Updated: March 08, 2026, 12:52 PM IST
| Mumbai
وراثت میں خواتین کو ان کا حق دیا جانا چاہئے

اسلام نے خواتین کو جو حقوق عطا کئے ہیں وہ نہایت جامع، متوازن اور باعزت ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ان حقوق پر مکمل طور پر عمل نہیں ہو رہا ہے۔ اگرچہ اسلام نے عورت کو وراثت میں حصہ، تعلیم کا حق، نکاح میں اپنی مرضی کا اختیار، مہر کی ملکیت اور معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا حق دیا ہے، مگر عملی زندگی میں اکثر خواتین ان حقوق سے محروم نظر آتی ہیں۔ خاص طور پر وراثت کے معاملے میں کئی خاندانوں میں عورتوں کو ان کا جائز حصہ نہیں دیا جاتا، جسے سماجی روایت یا خاندانی دباؤ کے ذریعے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
اسی طرح تعلیم کے میدان میں بھی اگرچہ حالات پہلے کے مقابلے میں کافی بہتر ہوئے ہیں، لیکن اب بھی بہت سی جگہوں پر لڑکیوں کی تعلیم کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو دینی اور سماجی اعتبار سے ضروری ہے۔ نکاح کے معاملے میں بھی بعض اوقات لڑکیوں کی رائے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ اسلام نے اس کی رضامندی کو بنیادی شرط قرار دیا ہے۔ اس طرح کی کوتاہیاں دراصل اسلام کی تعلیمات کی کمی نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں اور غلط روایات کا نتیجہ ہیں۔ان مسائل کے حل کیلئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات کے صحیح فہم کو عام کیا جائے۔ علماء، اساتذہ اور سماجی رہنما اس بات کی ذمہ داری لیں کہ وہ لوگوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں خواتین کے حقوق سے آگاہ کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی تعلیمی اداروں، میڈیا اور سماجی تنظیموں کو بھی اس شعور کو پھیلانے میں اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہئے۔ خاندان کی سطح پر بھی والدین اور بزرگوں کو چاہئے کہ وہ بیٹیوں کے حقوق کو اسی طرح اہمیت دیں جیسے بیٹوں کے حقوق کو دیتے ہیں۔
اگر ہم واقعی اسلام کے منصفانہ نظام کو اپنی زندگیوں میں پوری طرح سے نافذ کرلیں تو معاشرے میں خواتین کو وہ مقام اور احترام مل سکتا ہے جس کا تصور اسلام نے پیش کیا ہے۔ اس طرح ایک متوازن، باوقار اور انصاف پر مبنی معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔
ڈاکٹرنور جہاں بیگم شیخ عبدالغنی (اسسٹنٹ پروفیسر، بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی، اورنگ آباد)
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ پرہندوستان کا موقف ’نرم ‘یا ’ناکام‘ ؟
تعلیم، شعور اور انصاف پر مبنی سوچ ہی وہ واحد راستہ ہے جو خواتین کو ان کا جائز مقام دلاسکتا ہے
کسی بھی معاشرے میں اگر کچھ مسئلہ ہے،تو اس کا حل اسی معاشرے میں رہنے والوںکی سوچ میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ ایک بہتر اور متوازن معاشرہ اسی وقت تشکیل پاسکتا ہے جب مرد اور عورت دونوں اپنی ذمہ داریوں اور ایک دوسرے کے حقوق کو سمجھ کر ان کا احترام کرتے ہیں۔ سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ خواتین پہلے خو د اپنے حقوق سے واقف اور بیدار ہوں.... اور نہصرف وہ اپنی صلاحیتوں سے بلکہ اپنے مقام سے بھی بخوبی واقف ہوں۔ ساتھ ہی مردوں کی بیداری بھی یکساں اہمیت کی حامل ہے۔ مرد اور عورت مقابل نہیں ، بلکہ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں ۔
مردوںکیلئے یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ عورت پر اُن کا غالب ہونا، ان کی قوت نہیں ہے بلکہ ان کے حقوق کی حفاظت کرنے، ان کااحترام کرنے اور ان کی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانے میں ان کی طاقت پنہاں ہے۔ مرد اور عورت مقابل نہیں بلکہ ایک دوسر کے ساتھی ہیں۔ جب رشتوں کی بنیاد دباؤ یا اختیار پر نہیں بلکہ انصاف احترام اورامانت داری پر رکھی جاتی ہے تو نہ صرف گھر بلکہ معاشرہ بھی مضبوط ہوتاہے۔تعلیم، شعور اور انصاف پر مبنی سوچ ہی وہ واحد راستہ ہے جو خواتین کو ان کا جائز مقام دلاسکتا ہے۔ حق دینا کسی پراحسان نہیں ہوتابلکہ انصاف کو اس کی جگہ دینا ہوتا ہے۔ جہاں انصاف اپنی صحیح جگہ پر ہووہاں حقوق کی پامالی کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔
خان آفرین عمران(ڈائریکٹر، ذائقہ آفرین، بھیونڈی)
یہ بھی پڑھئے: ایران پر امریکہ و اسرائیل کا حملہ عالمی جنگل راج کی توثیق ہے
اب بھی ایک بہت بڑا خلا دکھائی دیتا ہے

اسلام نے خواتین کو بہت سے حقوق عطا کئے ہیں۔ جو دنیا کے اکثر مذاہب اور ترقی یافتہ معاشروں میں صدیوں تک تسلیم نہیں کیا گیا۔ اسلام نے عورت کو عزت، وقار، عہدہ اور معاشرتی مقام دیا۔ چاہے وہ وراثت کا حق ہو، اپنی ملکیت یا تجارت ہو یا پھر وہ علم کا میدان۔ اسلام نے عورت کو مردوں کے مساوی اختیارات دیئے۔ عورت کی رضا اور معاشی تحفظ مہر کے ذریعے نکاح میں شامل کیا۔
لیکن افسوس، اگر معاشرے کا بغور جائزہ لیا جائے تو فرسودہ رسم و رواج، سماج میں مردوں کا اعلیٰ مقام اور ضعیف سوچ ملتی ہے جو عورت کو کمزور، کم عقل اور صرف سجاوٹ اور دلجوئی کے سامان سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتی۔ صورتِ حال یہ ہے کہ عورت کے وراثت کے حقوق کو لوگوں نے پڑھا، لیکن اس صورت کی تعلیم کو عمل میں لانے سے قاصر رہے۔ قرآن اور حدیث میں کئی مقامات پر مرد و زن کو مساوی درجہ دیا گیا ہے، خواہ وہ علم ہی کیوں نہ ہو۔ اکثر گھروں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے اس صنفِ نازک کو روک دیا جاتا ہے، کئی جگہوں پر اس سے شادی جیسے اہم فیصلے میں رائے تک نہیں لی جاتی۔ ہمارے اپنے گھروں میں گھریلو خانہ داری کی ذمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں۔ اکثر اہم فیصلوں میں عورت کا کردار دکھائی نہیں دیتا۔
حالاتِ حاضرہ میں یقیناً تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ معاشی زندگی میں بھی یہ صنفِ نازک کامیاب ہو رہی ہے، لیکن اب بھی ایک بہت بڑا خلا دکھائی دیتا ہے۔ عورت کے وہ حقوق اور مقام جو اسلام نے دیئے، ان پر عمل پیرا ہونے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ ہماری اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت اور اندھی تقلید کی وجہ سے ہم تعلیم سے دور ہو رہے ہیں۔ ہمیں پرانی اندھی تقلید اور سماجی روایات کو ترک کرنا ہے۔
ہمارے گھروں کی ہر رحمت، ہماری بیٹیوں کو مساوی سوچ اور برتاؤ کے ساتھ پروان چڑھانا ہے۔ گھریلو خانہ داری سے لے کر معاشرتی پیشوں تک اور اہم فیصلوں تک مساوی کردار نبھانے کے مواقع دینا ہے۔ اور سب سے اہم، بیٹی پڑھاؤ اور بیٹی بچاؤ کے بجائے ’بیٹی اور بیٹے دونوں پڑھاؤ اور اخلاقی و معاشرتی زوال سے دونوں کو بچاؤ‘پر عمل پیرا ہونا ہے۔
انصاری روبینہ پروین محمد صالح(صدر مدرسہ اےکےآئی اردو گرلز ہائی اسکول کرلا)
یہ بھی پڑھئے: حالاتِ حاضرہ اور ادب کے طلبہ
مساجد اور دینی مراکز کو بیداری کا ذریعہ بنایا جانا چاہئے

مذہبِ اسلام نے خواتین کو جو حقوق عطا کئے ہیں وہ محض نظریاتی یا اخلاقی تعلیمات نہیں بلکہ باقاعدہ شرعی اور قانونی حیثیت رکھتے ہیں لیکن کڑوی حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ان حقوق پر مکمل طور پر عمل آوری نظر نہیں آتی۔ خاص طور پر وراثت کے معاملے میں خواتین کی حق تلفی کے کئی واقعات آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں، حالانکہ قرآنِ مجید نے وراثت کے حصے نہایت وضاحت کے ساتھ مقرر کئے ہیں۔ اسی طرح نکاح کے معاملے میں آج بھی بعض مقامات پر لڑکی کی رضامندی کو محض ایک رسمی کارروائی سمجھ لیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں یا تو لڑکیاں مجبوری کے تحت تمام عمر رشتہ نبھانے پر مجبور رہتی ہیں یا پھر نوبت طلاق اور خلع تک پہنچ جاتی ہے۔دورِ حاضر میں طلاق کا مسئلہ بھی ایک اہم سماجی اور دینی مسئلہ بن چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نہ تو طلاق کے مسائل سے واقف ہے، نہ ہی اس کے صحیح اسلامی طریقۂ کار سے۔ ملت کی اسی لاعلمی اور کم علمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئےتین طلاق کے حوالے سے قانون نافذ کیا گیا، جس نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ایک اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ علما اور دانشوروں کی جانب سے اس سلسلے میں بروقت اور مؤثر رہنمائی بہت کم نظر آتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ تو بہت سی خواتین اپنے حقوق سے پوری طرح واقف ہو پاتی ہیں اور نہ ہی مردوں میں اس بارے میں مطلوبہ آگاہی پیدا ہو پاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشرے میں اکثر مرد، خصوصاً نوجوان طبقہ، طلاق کے مسائل سے ناواقف ہے اور وراثت و جائیداد کے شرعی احکام سے بھی پوری طرح آگاہ نہیں۔
اس صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے ضروری ہے کہ مساجد اور دینی مراکز کو بیداری پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔ خطبات جمعہ میں خواتین کے حقوق، وراثت و جائیداد اور وصیت کے مسائل کے ساتھ ہی طلاق کے شرعی احکام پر واضح رہنمائی دی جائے۔ اگر ان موضوعات پر سنجیدگی کے ساتھ شعور پیدا کیا جائے توسماج میں موجود بہت سی ناانصافیاں کم ہو سکتی ہیں اور خواتین کو وہ حقوق عملی طور پر حاصل ہو سکتے ہیں جو اسلام نے انہیں عطا کیے ہیں۔
سیدشعیب ہاشمی (سپرنٹنڈنٹ/ایگزیکٹیو آفیسر مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی)
یہ بھی پڑھئے: گاؤں کاموسم بدل رہا ہے، آموں کے بور سے بغیا مہکنے لگی ہے
جہیز کو وراثت کا متبادل سمجھنے کا تصور ختم ہونا چاہئے، یہ حقوق کی پامالی کا سبب بنتا جارہا ہے

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہےجس میں حقوق وفرائض بالخصوص حقوق العباد کا ذکر کیا گیا ہے جہاں خواتین کے حقوق کی شمولیت ان کے مرتبے کوبلند کرتی ہے اور سماج میں عزت وحفاظت سے رہنے کو یقینی بناتی ہے۔ ۱۴۰۰؍ سال پہلے ہی ایام جاہلیت کی تیرگی مٹانے کیلئے سید المرسلین نبی کریمؐ پر نازل کردہ کتاب قرآن کریم کی سورۃ النساء میں خواتین کے سماجی ، معاشی ، تعلیمی ازدواجی اور قانونی حقوق کی بات کی گئی ہے۔ اسلام کی رو سے خواتین کو زندگی اور مساوات کا حق ، تعلیم کا حق ، وراثت اور ملکیت کا حق، نکاح مرضی کے مطابق ہونے کا حق، مہر کا حق اور معاشی ذمہ داریوں سے استثنیٰ کا حق دیا گیا اور بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے والے مرد کو بہترین مرد قراردیا گیا ہے۔ انہی حقوق کی بدولت آج خواتین سیاست، تعلیم ، صحت عامہ ، تعمیراتی کام اور خلائی وہوائی جیسے ہر شعبے میں مرد کے شانہ بہ شانہ مصروف بہ عمل ہیں، مگر تہذیب یافتہ دور میں بھی ان کے حقوق کی حق تلفی کی جارہی ہے۔ معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد اور آبروریزی جیسے روح فرسا واقعات اور انہیں مرد تسلط گھرانے میں کمتر سمجھنے کا رجحان اب بھی موجود ہے۔
کبھی خواتین کو وراثت سے یہ کہہ کر محروم کردیا جاتا ہے کہ ’’ ہم نے انہیں جہیز دے دیا ہے‘‘ یا بھائی بہنو ںکو جذباتی دباؤ ڈال کر ان کا حصہ ہڑپ لیتے ہیں۔ یہ صریحاً اسلامی احکامات کی خلاف ورزی ہے اور یہ تصور حقوق کی پامالی کا سبب بنتا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں اعلیٰ تعلیم سے بھی محروم رکھا جاتا ہے یہ سمجھ کر کہ لڑکیاں صرف گھرداری کیلئے بنائی گئی ہیں۔ جہاں جہاں خواتین کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی اور غفلت برتی جارہی ہے، وہاں وہاں ہمیں چاہئے کہ حقوق نسواں کے حوالے سے ہم اپنی ثقافت کو شریعت کے تابع کریں۔ ہم نے اکثر جگہوں پر اسلامی قوانین کے بجائے ’’ باپ دادا کی رسومات ‘‘ کو اپنا لیا ہے ۔ سماج میں سدھار تبھی ممکن ہے جب ہم خواتین کو حقوق ’خیرات‘سمجھ کر نہیں بلکہ ’اللہ کا حکم ‘ اوران کا ’قانونی حق‘ سمجھ کر ادا کریں۔ جب تک ہم عورت کو وہ مقام نہیں دیں گے جو اللہ نے اسے دیا ہے تو ہمارا معاشرہ اخلاقی اور مکمل طورپر ترقی نہیں کرسکے گا۔
انصاری قنوت وکیل احمد( معاون معلمہ ، رئیس جونیئر کالج ، بھیونڈی)
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت، ایران پر حملے سرخی میں رہے
علماء، اساتذہ اور سماجی ادارے عورتوں کے حقوق کے تئیں عوام کو بیدار کریں

کائنات کے گلوں میں رنگ بھر کر اسے مزید حسین بنانے والی اگر کوئی ہستی ہے تو وہ عورت ہی ہے۔ عورت زندگی کی خوبصورتی، محبت اور قربانی کی علامت ہے۔ عورت کبھی ماں بن کر نسلوں کی تربیت کرتی ہے، کبھی بیٹی بن کر گھر کی رونق بنتی ہے، کبھی بہن بن کر محبت اور خلوص کا پیکر بنتی ہے اور کبھی بیوی کی صورت میں زندگی کے سفر کی رفیق بنتی ہے۔اسلام وہ مذہب ہے جس نے عورت کو ہر طرح سے باوقار اور بااختیار بنانے کی کوشش کی۔ اسلام سے پہلے کے معاشروں میں عورت کو حقیر سمجھا جاتا تھا، اس کے ساتھ ظلم و ستم کیا جاتا تھا اور اسے بنیادی انسانی حقوق بھی محروم رکھا جاتا تھا، مگر اسلام نے عورت کو عزت، احترام اور مکمل حقوق عطا کیے۔ اسلام نے عورت کو تعلیم کا حق، وراثت کا حق، معاشی معاملات میں حصہ لینے کا حق، مہر کا حق، نان و نفقہ کا حق، شوہر کے انتخاب کا حق اور ضرورت پڑنے پر خلع کا حق بھی دیا ہے۔لیکن ہم ان تعلیمات کو موجودہ مسلم معاشرے پر منطبق کر کے دیکھیں تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان حقوق پر مکمل عمل بہت کم نظر آتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سی خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔ انہیں تعلیم کے کم مواقع دیئے جاتے ہیں، لڑکوں اور لڑکیوں میں امتیاز برتا جاتا ہے اور کئی جگہوں پر انہیں وراثت کے حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بھائی بہن کو اس کا حق دینے سے کتراتاہے، شوہر بیوی کے ساتھ ظلم و زیادتی کو معمول سمجھتا ہے اور بعض اوقات باپ بیٹی کو ضرورت سے زیادہ پابندیوں میں رکھ کر اس کی صلاحیتوں کو محدود کردیتاہے۔ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا مسلم معاشرہ عورتوں کے حقوق اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں صحیح شعور سے محروم ہے۔اس کا بنیادی حل یہی ہے کہ قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات کو عام کیا جائے۔ معاشرے میں شعور اور بیداری پیدا کی جائے تاکہ لوگ اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق عورت کے حقوق کو پہچانیں اور انہیں ادا کریں۔اس کیلئے ضروری ہے کہ عورتوں کی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان امتیاز ختم کیا جائے۔ وراثت اور دیگر حقوق کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔گھریلو تشدد کے خلاف شعور پیدا کیا جائے۔
علماء، اساتذہ اور سماجی ادارے عورتوں کے حقوق کے بارے میں عوام کو آگاہ کریں۔
۸؍ مارچ والا عالمی یومِ خواتین بھی اسی مقصد کے تحت منایا جاتا ہے کہ ہمارا معاشرہ عورتوں کے حقوق اور ان کی آزادی کے بارے میں آگاہ ہوسکے۔حقیقت یہ ہے کہ عورت معاشرے کا جزوِ لاینفک ہے۔ اس کے بغیر معاشرے کی ترقی کا تصور ممکن نہیں۔ اگر ہم ایک مہذب، متوازن اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں عورت کو اس کا جائز مقام اور اس کے تمام حقوق دینا ہوں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ایک بہتر اور خوشحال معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔
ظفر عالم خان (معاون معلم، رفیع الدین فقیہ بوائز ہائی اسکول، بھیونڈی)
یہ بھی پڑھئے: ’’چاند رات کو دف بجاتا اور خوشی کے گیت گاتا ایک گروپ محلے میں نکلتا تھا‘‘
تعلیم اور عمل کے درمیان بہت فرق ہے،اسے ختم کیا جانا چاہئے

اسلام نے خواتین کو جو مثالی حقوق عطا کئے ہیں، ان کا اعتراف دورِ جدید کے منصف مزاج دانشور بھی کرتے ہیں۔ تاہم، جب ہم اپنے عصری مسلم معاشرے کا موازنہ اسلامی تعلیمات سے کرتے ہیں، تو نظریئے اور عمل کے درمیان ایک خلیج نظر آتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارا سماج ان حقوق کی ادائیگی میں کئی محاذوں پر کوتاہی کا شکار ہے، اور اس کی جڑیں اسلامی تعلیمات کے بجائے’رسم و رواج‘ اور’مرد اساس ذہنیت‘ میں پیوست ہیں۔
سماجی کوتاہیوں کا منظرنامہ:
سب سے بڑی کوتاہی وراثت کے معاملے میں نظر آتی ہے۔ قرآن نے واضح طور پر جائیداد میں عورت کا حصہ مقرر کیا ہے، لیکن آج بھی ایک بڑی تعداد بہنوں اور بیٹیوں کو حقِ وراثت سے محروم رکھتی ہے یا انہیں ’حق دستبرداری‘ پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح تعلیم کو فرض قرار دیئے جانے کے باوجود، کئی خاندانوں میں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کو غیر ضروری بوجھ یا سماجی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ نکاح میں لڑکی کی مرضی کے بجائے خاندان کے فیصلے کو فوقیت دینا اور مہر جیسی واجب الادا رقم کو محض ایک کاغذی خانہ پوری سمجھنا وہ تلخ حقائق ہیں جو معاشرے کی بے حسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
اس صورتحال کو بدلنے کیلئے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
شعور کی بیداری: مساجد کے ائمہ اور مذہبی قائدین کو چاہئے کہ وہ اپنے خطبات میں خواتین کے حقوق، بالخصوص وراثت اور مہر کی ادائیگی پر اسی طرح زور دیں جس طرح دیگر عبادات پر دیا جاتا ہے۔
تعلیمی اصلاحات: خواتین کو خود اپنے حقوق سے آگاہ ہونا چاہئے۔ جب تک وہ اپنے شرعی حقوق کو نہیں پہچانیں گی، ان کا استحصال آسان رہے گا اور یہ ہوتا رہے گا۔
سماجی بائیکاٹ اور دباؤ: ایسی شادیوں یا خاندانی فیصلوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے جہاں لڑکی کی مرضی شامل نہ ہو یا جہاں وراثت مار لی گئی ہو۔
خاندانی سطح پر تربیت: والدین کو چاہئے کہ وہ بچپن ہی سے بیٹوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ عورت کو صنفِ نازک کے بجائے ایک’ذی حق انسان‘ کے طور پر تسلیم کریں۔
خلاصہ یہ ہے کہ اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے، اسے معاشرتی سطح پر نافذ کرنے کیلئے ہمیں روایتی رسم و رواج کی بیڑیاں توڑ کر خالص قرآنی احکامات کی طرف لوٹنا ہوگا۔ حقوق کی ادائیگی محض احسان نہیں بلکہ ایک شرعی فریضہ ہے جس کی بازپرس روزِ قیامت ہوگی۔
اشہد اعجاز اعظمی (کاروباری، کرلا، ممبئی)