شرابنی باسو کی تحریرکردہ، برطانوی خفیہ ایجنٹ نور عنایت خان کی سوانح حیات ’اسپائی پرنسس‘ کا ایک جائزہ جس میں انہوں نے نور کی شخصیت کے تضاد’ ایک طرف صوفی روایات کی پروردہ نیک طینت دوشیزہ تو دوسری جانب ایک فریب کار خفیہ ایجنٹ‘ کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔
۱۳؍ستمبر۱۹۴۴ءکی صبح تھی۔ نازی جرمنی کے دخاؤ کانسینٹریشن کیمپ میں ایک لاغر سی نظر آنے والی عورت گردن جھکائے اپنے گھٹنوں پر بیٹھی تھی۔ گزشتہ روز ہی اسے فورتزھائم کی جیل سے بذریعہ ٹرین وہاں لایا گیا تھا۔ اس رات وہ شدید جسمانی اور ذہنی اذیت کا نشانہ بنی تھی۔ ایک نازی افسر نے پستول اس کے سر سے لگا یا اور لبلبی دبا دی۔ چند ہی ثانیوں قبل عورت کے منہ سے ایک فرانسیسی لفظ نکلا تھا،’ لی بیختے‘ یعنی آزادی۔ جسم کے پنجرے سے روح کا پرندہ آزاد ہوا۔ اس طرح برطانیہ کی سیکریٹ ایجنٹ نورالنساءعنایت خان صرف ۳۰؍ برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئی۔
نورعنایت خان کا کردار ایک عجیب مرکب تھا۔ ایک جانب لطافت، انسیت، شاعری، موسیقی، ہمدردی، سچائی اور امن پسندی تھی۔ دوسری طرف چٹان جیسا عزم و استقلال جس پر ظلم و جبر کے شدید ترین طوفان بھی اثرانداز نہ ہو پائیں۔ اس غیرمعمولی شخصیت کی ولولہ انگیز سوانح عمری ’ اسپائی پرنسس‘ یعنی جاسوس شہزادی کے عنوان سے، شرابنی باسو نے لکھی اور کچھ اس طرح لکھی کہ پڑھنے والے کو احساس ہی نہیں ہوپاتا کہ وہ کب آخری چند صفحات تک پہنچ چکا ہے۔ سوچتا ہے کہ کتاب اتنی جلدی کیوں ختم ہو رہی ہے؟
نور کے والد عنایت خان بڑودہ میں کلاسیکل موسیقار تھے۔اپنےپیرومرشد کی ہدایت پر مغرب میں تصوف، روحانیت، رواداری اور انسانی ہم آہنگی کا پیغام عام کرنے کے لئے نکل پڑے۔ نور کی والدہ امریکی تھیں جو اسلام قبول کرنے کے بعد امینہ بیگم کہلائیں۔ گھر کا ماحول مشرقی روحانیت اور مغربی تہذیب کا حسین امتزاج تھا۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا کے بیشتر لوگ ناکامی سے نہیں بلکہ ناکامی کے تصور سے ہار جاتے ہیں
نور یکم جنوری ۱۹۱۴ء کو ماسکو میں پیدا ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد یہ خاندان فرانس منتقل ہوگیا۔ پیرس کے نواح میں عنایت خان کا مکان ’فضل منزل‘ ان کے صوفی سلسلے کا مرکز تھا۔ اُن کے مریدین پورے یورپ میں پھیل چکے تھے۔ نور صرف ۱۳؍ برس کی تھی تو عنایت خان چل بسے۔ امینہ بڑا عرصہ سوگ میں غرق رہیں تو نور نے اپنے چھوٹے بھائیوں ہدایت، ولایت اوربہن خیرالنساء کو ایک ماں کی طرح سنبھالا۔ نور کو بچوں سے بہت محبت تھی۔ بچپن ہی سے تخلیقی صلاحیتوں کی مالک تھی، کہانیاں لکھنے کا شوق رکھتی تھی۔ نفسیات اور موسیقی کی تعلیم بھی حاصل کی، لیکن اس کا اصل رجحان ادب کی طرف تھا۔ بچوں کیلئے سبق آموز جاتک کہانیوں پر مشتمل ایک کتاب شائع کروائی۔ ہندوستانی کلچر میں دلچسپی لیتی تھی۔
دوسری جنگ عظیم چھڑی تو ابتدا میں ہٹلر کی فوجوں کو زبردست فتوحات ملیں۔ خوف کے مارے لاکھوں لوگ پیرس سے محفوظ علاقوں کی طرف نقل مکانی کررہے تھے۔ نور کا خاندان بھی بڑی مشکلیں جھیل کرانگلینڈ جا بسا۔۱۹۴۰ءمیں جرمنی نے فرانس پر قبضہ کرلیا۔ ادب اور آرٹ کی آماجگاہ سرزمینِ پیرس، جرمن ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ سے لرزنے لگی۔ ہزاروں لوگ گرفتار ہوئے، بے شمار مزاحمتی کارکن زیرِ زمین ہوگئے۔ ہر طرف مخبروں کا جال بچھ گیا۔ انگلستان اور اتحادی ممالک البتہ ہٹلر اور مسولینی سے نبرد آزما تھے۔ نور اسوقت تک کافی سمجھدار ہوچکی تھی۔ وہ برٹش فضائیہ کی شاخِ نسواں WAAF میں شامل ہوئی جہاں اسے وائرلیس مواصلات کی تربیت دی گئی۔ اسکی ذہانت، حافظے، فرنچ زبان پر عبور اور ریڈیو آپریٹنگ کی مہارت نے جلد ہی اعلیٰ افسران کو متوجہ کرلیا۔ بعد ازاں اسے برطانیہ کی خفیہ تنظیم، اسپیشل آپریشنس ایگزیکٹیو (ایس او ای) کیلئے منتخب کرلیا گیا۔
’ ایس او ای‘کا مقصد یورپ کے مقبوضہ علاقوں میں خفیہ مزاحمت کو منظم کرنا اور نازی افواج کے خلاف تخریبی کارروائیوں میں مدد فراہم کرنا تھا۔ یہاں تربیت انتہائی سخت تھی۔ امیدواروں کو جسمانی مشقت، خفیہ نقل و حرکت، رمز نگاری، پیغام رسانی، اسلحے کے استعمال، نفسیاتی دباؤ اور دورانِ تفتیش خاموش رہنے کی مشق کرائی جاتی تھی۔ کئی افسران کو شبہ تھا کہ نور کا نرم مزاج شاید ایسے خطرناک کام کیلئے موزوں نہ ہو۔
دلچسپ بات یہ ہےکہ نور کو مرد بننے کا بالکل شوق نہ تھا۔ ورزشیں اور پریڈ اسے ایک آنکھ نہ بھاتے۔ جیسے تیسے کر لیتی۔ اپنی سہیلی جون سے کہتی کہ جنگ کے خاتمے کے بعد وہ شادی اور’ بہت سارے‘ بچے پیدا کرنے کی خواہش رکھتی تھی۔
جون۱۹۴۳ء کی بات ہے جب نور کو ایک فرضی شناخت دی گئی۔ ادارے کیلئے وہ میڈیلین تھی۔ اسے پیرس بھیجا جانا تھا جہاں اس کا نام ژنن ماری ہوتا۔ پونم کی ایک شب اسے ایک طیارے کے ذریعے وادئِ لوا کے کھیتوں میں اتارا گیا۔ بحیثیت وائرلیس آپریٹر، مزاحمتی کارکنوں اور لندن کے درمیان رابطہ قائم رکھنا اسکی اصل ڈیوٹی تھی۔ بظاہر یہ کام سادہ معلوم ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہی ذمہ داری سب سے زیادہ پُرخطر تھی۔ نازی خفیہ پولیس گیستاپو کے پاس ایسے آلات موجود تھے جو ریڈیو سگنل کی سمت معلوم کرلیتے تھے۔ وہ اس جگہ تک پہنچ جاتے۔ اسی لئے ہر بار پیغام رسانی کے بعد مقام بدلنا لازمی ہوتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی سماج کو درپیش معاشی بحران اہم یا فکری بحران؟
نور ہمیشہ اپنے ساتھ بھاری ریڈیو سیٹ، بیٹری سیل اور خفیہ کوڈ بُک اٹھائے پھرتی تھی۔ بد قسمتی سےفرانس پہنچنے کے چند ہی ہفتوں میں اس کے بیشتر ساتھی گرفتار ہوچکے تھے۔ مزاحمتی نیٹ ورک تباہ ہونے کو تھا۔ وہ پیرس میں مسلسل اپنی رہائش بدلتی رہتی۔ کبھی کسی دوست کے گھر، کسی عمارت کی چھت پر، کبھی کسی سنسان کمرے یا کسی تہہ خانے سے ریڈیو پیغامات بھیجتی۔ وقت ضرورت بلی کی طرح تیز رفتاری سے دوڑ لگا کر تعاقب کرنے والوں کو چکما دیتی۔ جس نرم مزاج لڑکی کو بعض افسروں نے کام کیلئے ناموزوں قرار دیا تھا، وہی اب مقبوضہ فرانس میں برطانیہ کی سب سے اہم سراغ رساں بن چکی تھی۔
کئی ماہ تک پیرس میں کامیابی سے خفیہ سرگرمیاں انجام دینے کے بعد وہ کسی کی غداری کا شکار ہوگئی۔ اکتوبر۱۹۴۳ء کی ایک شب جب وہ اپنے ٹھکانے پہنچی تو گستاپو کے ایک اہلکار نے اسے دبوچ لیا۔ نور نے پوری طاقت سے مزاحمت کی۔ وہ تنہا اسے گرفتار نہ کرپایا۔ کمک بلانی پڑی۔ اب نور سے خفیہ کوڈ اور برطانوی ایجنٹوں کی معلومات حاصل کرنا گستاپو کا ہدف تھا۔ اسے دھمکایا گیا، فریب دیا گیا، خوفزدہ کیا گیا مگراس نے ایک لفظ بھی ایسا نہ کہا جس سے اس کے ساتھیوں کی جان خطرے میں پڑتی۔
نور نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ حراستی مرکز سے فرار ہونے کی کوشش کی تو سرچ لائٹوں کی زد میں آکر دھرلی گئی۔ اس کو جرمنی بھیج دیا گیا۔ ہاتھوں میں بیڑیاں اور پیروں میں زنجیریں۔ جیل سے بھاگنے کی دوسری کوشش کا احوال تو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے بعد وہ’انتہائی خطرناک قیدی‘ قرار دی گئی۔ ناکافی خوراک اور تاریک کوٹھری میں قید تنہائی جھیلنی پڑی۔
جنگ کے بعد نور کو پسِ مرگ، برطانیہ اور فرانس میں اعلیٰ ترین سرکاری اعزازات عطا کئے گئے۔ کتاب میں اس دور کے حالات کسی فلم کی طرح نظروں کے سامنے چلتے ہیں۔ مصنفہ نے نور کی جتنی صفات اور کمالات بیان کئے ہیں، راقم الحروف باوجود خواہش کے ان سب کو درج نہیں کر سکتا کہ جگہ محدود ہے۔ نور کی شخصیت کا تضاد کتاب کا سب سے مؤثر پہلو ہے۔ ایک طرف صوفی روایات کی پروردہ نیک طینت دوشیزہ تو دوسری جانب ایک فریب کار خفیہ ایجنٹ۔ یہ دونوں پہلو کیا ایک دوسرے کی ضد ہیں یا تکمیل ہیں؟
مضمون یہیں تک لکھ پایا تھا کہ راقم الحروف کو جھپکی لگی۔ پیرس کی ایک تنگ گلی میں ژنن ماری نظر آئیں۔ انھیں ادب سے سلام کیا اور پوچھا؛’’مادموساں! انگلستان بھی تو ایک استحصالی نوآبادیاتی طاقت تھا؟ آپ آخر تاجِ برطانیہ کی خادم کیوں بنیں؟‘‘ گویا ہوئیں،’’مونسیو! میں کسی بھی ملک پر غیروں کے قبضے کی سخت مخالف تھی۔ ہندوستان تو میرے دل میں بستا تھا البتہ اُسوقت میرے سامنے یورپ میں عام شہری،عورتیںاور بچے ناحق مارے جا رہے تھے۔ نازی ازم اور فاشزم فوری اور بڑے چیلنج تھے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نوجوانو! قرآن کا یہ پیغام سن لو’’علم والے اور بغیرعلم والے برابر نہیں ہوسکتے‘‘
’’اور ایک صوفی زادی، امن وآشتی جس کی گھٹی میں پڑےہوں، جنگ پر آمادہ ہوگئی؟‘‘ راقم سے گستاخی سرزد ہوئی۔ ترکی بہ ترکی جواب ملا،’’ایسے حالات میں ایک صوفی، انکھیں موندے مراقبے میں ڈوبا رہے؟ یا نظروں سے دکھائی دینے والے ظلم وجور سے خدا کے بندوں کو بچانے کی سعی کرے؟ یقین کیجئے مونسیو، میں نے وہی کیا جو وقت کا فوری تقاضہ تھا۔ جو کیا شرح صدر کے ساتھ کیا اور نتیجہ خدا پر چھوڑا۔ جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی۔‘‘ میڈیلین نور نے بس اتنا کہا اور پُھرتی سے یہ جا وہ جا ہوئیں۔ راقم کی آنکھیں کھلیں۔
موجودہ دنیا کشمکش کے ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے مگر اخلاقی سوالات وہی ہیں: کیا نازیت اور فسطائیت نئی شکلیں، نئے نام اپنا کر انسانیت کو خطرے میں نہیں ڈال رہے؟ اسپائی پرنسس ان سوالات کے جواب نہیں دیتی، صرف قاری کو اپنے ضمیر سے مکالمہ کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔