Inquilab Logo Happiest Places to Work

حق رائے دہی کا عمل محض قانونی حق کیوں ہے، بنیادی حق کیوں نہیں؟

Updated: July 24, 2026, 9:59 PM IST | S. Y. Quraishi | Mumbai

عدالت عظمیٰ عملاً یہ تسلیم کر چکی ہے کہ امیدواروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا بنیادی حق ہے، باخبر کرنا بنیادی حق ہے، ووٹ کی رازداری بنیادی حق ہے اور تمام امیدواروں کو مسترد کرنے کا حق بھی میسر ہےلیکن خود ووٹ ڈالنے کے عمل کو اب بھی محض ایک قانونی حق قرار دیا جاتا ہے، ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آئین امیدواروں کو مسترد کرنے کے حق کی حفاظت کرتا ہے تو پھر امیدوار کے انتخاب کے حق کو آئینی تحفظ کیوں حاصل نہیں ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

حال ہی میں کانگریس کے ایک لیڈر نے ایک پرانی آئینی بحث کو دوبارہ زندہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹ دینے کے حق کو بنیادی حق تسلیم کیا جائے۔ پہلی نظر میں یہ مطالبہ بالکل منطقی معلوم ہوتا ہے۔ آخر ایک جمہوری نظام میں اس سے زیادہ بنیادی حق اور کیا ہو سکتا ہے کہ شہری اپنے حکمراں کے انتخاب کا اختیار رکھتا ہو؟ لیکن گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے سپریم کورٹ کا مسلسل یہ موقف رہا ہےکہ ووٹ دینے کا حق بنیادی نہیں بلکہ قانون کے ذریعہ عطا کیا گیا ہے۔ اگرچہ عدلیہ کا یہ مؤقف ایک طویل عرصے سے قائم ہے لیکن سپریم کورٹ کی حالیہ آئینی تشریحات کی روشنی میں اسے برقرار رکھنا اب آسان نہیں رہا۔ متعدد تاریخی فیصلوں کے ذریعہ عدالت عظمیٰ نے بتدریج ووٹر کو قانون کے ذریعہ آئینی عمل کا ایک فعال کردار بنا دیا ہے۔ نتیجتاً ایک قانونی تضادیہ سامنے آیا ہے کہ ووٹ ڈالنے کا عمل تو اب بھی قانونی حق قرار دیا جاتا ہے، لیکن اس کے کئی بنیادی پہلو پہلے ہی آئینی تحفظ حاصل کر چکے ہیں ۔ 
اس روایت کی بنیاد این پی پونّوسوامی بنام ریٹرننگ آفیسر (۱۹۵۲) کے فیصلے میں رکھی گئی، جس میں سپریم کورٹ نے کہاکہ ووٹ دینے اور انتخابات میں امیدوار بننے کا حق نہ تو عمومی قانون کا حق ہے اور نہ ہی فطری بلکہ یہ مکمل طور پر قانون کے ذریعہ وضع کیے گئے حقوق ہیں ۔ بعد ازاں جیوتی باسو بنام دیبی گھوشال (۱۹۸۲) میں جسٹس چنّپا ریڈی نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگرچہ ووٹ دینے کا حق جمہوریت کیلئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، لیکن یہ نہ بنیادی حق ہے اور نہ ہی عمومی قانون کا حق، بلکہ خالصتاً ایک قانونی حق ہے۔ اسی مؤقف کو کلدیپ نیر بنام یونین آف انڈیا (۲۰۰۶)میں آئینی بنچ نے بھی برقرار رکھا۔ 
عدالت نے کہا کہ اگرچہ جمہوریت آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہےتاہم کسی فرد کے ووٹ دینے کا حق بنیادی طور پر پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین، خصوصاً عوامی نمائندگی کے قوانین سے حاصل ہوتا ہے۔ اس موقف کے پیچھے موجود قانونی منطق اپنی جگہ قابلِ فہم ہے۔ آئین کے حصہ سوم میں ووٹ دینے کے حق کو صراحت کے ساتھ بنیادی حقوق میں شامل نہیں کیا گیا۔ اسی لیے پارلیمنٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ انتخابی عمل سے متعلق اہلیت، نااہلی اور دیگر طریقۂ کار کا تعین کرے۔ لیکن آئین کی ارتقائی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس صدی کے آغاز سے سپریم کورٹ نے انتخابی عمل کو بتدریج آئینی تحفظ فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ یونین آف انڈیا بنام اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (۲۰۰۲)کے مقدمے میں عدالت نے قرار دیا کہ ہر ووٹر کو امیدواروں کے مجرمانہ ریکارڈ، تعلیمی قابلیت اور مالی اثاثوں سے آگاہ ہونے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ عدالت نے اس حق کو آئین کے آرٹیکل۱۹ (۱)(الف)، یعنی آزادیٔ اظہار کے بنیادی حق کا حصہ قرار دیا۔ عدالت کا استدلال تھا کہ جب تک ووٹر مکمل معلومات سے باخبر نہ ہو وہ جمہوری عمل میں بامعنی انداز میں حصہ نہیں لے سکتا۔ اس کے اگلے ہی سال پیپلز یونین فار سول لبرٹیز بنام یونین آف انڈیا (۲۰۰۳)میں سپریم کورٹ نے ایک اہم امتیاز قائم کیا۔ عدالت نے ایک طرف یہ موقف برقرار رکھا کہ ووٹ دینے کا حق قانونی حق ہے، لیکن دوسری طرف یہ بھی قرار دیا کہ ووٹ کا آزادانہ اور باخبر استعمال، یعنی اپنی مرضی سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی آزادی آرٹیکل ۱۹(۱)(الف) کے تحت ایک بنیادی حق ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نرم مزاج لڑکی نور عنایت خان برطانیہ کی سب سے اہم سراغ رساں بن گئی تھی

اس آئینی ارتقا کا سب سے دلچسپ مرحلہ ۲۰۱۳کے نوٹا فیصلے کی صورت میں سامنے آیا۔ سپریم کورٹ نے ’ان میں سے کوئی نہیں ‘ کے اختیار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ تمام امیدواروں کو مسترد کرنے کا فیصلہ بھی سیاسی اظہار کی ایک شکل ہے جسے آرٹیکل ۱۹(۱)(الف) کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ مزید یہ کہ عدالت نے کہا کہ رائے دہندگان کی رازداری صرف کسی امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے تک محدود نہیں بلکہ ان افراد کو بھی حاصل ہے جو تمام امیدواروں کو مسترد کرتے ہیں ۔ یہاں ایک غیر معمولی آئینی تضاد جنم لیتا ہے۔ سپریم کورٹ عملاً یہ تسلیم کر چکی ہے کہ امیدواروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا بنیادی حق ہے، باخبر فیصلہ کرنا بنیادی حق ہے، ووٹ کی رازداری بنیادی حق ہے اور تمام امیدواروں کو مسترد کرنے کا حق بھی آئینی تحفظ رکھتا ہےلیکن خود ووٹ ڈالنے کے عمل کو اب بھی محض ایک قانونی حق قرار دیا جاتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال بجا طور پر پیدا ہوتا ہے کہ اگر آئین تمام امیدواروں کو مسترد کرنے کے حق کی حفاظت کرتا ہے تو پھر کسی ایک امیدوار کے انتخاب کے حق کو آئینی تحفظ کیوں حاصل نہیں ؟حالیہ آئینی فیصلے بھی اسی سمت اشارہ کرتے ہیں ۔ انوپ برنوال بنام یونین آف انڈیا (۲۰۲۳) میں جسٹس اجے رستوگی نے اپنے علاحدہ فیصلے میں واضح طور پر یہ رائے دی کہ ووٹ دینے کے حق کو بنیادی حق تسلیم کیا جانا چاہئے۔ اگرچہ ان کی یہ رائے اکثریتی فیصلہ نہ بن سکی، لیکن آئینی بنچ نے متعدد مقامات پر ووٹ کے حق کو محض قانونی حق کے بجائے ایک آئینی حق قرار دیا۔ یہ عدالتی سوچ میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے۔ اگرچہ عدالت نے ابھی تک ووٹ دینے کے حق کو باضابطہ طور پر بنیادی حق کا درجہ نہیں دیا، لیکن یقیناً وہ اس محدود تصور سے آگے بڑھ چکی ہے جس کے تحت اسے صرف ایک قانونی حق سمجھا جاتا تھا۔ 
یہ تضاد اس وقت مزید نمایاں ہو جاتا ہے جب اسے آئین کے بنیادی ڈھانچے کے نظریے کی روشنی میں دیکھا جائے۔ کیسوانند بھارتی بنام ریاستِ کیرالا (۱۹۷۳)کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ نے کئی بار کہا ہے کہ جمہوریت آئین کے بنیادی ڈھانچے کا لازمی جزو ہے۔ اسی طرح اندرا نہرو گاندھی بنام راج نارائن میں عدالت نے کہاتھا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات جمہوریت کی بنیادی شرط ہیں اور بعد کے متعدد فیصلوں میں بھی اس اصول کی توثیق کی گئی لیکن جمہوریت کوئی مجرد یا خیالی تصور نہیں ۔ اس کا عملی اظہار انتخابات کے ذریعہ ہوتا ہے اور انتخابات کی حقیقی حیثیت عوام کی شرکت سے قائم ہوتی ہے۔ ووٹ وہ بنیادی ذریعہ ہے جس کے ذریعے عوام اپنی حاکمیت کا اظہار کرتے ہیں ۔ اسی کے ذریعہ ہم، عوام وقتاً فوقتاً ریاست کی جمہوری حیثیت کی تجدید کرتے۔ اگر جمہوریت آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات اس جمہوریت کے لیے ناگزیر ہیں، تو پھر یہ سمجھنا دشوار ہے کہ شہری کا ووٹ دینے کا حق آئینی تحفظ سے کیوں محروم رہے۔ 
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ووٹنگ کے ہر پہلو کو ایسا مطلق بنیادی حق بنا دیا جائے جس پر کسی قسم کا ضابطہ یا پابندی عائد نہ کی جا سکے۔ پارلیمنٹ کو بدستور یہ اختیار حاصل رہنا چاہیے کہ وہ انتخابی عمل کیلئے ضروری اہلیت، نااہلی، طریقۂ کار اور ضوابط مرتب کرے۔ عمر کی حد، ووٹر فہرستوں کی تیاری، رہائش سے متعلق شرائط، انتخابی بدعنوانیوں پر نااہلی اور دیگر انتظامی ضابطے منظم انتخابات کیلئے ناگزیر ہیں تاہم جس چیز کو آئینی تحفظ ملنا چاہئے وہ ہر اہل شہری کا وہ بنیادی حق ہے جس کے ذریعہ وہ جمہوری عمل میں شریک ہو سکے۔ یہ حقیقت آئین کے آرٹیکل ۳۲۶؍سے بھی پوری طرح واضح ہوتی ہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہوں گے۔ اس حق کا سرچشمہ پارلیمنٹ کا کوئی قانون نہیں بلکہ خود آئین ہے۔ جبکہ عوامی نمائندگی کے قوانین صرف اس آئینی حکم پر عمل درآمد کا ذریعہ ہیں ۔ اس لیے اگرچہ ووٹنگ کا طریقۂ کار قوانین کے ذریعہ منظم کیا جاتا ہے، لیکن ایک شہری کا ووٹر بننے کا حق براہِ راست آئین سے اخذ ہوتا ہے۔ چنانچہ کسی شہری کو آئینی حدود سے ہٹ کر ووٹر فہرست سے خارج کرنا دراصل ایک آئینی ضمانت کی خلاف ورزی ہے۔ ابتدائی برسوں میں جب انتخابی قانون ارتقائی مرحلے میں تھا، قانونی اور آئینی حق کے درمیان یہ امتیاز شاید مفید اور ضروری تھا۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلوں نے وقت کے ساتھ ووٹنگ کے مختلف پہلوؤں کو آئینی تحفظ فراہم کرکے اس فرق کو بڑی حد تک ختم کیا ہے۔ 
جمہوریت کی اصل روح صرف انتخابات کے انعقاد میں نہیں بلکہ اس امر میں مضمر ہے کہ ہر شہری اپنی مرضی کے مطابق اپنی پسند کے امیدوار کا انتخاب کر سکے اور اس کی رائے کو مساوی اہمیت حاصل ہو۔ اگر ووٹ ڈالنے کے حق کو صرف ایک قانونی رعایت سمجھ لیا جائے تو پھر عوامی حاکمیت کا پورا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ووٹ ہی وہ ذریعہ ہے جس سے شہری ریاستی پالیسیوں، حکومتی ترجیحات اور اقتدارپر اپنا فیصلہ صادر کرتے ہیں ۔ اسی لیے جدید آئینی جمہوریتوں میں حق رائے دہی کو محض ایک انتخابی عمل نہیں بلکہ شہری کی آزادی اور سیاسی مساوات کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ جب آئین ہر ووٹر کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ تمام امیدواروں کو مسترد کر دے تو پھر کسی ایک امیدوار کو منتخب کرنے کے حق کو اسی درجے کے آئینی تحفظ سے محروم رکھنے کی کیا منطقی اور قانونی توجیہ باقی رہ جاتی ہے؟ اگر مسترد کرنے کا اختیار شہری کی آزادیِ انتخاب کا حصہ ہے تو انتخاب کرنے کا حق اس سے کہیں زیادہ بنیادی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں حقوق ایک ہی جمہوری اصول کے دو رخ ہیں، جنہیں الگ الگ پیمانوں سے نہیں پرکھا جا سکتا۔ 
(مضمون نگار سابق چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا ہیں )

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK