• Sun, 20 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملیریااور سوائن فلو کے مریضوں کی تعدادمیں اضافہ

Updated: September 20, 2026, 8:18 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

ملیریا، ڈینگو اور چکن گنیا شہر بھر میں وقفے وقفے سے مانسون کی بارش کے دوران تیزی سے بڑھ رہے ہیں ، شہریوں کابی ایم سی پر اقدامات میں تاخیر کا الزام

A BMC official is seen engaged in fogging. Photo: INN
بی ایم سی کا ایک اہلکار فاگنگ میں مصروف نظر آرہا ہے۔ تصویر: آئی این این

شہری انتظامیہ کے شعبۂ صحت کے اعداد وشمار کے مطابق شہر ومضافات کے علاقےامسال بھی وبائی امراض کی زدمیں رہے۔ ملیریا اور سوائن فلو کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ یکم جنوری سے ۱۵؍ستمبر۲۰۲۶ء کے درمیان ملیریا کے ۸؍ہزار ۷۲۳؍ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران  ۶؍ہزار ۲۷۷؍ معاملات درج کئے گئے تھے ۔ملیریا کی طرح سوائن فلو کے مریضوں کی تعداد ۸۳؍ سے بڑھ کر ۵۰۷؍ ہو گئی ہے۔ دوسری جانب ڈینگو، چکن گنیا، لیپٹواسپائروسس، گیسٹرو اور کوروناکے مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔دریں اثناء وبائی امراض سے پیدا ہونے والی بیماریوں کیلئے شہریوں نےبی ایم سی پر فیومیگیشن (دھواں مارنا) اور دیگر کیڑوں پر قابو پانے کے اقدامات میں تاخیر کا الزام لگایا ہے جس کی وجہ سے مچھروں کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے ۔

ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اعداد و شمار کے مطابق امسال ۱۵؍ ستمبر تک ڈینگو کے ۲؍ہزار ۶۵۶؍ جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں ۲؍ہزار ۷۲۴؍کیسز سامنے آئے تھے۔ چکن گنیا کے کیسز ۵۴۲؍ سےکم ہوکر ۸۰؍ ،لیپٹواسپائروسس۵۵۸؍ سے ۳۹۰؍، گیسٹرو ۵؍ہزار ۹۸۹؍ سے۴؍ ہزار۹۹۷؍ اور کوروناکی شکایت ۸؍ہزار ۱۱۱؍ سے کم ہوکر ۱۷۸؍ پر آگئی ہے ۔یکم سے ۱۵؍ ستمبر کے درمیان بلدیہ نے ۵؍لاکھ ۹۴؍ ہزار ۲۶۹؍ گھروں کا سروے کیا۔ اگرچہ اس مہم میںمحکمۂ صحت ۲۷؍ لاکھ ۹۳؍ ہزار ۱۹۳؍ شہریوں تک پہنچا  لیکن وبائی امراض اب بھی پھیل رہے ہیں ۔

یہ بھی پڑھئے: پانی کے غیر قانونی کنکشن کیخلاف کارروائی کا آغاز

شہریوںکا انتظامیہ پر الزام

دریں اثناء وبائی امراض سے پیدا ہونے والی بیماریوں جیسے ملیریا، ڈینگو اور چکن گنیا شہر بھر میں وقفے وقفے سے مانسون کی بارش کے دوران تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس کیلئے شہریوں نےبی ایم سی پر فیومیگیشن(دھواں مارنا) اور دیگر کیڑوں پر قابو پانے کے اقدامات میں تاخیر کا الزام لگایا ہے جس کی وجہ سے مچھروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔جس سے لوگ ڈینگو اور ملیریا میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیوں  کے نمائندوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ملیریا اور ڈینگو کے کیسز میں اضافے کے بعد انہوں نے اپنے علاقے میں مزید فیومیگیشن سروسیز کا مطالبہ کیا تھا لیکن بی ایم سی ان کامطالبہ پورا نہیں کیا۔ 

کف پریڈ ریذیڈنٹس اسوسی ایشن کی صدر ڈاکٹر لورا ڈیسوزا کے بقول ’’ہمارے علاقے میں ملیریا، ڈینگو اور چکن گنیا کے کیسز بہت بڑھ گئے ہیں۔ مچھروں کے بہتات سے شام کے بعد باہر نکلنا مشکل ہو گیا ہے ۔ مچھروں کے پھیلائو سے سب سے زیادہ چوکیدار متاثر ہو رہے ہیں ۔بی ایم سی کی ٹیم صرف اس صورت میں فیومیگیشن کیلئے آتی ہے جب آپ ان سے شکایت کریں جبکہ سڑکیں گڑھوں سے بھری ہوئی ہیں، تعمیراتی جگہوں پر لاروا کی افزائش ہو رہی ہے ۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: معذوروں کو مساوی مواقع فراہم کرنا معاشرے کی ذمہ داری

جوہوکولی واڑہ کے نکی ڈیسوزا کے مطابق ’’فیومیگیشن میں تاخیرہونے سے ہمارے علاقے میں مچھروں کی بھرمار ہوگئی ہے جس کی وجہ سے لوگ ملیریا میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ میری والدہ کو بھی ملیریاکی شکایت ہوئی تھی ۔‘‘

ایل ایچ ہیرانندنی اسپتال کی ڈاکٹر شالینی سورلکرکے مطابق ’’ وقفے وقفے سے دھوپ کے ساتھ ہونےوالی بارش نے مچھروں کی افزائش اور موسمی بیماریوں میں اضافہ کیا ہے۔‘‘کیڑے مار دوا کے محکمے کے ایک اہلکار نے واضح کیا کہ ’’کیڑے مار ادویات کی قلیل مدت کیلئے کمی تھی ۔ اس کے بعد سے سپلائی باقاعدہ کر دی گئی ہے ۔‘‘

آفیسر نے کیا کہا؟

ایگزیکٹیو ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سنتوش گائیکواڈکے مطابق ’’شہری انتظامیہ کو ٹھہرے ہوئے پانی کے خلاف کام کرنے میں مسلسل چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے، کیونکہ پانی کچی بستیوں کے اوپر نیلی ترپال کی چادروں کے ساتھ ناقابل رسائی حصوں میں جمع ہوتا ہے۔ہم نے یکم سے۱۵؍ستمبر کے درمیان ۲۰؍ ہزار ۷۱۶؍ عمارتوں اور ۳؍لاکھ ۲۱؍ ہزار   ۷۱۶؍ کچی آبادیوں کے گھروں کی صفائی کی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK