ملک کی معیشت اور ملک کے باشندوں پر خستہ حال سڑکوں کے اثرات

Updated: January 23, 2023, 5:20 PM IST | Shahebaz khan | Mumbai

ایک سے دوسرے علاقے تک پہنچنے میں سب سے اہم کردار سڑکیں ادا کرتی ہیں۔ سڑکیں ہی ظاہر کرتی ہیں کہ ملک کا انفر اسٹرکچر کیسا ہے۔

Roads should be improved for ease of transportation
نقل و حمل میں آسانی کیلئے سڑکوں کا بہتر ہونا ضروری ہے

ایک سے دوسرے علاقے تک پہنچنے میں سب سے اہم کردار سڑکیں ادا کرتی ہیں۔ سڑکیں ہی ظاہر کرتی ہیں کہ ملک کا انفر اسٹرکچر کیسا ہے۔ دور حاضر میں سڑکوں کے بغیر ایک سے دوسرے علاقے میں پہنچنا کافی دشوار ثابت ہوسکتا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم اور دی گلوبل اکنامی میں شائع ہونے والی ایک مشترکہ رپورٹ میں دنیا کے ۱۴۱؍ ممالک کی سڑکوں کے معیار کی جانچ کی گئی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ کون سے ملک میں سڑکوں کا معیار سب سے اچھا ہے۔ سڑکوں کے معیار کی جانچ کیلئے ایک سے ۷؍ نمبر تک کی ایک اسکیل بنائی گئی ہے، یعنی جس ملک کو کم یعنی ایک کی جانب نمبر ملیں گے وہاں کی سڑکیں اچھی حالت میں نہیں ہیں جبکہ جن ملکوں کو ۷؍ کی جانب نمبر ملیں گے، وہاں کی سڑکوں کا معیار اچھا ہے۔ یہ اعدادوشمار ۲۰۰۶ء تا ۲۰۱۹ء کے ہیں۔
 اس میں سر فہرست سنگاپور ہے جہاں کی سڑکوں کو ۶ء۵؍ نمبر ملے ہیں، یعنی یہاں کی سڑکیں معیاری ہیں۔ اس فہرست میں سب سے نیچے افریقہ کا ملک چاڈ ہے جسے ۱ء۹؍ نمبر ملے ہیں۔۴ء۵؍ نمبر کے ساتھ ہمارا ملک  ۴۶؍ ویں نمبر پر ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ میکسیکو، نیوزی لینڈ، ناروے، پناما، جنوبی افریقہ اور تاجکستان کو بھی ۴ء۵؍ نمبر ہی ملے ہیں۔ اس سروے میں شامل تمام ۱۴۱؍ ملکوں کی سڑکوں کو اوسطاً۴ء۰۷؍ نمبر ملے ہیں۔ اس لحاظ سے دنیا کی سڑکوں کا حال زیادہ خراب نہیں ہے۔ خیال رہے کہ یہ اعدادوشمار ’قومی شاہراہوں ‘ (نیشنل ہائی ویز) کے ہیں لیکن اگر ان میں محلوں اور گلی کوچوں میں بنائی جانےو الی سڑکوں کو شامل کردیا جائے تو یہ اوسط مزید کم ہوجائے گا۔ سالانہ بجٹ میں قومی شاہراہوں حتیٰ کہ محلوں اور گلی کوچوں کی سڑکوں کی از سر نو تعمیر یا مرمت کیلئے بڑی بڑی رقمیں مختص کی جاتی ہیں، اس کے باوجود بہت ہی کم ملک ایسے ہوں گے جہاں کے محلوں اور شہروں میں سڑکوں کی حالت بہتر ہوگی۔ رواں مالی سال میں ہماری حکومت نے قومی شاہراہوں کی تعمیر کیلئے ایک لاکھ ۳۴؍ ہزار ۱۵؍ کروڑ روپے اور سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کیلئے ۶۴؍ ہزار ۵۷۳؍ کرو ڑروپے مختص کئے ہیں۔ حکومت کے مطابق مجموی طور پر ۱ء۲۱؍ کھرب روپے صرف سڑکوں کی تعمیر پر خرچ کئے جائیں گےلیکن ان میں سے اب تک کتنے روپے سڑکوں کی تعمیر پر خرچ ہوئے ہیں، اس کے متعلق حکومت نے کوئی معلومات جاری نہیں کی ہے۔ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں سڑکوں کی تعمیر کیلئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے خطیر رقم مختص کی جاتی ہے لیکن پھر بھی سڑکیں معیاری نہیں ہوتیں۔ غیر معیاری خام مال استعمال کرنے کی وجہ سے موسم باراں میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ علاوہ ازیں، بعض معاملات میں ایسا ہوتا ہے کہ سڑکیں بنانے کے بعد ۱۰؍ سے ۱۵؍ سال تک اس پر توجہ نہیں دی جاتی، اور ان برسوں میں وہاں سڑکیں برائے نام رہ جاتی ہیں۔ 
 گزشتہ سال کے اوائل میں ٹیم بی ایچ پی ڈاٹ کام نے ایک آن لائن سروے کیا تھا جس میں مسافروں سے پوچھا گیا تھا بہترین قومی شاہراہیں کون سی ریاست میں ہیں۔ نتائج کے مطابق ملک میں سب سے اچھی قومی شاہراہیں تمل ناڈو کی ہیں۔ اس کے بعد گجرات ، راجستھان، کرناٹک اور مہاراشٹر کا نمبر آتا ہے۔ اترپردیش اور بہار میں سڑکوں کی حالت خستہ ہے۔ 
 سڑکیں کسی بھی ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ہندوستان کی جی ڈی پی میں اس کا اشتراک ۳ء۶؍ فیصد سے زائد ہے جبکہ نقل و حمل کے ذریعے ملک کو ہونے والے فائدے کا دو تہائی حصہ سڑکوں کے سبب ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کا روڈ نیٹ ورک کافی مستحکم اور طویل ہے۔ ۹۰؍ فیصد سے زائد ہندوستانی اور ۶۵؍ فیصدسے زائد مال سڑکوں کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔ لہٰذا حکومت کو سڑکوں کیلئے مختص کی جانے والی پوری رقم انہیں بہتر اور مستحکم بنانے پر صرف کی جانی چاہئے تاکہ ہماری معیشت پر اس کے مثبت اثرات پڑیں۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ سڑکیں خراب ہونے کی وجہ سے لاکھوں ٹن مال ضائع ہوجاتا ہے یا منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے ہی خراب ہوجاتا ہے۔ سڑکیں خراب یا غیر معیاری ہونے کی وجہ سے ہر سال لاکھوں حادثات ہوتے ہیں جن میں انسانی جانیں بھی ضائع ہوجاتی ہیں۔ ورلڈ بینک کی ستمبر ۲۰۲۲ء کی ایک رپورٹ کے مطابق سڑک حادثات کی وجہ سے جی ڈی پی پر ۳؍ تا ۵؍ فیصد کا اثر پڑتا ہے، اور معیشت کو کم وبیش ۳۹؍ ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ ایس پی گلوبل کی ایک رپورٹ میں ہندوستان میں سڑکوں کی صورتحال پر لکھا گیا ہے کہ ’’یہاں قومی شاہراہوں اور سڑکوں کی مرمت پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ ایک مرتبہ شاہراہ تعمیر کرنے کے بعد اس پر برسوں تک توجہ نہیں دی جاتی ۔ اس کا اثر عوام کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔ جن علاقوں میں اچھی سڑکوں کا نیٹ ورک نہیں ہوتا، وہاں کے باشندے دیگر علاقوں کے باشندوں سے غریب ہوتے ہیں کیونکہ خستہ حال سڑکوں کے سبب لوگ ان علاقوں میں داخل ہونے سے کتراتے ہیں۔ نہ یہاں سرمایہ کاری ہوتی ہے اور نہ ہی جی ڈی پی میں ان علاقوں کا مستحکم اشتراک ہوتا ہے۔‘‘
 آپ ایک ایسے ہندوستان کا تصور کریں جو روڈنیٹ ورک کے معاملے میں کافی مستحکم ہو۔ ہمارے ملک میں ایسے بے شمار علاقے ہیں جن کا ملک کی جی ڈی پی میں خاطر خواہ اشتراک نہیں ہے۔ اگر ان علاقوں میں سڑکوں کا جال بہتر ہوجائے تو یہاں سرمایہ کاری کے قوی امکان ہیں۔ اس طرح ان علاقوں میں نقل و حمل میں اضافہ ہوگا، ملک کی جی ڈی پی میں ان کا حصہ بڑھے گا اور یہاں روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ہندوستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور یہاں معیاری انفر اسٹرکچر، نقل و حمل اور خدمات کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ رقبے اور آبادی کے لحاظ سے یہ ایک بڑا ملک ہے اور یہاں انفراسٹرکچر کے مسئلے کو اب تک حل نہیں کیا گیا ہے۔ سڑکوں کی تعمیر غریب، کمزور اور الگ تھلگ کمیونٹیز کو دیگر علاقوں، اسکولوں اور بازاروں سے جوڑتی ہے۔ یہ سماجی اور اقتصادی ترقی کی کلید ہے۔ اس کے علاوہ، سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کا کام دیہی علاقوں میں لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ انفرااسٹرکچر جیسے معیاری سڑکیں، غربت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

economy Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK