Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشیانہ: اب او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر ہورہا ہے ’’یادوں کا کاروبار‘‘

Updated: April 26, 2026, 9:45 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

رپورٹس کے مطابق نوجوان نسل، خاص طور پر جین زی، اب پرانی بالی ووڈ فلموں کی طرف متوجہ ہو رہی ہے جبکہ ان میں سےبیشتر نے یہ فلمیں کبھی سنیما میں نہیں دیکھیں بلکہ سوشل میڈیا پر کسی کلپ یا گانے کے ذریعے ان تک پہنچے اور پھر مکمل فلم دیکھنے لگے۔ دراصل یہی ’کلپ‘او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کیلئے ایک نیا صارف پیدا کر رہی ہے، جہاں چند سیکنڈ کے ویڈیو پوری فلم کی کھپت میں بدل جاتے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ممبئی کے ایک اپارٹمنٹ میں رات ۱۱؍ بجے ایک نوجوان اپنے لیپ ٹاپ پر کوئی نئی ویب سیریز نہیں بلکہ۱۹۹۰ء کی ایک پرانی فلم دیکھ رہا ہے۔ نہ وہ اس زمانے میں پیدا ہوا تھا، نہ اس نے وہ فلم سنیما میں دیکھی، مگر پھر بھی وہ اس کہانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس کیلئے یہ فلم ’پرانی‘ نہیں بلکہ ’نئی دریافت‘ ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے ایک بڑی تبدیلی شروع ہوتی ہے، ایک ایسی تبدیلی جس میں ماضی، حال کی سب سے بڑی ڈجیٹل معیشت کا حصہ بن رہا ہے۔ 
او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر پرانی اور کلاسک فلموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت محض ’نوستالجیا‘ نہیں بلکہ ایک مکمل کاروباری ماڈل ہے۔ یہ رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ تفریحی صنعت میں اب ’نیا‘ ہمیشہ ’نیا‘ نہیں ہوتا، بلکہ اکثر ’پرانا‘ ہی نئے انداز میں سب سے زیادہ فروخت ہوتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں او ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے مواد کی ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ شروع کر دی تھی۔ ہر ہفتے نئی فلمیں، نئی سیریز، اور نئی کہانیاں ریلیز ہو رہی تھیں مگر اس تیزی نے ایک مسئلہ بھی پیدا کیا، content fatigue۔ ناظرین کے پاس دیکھنے کیلئے اتنا زیادہ مواد ہو گیا کہ وہ خود کو اس میں کھو بیٹھے۔ اسی خلا میں کلاسک فلموں نے دوبارہ جگہ بنائی، کیونکہ وہ ایک ’known comfort‘(جانا پہچانا اطمینان) فراہم کرتی ہیں۔ وہ کہانیاں جنہیں لوگ پہلے دیکھ چکے ہیں یا سن چکے ہیں، ایک طرح کا ذہنی سکون دیتی ہیں۔ 
ہندوستان میں یہ رجحان خاص طور پر مضبوط ہے کیونکہ یہاں فلمیں صرف تفریح نہیں، جذباتی یادوں کا حصہ ہوتی ہیں۔ ایک پرانی فلم صرف ایک کہانی نہیں بلکہ ایک دور، ایک خاندان، اور ایک ثقافتی لمحہ ہے۔ جب یہی فلمیں او ٹی ٹی پر دستیاب ہوتی ہیں تو وہ صرف ایک بار نہیں بلکہ بار بار دیکھی جاتی ہیں، اور یہی ’’repeat value‘‘ (بار بار دیکھنے کی قدر) انہیں معاشی طور پر قیمتی بناتی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق نوجوان نسل، خاص طور پر جین زی، اب پرانی بالی ووڈ فلموں کی طرف متوجہ ہو رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے ناظرین نے یہ فلمیں کبھی سنیما میں نہیں دیکھیں، بلکہ سوشل میڈیا پر کسی کلپ یا گانے کے ذریعے ان تک پہنچے اور پھر مکمل فلم دیکھنے لگے۔ یہی ’clip-to-content pipeline‘ دراصل او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کیلئے ایک نیا صارف پیدا کر رہی ہے، جہاں چند سیکنڈ کے ویڈیو پوری فلم کی کھپت میں بدل جاتے ہیں۔ 
یہ تبدیلی صرف صارفین تک محدود نہیں بلکہ پروڈکشن ہاؤسز اور فلم سازوں کیلئے بھی ایک بڑا موقع بن چکی ہے۔ اب پرانی فلمیں محض آرکائیو میں محفوظ رہنے والی چیزیں نہیں بلکہ ایک فعال اثاثہ بن چکی ہیں۔ انہیں دوبارہ محفوظ کیا جا رہا ہے، بہتر ریزولیوشن میں پیش کیا جا رہا ہے، اور نئے پلیٹ فارمز پر’مونیٹائز‘ کیا جا رہا ہے۔ یہاں ایک اہم معاشی پہلو ہے content lifecycle کا دوبارہ جنم۔ پہلے ایک فلم کا کاروبار زیادہ تر اس کی تھیٹر ریلیز تک محدود ہوتا تھا، مگر اب ایک فلم کئی دہائیوں بعد بھی آمدنی فراہم کرسکتی ہے۔ او ٹی ٹی نے فلموں کو ’’evergreen revenue stream‘‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: پوڈ کاسٹ سے ووڈکاسٹ کا سفر: انسانی ترجیحات کی بدلتی ایک اہم مثال

عالمی سطح پر بھی یہی رجحان ہے۔ ہالی ووڈ کی کلاسک فلمیں، پرانی سیریز اور یہاں تک کہ ۹۰ء کی دہائی کے شوز دوبارہ مقبول ہو رہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ موجودہ ناظرین تیز رفتار اور پیچیدہ کہانیوں سے تھک چکے ہیں اور وہ سادہ، جذباتی اور کردار پر مبنی کہانیوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ اس رجحان کو ٹیکنالوجی نے بھی مضبوط کیا ہے۔ آج اے آئی اور نئی تکنیکوں کی مدد سے پرانی فلموں کو بہتر اور نئے ناظرین کیلئے قابلِ قبول بھی بنایا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی کا مواد اب جدید معیار کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے، جس سے اس کی مارکیٹ ویلیو مزید بڑھ رہی ہے۔ 
یہاں او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کیلئے یہ رجحان ایک اسٹریٹجک موقع بھی ہے۔ نئی فلمیں بنانے کے مقابلے میں پرانی فلموں کے حقوق خریدنا اور انہیں دوبارہ پیش کرنا کہیں زیادہ سستا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی پلیٹ فارمز اب اپنی لائبریری کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہے ہیں کیونکہ ایک مضبوط لائبریری ہی طویل مدتی صارفین کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ یہاں ایک اور دلچسپ پہلو ’’ریجنل سنیما‘‘ کا ہے۔ جنوبی ہند کی فلمیں، پرانی پنجابی فلمیں، حتیٰ کہ علاقائی زبانوں کی کلاسک فلمیں بھی اب او ٹی ٹی کے ذریعے نئے ناظرین تک پہنچ رہی ہیں۔ یہ نہ صرف ثقافتی تنوع کو فروغ دیتا ہے بلکہ ایک نئے مارکیٹ کو بھی جنم دیتا ہے، جہاں ایک زبان کی فلم دوسری زبان کے ناظرین میں بھی مقبول ہو سکتی ہے۔ 
اس رجحان کا بڑا اثر صارفین کے رویے پر پڑ رہا ہے۔ اب ناظرین صرف ’’نئی ریلیز‘‘ کے پیچھے نہیں بھاگتے بلکہ وہ خود اپنی پسند کے مطابق مواد تلاش کرتے ہیں۔ یہ ’’algorithm-driven discovery‘‘ کا دور ہے، جہاں پلیٹ فارم صارف کو وہی دکھاتا ہے جو صارف پسند کر سکتا ہے، چاہے وہ فلم کتنی ہی پرانی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایک ۳۰؍ سال پرانی فلم بھی اسی اسکرین پر دیکھی جا سکتی ہے جہاں کل ریلیز ہونے والی فلم موجود ہے۔ اس طرح وقت کی حد ختم ہوگئی ہے، اور ماضی اور حال ایک ہی پلیٹ فارم پر ہیں۔ 
تاہم، اس رجحان کے ساتھ کچھ سوالات بھی ہیں۔ کیا نئی کہانیوں کی تخلیق متاثر ہوگی؟ کیا فلمساز پرانی کامیابیوں پر انحصار کرنے لگیں گے؟ یہ خدشات اپنی جگہ درست ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر صنعت میں توازن ضروری ہوتا ہے۔ نئی کہانیاں بھی آئیں گی اور پرانی کہانیاں بھی زندہ رہیں گی، اور یہی توازن اس صنعت کو مستحکم بنائے گا۔ کلاسک فلموں کی واپسی بتاتی ہے کہ کہانیاں کبھی پرانی نہیں ہوتیں، صرف ان کے دیکھنے کے طریقے بدلتے ہیں۔ آج کا ناظر جب اسکرین کھولتا ہے تو وہ صرف نئی دنیا نہیں دیکھتا بلکہ ماضی کے دروازے بھی کھولتا ہے کیونکہ کبھی کبھی سب سے بہترین کہانی وہ ہوتی ہے جو پہلے ہی سنائی جا چکی ہو مگر ایک نئے انداز میں دوبارہ جینے کا موقع دیتی ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK