عدالتوں کی نیت پر شبہ نہیں کیا جاسکتا مگر ایک جیسے قوانین کی الگ الگ تشریحات عوام کیلئے پریشان کن ضرور ہیں، عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں سپریم کورٹ کی ۲؍ رکنی بنچ نےجو موقف اختیار کیا ہے ا س کیلئے اس کے اپنے دلائل ہیں مگر چکّا جام اور سڑکوں پر دھرنےکو’دہشت گردی‘ کے زمرہ میں لانے کا اشاریہ ہی تشویشناک ہے۔
پولیس حراست میں شرجیل امام۔ تصویر: آئی این این
عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے مسترد کرنے کے ایک دن بعد کہ مقدمہ میں تاخیر کو ضمانت کیلئے ’’ٹرمپ کارڈ‘‘ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، منگل کو اُسی سپریم کورٹ کی دوسری بنچ نے آمٹیک گروپ کے سابق چیئر پرسن اروند دھام کو یہ کہتے ہوئے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم سنایا کہ’’ آئین کے آرٹیکل ۲۱؍ میں تیز رفتار سماعت کے جس بنیادی حق کی ضمانت موجود ہے وہ جرم کی نوعیت کی بنیاد پر مندمل نہیں ہوجاتا۔ ‘‘
اروند دھام ۱۶؍ مہینوں سے جیل میں تھے۔ جسٹس سنجے کمار اور جسٹس آلوک ارادھیہ نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے یہ نشاندہی بھی کی کہ کئی ایسے معاملات میں جن میں قید کی مدت ۳؍ سے ۱۷؍ مہینے کے درمیان رہی ہے، سپریم کورٹ نے ضمانت دینے کیلئے ’’طویل قیدوبند‘‘ کو جواز کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ بنچ نے مزید کہا کہ مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہونے سے قبل ملزم کی طویل قیدکی اجازت اس لئے نہیں دی جاسکتی کہ یہ قیدسماعت سے قبل ہی سزا کے مترادف ہے۔ ٹائمز آف انڈیا میں اروند دھام کی ضمانت کی خبر لکھتے ہوئے امیت آنند چودھری نے عمر خالد اور شرجیل امام کے تعلق سے سپریم کورٹ کی ہی دوسری بنچ کے ذریعہ اختیار کئے گئے موقف کا حوالہ بھی دیا ہے اور کسی تبصرہ کے بغیر یہ نشاندہی کی ہے کہ یو اے پی اے کی دفعہ ۴۳؍ ڈی (۵) اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ ۴۵؍ میں ضمانت کے تعلق سے ایک جیسی شرائط ہیں۔ اروند دھام منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت ماخوذ ہیں جبکہ عمر خالد اور شرجیل امام کو یو اے پی اے کے تحت ملزم بنایاگیا ہے۔ جیسا کہ جسٹس سنجے کمار اور جسٹس آلوک ارادھیہ کی بنچ نے حوالہ دیا ہے، سپریم کورٹ ایک سے زائد بار ’’ضمانت معمول ہے اور جیل استثنیٰ‘‘ کے اصول کی بنیاد پر ملزمین کو ضمانت پر رہا کرنے کی وکالت کرچکاہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی فساد کی مبینہ’’وسیع تر سازش کیس‘‘ میں ایک ہی مقدمہ میں ایک جیسے الزامات کا سامنا کرنے والے ملزمین کی درجہ بندی، ۵؍ کی رہائی اور ۲؍(عمر اورشرجیل) کو ضمانت نہ دینے کا فیصلہ قانونی حلقوں میں موضوع ِ بحث ہے۔ ہم نہ قانون کے ماہر ہیں نہ عدالتی فیصلوں کا تجزیہ کرنا ہمارے بس کی بات ہے، تاہم عدالتی خبروں پر نظر ضرور رہتی ہے۔ اس بنیاد پر یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح سپریم کورٹ نے ایک ہی مقدمہ میں ایک ہی جیسی دفعات کے تحت ماخوذ کئے گئے ملزمین کی الگ الگ درجہ بندی کی ہے، اس کی مثال کم از کم ہماری نظروں سےتو نہیں گزری۔ قانونی ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ عدالت نے جن بنیادوں پر یہ طے کیا ہےکہ اس کیس میں عمر خالد اور شرجیل امام دیگر ملزمین سے’’مختلف حیثیت‘‘ رکھتے ہیں وہ خود کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ یہ دونوں دہلی فسادکے وقت دہلی میں نہیں تھے۔ شرجیل امام تو’’چکّا جام ‘‘ کانعرہ دینے پر فسادات سے تقریباً ایک ماہ قبل ہی گرفتار کرلئے گئے تھے جبکہ عمر خالد دہلی سے باہر تھے۔ ان کی عدم موجودگی کو ہی دہلی پولیس نے سازش کا ثبوت بنا کر پیش کردیا جو منطق اور قانون دونوں کے اصولوں سے متصادم محسوس ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’منریگا‘ کی جگہ پر لائی گئی نئی اسکیم سے گاندھی کا نام مٹا نا اچھا ہی ہوا ہے
آگے بڑھنے سے پہلے اس بات کو تازہ کرلینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمٰن، سلیم خان اور شاداب احمد کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہروں کی قیادت کی اوراسے رُخ دیا۔ اس احتجاج کے دوران بھگوا عناصر کی جانب سے کئی بار شرانگیزی کی گئی، فائرنگ ہوئی اور آخر آخر میں بی جےپی کے لیڈر کپل مشرا جو اَب دہلی سرکار میں وزیر ہیں، نے ڈی سی پی کے سامنے علی الاعلان قانون کو ہاتھ میں لینے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد ہی دہلی میں فساد ہوا۔ پولیس نے شرپسندی کرنے والوں، مظاہروں کو بنیاد بنا کر فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے والوں، پولیس کی ماجودگی میں قانون اپنے ہاتھ میں لینےوالوں اور گولی مارو...کا نعرہ دینےوالوں کو نظر انداز کرتے ہوئے فسادکا الزام شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ہونے والے مظاہروں پرتھوپ دیا اور احتجاج کی قیادت کرنے والے نوجوان لیڈروں کو فساد کی ’’وسیع ترسازش ‘‘کاملزم بنا کر یو اے پی اے کے تحت ماخوذ کردیا۔ یہ بھی کم دلچسپ نہیں کہ یہ پورا کیس اُن ’’تحفظ فراہم کردہ‘‘ گواہوں پر ٹکا ہوا ہے جن سے دفاعی وکلاء کو جرح کی اجازت نہیں ہوگی، یعنی دفاعی وکلاء کو انہیں جھوٹا ثابت کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ یہ اس لئے اہم ہے کہ ’اِسکرول ڈاٹ کام‘ اپنی ایک رپورٹ میں یہ سنسنی خیز انکشاف کرچکا ہے کہ یہ گواہ پولیس نے ’’جبریہ ‘‘ تیار کئے ہیں۔
اس پس منظر میں عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار محض ۲؍ افراد کا معاملہ نہیں بلکہ ہندوستانی جمہوریت، آئینی اقدار اور شہری آزادیوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک سنگین سوال بن جاتا ہے۔ اس فیصلے کا سب سے تشویشناک پہلو یو اے پی اے ایکٹ کی دفعہ۱۵؍کی تشریح ہے۔ یہ قانون دہشت گردی کو ایسے افعال سے جوڑتا ہے جو بم، اسلحہ یا دیگر پُرتشدد ذرائع سے خوف پیدا کریں۔ مگر عدالت نے دفعہ۱۵؍میں موجود ’’کسی بھی نوعیت کے دیگر ذرائع ‘‘ کی ایسی تشریح کو قبول کرلیا ہے جس میں چکّا جام اور سڑکوں کو جام کرنا بھی دہشت گردی کے دائرے میں آ جاتاہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اگر حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے سڑک جام کرنا دہشت گردی ہے، تو پھر کسان تحریک، مزدور تحریک، عمومی احتجاجی مظاہرے اور حد تو یہ ہے کہ تحریک آزادی کئی ابواب اس تعریف کے تحت ’دہشت گردی‘قرار پائیں گے۔ اسی بنیاد پر آئینی امور کے معروف ماہر گوتم بھاٹیہ نے سپریم کورٹ کی بنچ کو اس معاملے میں ’’غیر محتاط‘‘ قراردیاہے۔
انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ ’’دہشت گردی کی ایسی غیر واضح تعریف کم وبیش ہر قسم کی سو ِل نافرمانی پریو اے پی اے کے تحت مقدمے اور طویل قید و بند کا راستہ ہموار کردیتی ہے۔ ‘‘ مجموعی طور پر عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے یو اے پی اے کے تحت ’’دہشت گردی ‘‘ کی ایسی وسیع اور ڈھیلی ڈھالی تشریح کو جائز ٹھہرادیا ہے جس نے مستقبل کی عوامی تحریکوں کے حوالے سے بھی کئی اہم سوال کھڑے کردیئے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ سی پی ایم لیڈر برندا کرات نے انڈین ایکسپریس میں اپنے ایک مضمون میں اس فیصلے کو ’’ہندوستان کی آئینی جمہوریت کیلئے پریشان کن لمحہ ‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اُس ’’پیٹرن‘‘ کی طرف بھی توجہ دلائی ہے جس میں’’ اہم قوانین خاص طور سے یو اے پی اے کو قومی سلامتی کے اصل مقصد کیلئے استعمال کرنے کے بجائے اختلاف رائے کے مظاہرہ پر قید وبند کے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جارہاہے۔ ‘‘اس پس منظر میں اس معاملے میں اپوزیشن کی دیگر پارٹیوں کی خاموشی خود ان کیلئے بھی مستقبل میں پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔