مالیگائوں کے ۸۱؍سالہ انصاری حفیظ الرحمان نے ۳۵؍سال تک تدریسی خدمات انجام دیں، ۲۰۰۳ء میں سبکدوشی کے بعدگزشتہ ۲۳؍سال سے علمی، ادبی اور تخلیقی کاموں میں مصروف ہیں، اس کے ساتھ ہی کرکٹ اورٹینس کھیلنے اورکمنٹری کرنےکا بھی شوق رہا ہے۔
EPAPER
Updated: April 26, 2026, 9:42 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
مالیگائوں کے ۸۱؍سالہ انصاری حفیظ الرحمان نے ۳۵؍سال تک تدریسی خدمات انجام دیں، ۲۰۰۳ء میں سبکدوشی کے بعدگزشتہ ۲۳؍سال سے علمی، ادبی اور تخلیقی کاموں میں مصروف ہیں، اس کے ساتھ ہی کرکٹ اورٹینس کھیلنے اورکمنٹری کرنےکا بھی شوق رہا ہے۔
مالیگاؤں بدر کاباڑہ محلے کے ۸۱؍ سالہ انصاری حفیظ الرحمان محمد یعقوب کی پیدائش یکم مارچ ۱۹۴۵ء کو ہوئی تھی۔ میونسپل اسکول نمبر۴؍ چونابھٹی سے ساتویں اور مالیگائوں ہائی اسکول سے ایس ایس سی پاس کیا۔ آگے کی پڑھائی کیلئے ممبئی منتقل ہوئے۔ بی ایس سی کی ڈگری جوگیشوری کے اسماعیل یوسف کالج سے حاصل کی۔ گریجویشن کے بعد مالیگائوں اسکول اینڈ جونیئر کالج میں بحیثیت معاون مدرس تقرری ہوئی۔ ۱۹۶۸ء سے۲۰۰۳ء تک تدریسی خدمات انجام دیں اور بحیثیت صدر مدرس سبکدوش ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد گزشتہ۲۳؍سال سے علمی، ادبی اور تخلیقی کاموں کاسفرجاری ہے۔ اسماعیل یوسف کالج میں ۱۹۶۲ء سے ۱۹۶۶ء تک پڑھائی کی۔ اس دوران بھیونڈی، مالیگائوں اور رتناگیری کے متعدد ساتھیوں کے ساتھ گزرنے والا وقت یادگار رہا۔ بھیونڈی کے مومن جان عالم رہبر، مشتاق مومن، صابر مومن، انور مومن، کلیم اور سلیم مومن، نثار مستری اور اسلم مدعو وغیرہ ا ن کے حلقہ احباب میں تھے۔ اسی دوران مشہور شاعرہ مینا قاضی بھی اسی کالج کی طالبہ تھیں ۔
انصاری حفیظ الرحمان کے آباواجداداُترپردیش سے ہجرت کر کے پارچہ بافی کے شہر مالیگائوں تشریف لائے تھے۔ ان کےبڑے بھائی نے مالیگائوں میں ایک لائبریری ’مکتبہ اطفال‘ قائم کی تھی، اسی مناسبت سے ان کے اہل خانہ کو اطفال فیملی سے بھی مقبولیت حاصل رہی۔
ان کے خاندان کاآبائی پیشہ دستی کرگھا ( ہینڈلوم ) پر رنگین ساڑیاں بُننے کا تھا۔ ان کے نانا رنگین ساڑیاں فروخت کرنے کیلئے مالیگائوں کے قرب وجوار کے گائوں، مثلاً نیم گائوں، وزیر کھیڑا، وڑنیر کھاکھُرڈی اور کرج گوان وغیرہ بیل گاڑی سے جایاکرتےتھے۔ اس دور میں راستوں پر بجلی کاانتظام نہیں تھا، اسلئے بیل گاڑی کےپہئے کےقریب لالٹین لگا دی جاتی تھی تاکہ رات کے وقت سفر کرنے میں آسانی ہو، علاوہ ازیں اگر کسی وجہ سے راستے ہی میں رات کو قیام کرناہو، تو لالٹین کی روشنی میں رات گزارتے تھے۔ اس کے علاوہ بیل گاڑی کے ساتھ ایک تندرست وتوانا کُتا بھی ضرور چلتا تھا تاکہ جنگل جھاڑی میں ڈاکو اور بدمعاشوں وغیرہ کے حملہ آور ہونے پر کُتا بھونک کر حملہ ہونے کی اطلاع لوگوں تک پہنچا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دلیپ کمار مسجد سے نکلے اور گداگروں میں دس دس کے نوٹ تقسیم کرتے آگے بڑھ گئے‘‘
۱۹۷۹ء میں انصاری حفیظ الرحمان اپنے ہیڈماسٹر محمد مصطفیٰ کی قیادت میں دیگر ۷؍اساتذہ کے ہمراہ شمالی ہند کے تعلیمی دورے پر گئے تھے۔ اس دوران دہلی، آگرہ، جے پور، جیسلمیر اور، جموں کشمیر وغیرہ کا دورہ کیا تھا۔ دہلی میں قیام کے دوران ہیڈماسٹر کی ایما پر اُن کی ٹیم وزیر اعظم اندراگاندھی سے ملاقات کیلئے ان کی رہائش گاہ پر بھی گئی تھی۔ ان سے ہونے والی ۵۔ ۷؍ منٹ کی ملاقات بڑی اہم تھی۔ وفد کو دیکھ کر اندرا گاندھی نے خوشی کااظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اوہ ! اچھاتو آپ لوگ مالیگائوں سے تعلیمی ٹور پر آئے ہیں۔ ‘‘
انصاری حفیظ الرحمان کو کرکٹ اور ٹینس کھیلنے کا شوق تھا۔ اس کے ساتھ ہی وہ ایک اچھے کمنٹیٹر بھی تھے۔ ۷۰ء کی دہائی میں مالیگائوں میں کرکٹ آئکن عثمان غنی کے نام سے کوہ نور برف کارخانہ میدان میں ایک ٹورنامنٹ کا انعقاد کیاگیا تھاجس میں مالیگائوں کے جید کرکٹرریاض ابوالبرکات اورحفیظ الرحمان نے انگریزی اور ہندی میں لاجواب کمنٹری کی تھی۔ اگلے دن اخبارات میں ٹورنامنٹ کی کامیابی کے ساتھ ہی دونوں کمنٹیٹروں کی بھی ستائش کی گئی تھی۔
حفیظ الرحمان، مالیگائوں ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کے طالب علم بھی رہے اور وہیں پر تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ وہاں سے ہیڈماسٹر کے عہدہ پر رہتے ہوئے سبکدوش بھی ہوئے۔ دوران معلمی کلاس روم میں گشت کرتے ہوئے طلبہ کونوٹس دینے کی عادت تھی۔ اسی عمل کے دوران ایک دن ایک طالب علم کی عدم توجہی پر اپنی بیاض سے اس کی پیٹھ پرہلکے سے مارنے کی کوشش میں بیاض کا کونہ اس کے ہونٹ پر جالگا، فوراً خون نکلتا دیکھ کر وہ گھبرا گئے۔ چپراسی سے آٹورکشا منگوا کر اسے گھر روانہ کیا، لیکن اس طالب علم کی طبیعت سے متعلق فکر مند رہے۔ اس رات انہیں نیند نہیں آئی۔ تہجد کی نماز میں بھی اس کی صحت یابی کیلئے دعا کی۔ دوسرے دن اس کی خیریت معلوم کرنے اس کے گھر پہنچے، اس کے بڑے بھائی سے ملاقات ہوئی، اسے بھی انہوں نے پڑھایا تھا۔ اس نےبتایا کہ سر، گھبرانےکی کوئی بات نہیں ہے، اسے ہوموفیلیاہے، اسلئے ذرا سی چوٹ لگنے پر جلد پھٹ جاتی ہے اور خون بہنے لگتا ہے جو جلدی نہیں رکتا۔ بہرحال اس کے بخیر ہونے کی بات سن کر جان میں جان آئی تھی۔
پڑھائی کیلئے جب وہ ممبئی آئے تھے، اس وقت انہیں مدنپورہ میں مقیم بیرسٹر عبدالمجید سالک انصاری کی مالیگائوں سوسائٹی آف ایجوکیشن کی جانب سے اسکالر شپ ملی تھی۔ گھر والوں کی نصیحت کی وجہ سے وہ اسکالر شپ کی نصف رقم اپنی تعلیمی ضروریات کیلئےرکھتے اور نصف گھر والوں کو بھیج دیتے تھے۔ اس دورمیں ۳؍ ہزار روپے سالانہ اسکالرشپ تھی۔ ایک مرتبہ غلطی سے اسکالر شپ کی نصف رقم منی آرڈر کرتے وقت فارم پر رقم موصول کرنے والے کی جگہ اپنا اور رقم روانہ کرنے والے کی جگہ بڑے بھائی کا نام لکھ دیا۔ جوگیشوری کاڈاکیہ ان کے ذریعے بھیجا گیامنی آرڈر انہیں کے پاس لے کر آیا۔ اسے اس بات کا علم تھا کہ روپے بھیجنے والا شخص ہی روپے وصول کرنے والا ہے، ایسے میں اس نے کہا، آپ کسی گواہ کو لے کر ڈاک خانہ آئیں، تبھی رقم ملے گی۔ بڑی مشکل کے بعد رقم واپس ملی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’فساد میں پاؤں پر گولی لگنے کے باوجود رسی کے سہارے کئی کلومیٹر تک گھسٹتا رہا‘‘
ان کی ایک بیٹی لندن میں مقیم ہے۔ ۲۰۰۹ء میں اس سے ملاقات کیلئے لندن جانے کا موقع ملا۔ کرکٹ کاجنون ہونے کی وجہ سے لارڈس گرائونڈ دیکھنے کی خواہش شدت سے اُبھر آئی تھی۔ بیٹی کے گھر سے لارڈس گرائونڈ کا سفر طویل ہونے کے باوجود وہاں پہنچے۔ سخت سیکوریٹی کے باوجود کسی طرح گرائونڈ کی راہداری تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی۔ دریں اثناایک سیکوریٹی گارڈ کی نظر حفیظ الرحمان پر پڑی، اس کاہاتھ کمر سے لگے ریوالور پر جاتا دیکھ کر ان کی روح کانپ اُٹھی۔ اس کے باوجود وہ وہیں کھڑے رہے۔ سیکوریٹی گارڈ کے قریب آنے پر انہوں نے کہا کہ مجھے لارڈس گرائونڈ دیکھنے کاشوق یہاں لے آیا ہے۔ اپنا شناختی کارڈ اسے دکھایا، جسے دیکھ کر وہ کچھ نرم پڑا۔ بعدازیں اس نے کہا کہ اس وقت گرائونڈ میں کوئی مقابلہ نہیں ہو رہا ہے۔ اگر آپ مجھے کچھ رقم دیں تو میں آپ کو گرائونڈ دکھا سکتاہوں۔ انہوں نے معذرت کرلی اور واپس بیٹی کے گھر آگئے۔
اسماعیل یوسف کالج میں ایک سال فیل ہونے کی وجہ سے انہیں ہوسٹل کی سہولت نہیں ملی تھی۔ ایسےمیں مالیگائوں کے ایک دوست کے ساتھ، مدنپورہ، سالویشن آرمی کے قریب ایک کمرے میں قیام کیا تھا۔ گرمی کے دنوں میں، کمرہ میں شدید گرمی کی وجہ سے عمارت کے باہر واقع فٹ پاتھ پر رات کو سوتےتھے۔ ایک رات وہ گہری نیند میں تھے کہ اچانک ایک پیر میں جلن محسوس ہوئی۔ اُٹھ کر دیکھا تو ایک بڑا ساچوہا پیر پر حملہ آور تھا۔ دیکھ کر کچھ دیر کیلئے اوسان خطا ہوگئے۔ کسی طرح چوہے کو بھگایا اورپھر دوست کے ساتھ علاج کیلئے نائر اسپتال پہنچے۔ ڈاکٹروں کے مشورے پر ۲۲؍دنوں تک انجکشن لگوانا پڑا تھا۔
ان کے ۲؍بڑے بھائیوں کی شادی سے قبل ان کی والدہ گھر کاسارا نظام سنبھالتی تھیں، ساتھ ہی ہینڈلوم پر ساڑی بننے میں والد کی مدد بھی کرتی تھیں۔ گھر میں غربت کا ماحول تھا۔ ان حالات میں ان کے والدین نے ان کے ۸؍بھائی بہنوں کی پرورش کی تھی اور انہیں زندگی کے سرد و گرم سے واقف کرایا تھا ۔ یہ ساری باتیں انصاری حفیظ الرحمان کو یاد ہیں۔