برطانوی معاشی مبصر ڈامنک فرِسبی کی کتاب ـ’دی سیکریٹ ہسڑی آف گولڈ‘ کا ایک جائزہ، کتاب میں اس چمکدار اور قیمتی دھات کے تاریخی سفر کی کہانی بیان کی گئی ہے، ۷۰ء کی دہائی میں سونے کی قیمت ۴۰؍ ڈالر فی اونس تھی جو کہ اب ۴۲۰۰؍ ڈالر ہوچکی ہے۔
EPAPER
Updated: October 25, 2026, 4:48 PM IST | Ghulam Arif | Mumbai
برطانوی معاشی مبصر ڈامنک فرِسبی کی کتاب ـ’دی سیکریٹ ہسڑی آف گولڈ‘ کا ایک جائزہ، کتاب میں اس چمکدار اور قیمتی دھات کے تاریخی سفر کی کہانی بیان کی گئی ہے، ۷۰ء کی دہائی میں سونے کی قیمت ۴۰؍ ڈالر فی اونس تھی جو کہ اب ۴۲۰۰؍ ڈالر ہوچکی ہے۔
سونا ہوں کُرید کر تو دیکھو:مٹی میں دبا ہوا پڑا ہوں
خلیل الرحمٰن اعظمی کے اس سادہ سے شعر میں معنی کی ایک کائنات موجود ہے، لیکن اس کالم نویس نے اپنے بچپن میں جب یہ شعر بزبانِ شاعر سنا تو صرف یہ سمجھ پایا کہ سونا بڑی قیمتی شئے ہے۔ ذرا بتایئے: بہترین دور گولڈن ایرا کیوں کہلاتا ہے؟عزیزترین یادیں سنہری کیوں ہوتی ہیں ؟ مشاہیر کے اقول، زریں کیوں کہلاتے ہیں ؟ اسلئے کہ سونا ہمیشہ سے اعلیٰ قدر وقیمت کی علامت رہا ہے۔ برطانوی معاشی مبصر ڈامِنِک فرِسبی کی کتاب ’دی سیکریٹ ہسڑی آف گولڈ‘ اس چمکدار دھات کے تاریخی سفر کی کہانی بیان کرتی ہے۔
قدیم مصر میں سونا، الوہیت اور تقدس سے وابستہ تھا۔ دیگر تہذیبوں میں اس کی اہمیت مختلف تھی؛ سونا بادشاہ کی طاقت، تاجر کی دولت اور عام آدمی کے بُرے وقتوں کا سہارا رہا ہے۔ آخراولادِ آدم کی سونے سے اس قدر رغبت کی کیا وجہ ہے؟ انسان سونے کو چھو سکتا ہے، محفوظ رکھ سکتا ہے اور نسل در نسل منتقل کر سکتا ہے۔ انھی خصوصیات نے کبھی اسے ایک موزوں ترین ذریعۂ مبادلہ بنایا تھا۔ کاغذی کرنسی کے برعکس اس کا وجود حکومت کے وعدے کا محتاج نہیں۔ یہ کالم نویس یاد دہانی کراتا چلے کہ نومبر ۲۰۱۶ میں ہم سب نے وہ منظر دیکھا ہے جب نوٹوں کی گڈیاں بے وقعت ہو کر رہ گئی تھیں۔ پیسہ اعتماد کا نام ہے۔ پیسہ، معاشرے کی رگوں میں خون کی مانند ہوتا ہے۔ اسلئے کرنسی کو خالص، سچی اور صحت مند ہونا ضروری ہے۔ لیکن اِسوقت صورتحال بالکل مختلف ہے۔ البتہ سونا، سونا ہے، بالکل کھرا، بالکل تندرست۔
کسی زمانے میں گولڈ اسٹینڈرڈ کی شکل میں دنیا کی بڑی کرنسیاں سونے سے منسلک تھیں۔ بنیادی تصور یہ تھا کہ کرنسی کی پشت پر سونے کا ایک حقیقی اثاثہ موجود ہو۔ سونا حکومتوں کو مالیاتی بے اعتدالی سے روکتا ہے۔ اگر حکومت گولڈ اسٹینڈرڈ کی زنجیر سے بندھی ہوئی ہو تووہ خسارے کو پورا کرنے کیلئے من مانے انداز میں نوٹ نہیں چھاپ سکتی۔ سرکار کو اپنے اخراجات میں کمی کرنی ہی پڑتی ہے۔ یوں کرنسی کی قدر پر ایک پابندی قائم رہتی ہے۔ دوسری طرف یہی پابندی معاشی بحران کے وقت حکومتوں کیلئے مشکلات بھی پیدا کررہی تھی۔ چنانچہ دنیا اس گولڈ اسٹینڈرڈ سے دور ہوتی گئی۔
فرانس کے صدر چارلس ڈیگال نے کہا تھا کہ سونے کے علاوہ (قدر کا) کوئی اور پیمانہ ہو ہی نہیں سکتا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد برٹن ووڈس سسٹم کے ذریعے ڈالر کو سونے سے ایک بار پھر جوڑا گیا، مگر ۱۹۷۱ میں امریکی صدر نکسن نے گولڈ اسٹینڈرڈ سے ناطہ توڑدیا۔ یوں عالمی مالیاتی نظام ایک ایسے عہد میں داخل ہوا جس میں کرنسی کی قدر براہِ راست سونے کے ذخیروں سے نہیں بلکہ ریاستی ساکھ، مرکزی بینکوں کی پالیسی اور معاشی قوت سے وابستہ ہو گئی۔ آج ڈالر سونے پر تکیہ نہیں کرتا لیکن دنیا کو ڈالر پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ فرسبی کہتے ہیں کہ دنیا اس وقت ڈالر سے جان چھڑانے کی کوشش کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مثبت آبیاری: طلبہ میں شعور و آگہی کے ذریعہ مثبت رویہ کا فروغ
ہم کرنسی کو نوٹوں اور سکّوں کی شکل میں دیکھتے ہیں لیکن دولت کا بڑا حصہ کسی تجوری میں نہیں بلکہ کمپیوٹر اسکرین پر موجود ہے۔ بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم دراصل اعداد کی صورت میں درج ایک مالیاتی قدر ہے۔ ہم اسے دولت اس لیے سمجھتے ہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ دوسرے لوگ بھی اسے دولت ہی سمجھتے ہیں !
سونا کسی حکومت کا وعدہ نہیں اور کسی ڈیجیٹل کھاتے کی محض ایک اِنٹری نہیں۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ جب دنیا تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہی ہے اور مرکزی بینک ہندسی کرنسیوں پر غور کر رہے ہیں تو کیا سونے کی اہمیت برقرار رہے گی؟ جب جب مالیاتی نظام پربھروسہ ڈگمگاتا ہے تو سونے کی چمک بڑھ جاتی ہے۔ افراطِ زر، جنگ اور سیاسی بے یقینی کے زمانے میں سونا ایک محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید مالیاتی نظام میں سونے کا کردار ختم نہیں ہوا۔ مرکزی بینک بھی اپنے ذخائر میں سونا رکھتے ہیں۔
فرسبی کہتے ہیں کہ آج پیسے کا معنی قرض ہے۔ ملک جتنا زیادہ قرض تلے دبا ہوگا نوٹ اتنے زیادہ چھپیں گے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ وقت کے ساتھ پیسے کی قدر گھٹی ہے۔ نہیں نہیں ہزار بار نہیں۔ پیسہ کی کم قیمتی کی وجہ وقت نہیں بلکہ حکومتیں ہیں۔ انفیلشن یعنی مہنگائی کی ڈھنگ سے پیمائش نہیں ہوتی۔ تاریخ نے ایسے حالات بھی دیکھے جب حکومتوں نے شہریوں پر سونا خریدنے یا اپنے پاس رکھنے پر پابندیاں عائد کیں۔ لیکن لوگ ترکیبیں آزما ہی لیتے ہیں۔ فرسبی کہتے ہیں کہ ۶۰ء کی دہائی میں سونے کی اسمگلنگ کوعروج حاصل ہوا، بطور خاص دبئی سے ہندوستان کی طرف۔ ہندوستان کی ہر عورت کچھ نہ کچھ مقدار میں سونے کی مالکن ہوتی ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں جب سونے کی قیمت چھلانگ لگا کر تین گنا ہوئی تو ہماری یہ خواتین کتنی خوش ہوئی ہوں گی۔ دیر سے سہی، ان تمام کو راقم الحروف کی مبارکباد!
ورلڈ گولڈ کاؤنسل کے مطابق سونے کی پیداوار میں سالانہ ۳۷۸؍ ٹن کے ساتھ چین سرِ فہرست ہے۔ چین سونے کا سب سے بڑا درآمد کنندہ بھی ہے۔ سونے کا سب سے زیادہ اسٹاک امریکہ کے پاس ہے، تقریباً ۸۱۳۳؍ ٹن جبکہ چین کے پاس ۲۲۴۲؍ ٹن ہے۔ ہندوستان کبھی سونے کی چڑیا تھا۔ آج ہمارے پاس ۸۲۲؍ ٹن سونا ہے۔
ایک اونس میں تقریبا ۳۵ء۲۸؍ گرام ہوتے ہیں۔ ۱۹۷۰ء میں سونے کی قیمت تقریباً ۴۰؍ ڈالر فی اونس تھی اب تقریباً ۴۰۰۰؍ ڈالر میں بکتا ہے جو اس کی اعلیٰ ترین قیمت سے ۲۸؍ فیصد کم ہے۔ تادم تحریر قیمت مسلسل لڑھک رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روس اپنا سونا جنگی اخراجات کی وجہ سے بیچ رہا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ۲۴؍قیراط یعنی خالص سونا میں اکثر سُنارعرصے سے بڑی ہیرا پھیری کرتے آئے ہیں۔ آجکل کیریٹ میٹر سے پول کھل جاتا ہے۔ موجودہ دور میں گولڈ ای ٹی ایف اور گولڈ بانڈ مقبول ہو رہے ہیں۔
یہ کتاب خاصی معلوماتی ہے۔ ناقدین استدلال کرتے ہیں کہ فرسبی نے اُن حالات کی سنگینی کا ٹھیک ٹھیک اندازہ نہیں لگایا جن میں گولڈ اسٹینڈرڈ کو ترک کیا گیا تھا۔ فرسبی نے یہ نکتہ نظر انداز کیا کہ معیارِ زر چھوڑنے کے بعد دنیا میں غربت اور بچوں میں اموات کی شرح میں بڑی کمی واقع ہوئی۔ کتاب معاشی اسکالروں کی بھاری بھرکم تحریروں اور عام ہلکے پھلکے مطالعے کے بیچ موجود خلیج کو کامیابی سے پاٹتی ہے۔ ٹائٹل میں لفظ ’سیکریٹ‘ نِری سنسنی خیزی ہے۔