شہر گنجان ہے انسان مگر ہے کہ نہیں

Updated: October 17, 2020, 4:20 AM IST | Shahid Latif | Mumbai

شہر انسانوں سے بنتے ہیں ، انسان شہروں سے نہیں بنتے۔ اہل اقتدار شہرو ں کو طلسماتی شہر بنانا چاہتے ہیں مگر ان کا طلسم بامعنی ہو گا جب انسان سے انسان کے رشتے کا طلسم باقی رہے گا چنانچہ یہ رہنے والوں کا فرض ہے کہ شہروں کی علمی و تہذیبی قدروں کی حفاظت کریں ۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ایسے شہرت پانے اور ویسے مشہور ہونے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بہت سی چیزیں ایسے شہرت نہیں پاتیں ، ویسے مشہور ہوجاتی ہیں ۔ ان دِنوں شہروں کا کچھ یہی حال ہے۔ مثال کے طور پر اُترپردیش کا شہر ہاتھرس۔ ۳؍ مئی ۱۹۹۷ء کو علی گڑھ، متھرا اور آگرہ کے کچھ حصوں کو ملا کر اس شہر کا نیا جغرافیہ تشکیل دیا گیا تھا۔ ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی ۱۵؍ لاکھ ۶۴؍ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ شہر ہینگ کی پیداوار کا بڑا مرکز ہے۔یہاں کے ایک ہندی کوی پربھو لال گرگ، جو کاکا ہاتھرسی کے نام سے مشہور تھے، طنزومزاح میں خوب کہتے تھے۔ ان کے کئی مجموعہ ہائے کلام شائع ہوچکے ہیں ۔ ہندی اکیڈمی، دہلی ہر سال بہترین ادبی خدمات کیلئے ’کاکاہاتھرسی ایوارڈ‘ دیتی ہے۔ ہاتھرس کے اس شاعر کو ۱۹۸۵ء میں ’پدم شری‘ دیا گیا تھا۔اب یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ ہاتھرس کو نہ تو ہینگ کی وجہ سے نہ ہی کاکا ہاتھرسی کی وجہ سے اتنی شہرت ملی جتنی کہ سانحۂ آبروریزی کی وجہ سے ملی ہے۔ 
 دادری، جہاں اخلاق احمد کو اس بے رحمی سے پیٹا گیا کہ اس کی موت واقع ہوگئی، آج ہر طرف ماب لنچنگ کیلئے مشہور ہے جبکہ اس کی شہرت نیل گائے اور اُس خاص ہرن کی وجہ سے بھی ہوسکتی تھی جس کی پیٹھ سیاہ اور پیٹ سفید ہوتا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ سائبریا اور یورپ سے آنے والے بےشمار مہاجر پرندے بھی دادری میں بسیرا کرتے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی شہروں کی اپنی ساکھ اور وجہِ شہرت اتنی مستحکم ہے کہ تشدد کے واقعات اُن کے دامن سے لپٹے ضرور مگر اُن کی اصل شہرت برقرار رہی۔ ان میں احمد آباد،مراد آباد، علی گڑھ، ممبئی اور بھیونڈی جیسے کئی شہروں کا نام لیا جاسکتا ہے جہاں فرقہ وارانہ تشدد کی آگ بھڑکائی گئی مگر یہ واقعات اِن شہروں کی پہلے سے موجود شہرت کو نقصان نہیں پہنچا سکے۔ اسی لئے شہروں کی شہرت میں اہل شہر کی خدمات خواہ وہ علمی و ادبی ہوں یا سماجی و معاشرتی، تاریخی و جغرافیائی ہوں یا تہذیبی و اقتصادی، اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ کوئی واقعہ یا سانحہ کسی شہر کی شہرت کا سبب اسی وقت بنتا ہے جب اس شہر کی تہذیبی و ثقافتی پہچان مضبوط نہ ہو۔ 
 شہر گلی کوچوں ، محلوں ، ہاٹ بازاروں اور عمارتوں سے نہیں تشکیل پاتا بلکہ اُن اقدار سے تعمیر ہوتا ہے جسے اس کے رہنے والے حرز جاں بنائے رکھتے ہیں ۔ لکھنؤ میں ایک صاحب نے جن کا تعلق اہل اُردو سے نہیں ہے، اس مضمون نگار سے کہا تھا کہ ’مجھے یہ شہر اس لئے عزیز ہے کہ اس نے مجھے اپنی پہچان دی ہے۔‘ یگانہ نے کہا تھا: ’’کشش لکھنؤ ارے توبہ= پھر وہی ہم وہی امین آباد‘‘۔ ۱۹۶۷ء میں فلم ’’پالکی‘‘ کیلئے شکیل نے ’’اے شہر لکھنؤ تجھے میرا سلام ہے‘‘ کے ذریعہ اور فلم ’’چودھویں کا چاند‘‘ میں ’’یہ لکھنؤ کی سرزمیں ، یہ حسن و عشق کا وطن‘‘ کے ذریعہ جس انداز میں اس تہذیبی مرکز کو خراج تحسین پیش کیا تھا، اُسے کیونکر فراموش کیا جاسکتا ہے۔
 یونیسکو ’’تخلیقی شہروں کی فہرست‘‘ آرٹ، کلچر، ادب، ذرائع ابلاغ، فلم، ساخت اور فن طباخی (کھانے پینے کی خصوصیات) کے اعتبار سے مرتب کرتا ہے۔ اس میں وقتاً فوقتاً شامل ہونے والے شہروں کی ۲۴۶؍ہوچکی ہے۔ گزشتہ سال ’’ورلڈ سٹیز ڈے‘‘ کے موقع پر اس نے ۶۶؍ نئے شہروں کو اس فہرست میں شامل کیا تھا جن میں ممبئی کو فلم کے حوالے سے اور حیدرآباد کو فن طباخی کیلئے جگہ دی گئی۔ اس فہرست پر نظر دوڑائیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں شامل کئی شہروں سے ہماری آپ کی واقفیت یا تو بالکل نہیں ہے یا بہت محدود ہے۔ البتہ خوشی کی بات ہے کہ اس میں ممبئی اور حیدرآباد کے علاوہ چنئی اور وارانسی کو موسیقی کیلئے جبکہ جے پور کو حرفہ (کرافٹ) اور فنون عامہ (فوک آرٹس) کے مرکز کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ ہر ہندوستانی کیلئے باعث افتخار ہے۔
  یونیسکو کی فہرست ایک عالمی دستاویز ہے۔ اس میں کسی شہر کی شمولیت باعث مسرت تو ہوسکتی ہے مگر کسی شہر کا شامل نہ کیا جانا وجہ ِتاسف نہیں ہوسکتا اگر وہ شہر اپنی خصوصیات کے تحفظ میں کامیاب ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساری چیزیں بدلتی جارہی ہیں اور شہروں کو اُن کی معاشی پیش رفت اور ترقیاتی پروجیکٹوں کے معیار پر پرکھا جارہا ہے۔ معاش اور مادّی ترقی انسانی زندگی کی اہم ضروریات ہیں ، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر معاشی اور مادّی طور پر نمایاں اور کامیاب شہر آنکھوں کو تو خیرہ کرسکتے ہیں ، دلوں کو فتح نہیں کرسکتے۔ دلوں کو فتح کرتی ہے ان شہروں کی علمی، ادبی، ثقافتی اور عوامی زندگی۔ لوگ ملنسار ہوں ، مہمان نواز ہوں ، اپنی تہذیب کے دلدادہ ہوں ، اپنی زبان اور ادب کے محافظ ہوں اور سماجی بُرائیوں کے تئیں حساس ہوں توان خصوصیات میں اثر پزیری کی جتنی صلاحیت ہے اتنی ملٹی لیئر فلائی اوور میں ہے نہ ان بلندو بالا عمارتوں میں جن کی بلندی کا جائزہ لیتے وقت گردن کو زاویہ منفرجہ بنانا پڑتا ہے۔ 
 ایساکہنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مشینوں یا مادّیت کی حکومت انسان کو روبوٹ بنادیتی ہے جو دیئے گئے احکام کے مطابق عمل کرتا ہے۔ انسان جب روبوٹ بن جاتا ہے تو مصنوعی خوشیوں کے سہارے خود کو زندہ رکھتا ہے۔ جس شہر میں پڑوسی سے پڑوسی کا تعلق نہ ہو، ایک کی مدد پر دوسرا حرکت میں نہ آئے، ایک کے غم پر دوسرا آبدیدہ نہ ہو،جہاں انسانی زندگی حقیقی معنوں میں نغمہ خواں نہ ہو، ایسا شہر انسانی آبادی نہیں ہوتا، کانکریٹ جنگل ہوتا ہے اور افسوس کہ شہر کی بدلتی ہوئی تعریف اسے کانکریٹ جنگل ہی میں تبدیل کررہی ہے۔ آرٹ اور کلچر کی جو تھوڑی بہت ضرورت آج کے انسان میں باقی رہ گئی ہے وہ اسے موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعہ پوری کررہا ہے۔ 
 ارباب اقتدار شہروں کو ویسا ہی بنانا چاہیں گے جیسا وہ چاہتے ہیں کیونکہ ان کا اصرارمعاشی و مادی ترقی پر ہوتا ہے۔ ان پر تکیہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ان میں رہنے والوں کا فرض ہے کہ شہروں کو مرکز علم و ادب اور گہوارۂ تہذیب و ثقافت بنائے رکھیں ۔ دل دھڑکنا بند کردے تو پیس میکر غیر ضروری ہوجاتا ہے۔ پیس میکروں کے درمیان ایسا نہ ہو کہ دل دھڑکنا بھول جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK