• Sun, 20 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھائندر کے ٹیمبا اسپتال میں بنیادی سہولیات کا فقدان،مریضوں کو دشواری

Updated: September 20, 2026, 8:19 PM IST | Owais Siddiqui | Mumbai

گندگی اور انتظامیہ کی لا پروائی،بیت الخلاء میں پانی جمع ہوجاتا ہے، بیڈ ٹوٹے ہوئے ہیں اور اسپتال میں جگہ جگہ کوڑا کرکٹ پھیلا رہتا ہے

A view of Temba Hospital. Photo: INN
ٹیمبا اسپتال کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

بھائندر مغرب میں واقع ٹیمبا اسپتال سے کئی دنوں سے مریضوں کی جانب سے صفائی اور بنیادی سہولیات سے متعلق شکایات موصول ہو رہی ہیں ۔مریضوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اسپتال میں صفائی کا کوئی نظم نہیں ہے، اسپتال کے عملہ کی جانب سے مریضوں کے ساتھ درست رویہ نہیں اپنایا جاتا ، بیڈ خستہ حال ہیں ۔دوائیاں بھی وقت پر نہیں دی جاتیں۔

اسپتال میں زیر علاج ایک مریضہ نے انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئےکہا کہ انہیں خون کی کمی ، بدن دردا ورمسلسل بخار کے سبب اسپتال میں بھرتی کیا گیا لیکن یہاں آنے کے بعدانہوں نےدیکھا کہ اسپتال میں صفائی کا کوئی نظم نہیں ہے یہاں تک کہ بیت الخلاء کی حالت بھی خراب ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جگہ جگہ کوڑا کرکٹ پڑاہوتا ہےجس کی وجہ سے بدبو پھیل جاتی ہے اور مچھر بھی بے تحاشہ آتے ہیں ۔ مریضہ نےیہ بھی کہا کہ کئی دفعہ سونے میں بھی دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے ۔ یہاں تک کہ شکایت کرنے کے بعد بھی انتظامات درست نہیں کئے جاتے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بیڈ بھی کافی خستہ حال ہیں اور چادر کئی کئی دنوں تک نہیں بدلی جاتی ، کئی دفعہ مریض ازخود بیڈ کی صفائی کرتے ہیں۔ مریضہ کا کہنا ہے کہ علاج میں لاپروائی اور دیری کےسبب کئی مریضوں کی طبیعت مزیدبگڑ جاتی ہے، گندی چادریں اور دیگر لوازمات جگہ جگہ بکھرے ہوتے ہیں ۔ واضح رہے کہ ٹیمبا اسپتال ریاستی حکومت کے زیر انتظام ہے لیکن بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ اس ضمن میں ایک مقامی شہری کرن پوار نےبتایا کہ کئی دنوں سے انہیں بھی مریضوں کی جانب سے شکایت موصول ہو رہی ہیں ۔ مریض دشواریوں سے دوچار ہیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان تما م لاپروائیوں کی شکایت کرنے  پراسپتال کے عملہ کی جانب سے مریضوںکے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے اور علاج کے دوران بُرا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ کرن نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں مقامی ایم ایل ایز کو ایک دفعہ اسپتال کا دورہ کرکے مریضوں کی پریشانیوں کو سننا چاہئے۔ ریاستی حکومت کو جلد ہی اسکا حل نکالنے کی جانب پیش قدمی کرنی چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ۵؍ سال میں۴۷؍ لاکھ افراد کو کتوں نے کاٹا، ریبیز سے۱۳۴؍افراد ہلاک ہوئے

اس ضمن میں اسپتال انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو اسپتال کے ڈین ڈاکٹر جعفرتڑوی نے انقلاب کو بتایا کہ مریضوں کے الزامات بہت حد تک صحیح ہیں لیکن اس کی وجوہات بھی ہیں ، اسپتال میں ان دنوں تعمیراتی کام جاری ہے، اس دوران بیت الخلاء میں پانی جمع ہوجاتا ہے لیکن عملہ کی جانب سے بھی صفائی وغیرہ سے متعلق خیال رکھنے کی پوری کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسپتال کی اوپی ڈی میں مریضوں کی تعداد پہلے کےمقابلے کافی بڑھ گئی جس کے سبب کئی بار انتظامات میں چوک ہوجاتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جلد ہی ان تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جا ئےگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK