Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس بار بیشتر اخبارات نے اسرائیلی جارحیت، خواتین ریزرویشن اور مودی کو موضوع بنایا

Updated: April 26, 2026, 9:48 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

ایک جانب اسرائیل کی شدت پسندی اور نفرت انگیز پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کیخلاف عالمی سطح پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو دوسری جانب خواتین ریزرویشن کے تناظر میں خواتین پر ڈھائے جانے والے مظالم اورناانصافیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

It is the result of the government`s negligence that a severe gas shortage arose in the country within a week of the outbreak of the war. Photo: INN
یہ حکومت کی غفلت کا نتیجہ ہے کہ جنگ چھڑنے کے ایک ہفتے کے اندر ہی ملک میں گیس کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔ تصویر: آئی این این

عالمی اور ملکی حالات کے پس منظر میں غیر اردو اخبارات کے اداریوں میں کئی اہم مسائل کو نمایاں انداز میں اٹھایا گیا ہے۔ ایک جانب اسرائیل کی شدت پسندی اور نفرت انگیز پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کیخلاف عالمی سطح پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو دوسری جانب خواتین ریزرویشن کے تناظر میں خواتین پر ڈھائے جانے والے مظالم اورناانصافیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اداریوں میں ملکی سیاست پر بھی تبصرے کئے گئے ہیں جیسے سیاسی مفادات کیلئے سرکاری اداروں کے استعمال پر وزیر اعظم مودی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ملک میں بڑھتے ہوئے گیس اور ایندھن کے بحران کو عوامی زندگی کیلئے ایک سنگین مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ 
وقت آگیا ہے کہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں 
لوک ستہ( مراٹھی، ۲۲؍اپریل)
’’لبنان کی سرزمین سے حال ہی میں ایک ایسا لرزہ خیز ویڈیو سامنے آیا ہے جس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ ؑ کے مجسمے کی بے حرمتی اور اسے مسمار کرنے کا واقعہ محض ایک انفرادی فعل نہیں بلکہ اس مخصوص ذہنیت کا عکاس ہے جو مذہبی برتری اور نفرت کی بنیاد پر پروان چڑھی ہے۔ اگرچہ عالمی دباؤ اور سوشل میڈیا پر ہونے والی جگ ہنسائی کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو بادل ناخواستہ معافی مانگنی پڑی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض لفظی معافی اس گہری نظریاتی خلیج کو بھر سکتی ہے جو صدیوں سے انسانیت کے سینے میں پیوست ہے۔ دیکھا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس تخریب کاری کے پیچھے وہ تاریخی بغض ہے جو یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان حضرت عیسیٰؑ کے دور سے چلا آ رہا ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جس ہستی نے امن اور محبت کا درس دیا آج اسی کی نشانیوں کو جنگی جنون کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ اسرائیلیوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ خود کو تو ہمیشہ مظلوم بنا کر پیش کرتے ہیں لیکن جب اقتدار اور جدید اسلحہ ہاتھ لگتا ہے تو ان کا رویہ فرعون سے کم نہیں ہوتا۔ اسرائیلی لیڈر اسحاق رابن کو بھی ان کے ہی اپنے ہم مذہب انتہا پسندوں نے اسلئے قتل کر دیا تھا کیونکہ وہ مفاہمت کی بات کر رہے تھے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل میں انتہا پسندی کی جڑیں کتنی گہری ہیں۔ آج عالمی برادری بالخصوص امریکہ اور یورپی ممالک کو اپنے دہرے معیار پر غور کرنا ہوگا۔ آپ کب تک اسرائیل کو’بگڑے رئیس زادے‘ کی طرح چھوٹ دیتے رہیں گے؟ فلسطینیوں اور لبنانیوں کی زمین پر قبضے سے لے کر مذہبی پیشواؤں کی توہین تک اسرائیل کا ہر قدم بین الاقوامی قوانین اور انسانی اخلاقیات کی نفی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ لفظی مذمت کے حصار سے باہر نکل کر اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: بنگال و یوپی میں لاکھوں ووٹروں کے نام حذف، حد بندی پر اخبارات کی حکومت پر تنقید

عورت کو آج بھی ایک ’شے‘ سمجھا جاتا ہے
سکال( مراٹھی، ۲۰؍اپریل)
’’مہاراشٹر کی سیاست اور سماجی حلقوں میں ان دنوں خواتین کی بااختیاری کا شور اپنی انتہا پر ہے۔ سرکاری ایوانوں سے لےکر سیاسی جلسوں تک یہ دعوے مسلسل کئے جا رہے ہیں کہ صنف نازک کو فیصلہ سازی کے عمل میں مساوی شراکت دار بنا دیا گیا ہے، لیکن اگر اشتہاری مہموں کے پردے ہٹاکر دیکھا جائے تو پسِ منظر میں ایک ایسی بھیانک تصویر نظر آتی ہے جو معاشرتی ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہے۔ ایک طرف ترقی کے گیت گائے جا رہے ہیں تو دوسری طرف بھوندو باباؤں، توہم پرستی اور جنسی درندگی کے سائے خواتین کا جینا دو بھر کر رہے ہیں۔ ریاستی حکومت فخر سے خود کو ترقی پسند قرار دیتی ہے اور بلا شبہ مہاراشٹر جادو ٹونے اور توہم پرستی کے خلاف قانون سازی کرنے والی پہلی ریاست ہے، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ صرف قانون کی کتابوں میں سیاہی بھر دینے سے سماج کی غلاظت صاف نہیں ہوتی۔ ناسک میں آئی ٹی سیکٹر کی ایک کمپنی میں ہراسانی کا معاملہ ہو یا امراؤتی میں ایک نوعمر لڑکے کے ہاتھوں درجنوں لڑکیوں کا جنسی استحصال، یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم اخلاقی دیوالیہ پن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ جب ایسے سنگین معاملات سامنے آتے ہیں تو نظام انصاف متحرک ہونے کے بجائے ہماری سیاست ان واقعات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے یا سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھانے میں لگ جاتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ مجرموں کے حوصلے اتنے بلند کیوں ہیں ؟ کیوں ایک تعلیم یافتہ معاشرے میں بھی خواتین خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں ؟خواتین کا تحفظ صرف پولیس کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس گلے سڑے سماجی ڈھانچے کا عکاس ہے جہاں عورت کو آج بھی ایک ’شے‘ سمجھا جاتا ہے۔ ‘‘
الیکشن کمیشن کی مصلحت پسندی کوئی نئی بات نہیں ہے
دی ہندو ( انگریزی، ۲۲؍اپریل)
’’ہندوستان میں جاری عام انتخابات کے دوران وزیر اعظم مودی کے حالیہ بیانات اور ان کی سرکاری نشریاتی اداروں پر تشہیر نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ نفرت انگیز تقریر کے عنوان سے اٹھنے والی یہ بحث محض سیاسی الزام تراشی نہیں بلکہ جمہوریت کے سب سے بڑے نگہبان ادارےالیکشن کمیشن کی ساکھ پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ تازہ ترین واقعہ وزیر اعظم کے ۱۸؍ اپریل کے خطاب کا ہےجسے سرکاری ٹی وی چینل دوردرشن اور سنسد ٹی وی نے اس وقت براہِ راست نشر کیا جب ملک کے کئی حصوں میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ تھا۔ وزیر اعظم نے اس خطاب میں اپوزیشن جماعتوں پر بیٹیوں کے قتل کے گناہ جیسے سنگین اور اشتعال انگیز الزامات عائد کیے اور خواتین ووٹرس کو مخصوص سیاسی بنیادوں پر اُبھارنے کی کوشش کی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم کے دوران سیاسی فریقین کیلئے یکساں میدان فراہم کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے تو اقتدار اعلیٰ پر فائز شخصیت کیلئے ضابطہ اخلاق کی یہ دھجیاں اڑانا کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟الیکشن کمیشن کی یہ مصلحت پسندی نئی نہیں ہے۔ ۲۰۱۹ء کے میزائل تجربے سے لے کر نمو ٹی وی کی نشریات تک کمیشن کا رویہ ہمیشہ سے طاقتور طبقے کے سامنے معذرت خواہانہ رہا ہے۔ راجستھان میں ایک متنازع تقریر پر نوٹس لیا بھی گیا تو وہ وزیر اعظم کے بجائے پارٹی صدر کے نام جاری کیا گیا جو کہ ذمہ داری سے پہلو تہی کی ایک بدترین مثال ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات نے جنگ بندی میں مودی سرکار پر پاکستان کو اہمیت دینے پر تنقید کی

یہ بحران غیر ملکی انحصار کی وجہ سے پیدا ہوا ہے
نوبھارت( ہندی، ۲۱؍اپریل)
’’ملک اس وقت توانائی کے ایک ایسے سنگین بحران کی زد میں ہے جس نے نہ صرف معاشی پہیوں کو سست کر دیا ہے بلکہ عام آدمی کی زندگی کو بھی اجیرن بنا دیا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ماضی میں پیٹرول کی اصل لاگت محض ۴۸؍ روپے فی لیٹر ہونے کے باوجود بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے اسے صارفین کو دگنی سے بھی زائد قیمت پر فروخت کیا جاتا رہا۔ المیہ یہ ہے کہ جب مئی ۲۰۲۲ء کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئی تو حکومت نے اس ریلیف کو عوام تک منتقل کرنے کے بجائے قومی خزانہ بھرنے کو ترجیح دی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ہندوستان اپنی ایل پی جی کی ۶۵؍فیصد اور خام تیل کی تقریباً ۸۸؍ فیصد ضروریات کیلئے بیرونی درآمدات پر منحصر ہے۔ جنوری ۲۰۲۶ء میں امریکہ، ایران کے بیچ جنگ کے باوجود متعلقہ حکام نے مصلحت پسندی سے کام لیتے ہوئے ایل پی جی کا وہ بفر اسٹاک تیار نہیں کیا جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کم از کم تین ماہ کیلئے ناگزیر ہوتا ہے۔ اسی غفلت کا نتیجہ ہے کہ جنگ چھڑنے کے ایک ہفتے کے اندر ملک میں گیس کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔ توانائی کا یہ بحران اب ایک سماجی المیے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ تجارتی گیس کی فراہمی میں ۵۰؍ فیصد کٹوتی کے باعث ہوٹل بند ہو رہے ہیں اورکارخانوں میں کام رک گیا ہے۔ اگرچہ ۱۲؍ ہزار سے زائد چھاپے مار کر ہزاروں سلنڈر ضبط کئے گئے ہیں لیکن یہ محض علامتی اقدامات ہیں۔ اصل مسئلہ طلب اور رسد کے اس وسیع خلیج کو پُر کرنا ہے جو حد سے زیادہ غیر ملکی انحصار کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK