حالات کو مزید بگڑنے سے بچانے کیلئے سیاسی محاذ پر ہم جس حدتک متحد ہوکر ووٹنگ کرسکتے تھے، ہم نے کرلیا، اب دیگر محاذوں پر بھی اتنی ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ توجہ دینےکی ضرورت ہے، ابتداء تعلیمی اور طبی شعبے سے کی جاسکتی ہے۔
EPAPER
Updated: January 12, 2026, 5:35 PM IST | Asim Jalal | Mumbai
حالات کو مزید بگڑنے سے بچانے کیلئے سیاسی محاذ پر ہم جس حدتک متحد ہوکر ووٹنگ کرسکتے تھے، ہم نے کرلیا، اب دیگر محاذوں پر بھی اتنی ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ توجہ دینےکی ضرورت ہے، ابتداء تعلیمی اور طبی شعبے سے کی جاسکتی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نیا سال تاریخ اور سن عیسوی کی تبدیلی کے علاوہ کچھ نہیں، نیز یہ کہ مسلمانوں کا سال ِ نو محرم سے شروع ہوتا ہےمگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے گھروں میں کیلنڈر یکم جنوری کو ہی تبدیل ہوتے ہیں۔ ایسے میں جب ساری دنیا نئے سال کو نئے عزائم کے ساتھ شروع کرتی ہے تو کیوں نہ ہم بھی اپنے لئے کوئی ہدف طے کرلیں۔ بلاشبہ حالات اچھے نہیں، ماحول سازگار نہیں، شر پسندی کے جو واقعات ومعاملات کبھی اِکادکا پیش آتے تھے، اب مین اسٹریم کا حصہ بن چکے ہیں، سیاسی طور پر مسلمانوں کو بے اثر کرنے کی جو سازش رچی گئی وہ بھی بڑی حدتک کامیاب نظر آرہی ہے، ۲۰۲۴ء کے پارلیمانی الیکشن کی دانشمندانہ ووٹنگ بھی اس سازش کو پوری طرح ناکام نہیں کرسکی مگر جو جزوی کامیابی ملی وہ حوصلہ افزاء اور باعث اطمینان ہونی چاہئے۔
اس کے باوجود سماج میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی، ہر موضوع کو ہندو-مسلمان کےقالب میں ڈھالنے کی کوششیں، نفرت انگیز بیانیے اوران کی وجہ سے زمینی سطح پر ہجومی تشدد اور معاشی بائیکاٹ کی شکل میں پیش آنے والے واقعات، معاشی طور پر کمر توڑنے کی کوششیں اور عدم تحفظ کا وہ عمومی احساس جس میں مسلمانوں کو مبتلا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، کسی بھی قوم کے حوصلے پست کردینے کیلئے کافی ہوسکتے ہیں لیکن ہندوستانی مسلمان ہمت ہارے ہیں نہ مایوس ہوئے ہیں، وہ فیض احمد فیض کے اس شعر کے مطابق نئی صبح کی امید کے ساتھ جی رہے ہیں کہ :
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
اہم بات یہ ہے کہ اس شام کو سیاہ رات میں تبدیل نہ ہونے دینے کیلئےعزم و حوصلہ اورعملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ حالات کو مزید بگڑنے سے بچانے کیلئے سیاسی محاذ پر ہم جس حدتک متحد ہوکر ووٹنگ کرسکتے تھے، ہم نے کرلیا۔ جزوی ہی سہی کامیابی بھی حاصل کی مگر اب سیاسی محاذ کے ساتھ ہی دیگر محاذوں پر بھی اتنی ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ حالات بہت ناگفتہ بہ ہیں مگر اب بھی بہت کچھ ہے جو کیا جاسکتاہے، جس سے نہ ہمیں کوئی روک رہا ہے، نہ روک سکتاہے۔ بدلتے ہوئے حالات میں اس کی ضرورت پہلے سےکہیں زیادہ محسوس ہونے لگی ہے۔ سچر کمیٹی اور رنگناتھ کمیٹی کی رپورٹیں گواہ ہیں کہ آزادی کےبعد مسلمانوں کی حالت میں سدھار آنے کے بجائے زوال آیا ہے۔ حکومتوں کو اس کی جوابدہی سے آزاد نہیں کیا جا سکتا مگر کیا کیجئے گا کہ حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے ’’عیش‘‘ سے بھی ہم محروم ہوچکے ہیں۔ ایسے میں ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اگر حکومتوں نے ہماری حالت بہتر کرنے کی جانب کوشش نہیں کی تو من حیث القوم ہم نے کیا کوشش کی؟اگر پہلے نہیں کی تھی تو سچرکمیٹی اوررنگناتھ مشرا کمیٹی کی رپورٹیں دیکھ لینے کے بعد کیا اقدامات کئے؟ تب بھی نہیں کئے تو کرناٹک میں جب مسلم طالبات کے حجاب کا تنازع پیدا ہوا، اس کے بعد ہم نے کتنی فکر کی کہ ہمارے طلبہ اور طالبات حصول علم کیلئے ایسے اداروں کے محتاج نہ رہیں جہاں انہیں تعلیم حاصل کرنے کے دوران اپنے اسلامی شعائرکیلئے بھی لڑنا پڑے۔ یہ بات متفق علیہ ہے کہ اگر قوم کی حالت کو سدھارنا ہے تو تعلیم کی جانب توجہ دینی ہوگی۔ بلاشبہ ملت میں تعلیمی بیداری آئی ہے۔ مسلم طلبہ پہلے سے زیادہ ڈاکٹر بن رہے ہیں، انجینئر بن رہے ہیں اور پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کررہے ہیں مگر اب بھی مسلمانوں میں گریجویشن اور اس سے آگے تعلیم حاصل کرنے والوں کی شرح۱۱۔ ۱۰؍ فیصد سے آگے نہیں بڑھ سکی جبکہ قومی اوسط ۲۰؍ فیصد کے آس پاس ہے۔ ملک کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں مسلم طلبہ کا تناسب ان کی آبادی کے تناسب سے بہت کم ہے۔ یہ فرق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تعلیمی محاذ پر ملت کو خود کفیل بنانے کی جانب پہلے توجہ دی جائے۔ اس کیلئے بہت منصوبہ بندی کی نہیں ، صرف علاقائی سطح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم ایسے معیاری اسکول اور کالج بھی نہیں بنا سکتے جو قوم کی تعلیمی کفالت کرسکیں ؟ مدارس اسلامیہ کا جال پورے ملک میں بڑی کامیابی کے ساتھ پھیلایا جاچکاہے، ان کی افادیت سے انکار نہیں مگر اسکول، جونیئر کالج اور ڈگری کالج کے قیام کی جانب توجہ دینا بھی اتنا ہی ضروری ہوگیا ہے۔ ایک حل یہ بھی ہوسکتاہے کہ بڑے اسلامی مدارس، مدرسہ کے ساتھ ملحق اسکول بھی قائم کریں ؟یہ وہ ماڈل ہے جس پر کئی مقامات پر کامیابی کے ساتھ عمل بھی ہورہاہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایک دن کے وقفہ سے ۲؍ فیصلے اور ۲؍ الگ الگ موقف!
یہی بات اسپتالوں کے تعلق سے بھی کہی جاسکتی ہے۔ کیا بات ہے کہ بڑے بڑے نجی اور چیرٹیبل اسپتال جہاں مسلم مریضوں کی بھیڑ واضح طور پر نظر آتی ہے، مسلمانوں کے نہیں ہیں ؟ اسپتالوں کا قیام رفاہی کام ہے جس کے ذریعہ نہ صرف اپنے قوم کی خدمت ہوسکتی ہے بلکہ برادران وطن کو بھی خود سے قریب کیا جاسکتاہے۔ اسی ممبئی میں ہم ایسی چھوٹی چھوٹی کمیونٹیز کے بڑے بڑے اسپتال بطور مثال پیش کر سکتے ہیں جن کا آبادی میں فیصد مسلمانوں کے مقابلے میں عشر عشیر بھی نہیں ہے، ہماری توجہ اب تک اس جانب نہیں گئی تو اب بھی کیوں نہ جائے؟ تعلیمی بیداری کے نتیجے میں کامیوں کے زینے چڑھنے والے ہماری قوم کے نوجوان ہمارے لئے وسائل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی اس طرح ذہن سازی کیوں نہ کی جائے کہ وہ اپنے جیسے مزید کامیابی افراد پیدا کرنے کیلئے عملی تعاون کریں اور کم از کم ایک طالب علم کی کفالت اوراسے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا بیڑہ اٹھائیں۔ فرقہ پرست طاقتیں اشتعال انگیزی اوراس کے ردعمل پر انحصار کرتی ہیں۔ اس کا مقابلہ میں جب صبر، قانون پسندی، آئینی شعور، اعلیٰ اخلاق اور خود کو بہتر شہری بنا کر کیا جائےگا تو نفرت کی سیاست خود کمزور پڑنے لگے گی۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہحالات سے جکڑ دیئے جانے کے احساس سے خود کو آزاد کیا جائے، مثبت سوچ کو فروغ دیں اور نئے سال کا آغاز مثبت فکر کے ساتھ ہو۔
گو آبلے ہیں پاؤں میں پھر بھی اے رہروو
منزل کی جستجو ہے تو جاری رہے سفر