سیرت النبیؐ کی اِس خصوصی سیریز میں غزوۂ تبوک کا تذکرہ جاری ہے۔ غزوۂ تبوک آپؐ کا آخری غزوہ تھا اور اسے اسلامی تاریخ کا کامیاب ترین غزوہ کہا جاتا ہے۔ آج کی قسط میں حضرت ام ّ کلثومؓ کی وفات کے بارے میں بھی پڑھئے
EPAPER
Updated: December 29, 2023, 3:21 PM IST | Molana Nadimul Wajidi | Mumbai
سیرت النبیؐ کی اِس خصوصی سیریز میں غزوۂ تبوک کا تذکرہ جاری ہے۔ غزوۂ تبوک آپؐ کا آخری غزوہ تھا اور اسے اسلامی تاریخ کا کامیاب ترین غزوہ کہا جاتا ہے۔ آج کی قسط میں حضرت ام ّ کلثومؓ کی وفات کے بارے میں بھی پڑھئے
مسجد ضرارکے انہدام کا حکم
سورہ توبہ کی آیات (۱۰۷۔۱۰۸)کے نزول کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند صحابہؓ کو، جن میں حضرت عامر بن سکنؓ اور حضرت وحشیؓ وغیرہ شامل تھے، قبا کی طرف بھیجا کہ وہ جاکر اس عمارت کو گرادیں۔ انہوں نے حکم کی تعمیل کی۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فقہاء نے لکھا ہے کہ ’’آج کل بھی اگر کسی مسجد کے مقابلے میں اس کے قریب کوئی دوسری مسجد کچھ مسلمان بنالیں اور بنانے کا مقصد باہمی تفرقہ پیدا کرنا اور پہلی مسجد کی جماعت توڑنا وغیرہ اغراض فاسدہ ہوں تو اگرچہ ایسی مسجد بنانے والے کو ثواب تو نہ ملے گا بلکہ تفریق بین المسلمین کی وجہ سے گناہ گار ہوگا، لیکن بایں ہمہ اس جگہ کو شرعی حیثیت سے مسجد ہی کہا جائے گا اور تمام آداب واحکام مساجد کے اس پر جاری ہوں گے ۔اس کا ڈھانا اور نقصان پہنچانا جائز نہ ہوگا۔ جو لوگ اس میں نماز پڑھیں گے ان کی نماز بھی ادا ہوجائے گی، بعض لوگ جو اس طرح کی مسجد کو مسجد ضرار کہہ دیتے ہیں یہ درست نہیں ، البتہ اس کو مسجد ضرار کے مشابہ کہہ سکتے ہیں ، اس لئے اس طرح کی مسجدیں تعمیر کرنے سے روکا جاسکتا ہے جیسا کہ حضرت عمر فاروقؓ نے ایک حکم جاری فرمایا تھا کہ ایک مسجد کے قریب دوسری مسجد نہ بنائی جائے، جس سے پہلی والی مسجد کی جماعت اور رونق متاثر ہو، اس سے اتنا معلوم ہوا کہ آج بھی اگر کوئی نئی مسجد پہلی مسجد کے برابر میں بلا کسی ضرورت کے محض نام ونمود کے لئے یا ضد وعناد کی وجہ سے تعمیر کی جائے تو اس میں نماز پڑھنا بہتر نہیں ہے، اگرچہ نماز ہوجاتی ہے۔ (معارف القرآن: ۴/۲۶۳، ۲۶۴)
تفسیر کی کتابوں میں لکھا ہے کہ قبا میں جس جگہ مسجد ضرار تعمیر کی گئی تھی وہ جگہ آج تک غیر آباد پڑی ہوئی ہے۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ جس وقت یہ مسجد منہدم کردی گئی اور جگہ خالی ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عاصم بن عدیؓ سے فرمایا کہ تم اس جگہ پر اپنا گھر بنالو۔ انہوں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! جس جگہ کے متعلق قرآن کی آیات نازل ہوچکی ہوں میں ایسی منحوس جگہ پر گھر بنانا پسند نہیں کرتا، البتہ ثابت بن اقرمؓ ضرورتمند ہیں ، ان کے پاس گھر نہیں ہے، آپؐ ان کو اجازت دے دیں ، وہ اپنا گھر بنالیں گے۔ آپ نے اجازت دے دی۔ حضرت ثابتؓ نے مکان بنالیا اور اس میں رہنے لگے، مدت گزر گئی ان کے کوئی اولاد نہ ہوئی یا ہوئی تو وہ زندہ نہ رہی۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ انسان تو انسان اس جگہ کوئی مرغی بھی انڈے دینے کے قابل نہ رہتی، کوئی کبوتر اور جانور بھی اس میں پھلا پھولا نہیں ۔ اس کے بعد سے یہ جگہ آج تک مسجد قبا سے کچھ فاصلے پر ویران پڑی ہے۔ عامر راہب کا انجام یہ ہوا کہ وہ غیر جگہ پر عزیز و اقارب سے دور جاکر مرا اور اس کی بد دُعا خود اس کے حق میں قبول ہوئی، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ چیلنج دیا تھا کہ جو جھوٹا ہوگا وہ وطن سے دور جاکر مرے گا۔(تفسیر الطبری:۱۴/۴۶۸، معارف القرآن: ۴/۲۶۴)
غزوۂ تبوک کے اثرات ونتائج
اگرچہ اس غزوے میں کوئی جنگ نہیں ہوئی، نہ کسی کا خون بہا، مگر اسے اسلامی تاریخ کا کامیاب ترین غزوہ کہا جاتا ہے، کیونکہ اس میں مسلمانوں کو اپنے دشمن پر نفسیاتی برتری حاصل رہی، مسلمان خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر فاتح بن کر لوَٹے۔ اس طویل اور پر صعوبت راستے پرمسلمانوں کی پیش قدمی سے دشمن کے دل میں خوف پیدا ہوا اور انہوں نے بغیر جنگ کے اپنی شکست قبول کرلی، حالاں کہ دشمن کی فوج اپنے بلوں سے نکل آئی تھی مگر جیسے ہی اس نے یہ سنا کہ مسلمان بڑی تعداد میں آگے بڑھ رہے ہیں تو دشمن نے اسی میں عافیت سمجھی کہ وہ واپس چلا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آس پاس کے کئی فرماں روا مصالحت کی خاطر حاضر ہوئے اور صلح کرنے پر مجبور ہوئے۔ یہی نہیں بلکہ مسلمانوں کی بالادستی قبول کرتے ہوئے دور دراز کے قبائل کے وفود نے مدینے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات بھی کی اور اسلام بھی قبول کیا۔ اس طرح دور دراز کے علاقوں تک اسلام کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا۔ دوسری طرف مسلمانوں میں بھی اپنی قوت اور طاقت کا احساس پیدا ہوا، اور ان کے اس یقین میں اضافہ ہوا کہ ایمان کی طاقت سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں ہے اور یہ وہ ہتھیار ہے کہ اس کے ذریعے بڑے سے بڑے دشمن پر فتح پائی جاسکتی ہے۔ یہ وہ حوصلہ تھا جس کے بل پر مسلمانوں نے ایشیا، افریقہ اور یورپ تک پیش قدمی کرکے نصف سے زیادہ دنیا کو اپنے زیر نگیں آنے پر آمادہ کرلیا۔ اس غزوے کا ایک اور روشن پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کو منافقین کے گروہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات مل گئی۔ یہ گروہ ابتدائِ ہجرت سے اب تک مسلمانوں کیلئے سر درد بنا ہوا تھا اور وقفے وقفے سے مسلمان اس کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا شکار بن رہے تھے۔ بہت سے منافقین تو اس غزوے میں شریک ہی نہیں ہوئے اور جو شریک ہوئے انہوں نے راستہ میں مشکلات پیدا کیں ، سادہ لوح مسلمانوں کو بھڑکایا، ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ بارہ سر کردہ منافقین نے مسلمانوں کی اوّلین مسجد کے مقابلے میں ایک مسجد بھی بناڈالی، اس جنگ کے بعد یہ گروہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوگیا۔ یا تو اس کے افراد نے سچے دل سے توبہ کرلی یا یا خاموش بیٹھ گئے یا اِدھر اُدھر ہوگئے۔ بہ ہر حال مدینے میں ان کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں بچی تھی۔
آخری غزوہ
غزوۂ تبوک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری غزوہ تھا، اس کے بعد آپؐ کسی غزوے میں تشریف نہیں لے گئے، اور نہ آپ نے کسی جنگی مہم میں شرکت فرمائی، بلکہ کوئی سریا بھی روانہ نہیں کیا، نو (۹) برس میں کل انتیس، ستائیس یا پچیس غزوات ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام غزوات میں بہ نفس نفیس شرکت فرمائی، بلکہ سات غزوات میں تو دشمنوں کے ساتھ دوبدو جنگ بھی کی۔ غزوات کے علاوہ تقریباً ساٹھ سرایا بھی بھیجے گئے، اس طرح ان جنگوں کی تعداد تقریباً پچاسی ہوتی ہے، ان میں سے بیشتر میں تو کوئی جنگ ہی نہیں ہوئی، بلکہ جیسے ہی دشمنوں کو مسلمانوں کی آمد کا علم ہوا وہ جنگلوں میں جا چھپے یا پہاڑوں اور غاروں میں جاکر روپوش ہوگئے۔ جو جنگیں ہوئیں ان میں بھی جانبین کے مقتولین کی تعداد ایک ہزار اٹھارہ سے متجاوز نہیں ہوئی۔ یہ ان جنگوں کا حیرت انگیز پہلو ہے کہ اتنی جنگیں ہوئیں لیکن خون بہت کم بہا، جان و مال کی بربادی بہت کم ہوئی، عورتوں پر، بچوں پر، کمزوروں پر، بوڑھوں پر، بیماروں پر کوئی ظلم نہیں ڈھایا گیا، عمارتیں تباہ نہیں کی گئیں ، باغات اور کھیتوں پر بلڈوزر نہیں چلائے گئے۔ اس کے مقابلے میں یورپ کی مہذب اور ترقی یافتہ اقوام کی جنگوں کا حال دیکھ لیجئے، پہلی جنگ عظیم میں جو ۱۹۱۴ء سے ۱۹۱۸ء تک صرف چار سال جاری رہی چونسٹھ لاکھ انسانی جانیں ضائع ہوئیں ، عمارتوں کی تباہی اس سے الگ ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جس کا سلسلہ ۱۹۳۹ءسے ۱۹۴۵ء تک سات (۷) برس تک چلا تقریباً چھ کروڑ انسان قتل کئے گئے، اور جو خانماں برباد ہوئے ان کی تعداد الگ ہے۔فلسطین کا حال دیکھ لیجئے، اسرائیل نے امریکہ اور برطانیہ جیسے ملکوں کے ساتھ مل کر غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی، ہزاروں بچے اور بڑے شہید ہوگئے، تقریباً تمام بڑی رہائشی عمارتیں ، اسکول، اسپتال اور تجارتی کمپلیکس کھنڈر بن گئے، یہ قومیں اپنے آپ کو مہذب کہتی ہیں ، ان کا دعویٰ ہے کہ وہ حقوق انسانی کی علمبردار ہیں ، ان کو چاہئے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں کے آئینے میں اپنا چہرا دیکھیں کہ ان کے (مغربی اقوام کے) قول وعمل میں کتنا تضاد ہے اور انسانیت کیلئے ہمدردی کے ان کے دعوے کتنے کھوکھلے ہیں۔
حضرت ام کلثومؓ کی وفات
نو ہجری میں غزوۂ تبوک واقع ہوا، وہاں سے واپسی پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بڑے صدمے سے دو چار ہونا پڑا۔ یہ صدمہ حضرت ام کلثومؓ کی وفات کی صورت میں پیش آیا۔ حضرت ام کلثومؓ آپ ؐ کی تیسری صاحبزادی تھیں اور حضرت عثمانؓ کے نکاح میں تھیں ۔ زمانۂ جاہلیت میں ان کا نکاح ابولہب کے بیٹے عتیبہ سے ہوگیا تھا، ابھی رخصتی نہ ہونے پائی تھی کہ اس نے ماں باپ کے کہنے پر حضرت ام کلثومؓ کو طلاق دے دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صاحبزادی حضرت رقیہؓ ابولہب کے دوسرے بیٹے عتبہ کے نکاح میں تھیں ، دونوں بہنوں کو ایک ساتھ طلاق ہوئی، بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رقیہؓ کا نکاح حضرت عثمانؓ سے کردیا، حضرت ام کلثومؓ کا نکاح کسی سے نہیں کیا، حضرت رقیہؓ کی وفات کے بعد حضرت عثمانؓ کا نکاح حضرت ام کلثومؓ سے ہوا، یہ نکاح مدینے میں ہوا، حضرت عثمانؓ کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان کے عقد میں حضور ﷺ کی دو صاحبزادیاں آئیں ۔ حضرت ام کلثومؓ کا نکاح ربیع الاول تین ہجری میں ہوا، نو ہجری میں ان کی وفات ہوئی، حضرت ام کلثومؓ نے چھ برس حضرت عثمانؓ کی زوجیت میں گزارے، ان کی وفات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میری تیسری لڑکی بھی (غیر شادی شدہ) ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی عثمان سے کردیتا۔ وفات کے بعد حضرت ام عطیہؓ اور حضرت اسماء بنت عمیسؓ اور بعض دوسری صحابیاتؓ نے حضرت امّ کلثومؓ کو غسل دیا، کفن کے کپڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپؐ دروازے کے باہر سے کپڑے دیتے رہے اور وہ مرحومہ کو پہناتی رہیں ، نماز جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پڑھائی، حضرت ابو طلحہؓ، حضرت علیؓ، حضرت فضلؓ اور حضرت اسامہؓ نے حضرت ام کلثومؓ کا جسد مبارک قبر میں اتارا، حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چشم مبارک سے آنسو جاری تھے۔ (اسد الغابہ، تذکرہ حضرت ام کلثومؓ: ۵/۶۱۲)