Inquilab Logo Happiest Places to Work

میڈیا کے یہ ملازمین سماج کیلئے نقصاندہ ہوگئے ہیں

Updated: June 07, 2026, 6:13 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai

امتحانی بدنظمی پر جوابدہی کا مطالبہ کرنے کے بجائے بعض میڈیا ملازمین نے اساتذہ کی تذلیل کا جو رویہ اختیار کیا ہے وہ نوجوانوں کو تاریکی میں پہنچا سکتا ہے۔

Targeting teachers instead of speaking up for students is part of the strategy of corruption. Photo: INN
طلبہ کے حق میں  آواز بلند کرنے کے بجائے اساتذہ کو نشانہ بنانا حکمت ِبدعملی کا حصہ ہے۔ تصویر: آئی این این

ٹیلی وژن کے پرائم ٹائم شو پر کسی ٹافی کی خصوصیت اور ٹافی و جھالمڑی کے ذائقوں کا موازنہ کرنے والے میڈیا ملازم جب سماج سے متعلق سنجیدہ، اہم اور حساس موضوع پر زبان کھولتے ہیں تب بھی ان کا اندازاسی طرز کا ہوتا ہے۔ یہ میڈیا ملازم مذکورہ موضوع کے اہم و افادی پہلوؤں کی تفصیل بتانے اور اس موضوع کی سماجی معنویت کو اجاگر کرنے کی بجائے اپنی اقتدار پرست میڈیا کمپنی کے تیار کردہ ’لالی پاپ‘کو ناظرین تک پہنچا کر یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اپنے پیشے کے اخلاقی تقاضوں کی تکمیل کردی حالانکہ سچائی یہ ہے کہ صحافتی اخلاقیات کو پامال کرنا ان کا شیوہ ہو گیا ہے۔ ایسے میڈیا ملازمین کو صحافی کہنا اس پیشے کی تقدس کو مجروح کرنا ہے۔ اس وقت الکٹرانک میڈیا میں ایسے نام نہاد صحافیوں کا وہ گروہ سرگرم ہے جسے ایک منظم حکمت عملی کے تحت میڈیا اداروں میں معزز مقام عطا کیا گیا اور ان کی ذہن سازی اس طور سے کی گئی کہ ہر معاملہ میں اقتدار کی خوبی و اچھائی کی نشر و اشاعت ان کا اولین فریضہ بن گیا خواہ اقتدار کی پالیسیاں اور منصوبے عوام کیلئے کتنے ہی نقصان دہ اور پریشان کن رہے ہوں۔ اقتدار پرستی کا یہ انداز درحقیقت صحافت کے ان اصولوں کے عین خلاف ہے جن کی رو سے اقتدار کی کارکردگی پر سوال کرنا اور عوام و سماج سے متعلق اقتدار کے فیصلوں کے مثبت و منفی ہر دو پہلو کو اجاگر کرناصحافی کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سچ تو یہی ہے کہ حشرات الدہر سے زیادہ عوام کی حیثیت نہیں

ملک کے چند بڑے کارپوریٹ گھرانوں کی اجارہ داری والے میڈیا سے وابستہ یہ ملازمین اپنی سماجی وابستگی سے اس حدتک بے حس ہو چکے ہیں کہ انھیں تعلیم و روزگار جیسے سنجیدہ اور اہم موضوعات کی حقیقی صورتحال سے عوام کو باخبر کرنے کی بجائے ان معاملات میں بھی اقتدار کی مرضی اور خواہش کا احترام زیادہ عزیز ہو گیا ہے۔ کبھی ملک کو پیپر لیک کی فیکٹری قرار دینے والوں  کو اب نیٹ جیسے اہم امتحان کے پیپر لیک کا معاملہ ایک ٹافی سے بھی کمتر لگنے لگا ہے اسی لیے اس موضوع پر زبان کھولنے سے مسلسل گریز کے علاوہ اپنی جی حضوری کرنے والے میڈیا ملازمین کے ذریعہ ملک میں ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی گئی کہ سسٹم کی خامیوں پر بات کرنے کی بجائے طلبہ اور اساتذہ کے کردار و عمل پر بات ہونے لگی۔ اپنی نام نہاد صحافتی دانش کے ذریعہ اساتذہ کی تذلیل کرنے والے میڈیا ملازمین بھی دراصل وہی راگ الاپ رہے ہیں جو گزشتہ دس بارہ برسوں سے اس ملک کی تعلیمی فضا میں گونج رہا ہے اور جس کا واحد مقصد اساتذہ کو ناکارہ، حقیر و ذلیل ثابت کرنا ہے۔ اس وقت اقتدار کے ساتھ ساتھ ان میڈیا ملازمین کا اس مقدس منصب کے تئیں جو رویہ ہے اسے دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ یہ وہی ملک ہے جہاں کبیر نے کبھی کہا تھا کہ گووند سے بڑا مرتبہ گرو کا ہوتا ہے۔ انسانی فہم و دانش کو ذات و کائنات کی آگہی عطا کرنے میں ایک معلم کا جو کردار ہوتا ہے اس کے تناظر میں کبیر کا یہ قول کچھ غلط بھی نہیں ہے۔ لیکن اس وقت سماجی سطح پر اس مقدس شعبے کی جو صورتحال ہے وہ انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جب سب کچھ جنتا ہی کو کرنا ہے تو سرکار کیا کرے گی؟

ملک گیر سطح پر امتحانات کے دوران ہونے والی بد نظمیوں اور بد عنوانیوں پر بات کرنے اور اقتدار کوان معاملات کی سنجیدگی و اہمیت کا احساس دلانے کی بجائے بعض میڈیا ملازمین نے اساتذہ کی تذلیل کا جو رویہ اختیار کیا وہ دراصل سماج میں ایسی گمراہی پھیلانے والا ہے جو نوجوان نسل کو مکمل طور پر تاریکی کے غار میں پہنچا سکتی ہے۔ ملک کے نوجوانوں کے اضطراب و مایوسی کا تدارک اب اس انداز میں کیا جارہا ہے کہ اگر وہ سسٹم کی خامیوں کے سبب اپنی برسوں کی محنت کے ضائع ہونے پر غم و غصہ کا اظہار کریں تو انھیں اور ان کی حمایت میں آواز اٹھانے والے اساتذہ کے کردار و عمل کو ہی مشکوک بنا دیا جائے۔ اقتدار پرست میڈیا ملازمین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی یہ مذموم حرکتیں اس سچائی کی پردہ پوشی کر دیں گی جو تلخ حقیقت بن کر نوجوانوں کی رگ و پے میں سرایت کرتی جارہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ

دھرم اور مصنوعی دیش بھکتی کا خمار بہت مدت تک ان حقائق کو روپوش نہیں رکھ سکتا جو سماج کے ہر طبقہ کیلئے سنگین مسائل کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ یہ مسائل خصوصی طور سے تعلیمی شعبے میں سنگین تر سطح پر پہنچ گئے ہیں ۔ تعلیمی شعبہ کو ان مسائل کے بھنور سے نکالنے کیلئے ضروری ہے کہ ٹھوس اور کارگر تدابیر کی جائیں نہ کہ اساتذہ کو ہی ہدف تنقید اور مورد الزام ٹھہرایا جائے۔ انسانی معاشرہ میں اساتذہ کی جو اہمیت ہے وہ ان میڈیا ملازمین اور بے حس اقتدارکے گمراہ کن رویے سے ختم نہیں ہو سکتی۔ میڈیا اور اقتدار کا یہ رویہ ممکن ہے کہ عارضی طور پر اس مقدس شعبہ کی اہمیت کو دھندلا کر دے لیکن جب وقت کا پہیہ اپنی متعینہ رفتار سے آگے بڑھتا ہوا اس مقام پر پہنچے گا جہاں اس شعبے کی تابانی دوبارہ عیاں ہوگی تو اس وقت اساتذہ کی تحقیر و تذلیل کرنے والے تمام عناصر ذلت اور رسوائی کی اس سطح پر پہنچ جائیں گے جہاں وہ خود اپنی ذات سے متنفر ہوں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK