• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’سچے خواب کی تعبیر میں کائنات بھی مددگار بن جاتی ہے‘‘

Updated: October 11, 2026, 5:45 PM IST | Ghulam Arif | Mumbai

برازیلین ادیب پاؤلو کوئیلو کا ناول ’ دی الکیمسٹ‘ کروڑوں لوگوں نے پڑھا، جس میں ایک نوجوان کے خواب اور اسپین سے مصر تک اس کی سفری مہم کی دلچسپ داستان ہے، ریگستان کا پراسرار ماحول اور حیرت انگیز واقعات قاری کو خودشناسی کی دعوت دیتے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

’’جب آپ کسی چیز کی دل سے خواہش کرتے ہیں، تو اسے پانے کی کاوش میں آپ کیلئے ساری کائنات سازش کرتی ہے۔ ‘‘
یہ جملہ جو آپ نے بالی ووڈ کی کسی فلم میں سنا ہوگا، دراصل برازیلین مصنف پاؤلو کوئیلو کے قلم نے رقم کیا ہے۔ کوئیلو، دنیا کے مقبول ترین مصنفین میں سے ایک ہے۔ اس نے ۱۹۸۸ء میں پرتگالی زبان میں اپنا ناول ’ دی الکیمسٹ‘ شائع کروایا۔ جب اس کتاب کے فرانسیسی اور انگریزی ترجمے منظر عام پر آئے تو دھوم مچ گئی۔ آج تک تقریبا ۷۰؍ زبانوں میں اس کے تراجم ہوچکے ہیں۔ اس کالم نگار کے پاس۲۰۱۳ء کا انگریزی نسخہ موجودہے۔ اُس وقت تک الکیمیسٹ کی ساڑھے چھ کروڑ کاپیاں فروخت ہوئی تھیں۔ 
ناول کا مرکزی کردار سانتیاگو ایک ہسپانوی نوجوان ہے، جو اندلس کے مرغزاروں میں اپنی بھیڑیں چراتا پھرتا ہے۔ سانتیاگو کا دریائے دل، کششِ جہاں گردی سے موجزن ہے۔ ایک جگہ بندھ کر رہنا اس کی طبیعت کو راس نہیں آتا۔ وہ چرواہا بنا ہی اس لیے ہے کہ گھومے پھرے، نئے لوگوں اور نئی جگہوں کو دیکھے۔ 
سانتیاگو کو ایک حیران کن خواب کئی بار نظر آتا ہے۔ خواب اسے اہرامِ مصر کے قریب چھپے ہوئے خزانے کی اطلاع اور اسے حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ ایک خانہ بدوش نجومی عورت سے تعبیر پوچھتا ہے۔ کاہنہ کہتی ہے کہ وہ اہرام مصر تک جائیگا۔ اسے ایک قیمتی خزانہ ملے گا۔ 
لیکن سانتیاگو میں خواب کو حقیقت بنانے کا حوصلہ کہاں سے آئے؟ اس کی ملاقات ایک پراسرار شخص سے ہوتی ہے، جو خود کو ایک بادشاہ بتاتا ہے۔ وہ نوجوان کو زندگی کا ایک بنیادی سبق سکھاتا ہے: ہر انسان کے اندر ایک ایسی تمنا ہوتی ہے جس کی تکمیل اس کی زندگی کا اصل مقصد بن سکتی ہے۔ زیادہ تر لوگ ناکامی کے خوف سےاپنے خوابوں کو ترک کردیتے ہیں۔ معاشرتی دباؤ ان کواپنی محدود سوچ کے حصار میں قید کردیتا ہے۔ بوڑھا، سانتیاگو کو سمجھاتا ہے کہ اگر وہ واقعی خواب کو حقیقت بنانا چاہتا ہے تو اسے خطرہ مول لینا ہوگا۔ جب انسان اپنے حقیقی خواب کا تعاقب کرتا ہے تو پوری کائنات اس کی مدد کرنے کیلئے سازگار ہونے لگتی ہے۔ 
سانتیاگو اپنی بھیڑیں فروخت کرکے بحری جہاز کے ذریعہ سفر پر روانہ ہوجاتا ہے۔ پہلا پڑاؤ ہے مراکو کا تنجیر شہر۔ وہاں پہنچتے ہی ایک سخت آزمائش پیش آتی ہے۔ ساری جمع پونجی لٹ جاتی ہے۔ اب وہ اس اجنبی ملک میں بالکل بے سہارا ہے۔ پیسے ہیں، نہ کوئی شناسا، لیکن یہی حادثہ اس کے سفر کا پہلا بڑا سبق بن جاتا ہے: ناکامی سفر کا اختتام نہیں بلکہ صرف ایک مرحلہ ہے۔ اسکی نظر بازار میں شفاف بلوری برتنوں کی ایک دکان پر پڑتی ہے۔ وہ دکاندار سے شیشے اور برتن صاف کرکے چمکانے کے عوض اس سے روٹی طلب کرتا ہے۔ ابھی صفائی سے فارغ ہی ہوتا ہے کہ دو بلوری گلاس فروخت ہوجاتے ہیں۔ دکاندار لڑکےسے کہتا ہے کہ ’’تم کو صفائی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یوں بھی قرآن مجھے بھوکوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیتا ہے۔ ‘‘ لڑکا پوچھتا ہے۔ ’’ پھر آخر تم نے مجھےکیوں ایسا کرنے دیا؟‘‘تاجر کا جواب ’’کیوں کہ بلور میلا ہو رہا تھا۔ پھر تمھیں اور مجھے بھی اپنے ذہنوں کو منفی خیالات سے پاک کرنے کی ضرورت تھی نا !‘‘

یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمیشن کے خلاف برہمی کے بیچ سپریم کورٹ پر اُٹھنے والی انگلیاں توجہ طلب

دکاندار سانتیاگو کو ملازم رکھ لیتا ہے۔ سانتیاگو محنتی اور ذہین ہے۔ وہ تجارت میں نئے طریقے متعارف کراتا ہے۔ جلد ہی کاروبار خوب منافع بخش ہوجاتا ہے۔ کچھ ہی عرصے میں لڑکا ایک معقول رقم جمع کرلیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں نوجوان کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ سانتیاگو کے مقابل اب دو راہیں ہیں : ایک محفوظ راستہ، جو اسے اپنی پرانی زندگی، اپنے وطن واپس لے جاتا ہے؛ دوسرا جو اسے اس خواب کی طرف لے جاتا ہے جو غیر یقینی ہے اور پرخطر بھی۔ سانتیاگو نے دوسری راہ چنی۔ 
اب اس کے اور اہرامِ مصر کے درمیان ہزاروں میل لمبا ایک لق و دق ریگستان ہے۔ وہ ایک قافلے کے ساتھ صحرا عبور کرنے نکل پڑتا ہے۔ سفرکے آغاز میں قافلے کا سردار خطاب کرتا ہے، ’’میں صرف اللہ کی بندگی کرتا ہوں اور اسی کے نام سے قسم کھاتا ہوں کہ آپ کو صحرا پار کروانے کی ہر ممکن کوشش کرونگا، لیکن آپ سب کو بھی قسم کھانی ہوگی کہ میری اطاعت کرینگے کیونکہ ریگستان میں نافرمانی کا مطلب موت ہے۔ ‘‘
لڑکے کی ملاقات ایک انگریز سے ہوتی ہے جو علمِ کیمیا کا راز سمجھنے کیلئے سفر کررہا ہے۔ وہ ایک ماہر الکیمسٹ یعنی کیمیا گر کی تلاش میں ہےجو معمولی دھات کو سونے میں تبدیل کرنے کا علم رکھتا ہو۔ سانتیاگو اس سے بہت کچھ سیکھتا ہے لیکن اسے احساس ہوتا ہے کہ اصل کیمیا شاید دھات کو سونے میں بدلنے سے کہیں زیادہ گہرا عمل ہے؛ اصل تبدیلی انسان کے اندر واقع ہوتی ہے۔ 
قافلے میں شامل ایک سادہ مزاج عرب اونٹ سوار لڑکے کو بڑی پتےکی باتیں بتاتا ہے۔ کہتا ہے کہ ’’جب میں کھانا کھاتا ہوں تو بس کھانا کھاتا ہوں۔ جب سواری کرتا ہوں تو صرف آگے بڑھنے کی دھن میں رہتا ہوں۔ جب لڑتا بھڑتا ہوں تو یہ خیال حاوی ہوتا ہے کہ مرنے کیلئے بہترین دن آج کا دن ہے۔ میں اپنے ماضی میں یامستقبل میں نہیں جیتا۔ میری دلچسپی حال میں رہتی ہے۔ اگر تم بھی بس اسی پل میں جینا سیکھو تو خوش رہوگے۔ ‘‘
ایک نخلستان میں سانتیاگو کی ملاقات فاطمہ سے ہوتی ہے۔ وہ اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پھر ایک انتخاب ! کیا وہ محبت کی خاطر اپنے خواب کا سفر ترک کردے؟ صحرا کی بیٹی فاطمہ اسے روکنے کے بجائے آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ سمجھاتی ہے کہ حقیقی محبت انسان کو اس کی منزل سے محروم نہیں کرتی۔ 
اسی نخلستان میں وہ پراسرار شخص ملتا ہے جس کی تلاش سانتیاگو کے انگریز ہمسفر کو تھی۔ یہی شخص الکیمسٹ ہے۔ یہ کیمیا گر سانتیاگو کو سکھاتا ہے کہ زندگی کی زبان الفاظ کی نہیں بلکہ تجربات، اشاروں اور دل کی آواز ہے۔ اپنے من میں ڈوب کر ہی سراغِ زندگی پایا جاسکتا ہے۔ انسان اگر اپنے مقصد پر پوری یکسوئی سے قائم رہے تو وہ خدا کی طرف سے فراہم کردہ ان چھوٹے چھوٹے اشاروں کو بھی سمجھنے لگتا ہے جنہیں عام طور پر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ 
دورانِ سفر ایک شخص لڑکے کی جان کے درپے اس تلوار سے قتل کرنا چاہتا ہے۔ اس لمحےلڑکا اپنے دل میں ایک انجان سی خوشی محسوس کرتا ہے۔ سوچتا ہے:میں اپنے مقصد کی جستجو میں مرنے جا رہا ہوں۔ موت کی کیا فکر؟ روحِ عالم میری منتظر ہے۔ میں جلد ہی اسکا جز بنوں گا۔ اور دیر سویر میرا دشمن بھی تو اسی روحِ عالم کا حصہ ہوگا۔ 
پرعزم سانتیاگو آخرکار اہرامِ مصرتک پہنچ جاتا ہے۔ وہ خزانے کی تلاش میں زمین کھودنا شروع کرتا ہے، لیکن وہاں اسے کچھ نہیں ملتا۔ اسی دوران کچھ لٹیرے اسے پکڑ لیتے ہیں۔ زدوکوب کرتے ہیں۔ لہولہان سانتیاگو انھیں اپنے خواب کے متعلق بتاتا ہے۔ تب ایک رہزن طنز کرتا ہے کہ اسے بھی ایک خواب آیا کرتا تھا جس میں اسپین کے ایک پرانے گرجا گھر کے پاس، درخت کی جڑ میں دفن خزانہ دکھائی دیتا تھا۔ لیکن وہ اتنا احمق نہیں کہ محض خوابوں کے پیچھے اسپین تک جائے۔ یہ سن کر سانتیاگو کے ذہن میں ایک عجیب روشنی کوند جاتی ہے۔ لٹیرے کے خواب کا مقام دراصل وہی جگہ ہے جہاں سانتیاگو اپنی بھیڑوں کے ساتھ کبھی ٹھہرا کرتا تھا۔ 
وہ واپس اسپین پہنچتا ہے اور اسی پرانے گرجا گھر کے قریب سائیکامور نامی درخت کے نیچے کھدائی کرتا ہے۔ جس خزانے کی تلاش میں وہ ہزاروں میل کا سفر کرکے مصر گیا تھا، وہ دراصل اس کے اپنے وطن ہی میں موجود تھا، لیکن اگر وہ سفر کی کلفت نہ اٹھاتا، خطرات نہ مول لیتا، ناکامیوں کا سامنا نہ کرتا اور اپنے خواب پر یقین نہ رکھتا، تو کیا اتنا بیش بہا دفینہ کبھی حاصل کر پاتا؟ قیمتی خزانہ وہ نہیں جو زیرِزمین دفن ہو، بلکہ وہ ہے جو انسان کے اندر پوشیدہ ہے۔ 
کتاب پر تنقید یہ ہے کہ کہیں کہیں مکالمے کسی واعظ کے پند و نصائح جیسے لگتے ہیں۔ دی الکیمسٹ ہے تو فکشن لیکن سیلف ہیلپ جیسی محسوس ہوتی ہے۔ الکیمسٹ کو ادبی نقاد کس خانے میں رکھتے ہیں یہ ان کامسئلہ ہے۔ عوام نے اس کتاب کو سر آنکھوں پر جگہ دی۔ پاؤلو کوئیلو مشرقی روحانیت اور اسلامی روایتوں کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کرتا نظر آتا ہے۔ ناول میں صحرا کی زندگی کا ماحول، قبائلی جنگ و جدال اور پراسرار طلسمی واقعات کی منظر کشی کے ساتھ گہری دانشمندانہ باتیں قاری کے دل پر ایک عجیب اثر چھوڑتی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK