بھی آسان نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مرتبہ اپوزیشن کے اراکین ہر طرح کے حربوں اور اسلحہ سے لیس ہیں۔ یہ نوجوان اراکین تیز طرار ہیں، اچھے مقرر ہیں، قانون کے جانکار، جدوجہد کرنے والے اور عوام کو اپیل کرنے کی طاقت رکھنے والے ہیں۔ انہیں ایوان سے باہر کیا بھی گیا تو یہ باہر رہ کر بھی حکومت کو گھیرنے اور اسے بے نقاب کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کی سوشل میڈیا پر بھی اچھی گرفت ہے اور ان کے فین فالووَرس کی تعداد خاصی ہے۔ اسی طرح ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی سیاست کا آغاز زمانہ طالب علمی سے کیا ہے اور کیمپس کے ساتھ ہی سڑکوں کی سیاست کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ 
 ان سطروں میں ہم راہل گاندھی، ششی تھرور، مہوا موئترا، گورو گوگوئی، سپریہ سلے، ڈمپل یادو، اسدالدین اویسی، اکھلیش یادو، چندرشیکھر آزاد، عمران مسعود، میسا بھارتی، پپو یادو، منیش تیوار ی اور پرینکا گاندھی پرگفتگو نہیں کریں گے کیونکہ ان کے بارے میں کم و بیش سبھی جانتے ہیں۔ ہم بات کریں گے اُن نئے چہروں کی جو ملک کی امید بن کر ابھرے ہیں۔ 
اقراء منورحسن چودھری

اقراء منور چودھری، کیرانہ  (اترپردیش) سماجوادی پارٹی
 نئے اراکین میں اقراء منورحسن چودھری نےسب سے زیادہ شہرت حاصل کی ہے۔ یہ شہرت انہیں صرف نمایاں کامیابی کی وجہ سے نہیں ملی ہے بلکہ ان کی گفتگو کے انداز، ان کی سوچ اور ان کے کام کرنے کے طریقوں سے انہیں ملی ہے۔ ان کی انتخابی مہم میں کوئی بڑا لیڈر شامل نہیں ہوا تھا جبکہ ان کے مخالف امیدوار کیلئے مرکزی لیڈروں کے ساتھ ہی یوگی اوران کی پوری ٹیم لگی ہوئی تھی اور یکے بعد دیگرے کئی ریلیاں انہوں کی تھیں۔ ہندو مسلم بھی خوب کی گئی تھی لیکن اقراء نے ہار نہیں مانی۔ وہ روزہ رکھ کر انتخابی مہم چلاتی تھیں اور مغرب کے وقت افطار میں عوامی سطح پر لوگوں سے ملاقاتیں کرتی تھیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ میں کیرانہ سے یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ بی جے پی کے ان مہارتھیوں کو سماجوادی کا ایک پیادہ بھی شکست دے سکتا ہے۔ انتخاب جیتنے کے بعد کسی نے ان سے پولرائزیشن کی سیاست پرسوال کیا تو انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران کسی نے کچھ بھی کہا ہو، لیکن اب میں ان باتوں کو یاد نہیں رکھنا چاہتی۔ اب میں صرف اپنے ووٹرس کی نہیں بلکہ پورے کیرانہ کی نمائندہ ہوں۔ سابق اراکین پارلیمان منور حسن اور تبسم چودھری کی ۲۷؍ سالہ ہونہار صاحبزادی اقراء چودھری نے دہلی کے معروف تعلیمی ادارے لیڈی شری رام کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد دہلی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد بین الاقوامی قانون اور سیاست میں پوسٹ گریجویشن کی تعلیم کیلئے لندن کا رُخ کیا جہاں پر انہوں نے ہندوستان کے متنازع شہریت قانون کے خلاف ایک زبردست مظاہرہ کیا تھا۔ اس احتجاج کی وجہ سے وہ سرخیوں میں آئی تھیں۔ اقراء نے کیرانہ کی بیٹی کے طورپر اپنی بہت اچھی شناخت بنائی ہے۔ 
رقیب الحسین 

رقیب الحسین، ڈھبری (آسام) کانگریس
آسام کے ڈھبری لوک سبھا حلقے سےمولانا بدرالدین اجمل جیسے سینئر لیڈر کو ۱۰؍ لاکھ سے زائد ووٹوں سے شکست دے کر ریکارڈ بنانے والے رقیب الحسین کوئی نئے کھلاڑی نہیں ہیں۔ وہ پانچ مرتبہ اسمبلی انتخابات میں کامیاب ہوچکے ہیں اور آسام کی مختلف حکومتوں میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کرنے والے رقیب الحسین کے والد حاجی نورالحسین بھی کانگریس کے ریاستی وزیررہ چکے ہیں۔ وہ بہت اچھے مقرر ہیں اور سڑکوں کی سیاست کا بہترین تجربہ رکھتے ہیں۔ 
عبدالصمد صمدانی

عبدالصمد صمدانی، پونانی (کیرالا) انڈین یونین مسلم لیگ
کیرالا کے پونانی لوک سبھا سے کامیاب ہونے والے مسلم لیگ کے تیز طرار لیڈر عبدالصمد صمدانی کئی زبانوں پر عبور رکھنےوالے ایک بہترین مقرر ہیں۔ گزشتہ لوک سبھا میں وہ دو سال کیلئے ضمنی الیکشن جیت کر پہنچے تھے۔ اس طرح سے یہ ان کا دوسرا ٹرم ہوگا۔ اس مرتبہ چونکہ مسلم لیگ کے چار اراکین ہیں، اسلئے انہیں پارلیمنٹ میں بولنے کا موقع مل سکتا ہے۔ یہ ایک اچھے مترجم بھی ہیں۔ انہوں نے منموہن سنگھ، سونیا گاندھی، راہل گاندھی، غلام نبی آزاد، کپل سبل، ملائم سنگھ یادو، ارجن سنگھ، کلدیپ نیر اور علی سردار جعفری جیسی سیاسی اور ادبی شخصیات کی تقریروں کا ترجمہ کیا ہے۔ 
سیانی گھوش

سیانی گھوش، جادو پور (مغربی بنگال) ترنمول کانگریس
سیانی گھوش فلموں سے سیاست میں آئی ہیں اور مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کی ’یوتھ وِنگ‘ کی سربراہ ہیں۔ گزشتہ اسمبلی الیکشن میں بی جے پی امیدوار سے ہار گئی تھیں لیکن اس بار انہوں نے جادو پور لوک سبھا حلقے سے ڈھائی لاکھ سے زائد ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی ہے۔ ممتا بنرجی کے ساتھ رہ کر انہوں نے بھی سڑکوں کی سیاست کا خوب تجربہ حاصل کیا ہے۔ 
مولانا محب اللہ ندوی

مولانا محب اللہ،رام پور (اترپردیش)سماجوادی پارٹی

پارلیمنٹ کی مسجد کے پیش امام مولانا محب اللہ ندوی اترپردیش کے رام پور لوک سبھا سیٹ سے پارلیمنٹ پہنچے ہیں اور اس طرح وہ کسی مسجد کے پہلے امام ہیں جو پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں۔ ان سے قبل جتنے بھی علمائے کرام (مولانا ابوالکلام آزاد سے مولانا بدرالدین اجمل تک)پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں، وہ کسی مسجد کے باقاعدہ امام نہیں رہے ہیں۔ اعظم خان کی مخالفت کے باوجود انہیں ۸۷؍ ہزار سے زائد ووٹوں سے کامیابی ملی ہے۔ مولانا محب اللہ ندوی برسوں سے پارلیمنٹ کے قریب واقع جامع مسجد میں امامت کرتے رہے ہیں، اسلئے لوک سبھا میں انہیں اجنبیت کااحساس نہیں ہوگا۔ 
پریہ سروج

پریہ سروج، مچھلی شہر  (اترپردیش)سماجوادی پارٹی
یوپی کے مچھلی شہر لوک سبھا سے سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ۲۵؍ سالہ پریہ سروج سپریم کورٹ کی ایک تیز طرار وکیل ہیں اور سابق رکن پارلیمان طوفانی سروج کی بیٹی ہیں۔ لوک سبھا انتخابات کے دوران ان کا ایک ویڈیو خوب وائرل ہوا تھا جس میں وہ کہہ رہی تھیں کہ’’نہ ہندو خطرے میں ہے، نہ مسلمان خطرے میں ہے لیکن اگر یہ بی جے پی والے رہ گئے تو ملک کا آئین ضرور خطرے میں پڑ جائے گا۔ اصل خطرہ ہندوستان کو ہے اور یہ خطرہ بی جے پی سے ہے۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ’’ دوران انتخابات مجھ پر ۲۵؍سے زائد کیس کئے گئے ہیں لیکن کوئی بات نہیں ... اور کرو، میں اپنا کیس خود ہی لڑ لوں گی۔ ‘‘ 
ساگر کھانڈرے

ساگر کھانڈرے، بیدر (کرناٹک)کانگریس
کرناٹک کے بیدر لوک سبھاحلقے سے کانگریس کے ٹکٹ پرکامیاب ساگر کھانڈرے نے اپنی عملی سیاست کا آغاز زمانہ طالب علمی ہی سے کردیا تھا۔ قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے ۲۶؍ سالہ ساگر کھانڈرے کانگریس کی طلبہ تنظیم ’این ایس یو آئی‘ کے ریاستی جنرل سیکریٹری ہیں، اسلئے کیمپس سے سڑکوں تک کی سیاست سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کے والد کرناٹک حکومت میں وزیر ہیں۔ 
پرینکا جرکی ہولی