جب بھی بالی ووڈ کی تاریخ میں ہارر اور کامیڈی کے کامیاب امتزاج کا ذکر ہوتا ہے تو ۱۹۶۵ءمیںریلیز ہونے والی شاہکار فلم ’بھوت بنگلہ‘کا نام سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔
EPAPER
Updated: August 03, 2026, 1:04 PM IST | Agency | Mumbai
جب بھی بالی ووڈ کی تاریخ میں ہارر اور کامیڈی کے کامیاب امتزاج کا ذکر ہوتا ہے تو ۱۹۶۵ءمیںریلیز ہونے والی شاہکار فلم ’بھوت بنگلہ‘کا نام سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔
جب بھی بالی ووڈ کی تاریخ میں ہارر اور کامیڈی کے کامیاب امتزاج کا ذکر ہوتا ہے تو ۱۹۶۵ءمیںریلیز ہونے والی شاہکار فلم ’بھوت بنگلہ‘کا نام سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔
یہ بھی ٖپڑھئے:بین الاقوامی ایف ایم سی جی کمپنیوں کا ہندوستان کے ریٹیل شعبہ موجودگی بڑھانے کا اشارہ
یہ صرف ایک فلم نہیں تھی بلکہ ہندی سنیما میں ایک نئے رجحان کی بنیاد ثابت ہوئی۔ اس دور میں جب پردۂ سیمیں پر بھوتوں کا مطلب صرف چیخ و پکار، اندھیرا اور خوف ہوا کرتا تھا، کامیڈی کے بادشاہ محمود نے ایک ایسا جرات مندانہ تجربہ کیا جس نے پوری فلمی صنعت کا رخ بدل دیا۔محمود کی ہدایت کاری اور پروڈکشن میں بننے والی اس فلم نے ایک ہی لمحے میں ناظرین کو خوف زدہ کیا اور اگلے ہی لمحے انہیں قہقہوں پر مجبور کر دیا۔ ایک پراسرار پرانی حویلی، سنسنی خیز قتل کی معمہ نما کہانی اور محمود کی بے مثال مزاحیہ اداکاری نے سینما گھروں میں ایسا سماں باندھا کہ فلم نے باکس آفس پر کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے۔
یہ بھی پڑھئے:آر ڈی برمن کی بایوپک میں اکشے کمار خصوصی کردار میں نظرآئیں گے
۱۹۶۰ءکی دہائی میں فلمی شائقین یاتو خاندانی ڈرامے دیکھنے کے عادی تھے یا پھر خوف اور تجسس سے بھرپور فلمیں۔ ایسے وقت میں محمود نے بڑا خطرہ مول لیتے ہوئے ہارر کامیڈی جیسی نئی صنف متعارف کرائی۔’بھوت بنگلہ‘ ایک لمحے میں خوف پیدا کرتی اور اگلے ہی لمحے اپنے دلچسپ مزاحیہ مناظر سے ناظرین کو ہنسا دیتی تھی۔ یہ نیا تجربہ بالی ووڈ کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوا اور بعد میں اسی طرز پر متعدد فلمیں بنانے کی راہ ہموار ہوئی۔فلم کی کہانی ایک قدیم اور بدنام حویلی کے گرد گھومتی ہے، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں بھوتوں کا بسیرا ہے۔’بھوت بنگلہ‘کی سب سے بڑی طاقت محمود کی شاندار مزاحیہ اداکاری تھی۔ انہوں نے نہ صرف فلم کی ہدایت کاری اور پروڈکشن کی بلکہ موہن کے کردار میں اپنی جاندار اداکاری سے نئی روح بھی پھونک دی۔ جب بھی حویلی کے خوفناک مناظر سامنے آتے، محمود کی باڈی لینگویج، چہرے کے تاثرات اور مکالمہ ادا کرنے کا منفرد انداز ماحول کی سنجیدگی کو خوشگوار مزاح میں بدل دیتا تھا۔