• Tue, 13 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نوجوانو! ہمیں ہر کریئر اور ہر پیشے میں حلال و حرام کی تمیز کرنی چاہئے

Updated: January 12, 2026, 4:50 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

طلبہ اور والدین کریئر کے ضمن میں رہنمائی کیلئے جب ہم سے رجوع کرتے ہیں تواُن میں سے کامرس کے طلبہ کی بڑی اکثریت برسہابرس سے ایک سوال ضرور پوچھتی ہے کہ کامرس کے طلبہ کیلئے بینکنگ کے پیشے کو اپنانا کیسا ہے ؟

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

طلبہ اور والدین کریئر کے ضمن میں رہنمائی کیلئے جب ہم سے رجوع کرتے ہیں تواُن میں سے کامرس کے طلبہ کی بڑی اکثریت برسہابرس سے ایک سوال ضرور پوچھتی ہے کہ کامرس کے طلبہ کیلئے بینکنگ کے پیشے کو اپنانا کیسا ہے ؟ اُن کا براہِ راست سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا سُودی نظام والے بینکوں میں ملازمت کرنا جائز ہے ؟ بلکہ مزید وضاحت ان الفاظ میں چاہتے ہیں کہ بینکوں کی کمائی حلال ہے یا نہیں ؟
دینِ اسلام میں سُود ممنوع یا مکروہ نہیں بلکہ حرام ہے۔ قرآن وحدیثؐ نے تو اُسے اللہ کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔ آج عالمی سطح پر سُودی نظام پوری انسانیت پر جو قہر ڈھا رہا ہے اُ س سے پتہ چلتا ہے کہ سُود کے خلاف قرآن نے اس قدر سخت الفاظ کیوں استعمال کئے ہیں۔ اِس ضمن میں یہ بنیادی سوال تو پیدا ہوتا ہی ہے اگر سُود کے تعلق سے اس درجہ وعید ہے یعنی اللہ نے ہمیں اس دنیا میں ایک ہوم ورک یہ دیا ہے کہ ہم ایک غیرسودی نظام قائم کریں اور اسے کامیابی کے ساتھ رائج کریں۔ ہم اُ س میں ناکام ہوئے اور بُری طرح ناکام ہوئے۔ آج دنیا بھر کے پورے معاشی نظام کوسُود کے اژ دہوں نے اپنا شکار بنارکھا ہے اور ہم اور ہمارے ماہرین معاشیات بے حِس ہو کرتماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اللہ کرے کم از کم اس صدی میں ہم سُود کے عذاب سے نسلِ انسانیت کو آزاد کرپائیں ! اب یہاں ایک بڑا سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ہر بار صرف بینکوں میں ملازمت کرنے پر ہی حلال و حرام کا معاملہ کیوں زیر بحث رہتا ہے؟ دوسرے پیشوں کو اپناتے وقت اس پر کوئی فکرکیوں نہیں کی جاتی حا لانکہ حلال/ حرام کا سوال تو ہر جگہ ہونا چا ہئے۔ مثلاً! 
(۱) میڈیکل کے پیشے میں بھی حلال/حرام کی کسوٹی پر ہمیں سارے معاملات کو پرکھنا ہے۔ ڈاکٹروں کویہ سوچنا چاہئے کہ وہ جان بوجھ کر کئی قسم کے مہنگے ٹیسٹ کرنے کا مشورہ تو نہیں دے رہے ہیں، صرف اس لالچ میں کہ اُن مہنگے ٹیسٹ کرنے والے لیب سے کمیشن کی موٹی رقم کا لفافہ کواُن کو مل جائے گا ؟ کہیں وہ جان بوجھ کر بہت مہنگی دوائیاں مریضوں کو کھانے کا مشور ہ تو نہیں دے رہے ہیں تاکہ فارماکمپنی سے انھیں کمیشن ملے بلکہ سال کے آخر میں فارما کمپنیوں سے ڈاکٹروں کوفیملی سمیت سنگاپوروغیرہ کا ہالی ڈے ٹور کا آفر ملے۔ اس طرح کہیں اُن بیرونی ملکوں کی سیر و سیاحت میں غریب مریضوں کی آہوں کی آواز تو نہیں آرہی ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کچھ ڈاکٹر کسی آپریشن یا سرجری کی ضرورت نہ ہو تے ہوئے بھی سرجری کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ اُن کی بڑی کمائی ہو اور اسپتال انتظامیہ بھی خوش ہوجائے کہ ہر بار اس ڈاکٹر کی بناپر موٹی رقم اسپتال کو موصول ہورہی ہے؟ زچگی کے مریضوں کی تو یہ عام شکایت ہے کہ نارمل ڈیلیوری ہو سکتی تھی مگر ڈاکٹر نے ڈرا ڈرا کر سرجری پر مجبور کردیا۔ حساب واضح ہے کہ نارمل ڈیلیوری میں ڈاکٹر کو۵؍ہزار مل رہے ہیں اور سرجری میں ۵۰؍ ہزار۔ اگر ڈاکٹر اس قسم کی بدعنوانی میں ملوث ہوجائیں تو وہ کمائی بھی تو حرام ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیا عزم، نیا جذبہ، نئی فکر، نئی تدبیر..... اس کیلئے نئے سال کا انتظار کیوں؟

(۲) اب ایک مثال سِوِل انجینئر کی لیجئے: اگر وہ غلط طریقے سے ٹھیکہ حاصل کرلیتا ہے اور پھر بے حساب منافع حاصل کرنے کی غرض سے انتہائی ناقص سیمنٹ، اسٹیل اور دیگر چیزیں استعمال کرتا ہے جس کی بنا پرکوئی پُل، کوئی عمارت جو ۵۰؍سال تک ٹِک سکتی تھی وہ محض۲۰؍ برسوں میں ناقابل استعمال ہو جاتی ہے، انجینئر کی یہ کمائی بھی تو حرام ہے !
(۳)آج کل ہمارے ملک سمیت کئی ممالک میں دوا بنانے والی کثیر تعداد کی کمپنیوں کو مشکوک نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔ کئی فارما کمپنیوں پر جب چھاپہ ماراجاتا ہے تب یہ سارے انکشافات ہوجاتے ہیں کہ ہو بہو دِکھائی دینے والی کئی دوائیاں دراصل نقلی ہیں۔ مریضوں کی جان سے کھیلنے والے ان افراد میں کئی فارمیسی کے پوسٹ گریجویٹ بھی شامل رہتے ہیں۔ معاشرے میں یہ سماج دشمن عناصر بڑے رُعب و دبدبے نیز طمطراق سے گھومتے رہتے ہیں البتہ سوال تو پوچھے ہی جانے چاہئیں کہ اُن کی یہ کمائی حلال ہے یاحرام؟ 
(۴) بات نکلی ہے تو دُور تلک جائے گی۔ اساتذہ کا مرتبہ تو ہر معاشرے میں بڑی عظمت والاسمجھا جاتا ہے مگر یہ کیا اُس میں بھی بڑی تعداد میں کالی بھیڑوں نے بسیرا کرلیا ہے؟ (الف ) ہر بار ہر جگہ نقلی ڈِگری والے اساتدہ بھی گرفت میں آ رہے ہیں (ب) کئی اساتذہ اپنی ملازمت طے ہو نے کے بعد بس قسم سی کھالیتے ہیں کہ اب مطالعہ نہیں کریں گے، نئی معلومات حاصل نہیں کریں گے، اپنے آپ کو اپ ڈیٹ نہیں کریں گے کہ اب اُن کی ملازمت مستقل ہو چکی ہے، وہ خطرے سے باہر ہیں، اب اُن کی نوکری نہیں جائے گی۔ (ج) ٹی ای ٹی جیسے کسی اہلیتی امتحان کا اعلان ہوتا ہے تب جاگ بھی جاتے ہیں البتہ یونین کے ذریعے معاملات کو نپٹانے میں لگ جاتے ہیں۔ (د)طلبہ کی مجموعی شخصیت سازی کیلئے جنرل نالج، ریاضی، انگریزی زباندانی، تقریری و تحریری امتحانات کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اس کا اُنھیں بھر پورا حساس ہوتا ہے البتہ کوئی سرکاری فرمان جاری نہیں ہوا اسلئے ان ساری سرگرمیوں میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے۔ (و) کسی نئی ٹیکنالوجی وغیرہ سے ہمکنار ہونے کیلئے شعبۂ تعلیم وغیرہ سے کوئی حکم آجاتا ہے تو یہ جواب دینے سے بھی نہیں چُوکتے کہ یہ سب کہاں سیکھیں، ریٹائر ہونے میں صرف دس سال باقی ہیں ؟(ہ) والدین غیر ذمہ دار ہیں، کا وِرد کرتے رہتے ہیں اور ہر بار ہر بات پر والدین کو کوستے رہتے ہیں۔ عزت و احترام سے دیکھے جانے والے اس پیشے سے وابستہ اُن اساتذہ کرام کو اپنے آپ سے یہ سوال نہیں کرنا چاہئے کہ کیا اُن کی رزق حلال ہے ؟
(۵) ہمارے یہاں ایک بڑا اہم شعبہ جہاں بد عنوانی کا چرچا ہے وہ ہے ریسرچ کاشعبہ۔ اس شعبے میں تین محاذ پر بد عنوانی ہو رہی ہے : (الف) ریسرچ یونیورسٹی کے منظور شدہ گائیڈ کی نگرانی میں ہوتی ہے اور اُس کیلئے ہر شعبے کے سند یافتہ ماہرین کا تقرر یونیورسٹیاں کرتی ہیں، یہ سارے ماہرین ڈگری یافتہ، محققین اور اپنے شعبہ یا مضمون کے ماہرین ہوتے ہیں۔ ذہین و دانشور بھی ہوتے ہیں مگر تحقیق کے شعبے سے اکثر طلبہ کی جانب سے جو شکایتیں سامنے آرہی ہیں وہ صرف افسوس ناک نہیں بلکہ شرمناک بھی ہیں۔ ان میں سے بیشتر گائیڈ حضرات جانبداری سے کام لیتے ہیں اور قوم کے یہ دانشور و اسکالر حضرات، کئی کتابوں اور تحقیقی مضامین کے خالق اکثر و بیشتر اخلاقیات و اخلاقی حدود کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں۔ (ب) اخلاقی بدعنوانی کی شکایتیں انہی اعلیٰ تعلیمی اداروں سے آ رہی ہیں کہ کچھ صدر شعبہ طلبہ کی ریسرچ کی کاوشوں کو اپنے نام سے منسوب کر لیتے ہیں۔ تحقیقی مقالہ نہیں بلکہ ان کے پیٹنٹ یا ایجادات تک چرا کر، دھمکا کر اپنے نام کر لیتے ہیں ریسرچ کے طلبہ اس کی شکایت کریں بھی تو کس سے؟
(ج) ریسرچ کے شعبے میں ایک بڑی بدعنوانی یہ ہو رہی ہے اور عرصے سے ہو رہی ہے کہ اکثر ریسرچ اسکالر صرف کٹ پیسٹ ماسٹرس اور نقلچی بن گئے ہیں۔ گو گل اور اب اے آئی کے ذریعے تحقیق کے نام پر صرف نقل ہو رہی ہے۔ پوری پوری تھیسیس نقل ہو رہی ہے۔ یہ بھی تو بے ایمانی ہے
(۶) سیاسی نظام میں تو اُصول و ایمانداری کی بات ہی نہیں ہو سکتی۔ ممبران اسمبلی / پارلیمنٹ خریدے و بیچے جارہے ہیں۔ تادمِ تحریر ممبئی میونسپل الیکشن میں ڈرا دھمکا کر کروڑوں کی رشوت دے کر، اغواکرکے حتّیٰ کہ اُمید واروں کا قتل کر کے بھی ۷۰؍افراد تو بلا مقابلہ جیت گئے ہیں یعنی جمہورت کا سر عام قتل!نئے ووٹرس تو ووٹ دینے کے محروم ہوئے اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو لگتا ہے کئی لوگ تو زندگی بھر ایک بار بھی ووٹ دینے سے محروم رہ جائیں گے۔ رشوت و بد عنوانی تو سیاست دانوں کا اوڑھنا بچھونا ہے البتہ ان کے مشیران یعنی بیورو کریٹ ہی اُن کو سارے راستے دکھاتے رہتے ہیں۔ اب بعد از خرابیٔ بسیار سوِل سروسیز کے امتحان میں اُصول و ایمانداری نام کا ایک مضمون شامل کیا ہے البتہ وہ صرف مضمون و امتحان کی حد تک محدود ہے۔ ورنہ سارے جرائم، ساری رشوت، ساری نا انصافی یا ساری زیادتی کا سبب سیاستداں اور اُن کے مشیران ہی ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں یہ سارے سیاستداں اور بیوروکریٹ عزّت مآب کہلاتے ہیں البتہ یہاں پر بھی اُن حضرات کے حاصل کئے ہوئے مقام و مرتبہ پر حلال و حرام کا پیمانہ لاگو ہوتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK