سیدنا ابراہیمؑ کی چار اعلیٰ ترین صفات

Updated: July 21, 2021, 11:10 AM IST | Muhammad Shakir Akram Falahi (Nagpur) | Nagpur

آپ ؑ کو کو پوری دنیا کا مؤذن بنایا گیا۔ آپ ؑنے کہیں مقام کیا یعنی سکونت اختیا ر کی اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ گویا آخر دم تک دعوتی جد و جہد سے فارغ نہیں ہوئے، مسلسل سفر میں رہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

’’بیٹا! میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں تمہارا کیا خیال ہے ؟‘‘ ’’ ابّا جان! آپ کو جو حکم ہو اہے کر ڈالیے، میری فکر مت کیجیے، میں اپنا سر تسلیم خم کرتا ہوں۔‘‘ درج بالا مکالمے سے آپ نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ میں کس شخصیت کا تذکرہ کررہا ہوں۔ یہ بزرگ و محترم شخصیت سیدنا ابراہیم ؑکی ہے جن کو قرآن نے امّت کا خطاب دیا ہے (سورۃ نحل آیت ۱۲۰)۔ امّت کا مطلب ہے ایک خیال اور ایک عقیدہ کے ماننے والے لوگ جن کے درمیان کچھ مشترک اقدار پائی جاتی ہیں۔ جس طرح ایک ماں باپ کی اولادجسمانی طور پرچاہے جتنی دور چلی جائے مگر روحانی اور نسبی تعلق باقی رہتا ہے اسی طرح ایک خیال اور ایک عقیدے کے لوگ چاہے دنیا کے جس خطّے میں بھی رہتے ہوں ایک امّت ہیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو امّت اس بنا پر کہا گیا ہے کہ جو کام کئی اداروں اور جماعتوں کے مل کر کرنے کا تھا وہ تنہا آپؑ نے انجام دیا۔ آپ نے پورے ملک میں توحید کی صدا بلند کی، نہ صرف صدا بلند کی بلکہ پورے ملک میں ایک آگ سی لگا دی۔ ہر شخص آ پ کی دعوت سے واقف ہوگیا تھا چنانچہ جب بت شکنی کا واقعہ پیش آیا تو بلا تردّد لوگوں نے کہا، ہو نہ ہویہ ابراہیم کا کام ہے، کیونکہ ایک وہی ہے جو بتوں کا دشمن ہے (سورۃ انبیاء آیت۶۰)۔ لہٰذا ایک اکیلے ابراہیم کے لیے وہ آگ دہکائی گئی جو ایک پوری بستی کے لیے کافی تھی۔ مگر خدا کے حکم سے وہ آگ آپؑ کے لیے گلزار بن گئی۔ عراق میں آپ کی دعوت کی راہیں مسدود ہوگئیں تو آپؑ مصر ہوتے ہوئے حجاز پہنچ گئے۔ بی بی ہاجرہ اور نومولود اسمٰعیل کو اس بے آب و گیا ہ وادی میں چھوڑا، دم بھی نہ لیا اور پھر دعوتی اسفار کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ اردن، شام اور دنیا کے جس خطّے تک بھی آپ کی رسائی ہو سکی وہاں پہنچ کر دعوتِ توحید عام کی۔ آپؑ نے مختلف شہروں اور ملکوں کو چھاننے کے بعد تین علاقے منتخب فرمائے۔ ایک اردن کا علاقہ جہاں آپ نے اپنے بھتیجے لوط علیہ السلام کو تعینات کیا اور اپنی خلافت عطا کی، دوسرا شام کا علاقہ جہاں آپؑ نے اپنے دوسرے بیٹے حضرت اسحٰق علیہ السلام کو تعینات کیا اور اپنی خلافت عطا کی، تیسرا حجا ز کا علاقہ جو آپؑ نے اللہ کے حکم سے اپنے بڑے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے لیے منتخب فرمایا۔ تین میں سے دو علاقے آج بھی دنیا کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ آپؑ نے بڑے بیٹے کے ساتھ مل کر کعبہ تعمیر کیا اور دوسرے بیٹے کے علاقے میں قدس تعمیر ہوا گویا آپ معمارِ جہاں بھی تھے۔ آپ کی نسل سے تین بڑی امّتیں وجود میں آئیں امت ِ یہود، امت ِ نصاریٰ اور امت ِ مسلمہ۔ آپ کو پوری دنیا کی امامت و خلافت عطا کی گئی، (سورۃ بقرہ آیت ۱۲۴)۔ آپ کو پوری دنیا کا مؤذن بنایا گیا، سورۃ حج آیت ۲۷۔ آپ ؑنے کہیں مقام کیا یعنی سکونت اختیا ر کی اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ آپ نے اپنے بیٹوں میں سے کسی کے پاس بھی مستقل بودو باش اختیار نہیں کی گویا آخر دم تک دعوتی جد و جہد سے فارغ نہیں ہوئے، مسلسل سفر میں رہے۔ 
میں وقت ہوں مری تقدیر میں قیام نہیں 
حفیظ روز ِ ازل ہی سے میں سفر میں ہوں
 تاہم اتنا اشارہ ضرور ملتا ہے کہ بی بی ہاجرہ کو حجاز میں رکھا اور بی بی سارہ کو اپنے ساتھ۔ جب قومِ لوط پر عذاب آیا تو آپ ان کے درمیان نہیں تھے۔ ممکن ہے ملکِ شام میں رہے ہوں مگر یہ ثابت ہے کہ بی بی سارہ آپ کے ساتھ تھیں۔ قومِ لوط پر عذاب کے لیے جو فرشتے بھیجے گئے تھے وہ پہلے آپ کے پاس آئے اورآپ کو حضرتِ اسحٰق کی بشارت دی۔ حضرت اسحٰق کی بشارت سن کر حضرتِ سارہ کو تعجب ہوامگر فرشتوں نے اطمینان دلایا۔ تفصیل کے لیے دیکھیں سورۃذاریات ۔آیات ۲۴ تا۳۰۔
 اللہ سبحانہ‘و تعالیٰ نے آپ کو سچی ناموری عطا فرمائی اور آپؑ کے بعد بھی آپؑ کا نام جاری فرمایا۔ آج پوری دنیا میں آپ کے نام لیوا موجود ہیں۔ تین بڑی اُمتوں کے لوگ آپ کو اپنا پیشوا اور مقتدا تسلیم کرتے ہیں۔ آپ کے حصّے میں بڑی محبوبیت آئی چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم کے معتقد، اُمت مسلمہ کے علاوہ یہود و نصاریٰ بھی ہیں۔ یہودی کہتے تھے ابراہیم علیہ السلام یہودی ہیں اور نصاریٰ کہتے تھے ابراہیم علیہ السلام نصرانی ہیں۔ قرآن کہتا ہے نہ وہ یہودی ہیں نہ نصرانی ہیں بلکہ مسلمِ حنیف ہیں ( سورۃ آل عمران۔ آیت ۶۷)۔ دنیا کا دو تہائی حصّہ بلکہ اس سے بھی زیادہ آپ کے ماننے والوں سے آباد ہے۔ باقی کے ایک تہائی میں دیگر مذاہب کے لوگ رہتے بستے ہیں۔ اسی لئے قرآن کہتا ہے کہ آپ ایک امّت تھے ۔ ایک فر د ایک امّت کیسے بن سکتا ہے وہ رازسورۃ نحل کی آیت ۱۲۰ میں بیان کر دیا گیا ہے جس کا ذکراوپر آچکا ہے۔ مذکورہ آیت میں سیدنا کی تین صفات کاذکر کیا گیا ہے۔ اگر آیت ۱۲۱ کو ملا لیا جائے تو چار صفات ہوتی ہیں۔ ایک صفت ِ قنوت ہے دوسری حنفیت تیسری شرک سے بیزاری اور چوتھی شکرانِ نعمت۔ قانت یا قنوت کا مطلب فرماں برداری ، وفاداری بشرطِ استواری اور جانثاری۔ حنفیت کا مطلب یکسوئی  اور شکرانِ نعمت کا مطلب اللہ کی تمام نعمتوں کی قدر کرنا۔ امّت بننے کا راز یہی چار صفات ہیں اور چاروں صفات میں تسلسل اور دوام کا پایا جانا ضروری ہے ۔ ان صفات کو اپناکر امّت کا ہر فرد ایک امّت بن سکتا ہے۔
معمارِ حرم باز بہ تعمیرِ جہاں خیز
اٹھ خوابِ گراں خوابِ گراںخوابِ گراں خیز

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK