Inquilab Logo Happiest Places to Work

خواتین بل کا اصل مقصد کیا تھا؟

Updated: April 26, 2026, 9:18 PM IST | Yogendra Yadav | Mumbai

سوال یہ ہے کہ اگر یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے کوئی انقلابی قدم تھا تو اسے عوام اور خواتین سے اتنا چھپا کر رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

کئی دنوں کے تذبذب کے بعد آخرکار پردہ اٹھ ہی گیا۔ پچھلے کئی دنوں سے ہمیں بتایا جا رہا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے کوئی انقلابی قدم اٹھایا جانے والا ہے۔ نیک کام میں کہیں دیر نہ ہو جائے، اسلئے چار ریاستوں کے انتخابات کے درمیان ہی پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلالیا گیا۔ ناقدین کا ماننا تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے، معاملہ ’کہیں پہ نگاہیں، کہیں پہ نشانہ‘ والا ہےاور وہی نکلا۔ ’ناری وندن‘ کے نقاب کے پیچھے دراصل پارلیمنٹ کی ساخت بدلنے کا کھیل تھا، تاکہ بی جے پی کو اگلا انتخاب جیتنے میں آسانی ہو۔ یہ انتخابی جمہوریت کے پورے ڈھانچے کو بدلنے کے ایک بڑے کھیل کا حصہ تھا۔ آخر خصوصی اجلاس سے محض ۳۶؍ گھنٹے پہلے اس میں پیش ہونے والے آئینی (۱۳۱؍ویں ترمیم) بل کی نقل او ر اس کے خدو خال عوام کے سامنے آگئے۔ 
سوال یہ ہے کہ اگر یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے کوئی انقلابی قدم تھا تو اسے عوام اور خواتین سے اتنا چھپا کر رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ ظاہر ہے کہ اس آئینی ترمیم کیلئے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہے، جو حکومت کے پاس نہیں ہے، اسلئے اپوزیشن کی حمایت کے بغیر یہ منظور نہیں ہو سکتا۔ خود وزیر اعظم نے اپوزیشن سے اس کی حمایت کی اپیل کی تھی، تو پھر اس کی نقل کو اپوزیشن لیڈروں کو بروقت کیوں نہیں دیا گیا؟ اپوزیشن نے بار بار کہا کہ اس مسئلے پر آل پارٹی میٹنگ بلائی جائے اور اتفاق رائے پیدا کیا جائےمگر ایسا نہیں کیا گیا۔ ایسی کیا مجبوری تھی کہ پارلیمنٹ کا اجلاس مغربی بنگال اور تمل ناڈو کے انتخابی مہم کے عین درمیان، انتخابات سے صرف ایک ہفتہ پہلے بلایا گیا؟بل کی نقل سامنے آنے کے بعد ہی کچھ حد تک راز کھل گیاتھا۔ جیسا کہ خدشہ تھا، یہ مجوزہ آئینی ترمیم خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے بارے میں کم اور پارلیمنٹ کی ازسرِ نو تشکیل کے بارے میں زیادہ ہے۔ اس ترمیم کے مطابق اب۲۰۲۹ء کے لوک سبھا انتخابات میں خواتین کو ریزرویشن دیا جا سکے گا مگر اسے انقلابی قدم ماننے سے پہلے یاد کیجیے کہ خواتین کے ریزرویشن میں مردم شماری اور حد بندی کی شرط کہاں سے آئی تھی۔ 
 حقیقت یہ ہے کہ۲۰۲۳ء میں جب پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں ایک تہائی خواتین ریزرویشن کا بل لایا گیا، تو مودی حکومت نے بلا وجہ یہ شرط شامل کی کہ یہ تبھی نافذ ہوگا جب نئی مردم شماری کے بعد نئی حد بندی ہوگی، یعنی اسے تقریباً۱۰؍ سال کیلئے ٹال دیا گیا۔ ملکارجن کھرگے نے مطالبہ کیا تھا کہ یہ شرط ہٹائی جائے اور ۲۰۲۴ءکے انتخابات ہی سے خواتین ریزرویشن نافذ کیا جائے، مگر حکومت نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا۔ اب وہی حکومت ۵؍ سال بعد اسی مطالبے کو نافذ کر کے انقلابی تبدیلی کا کریڈٹ لینا چاہتی تھی۔ یہ آئینی ترمیم بنیادی طور پر لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی ازسرِ نو تشکیل سے متعلق ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: خواتین کیلئے ریزرویشن اُسی وقت با معنی ہوگی جب سبھی کو یکساں مواقع ملیں گے

نشستوں میں اضافہ جمہوریت کیلئے بہتر ہو سکتا ہے مگر اصل مسئلہ یہ نہیں ہے۔ سب سے بڑا اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ پچھلے ۵۰؍ سال سے ریاستوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم پر جو پابندی تھی، اسے ختم کیا جا رہا ہے۔ اُس وقت آئین کے آرٹیکل ۸۲؍ کے تحت ۱۹۷۱ء کی مردم شماری کے تناسب سے نشستیں دی جاتی ہیں اور یہ پابندی ۲۰۲۶ءمیں ختم ہو رہی ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں سے وزیر اعظم اور بی جے پی کے دیگر لیڈران کہتے رہے ہیں کہ کل نشستوں کی تعداد بڑھے گی مگر ریاستوں کے تناسب میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی یعنی اگر کل نشستیں ڈیڑھ گنا بڑھیں گی تویوپی کی نشستیں ۸۰؍ سے بڑھ کر ۱۴۰؍ ہونگی اور کیرالا کی۲۰؍ سے بڑھ کر۳۰؍مگر ترمیم کے مسودے میں اس وعدے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ 
اس میں تجویز دی گئی ہے کہ آئین میں ترمیم کر کے ۱۹۷۱ءکی مردم شماری والا اصول ختم کر دیا جائے۔ جیسے ہی ایسا ہوگا، نشستوں کی تقسیم آبادی کے تناسب سے لازمی ہو جائے گی۔ اگر نئی حد بندی۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق ہوئی اور لوک سبھا کی تعداد ڈیڑھ گنا ہو گئی، تو کیرالا کی نشستیں ۲۰؍ سے بڑھ کر۲۳؍ ہوں گی جبکہ یوپی کی۸۰؍ سے بڑھ کر ۱۳۲؍ ہو جائیں گی۔ اس سے جنوبی ریاستوں کو نقصان اور ہندی ریاستوں کو فائدہ ہوگا، اور ملک کا نازک وفاقی توازن بگڑ سکتا ہے۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کی اس بارے میں وارننگ کو نظر انداز کرنا قومی یکجہتی کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ اگر یہ ترمیم منظور ہو جاتی ہے، تو ریاستوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم آئین کے بجائے پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون سے طے ہوگی۔ یعنی حکومت کو اپوزیشن کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی اور یہ فیصلہ حد بندی کمیشن کرے گا۔ حکومت اس ترمیم کے ساتھ ایک حد بندی قانون بھی لے کر آئی ہے، جس کے مطابق نئی حد بندی۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق ہوگی مگر حکومت جب چاہے اسے عام اکثریت سے بدل سکتی ہے۔ حکومت جانتی ہے کہ ایسا بل پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکتا۔ سوال یہ ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی ایسا تقسیم پیدا کرنے والا بل لانے کے پیچھے حکومت کی کیا نیت تھی؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK