جاں بحق ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور حکام اس کی تصدیق میں مصروف ہیں۔حادثے کے بعد مریضوں کے لواحقین نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین غفلت کے الزامات عائد کیے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 04, 2026, 1:02 PM IST | Patna
جاں بحق ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور حکام اس کی تصدیق میں مصروف ہیں۔حادثے کے بعد مریضوں کے لواحقین نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین غفلت کے الزامات عائد کیے ہیں۔
بہار کے ضلع مظفر پور میںدل دہلا دینے والا سانحہ پیش آیا ہے، جہاں برہما پورہ علاقے میں واقع معروف پرساد اسپتال میں خوفناک آگ لگنے کے نتیجے میں کم از کم ۱۰؍ مریض جاں بحق ہو گئے جبکہ متعدد کی حالت اب بھی نازک بتائی جا رہی ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ جمعرات کی علی الصابح تقریباً ۳؍ بجے پیش آیا، جب اسپتال کے آئی سی یو (آئی سی او) وارڈ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت میں زہریلا اور گھنا دھواں پھیل گیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب چند گھنٹے قبل ہی دہلی کے مالویہ نگر میں ایک ہوٹل میں آگ لگنے کی خبر نے بھی ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جس کے بعد اسپتال اور عوامی تحفظ کے نظام پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات اور عینی شاہدین کے مطابق آگ اسپتال کی پانچویں منزل پر واقع آئی سی یو وارڈ میں لگی۔ آگ لگتے ہی وارڈ میں موجود مریضوں اور عملے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ چند ہی منٹوں میں دھواں اتنا تیزی سے پھیل گیا کہ مریضوں کا سانس لینا دشوار ہو گیا اور صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو گئی۔بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت آئی سی یو میں تقریباً ۱۵؍ سے ۲۵؍ مریض زیر علاج تھے۔ لمحوں میں پورا وارڈ گھنے سیاہ دھوئیں سے بھر گیا جس نے ریسکیو اور علاج کے نظام کو بری طرح متاثر کیا۔
اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی تقریباً ایک درجن گاڑیاں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ دھوئیں کی شدت اور محدود راستوں کے باعث ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ اہلکاروں نے فوری طور پر کھڑکیاں اور دروازے توڑ کر ہوا کی آمدورفت کا راستہ بنایا تاکہ دھواں باہر نکل سکے اور اندر پھنسے افراد تک پہنچا جا سکے۔بچاؤ ٹیم نے آکسیجن کی کمی کے باعث تڑپتے ہوئے ۲۰؍ سے زائد مریضوں کو کھڑکیوں اور محفوظ راستوں کے ذریعے باہر نکالا۔ بعد ازاں تمام زخمیوں اور متاثرہ مریضوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فلسطینی کھیلوں پر وار: اسرائیل نے اسٹار فٹبالر رند حلوانی کی حراست بڑھائی
حادثے کے بعد مریضوں کے لواحقین نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین غفلت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت نہ تو عملہ موجود تھا اور نہ ہی فوری طور پر کوئی امدادی کارروائی شروع کی گئی۔ لواحقین نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ عملہ اپنی جان بچا کر فرار ہو گیا جبکہ مریض مدد کے لیے چیختے رہے۔مزید یہ کہ بعض افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ لاشوں کو بھی ادھر ادھر منتقل کیا گیا ،جس سے معاملہ مزید مشکوک ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’الفا‘‘ ایک بہترین، اسٹائلش ایکشن فلم اور تفریحی مسالہ انٹرٹینر ہے: بوبی دیول
فائر بریگیڈ اور مقامی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر ریسکیو آپریشن مکمل کیا۔ شدید دھوئیں اور کم روشنی کے باوجود ٹیموں نے وارڈز میں پھنسے مریضوں کو باہر نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں انہیں فوری طبی امداد فراہم کر کے دیگر اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم شارٹ سرکٹ کو ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے امکانات ظاہر کیے ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔یہ المناک واقعہ ایک بار پھر ملک میں اسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کی سہولیات اور ایمرجنسی انتظامات کی سنگین کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے۔