• Sun, 20 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی آئی ٹی بامبے کےطالب علم کی خودکشی پر طلبہ کا مظاہرہ، انتظامیہ سے معاملے کی وضاحت کامطالبہ

Updated: September 20, 2026, 8:19 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

والدین کےمطابق ہمارے بیٹے کو ذات پات کی بنیادپرذہنی طورپرہراساں کیا گیاتھا جس کی وجہ سے اس کی موت ہوئی ہے، پولیس میں شکایت درج، سی جےپی اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کاشدید ردعمل

Police personnel are visible on the IIT Bombay campus. Photo: INN
آئی آئی ٹی بامبے کے کیمپس میں پولیس اہلکار نظر آرہےہیں۔ تصویر: آئی این این

یہاں کے انرجی سائنس اینڈ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے دوسرے سال کے انڈر گریجویٹ طالب علم نے جمعہ کی شام خودکشی کر لی۔ اس واقعہ کے بعد آئی آئی ٹی بامبے کے طلبہ نے انسٹی ٹیوٹ کےباہر احتجاج کیا۔ احتجاج میں متوفی کے والدین بھی شریک تھے۔ مظاہرین نے انتظامیہ سے معاملہ کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آئی آئی ٹی بامبےکے ۱۹؍سالہ طالب علم ساحل واکوڈے نے امتحان ہال میں موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے پکڑے جانے کے چند گھنٹے بعد اپنے ہوسٹل کے کمرے میںخودکشی کرلی تھی ۔ ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ ساحل واکوڈےکو موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے پایا گیا تھا ۔ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، طالب علم نے جوابات کی تلاش کیلئے امتحانی سوالیہ پیپر چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کیا تھا ۔ اس کے باوجود طالب علم کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ متعلقہ استاد اور شعبہ کے سربراہ نے اس کی کائونسلنگ بھی کی تھی اور اسے یقین دلایا تھاکہ اس واقعے کااس کی پڑھائی پرکوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے: کلیان: حاجی ملنگ سے پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والا شخص گرفتار

والدین صدمے سے نڈھال

بیٹے کی موت سے نڈھال والدہ نے ادارے کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئےکہا ہےکہ ’’اس ادارے نے میرے بیٹے کو مار ڈالا۔ ہمیں انصاف چاہئے۔ آئی آئی ٹی کو بند کر دینا چاہئے۔ جب تک ہمیں انصاف نہیں ملتا ہم لاش کو یہاں سے نہیں منتقل کریں گے۔ وہ ہمارا اکلوتا بچہ تھا، وہ ہمت والاتھا ۔اس نے خودکشی نہیں کی ہے بلکہ اسے ذہنی طورپر ہراسا ں کر موت کے گھاٹ اُتارا گیا ہے۔‘‘متوفی ساحل واکوڈے کے والد نے بھی ادارہ پر سنگین الزام لگایاہے ۔ان کا کہناہے کہ ’’اس کا استاد پہلے ہی اسے نچلی ذات کا کہہ کر بدنام کر رہا تھا اور اس ادارے کا ڈائریکٹر اس استاد کی حمایت کر رہا تھا۔ذات پات کی بنیاد پر اسے ہراساں کیا جا رہا تھا ۔‘‘

سی جے پی کا شدید ردعمل 

ساحل واکوڈے کی خودکشی پر سی جے پی کے صدر ابھیجیت دیپکے نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’طالب علم دور دراز کے قبائلی علاقوں اور یہاں تک کہ ممبئی جیسے شہر میں بھی مر رہے ہیں۔ یہ بحران کسی ایک علاقے تک محدود نہیں ہے۔ طلبہ کی زندگیاں ہماری ترجیح بننے سے پہلے اور کتنے طلبہ کو اپنی جان گنوانی پڑے گی ؟‘‘

نیہا بورا نے کیا کہا ؟

آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کی صدر نیہا بورانے بھی ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ ’’ وہ ادارے جن میں آپ اپنے بچوں کو اتنی امید کے ساتھ بھیجتے ہیں، وہ ان کی موت کا سبب بن رہے ہیں۔ آئی آئی ٹی بامبے میںگزشتہ ۶؍ مہینوںمیں اس طرح کی تیسری موت ہے ۔‘‘

خودکشی کیلئے اُکسانےکامعاملہ درج

ممبئی پولیس نے آئی آئی ٹی بامبے کےطالب علم کی موت پر خودکشی کیلئے اکسانے کا مقدمہ درج کیا ہے جو اپنے امتحان کے دوران چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ متاثرہ کے والد کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK