کلاڑی سرنگ کے انہدام نے ایک بار پھر خطے کی ماحولیاتی حساسیت، بے قابو تعمیرات اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد میں سنگین کوتاہیوں پرسوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 24, 2026, 1:38 PM IST | Jimon Jacob | Mumbai
کلاڑی سرنگ کے انہدام نے ایک بار پھر خطے کی ماحولیاتی حساسیت، بے قابو تعمیرات اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد میں سنگین کوتاہیوں پرسوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
ایک دلکش اور پُر فضامقام کا تصور کریں جہاں باربار آنے والی قدرتی آفت سیاح کی طرح آتی ہے، ایک مہلک مثال قائم کرتی ہے اور مقامی متاثرین اس سے ہر سال مزید مانوس اورعادی ہوتے جاتے ہیں۔ شمال مشرقی کیرالا کے ایک اونچے پہاڑی علاقے وائناڈ میںقدرتی آفت کا ان دونوںہی پہلوؤںکومدمقابل رکھ کر موازنہ کیاجاسکتا ہے۔ ایک تو عام معنی ہےکہ کسی قدرتی آفت کا محض وقوع پذیر ہونا اور دوسرا یہ کہ حالات پھربے ترتیب ہوجائیںاورایسا لگے کہ سب کچھ بے وجہ ہوا، یعنی آفت کو ا نسانی المیہ میںبدلنے سے روکا جاسکتا تھا ۔ کلاڑی میں۷؍ جولائی کو ہونے والی حالیہ تباہی پہلی نظر میں ایسی ہی لگتی ہے۔ لیکن قریب سے دیکھنے سے حادثےکی گہرائی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ہم یہ سب پہلے بھی سن چکے ہیںکہ مانسون کی موسلادھار بارش کی وجہ سے ڈھیلی مٹی اور چٹانوں کا بڑا حصہ ٹوٹ جاتا ہے۔ صرف مقام، وقت، پیمانہ اور متاثرین کی تفصیلات مختلف ہوتی ہیں۔ میپاڑی کے قریب اناکمپوئیل کلاڑی سرنگ بھی مذکورہ تاریخ کو ایسے ہی حادثہ کی زد میں آئی جب وہاں بھوپال کی فرم دلیپ بلڈکون لمیٹڈ کا کام چل رہاتھا۔ جائے وقوع پرکام میں مصروف اچانک ملبے میں دب گئے ۔اس میں۸؍ کارکنو ںکی موت ہوگئی جن کا تعلق شمالی ریاستوں سے تھا۔
یہ جگہ چورل مالا سے صرف ۵؍ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں جولائی ۲۰۲۴ء میں طوفانی بارش کی وجہ سے دو پہاڑ وںسے چٹانوں کا ملبہ ٹوٹ کر گرا تھا ۔ یہ کیرالا کے بدترین سانحات میں سے ایک تھا جس میںکچھ گاؤںملبے میں بدل گئےتھے اوراس میں۴۲۰؍ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ خیر کہ اس بار اتنا نقصان نہیںہوا۔
یہ بھی پڑھئے: جب Logo صرف ’لوگو‘ نہ رہے، کہانیوں کیلئے بدلے، کہانیاں سنائے
حال کے حادثہ میں ۸ء۷۳؍کلومیٹر لمبی جڑواں سرنگ زد میں آئی جسے۲۱۳۴؍کروڑ روپے کی لاگت سے بنایا گیا تھا اور اگست ۲۰۲۵ء سے اس پر کام جاری تھا۔ کوزی کوڈ کی طرف جانے والی تمارا سیری گھاٹ روڈ پر ٹریفک کو کم کرنے کیلئے بنائی جانے والی اس سرنگ کی ان علاقوں میں مخالفت کی جارہی تھی ۔ سرنگ کی برسوں سے مخالفت کرتے آرہے وائناڈ ماحولیاتی تحفظ کونسل کے جنرل سیکریٹری۷۵؍ سالہ این بدوشا کا کہنا ہے’’کلاڑی سانحہ کوئی قدرتی آفت نہیں ہے بلکہ انسانی ساختہ ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ بائیں بازو کی پچھلی حکومت نے چورلمالا کے بعد بھی، خطے کی ماحولیاتی حساسیت پر غور کیے بغیر اس منصوبے کو آگے بڑھایا۔
بدوشا بتاتے ہیں’’ہمیں خدشہ ہے کہ اگر یہ منصوبہ جاری رہا اور پہاڑیوں کی اندرونی چٹانوں میں بڑے پیمانے پر سرنگیں بنائی گئیں تو مزید تباہی ہو سکتی ہے۔‘‘ان کی تنبیہات تاریخ کچے چٹھے سامنے لے آتی ہے۔ مادھو گاڈگل کمیٹی کی ۲۰۱۱ء کی رپورٹ نے وائناڈ کو تین زونوں میں تقسیم کیا تھا جو صرف خطرےکے لحاظ سے مختلف تھے: نازک،متعدل نازک اور کم نازک۔ جب انہوں نے وہاں ’ماحولیاتی طور پر خطرناک ‘سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا، تو یہ بالکل حقیقت پسندانہ تھا۔یہاں تک کہ مرکزی وزارت ماحولیات نے ۲۰۲۶ء میں دو تعلقوں کے ۱۳؍گاؤں کو ماحولیاتی طور پر حساس قرار دیا اور ریاست سے پتھر کی کان کنی اور بڑے تعمیراتی منصوبوں پر روک لگانے کا مطالبہ کیا پھر بھی، سرنگوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رہا۔
اس سے بھی بدتر یہ ہوا کہ کھدائی کے بعد مٹی کے ڈھیر بستیوں کے اوپر ڈھلوانوں پر ڈال دیے گئے۔ میپاڑی پنچایت کے صدر رملا حمزہ کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے اس کی نشاندہی کی اور کمپنی کو ہدایت دی کہ اسے مانسون سے پہلے ہٹا دیا جائے کیونکہ یہ مقامی باشندوںکیلئے خطرہ ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔‘‘ریاستی وزیر زراعت اور کلپیٹا کے ایم ایل اے ٹی صدیق نے بھی الزام لگایا کہ ضلع انتظامیہ نے کمپنی کو مٹی کو ہٹانے اور مانسون میں تعمیراتی کام روکنے کی ہدایات جاری کیں لیکن انہوں نے سائٹ پر کام جاری رکھا۔
یہ بھی پڑھئے: ۸۰؍ویں یوم آزادی پر اپنا محاسبہ، کس رخ پر جارہی ہے ہماری جمہوریت؟
سرنگ دھنسنے کے فوراً بعد کیرالا حکومت نے ٹنل پروجیکٹ پر کام روک دیا تھا اور الگ الگ تکنیکی اور ماحولیاتی تحقیقات کا حکم دیاتھا ۔ وزیر اعلیٰ وی ڈی ساتھیسن نے کہا تھا کہ تحقیقات کے نتائج سے سانحہ کی فوری وجہ بھی معلوم ہوگی اور یہ بھی پتہ چلے گا کہتعمیر کے دوران لازمی ماحولیاتی حفاظتی اقدامات کی پیروی کی گئی تھی یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تفتیش کار اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ آیا پروجیکٹ کی ماحولیاتی منظوری سے منسلک کئی اہم شرائط کی خلاف ورزی تو نہیں کی گئی تھی۔قابل ذکر ہےکہ مرکزی وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی ماہر تشخیص کمیٹی (ای اے سی) نے مئی۲۰۲۵ء میں اس منصوبے کی ماحولیاتی منظوری دیتے وقت۶۰؍ لازمی شرائط عائد کی تھیں۔
کیرالہ اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھاریٹی(کے ایس ڈی ایم اے) کے ایک سینئر اہلکار نےم ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ضوابط کے مطابق، کھدائی کے ملبے کو صرف منظور شدہ جگہوں پر ٹھکانے لگایا جانا چاہیے اور اس طریقے سے کہ مقامی ماحولیاتی توازن یا قریبی آبادیوں پر کوئی اثر نہ پڑے۔ اہلکار کے مطابق، قواعد کی مناسب تعمیل سے کھدائی کے بعد نکالی گئی مٹی کو شدید بارش کی میں قریبی ندیوں اور نالوں میں بہنے سے روکا جا سکتا تھا، اس طرح نشیبی علاقوں میں رہنے والے مکینوں کے لیے خطرہ کم ہوتا تھا۔
وائناڈ کے ماحولیاتی کارکن سریدھر رادھا کرشنن نے کہا کہ ماحولیاتی منظوری کیلئے انتظامیہ نے یہ شرط بھی رکھی ہےکہ علاقے میں چٹانیں کھسکنے کے زیادہ خطرے کے پیش نظر ٹیلی میٹری ٹرانسمیشن کے ساتھ زلزلے کی نگرانی کرنے والے چار خودکار اسٹیشنوں کی تنصیب بھی کی جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس اہم شرط پر بھی عمل نہیں کیا گیا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ماحولیاتی کلیئرنس کے تحت طے شدہ جنگلی حیات کے تحفظ کے بہت سے اقدامات ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ہیں۔ماہرین کی کمیٹی اب اس منصوبہ کا جائزہ لے گی ۔چورلمالا کے بعد، کیرالا نے لینڈ سلائیڈنگ کے لیے ابتدائی انتباہیسسٹم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن وائناڈ میں، نشیبی علاقوں سے متعلق انتباہات، لوگوں کو محفوظ نکالنے کے ضوابط اور آفت کی صورت میںآخری ذمہ دار تک اطلاع پہنچانےکا سسٹم ندارد ہے۔ یہ سستی مجرمانہ ہے، خاص طور پر کئی دہائیوں کی ظالمانہ کارروائیوں کے بعد جن میں جنگلات کا صفایا کیاگیا ، پہاڑیوں کو کاٹا گیا اور سرنگوں کو تباہ کیا گیا۔اڈوکی، پلکڑ اور وائناڈ کو تعمیراتی لابی نے نوآبادیات بنا دیا ہے۔ ان اقدامات کے نتائج موسمیاتی تبدیلیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں اورپیٹرن ہر سال دہرایاجارہا ہے۔