واضح ہوگیا ہے کہ صارفین تفریح پر خرچ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ اس سے کسان کی پیداوار بڑھتی ہے، فوڈ مینوفیکچرنگ کمپنیاں سرمایہ کاری کرتی ہیں، اور ریٹیل اور لاجسٹکس سیکٹر میں روزگار بڑھتا ہے۔
EPAPER
Updated: March 15, 2026, 9:55 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
واضح ہوگیا ہے کہ صارفین تفریح پر خرچ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ اس سے کسان کی پیداوار بڑھتی ہے، فوڈ مینوفیکچرنگ کمپنیاں سرمایہ کاری کرتی ہیں، اور ریٹیل اور لاجسٹکس سیکٹر میں روزگار بڑھتا ہے۔
جب فلم ’’دھرندھر‘‘ نے گزشتہ سال باکس آفس پر تیز رفتار کامیابی کا نیا ریکارڈ قائم کیا تو اس نے صرف فلمی صنعت کو ہی نہیں بلکہ پاپ کارن، کولڈ ڈرنکس اور دیگر تھیٹر اسنیکس کے کاروبار کو بھی غیر متوقع طور پر متاثر کیا۔ یہ اثر اتنا نمایاں تھا کہ معاشی تجزیہ نگاروں نے اسے جلد ہی ’’دھرندھر اِفیکٹ‘‘ کا نام دے دیا۔ یہ ایک ایسا معاشی رجحان بن کر سامنے آیا جس نے سنیما گھروں سے لے کر کھیتوں، فوڈ پروسیسنگ یونٹس اور بین الاقوامی سپلائی چین تک کو متاثر کیا۔ فلم نے ریلیز کے چند ہفتوں میں ہی ہندوستان میں ۵۰۰؍ کروڑ روپے سے زائد کی گھریلو خالص آمدنی حاصل کی اور جلد ہی عالمی سطح پر ایک ہزار کروڑ روپے کے مجموعی باکس آفس کا ہدف بھی عبور کر لیا۔ تاہم اس کامیابی کی اصل اہمیت صرف فلمی ریکارڈ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ایک وسیع یوٹیلیٹی بزنس چین کو بھی متحرک کیا۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ہندوستان میں اے آئی کے ذریعے ’زندہ‘ ہوتے لوگ، ایک اُبھرتی ہوئی معیشت
اہم سوال یہ ہے کہ ’’دھرندھر اِفیکٹ‘‘ کیا ہے؟ بڑے ملٹی پلیکس تھیٹرز کے مطابق فلم کا ۲۱۴؍ منٹ (تقریباً ساڑھے تین گھنٹے) طویل دورانیہ اور وقفہ اس کا اہم معاشی عنصر بن گیا۔ طویل فلم کے باعث ناظرین نے دورانِ وقفہ اور بعد میں کئی مرتبہ کھانے پینے کی اشیاء خریدیں۔ اس کے نتیجے میں پاپ کارن، ناچوز، کولڈ ڈرنکس اور دیگر اسنیکس کی فروخت میں حیران کن اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ملٹی پلیکس چینز جیسے پی وی آر آئی ناکس کے مطابق فی کس خرچ میں غیر معمولی اضافہ ہوا جو بعض مواقع پر ۱۹۰ فیصد سے زیادہ تک پہنچ گیا۔ یہ اضافہ صرف تھیٹرز تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے سپلائرز، کسانوں، ریٹیل مارکیٹ اور فوڈ مینوفیکچرنگ سیکٹر کو بھی متاثر کیا۔
پاپ کارن طویل عرصے سے سنیما کا لازمی حصہ رہا ہے، لیکن اب یہ صرف تفریحی اسنیک نہیں بلکہ ایک تجارتی کموڈیٹی بن چکا ہے۔ جب فلمی سیزن میں مانگ بڑھتی ہے تو کسان مکئی کی کاشت میں اضافہ کرتے ہیں کیونکہ پاپ کارن کا بنیادی خام مال یہی ہے۔ اس کے بعد پوری معاشی زنجیر حرکت میں آتی ہے:اناج منڈیوں میں طلب بڑھتی ہے، فوڈ پروسیسنگ یونٹس اپنی پیداوار بڑھاتے ہیں، پیکجنگ صنعت سرگرم ہو جاتی ہے اور ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس سیکٹر میں سرگرمی بڑھتی ہے۔ اس طرح ایک فلمی کامیابی بالواسطہ طور پر زرعی معیشت اور فوڈ سپلائی چین کو بھی متحرک کر دیتی ہے۔
ہندوستانی فلمی صنعت میں یہ رجحان نیا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر شاہ رخ خان کی بلاک بسٹر فلمیں اس معاشی اثر کی واضح مثالیں پیش کرتی ہیں۔ جب ’’پٹھان‘‘ ریلیز ہوئی تو نہ صرف باکس آفس ریکارڈ ٹوٹے بلکہ سنیما گھروں میں اسنیکس کی فروخت بھی کئی گنا بڑھ گئی۔ اسی طرح ’’چنئی ایکسپریس‘‘ اور ’’جوان‘‘ جیسی فلموں نے بڑے پیمانے پر تھیٹر فٹ فال بڑھایا، جس کے نتیجے میں فوڈ اینڈ بیوریج ریونیو میں نمایاں اضافہ ہوا۔ کئی ملٹی پلیکس چینز کا کہنا ہے کہ بڑی اسٹار کاسٹ والی فلمیں ٹکٹ کی آمدنی سے زیادہ اسنیکس کی فروخت کو بڑھا دیتی ہیں۔ اس لئے تھیٹر بزنس ماڈل میں اب فوڈ اینڈ بیوریج ایک اہم ستون بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ہندوستانی سنیما کا بدلنا رجحان؛ اب ہدایت کار ہیں ’اسٹار‘
یہ رجحان صرف ہندوستان تک محدود نہیں۔ عالمی سطح پر بھی فلمیں کئی متعلقہ صنعتوں کو متاثر کرتی رہی ہیں۔ مثال کے طور پر ’’اوتار‘‘ نے نہ صرف باکس آفس بلکہ تھیم پارکس اور مرچنڈائز مارکیٹ کو بھی فروغ دیا۔ ’’باربی‘‘ کی کامیابی کے بعد فیشن، کھلونوں اور برانڈیڈ مصنوعات کی عالمی فروخت میں زبردست اضافہ ہوا۔ ’’جراسک پارک‘‘ نے فلمی مرچنڈائزنگ کو اربوں ڈالر کی صنعت میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ جدید دور میں فلمیں صرف کہانیاں نہیں سناتیں بلکہ صارفین کے رویوں اور مارکیٹ ٹرینڈز کو بھی بدل دیتی ہیں۔
آج فلمی صنعت کئی معاشی شعبوں سے جڑی ہوئی ہے، جن میں شامل ہیں: فلم ڈسٹری بیوشن، اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، مرچنڈائزنگ، فوڈ اینڈ بیوریج بزنس اور اشتہارات اور برانڈ پارٹنرشپ۔ عالمی فلمی صنعت ہر سال اربوں ڈالر کی معیشت پیدا کرتی ہے۔ جب کوئی فلم مقبول ہوتی ہے تو اس سے جڑی مصنوعات، موسیقی، ملبوسات اور دیگر اشیاء کی مانگ بھی بڑھ جاتی ہے۔ اسی لئے بڑے اسٹوڈیوز جیسے وی والٹ ڈزنی کمپنی، یونیورسل پکچرس اور سونی پکچرس اپنی فلموں کے ساتھ مکمل برانڈنگ حکمت عملی تیار کرتے ہیں۔
ہندوستان میں تفریحی صنعت اب معیشت کا ایک اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔ ڈجیٹل پلیٹ فارمز، ملٹی پلیکس کلچر اور بڑھتی ہوئی متوسط طبقے کی آمدنی نے فلمی صنعت کو نئی توانائی دی ہے۔ ’’دھرندھر اِفیکٹ‘‘ نے یہ واضح کیا ہے کہ صارفین تفریح پر خرچ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ اس کے نتیجے میں کسان پیداوار بڑھاتے ہیں، فوڈ مینوفیکچرنگ کمپنیاں سرمایہ کاری کرتی ہیں، اور ریٹیل اور لاجسٹکس سیکٹر میں روزگار بڑھتا ہے یعنی ایک فلم غیر متوقع طور پر زرعی، تجارتی اور خدماتی شعبوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: یادیں حقیقی ہیں یا جعلی؟ مصنوعی ذہانت انسانی یادداشت کو ازسرِنو لکھ رہی ہے
’’دھرندھر اِفیکٹ‘‘ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جدید دنیا میں کاروبار اور ثقافت الگ نہیں رہے۔ ایک بلاک بسٹر فلم نہ صرف باکس آفس ریکارڈ توڑتی ہے بلکہ سپلائی چین، زرعی مانگ، صارفین کے رویوں اور عالمی مارکیٹ ٹرینڈز کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ممکن ہے آنے والے برسوں میں ہندوستانی فلمیں صرف تفریح نہیں بلکہ ثقافتی برانڈ اور اقتصادی محرک کے طور پر بھی دیکھی جائیں۔ اس صورت میں سنیما گھروں سے لے کر کھیتوں تک پھیلی یہ معاشی کہانی مزید مضبوط ہوتی نظر آئے گی۔