Updated: October 05, 2026, 4:09 PM IST
| Oslo
روشنی کے ذریعے اعصابی خلیوں کو کنٹرول کرنے کی اہم دریافت پر کارل ڈیسراتھ، پیٹر ہیگیمان اور جارج ناگل کو ۲۰۲۶ءکا نوبیل انعام برائے طب و فعلیات دیا گیا ہے۔ ان تینوں سائنسدانوں کی تحقیق نے آپٹو جینیٹکس کی بنیاد رکھی، جس کے ذریعے دماغ میں یادداشت، احساسات اور رویّوں سے متعلق عصبی سرگرمیوں کا مطالعہ ممکن ہوا۔
دائیں سے: جارج ناگل، پیٹر ہیگیمان اور کارل ڈیسراتھ۔ تصویر: ایکس
۲۰۲۶ءکا نوبیل انعام برائے فعلیات و طب (Physiology or Medicine) کارل ڈیسراتھ، پیٹر ہیگیمان اور جارج ناگل کو ’’روشنی سے فعال ہونے والے آئن چینلز اور آپٹو جینیٹکس سے متعلق دریافتوں ‘‘پر دیا گیا ہے۔ نوبیل پریس کے مطابق اس اعزاز کا اعلان پیر، ۵؍ اکتوبر کو میڈیسن کمیٹی کے سیکریٹری تھامس پرل مین نے کیا۔ نوبیل اسمبلی نے یہ اعلان سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں واقع کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ میں کیا۔ نوبیل انعام برائے طب زندگی کے علوم یا طب کے شعبے میں ایسی اہم دریافتوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے سائنسی سمجھ بوجھ کو تبدیل کیا ہو یا انسانوں کیلئے نمایاں فوائد پیداکئے ہوں۔ یہ انعام محض طویل سائنسی خدمات یا کسی سائنسداں کی قیادت کے اعتراف میں نہیں دیا جاتا۔
نوبیل انعامات کے اعلان کا سلسلہ۵؍ اکتوبر سے طب کے انعام کے ساتھ شروع ہوا ہے۔ یہ آٹھ روز کے دوران اعلان کئےجانے والے چھ نوبیل انعامات میں پہلا انعام ہے۔ اس سلسلے کے ذریعے ایسی دریافتوں، نظریات اور خدمات کو عالمی توجہ حاصل ہوتی ہے جنہوں نے انسانیت پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔ نوبیل انعام میں تمغہ، اعزازی سند اور نقد رقم شامل ہوتی ہے۔ ۲۰۲۶ء میں مکمل نوبیل انعام کی رقم ایک کروڑ۲۰؍ لاکھ سویڈش کرونا مقرر کی گئی ہے۔ انعامات کی باقاعدہ تقریب دسمبر میں منعقد ہوگی۔
نوبیل انعام حاصل کرنے والے سائنسداں
کارل ڈیسراتھ:
کارل ڈیسراتھ۱۹۷۱ء میں پیدا ہوئے اور امریکہ کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور ہاورڈ ہیوز میڈیکل انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے۱۹۹۸ءمیں پی ایچ ڈی اور۲۰۰۰ء میں ایم ڈی کی ڈگری اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ ڈیسراتھ اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں ڈی ایچ چن پروفیسر اور بایو انجینئرنگ کے ساتھ نفسیات اور رویّاتی علوم کے پروفیسر ہیں۔ چینل روڈوپسن نامی پروٹین پر ان کی تحقیق نے اس دریافت کو اعصابی خلیوں کو روشنی کے ذریعے کنٹرول کرنے کے عملی طریقے میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ۲۰۰۵ءمیں انہوں نے ثابت کیا کہ نیلی روشنی کے ذریعے تبدیل شدہ اعصابی خلیوں میں عصبی سگنلز پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ ۲۰۰۷ء میں انہوں نے دکھایا کہ یہ تکنیک زندہ چوہوں کے دماغ میں موجود اعصابی خلیوں کو کنٹرول کرنے کیلئے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس طرح آپٹو جینیٹکس ایک طاقتور عصبی سائنسی تحقیقی طریقہ بن گیا۔
پیٹر ہیگیمان:
پیٹر ہیگیمان۱۹۵۴ءمیں پیدا ہوئے اور جرمنی کی ہومبولٹ یونیورسٹی برلن میں نیورو سائنس کے ہرٹی سینئر پروفیسر ہیں۔ انہوں نے۱۹۸۴ء میں جرمنی کے شہر مارٹن اسریڈ میں واقع میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار بایوکیمسٹری سے پی ایچ ڈی کی۔ ہیگیمان کی دلچسپی اس بات میں تھی کہ یک خلوی کائی (Algae) روشنی کے سامنے کس طرح ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ اسی تحقیق نے بالآخر آپٹو جینیٹکس کیلئے بنیادی دریافت کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے کلامائیڈوموناس (Chlamydomonas) نامی یک خلوی کائی کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ جاندار روشنی کو کیسے محسوس کرتا ہے اور روشنی کے منبع کی جانب کیوں حرکت کرتا ہے۔ جارج ناگل کے ساتھ ان کی تحقیق کے نتیجے میں چینل روڈوپسن دریافت ہوا، جو روشنی سے حساس پروٹین ہے اور آپٹو جینیٹکس کی بنیاد میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
انعام کا باعث بننے والی ابتدائی دریافتیں مارٹن اسریڈ میں واقع میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار بایوکیمسٹری میں کی گئیں۔
جارج ناگل:
جارج ناگل۱۹۵۳ء میں پیدا ہوئے اور جرمنی کی یونیورسٹی آف ورزبرگ میں مالیکیولر پلانٹ فزیالوجی کے پروفیسر ہیں۔ انہوں نے۱۹۸۸ء میں یونیورسٹی آف فرینکفرٹ سے پی ایچ ڈی کی۔ ان کی تحقیق روشنی سے حساس پروٹینز اور خلیوں میں ان کے کردار پر مرکوز رہی۔ ناگل نے پیٹر ہیگیمان کے ساتھ مل کر چینل روڈوپسن پر تحقیق کی اور یہ سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا کہ یہ پروٹین روشنی کے سامنے کس طرح ردعمل ظاہر کرتا ہے اور خلیے کے اندر برقی چارج رکھنے والے آئنز کو گزرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس دریافت نے بعد میں سائنس دانوں کو روشنی کے ذریعے اعصابی خلیوں کو کنٹرول کرنے کے قابل بنایا۔ انعام کا باعث بننے والی یہ تحقیق جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں واقع میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار بایوفزکس میں بھی کی گئی۔ ہیگیمان، ناگل اور ڈیسراتھ کی مشترکہ تحقیق نے ایک یک خلوی کائی میں دریافت ہونے والے پروٹین کو ایسے طریقے میں تبدیل کردیا جس نے زندہ دماغ کے مطالعے کا انداز ہی بدل دیا۔
آپٹو جینیٹکس کیا ہے؟
نوبیل پریس کے مطابق آپٹو جینیٹکس (Optogenetics) سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ زندہ دماغ میں اعصابی خلیے یادداشت، احساسات اور رویّوں کو کس طرح تشکیل دیتے ہیں۔ پیٹر ہیگیمان اور جارج ناگل نے ایک یک خلوی کائی میں چینل روڈوپسن نامی حیرت انگیز پروٹین دریافت کیا۔ بعد ازاں کارل ڈیسراتھ نے اس پروٹین کو اعصابی خلیوں کیلئے روشنی سے کنٹرول ہونے والے ایک سوئچ میں تبدیل کردیا۔ ان دریافتوں نے نیورو سائنس کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔ صدیوں سے یہ سوال سائنس دانوں کے لیے ایک معمہ رہا ہے کہ دماغ احساسات، رویّوں اور جسمانی افعال کو کس طرح کنٹرول کرتا ہے۔ ۲۰؍ویں صدی میں محققین نے دماغ کے مختلف حصوں اور ان کے افعال کے درمیان تعلق تلاش کرنا شروع کیا، لیکن اس وقت دستیاب طریقوں سے یہ واضح طور پر معلوم کرنا مشکل تھا کہ دماغ کا کون سا حصہ کسی مخصوص عمل کا براہِ راست سبب بنتا ہے۔ چنانچہ دماغ کے بارے میں حاصل شدہ معلومات ایک ایسے خاکے کی مانند تھیں جس میں بہت سے سوالات اور خلا موجود تھے۔ آپٹو جینیٹکس نے اس صورت حال کو بدل دیا ہے۔ نوبیل کمیٹی برائے فعلیات و طب کے چیئرمین پر سوینسُن نے کہا کہ آپٹو جینیٹکس نے دماغ کی نقشہ سازی کے ایسے مواقع فراہم کئے ہیں جن کا ماضی میں صرف خواب ہی دیکھا جاسکتا تھا۔
کائی سے روشنی کے ذریعے کنٹرول ہونے والے سوئچ تک
اس کہانی کا آغاز پیٹر ہیگیمان کی اس دلچسپی سے ہوا کہ کلامائیڈوموناس نامی یک خلوی کائی روشنی کے منبع کی طرف کیسے حرکت کرتی ہے۔ ۲۰۰۰ءکی دہائی کے آغاز میں ہیگیمان اور جارج ناگل نے چینل روڈوپسن دریافت کیا۔ یہ ایک ایسا پروٹین ہے جو خلیے کی سطح پر موجود ہوتا ہے اور اس میں غیر معمولی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ جب اس پروٹین پر نیلی روشنی پڑتی ہے تو یہ ایک چینل کھول دیتا ہے، جس کے ذریعے برقی چارج رکھنے والے آئنز خلیے میں داخل ہوتے ہیں اور ایک برقی سگنل پیدا ہوتا ہے۔ محققین نے دریافت کیا کہ جب یہ پروٹین مختلف اقسام کے خلیوں میں داخل کیا گیا تو وہ خلیے بھی روشنی کیلئے حساس ہوگئے۔ اس دریافت نے اعصابی خلیوں کو روشنی کے ذریعے کنٹرول کرنے کا راستہ کھول دیا۔ کارل ڈیسراتھ نے اگلا اہم قدم اٹھاتے ہوئے چینل روڈوپسن کا جین چوہوں کے اعصابی خلیوں میں داخل کیا۔ جب انہوں نے ان خلیوں پر نیلی روشنی ڈالی تو وہ اعصابی سگنل پیدا کرنے لگے۔ انہوں نے ۲۰۰۵ءمیں اپنی یہ اہم دریافت شائع کی۔ دو سال بعد ڈیسراتھ نے ثابت کیا کہ روشنی سے کنٹرول ہونے والا یہ سوئچ زندہ چوہوں کے دماغ میں موجود اعصابی خلیوں کو بھی کنٹرول کرسکتا ہے۔ اسی تکنیک کو بعد میں آپٹو جینیٹکس کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد سے آپٹو جینیٹکس نے دنیا بھر میں نیورو سائنس کی تحقیق پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اس تکنیک کے ذریعے محققین مخصوص یادداشتوں، احساسات اور رویّوں سے متعلق اعصابی سرکٹس کا مطالعہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دماغی اور نفسیاتی امراض سے وابستہ دماغی نظام کو سمجھنے میں بھی یہ طریقہ مددگار ثابت ہوا ہے۔ اس تکنیک کو طبی میدان میں بھی آزمایا جارہا ہے۔ محققین بصارت سے محروم افراد میں بینائی بحال کرنے کے لیے آپٹو جینیٹکس کے ممکنہ استعمال پر تحقیق کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عراق: امریکی پرچم کی بے حرمتی پر گرفتاریاں، وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دیا
دماغ کو سمجھنے کا نیا طریقہ
آپٹو جینیٹکس نے سائنسدانوں کے دماغ کے مطالعے کے طریقۂ کار کو بنیادی طور پر تبدیل کردیا ہے۔ روشنی کے ذریعے انفرادی اعصابی خلیوں اور عصبی سرکٹس کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نے محققین کو یہ جاننے کا موقع دیا ہے کہ دماغ کے مختلف حصے یادداشت، احساسات اور رویّوں میں کس طرح کردار ادا کرتے ہیں۔ ہیگیمان، ناگل اور ڈیسراتھ کی دریافتوں نے نیورو سائنس میں تحقیق کا ایک نیا راستہ کھولا ہے اور سائنس دانوں کو انسانیت کے ایک بڑے سائنسی سوال کا جواب تلاش کرنے میں مدد مل رہی ہے کہ انسانی دماغ کام کیسے کرتا ہے؟یاد رہے کہ اس سال نوبیل انعامات کے سلسلے کا آغاز طب کے انعام سے ہوگیا ہے۔ اب دنیا کی توجہ سائنس، ادب اور امن کے شعبوں میں دیئے جانے والے نوبیل انعامات کی جانب منتقل ہوگی، جبکہ۱۲؍ اکتوبر کو معاشیات کے نوبیل انعام کے اعلان کے ساتھ اس سال کے انعامات کے اعلانات کا سلسلہ مکمل ہوگا۔