• Sun, 25 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

احتجاج کی نئی پہچان، نیہا بورا سے گرمہر کور تک

Updated: October 25, 2026, 5:16 PM IST | Inquilab Desk | Mumbai

۔ ان میں کچھ نام ایسے ہیں جو پہلے ہی طلبہ تحریکوں اور شہری حقوق کی جدوجہد سے وابستہ رہے ہیں جبکہ کچھ چہرے اپنے عملی کردار کی وجہ سے نئی شناخت حاصل کر رہے ہیں۔

Neha Bora has emerged as a symbolic figure in the student protests that have taken place in recent days. Photo: INN
حالیہ دنوں میں ہونےوالے طلبہ کے مظاہروں میں نیہا بورا ایک علامتی چہرہ بن کر سامنے آئیں۔ تصویر: آئی این این

دہلی کی سڑکوں پر ہونے والے حالیہ احتجاج نے کئی ایسے چہروں کو قومی سطح پر نمایاں کیا جنہوں نے محض نعرے لگانے یا گرفتاری دینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ احتجاج کو منظم کرنے، اس کی آواز لوگوں تک پہنچانے، قانونی مدد فراہم کرنے اور پولیس کارروائیوں کے سامنے ڈٹے رہنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان میں کچھ نام ایسے ہیں جو پہلے ہی طلبہ تحریکوں اور شہری حقوق کی جدوجہد سے وابستہ رہے ہیں جبکہ کچھ چہرے اپنے عملی کردار کی وجہ سے نئی شناخت حاصل کر رہے ہیں۔ 
نیہا بورا: مزاحمت کی نمایاں آواز
آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (آئیسا) کی قومی صدر نیہا بورا ان احتجاجی مظاہروں کی نمایاں ترین نوجوان قیادت میں شامل ہیں۔ وہ ’جے این یو‘ میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں اور طلبہ سیاست میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ ان کی شناخت محض ایک احتجاجی رہنما کی نہیں بلکہ ان نوجوانوں کی نمائندہ آواز کی بھی ہے جو تعلیمی نظام میں شفافیت، طلبہ کے حقوق اور حکومتی اداروں کی جواب دہی کے مطالبات اٹھا رہے ہیں۔ 
اس سے قبل وہ امتحانی بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف طلبہ کی تحریک میں سرگرم رہی تھیں۔ جولائی میں سونم وانگ چک کے ساتھ جنتر منتر پر احتجاجی بھوک ہڑتال میں شرکت اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے سے لے کر اکتوبر میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مظاہروں تک، نیہا مسلسل سرگرم دکھائی دیں۔ پولیس کی رکاوٹوں کو عبور کرنے، حراست میں لیے جانے کے باوجود احتجاجی ساتھیوں کے حوصلے بلند رکھنے اور جنتر منتر تک رسائی بند ہونے پر پوری دلی کو احتجاجی مقام بنانے کی اپیل نے انہیں اس تحریک کا ایک علامتی چہرہ بنا دیا۔ ان کی سرگرمیوں کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ مختلف مطالبات کو ایک وسیع تر عوامی سوال سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آئی ڈی بی آئی: کیسے ہندوستان نے اپنا ایک بینک کھو دیا

ریتو برالا: احتجاج کے دوران پولیس تشدد کا معاملہ
نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کی لیڈر ریتو برالا کا نام اس وقت نمایاں ہوا جب۱۳؍ اکتوبر کو ووٹ چوری کے الزامات اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے سے متعلق احتجاج کے دوران انہیں حراست میں لیا گیا۔ ریتو طلبہ سیاست سے وابستہ ہیں اور ان کا تعلق اس تنظیم سے ہے جو تعلیمی مسائل اور طلبہ کے حقوق کے معاملات پر احتجاج کرتی رہی ہے۔ میڈیا کے سامنےریتو نے الزام لگایا کہ پولیس نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی اور نہایت بے باکی سے اپنی بات عوام تک پہنچائی۔ اس موقع پر راہل گاندھی بھی وہاں موجود تھے جنہوں نے ریتو کو ’شیرنی‘ قرار دیا۔ ان کے طبی معائنے کی رپورٹ میں سر، گردن، بازوؤں، کلائی اور ٹانگ پر متعدد خراشوں اور چوٹوں کا ذکر سامنے آیا۔ اس معاملے میں کانگریس کے لیڈروں نے ایف آئی آر درج کرانے کا مطالبہ کیا اور راجستھان میں پولیس کمشنریٹ کے باہر احتجاج بھی کیا۔ یوں ریتو برالا کی آواز احتجاجی مطالبات کے ساتھ ہی مظاہرین کے ساتھ پولیس کے سلوک اور جواب دہی سے بھی جڑ گئی۔ 
رتنا سنگھ: سی جے پی کی قانونی آواز
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قانونی سربراہ رتنا سنگھ نے اس تحریک میں تنظیمی اور قانونی محاذ پر نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور احتجاجی سرگرمیوں میں ان کی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ شہری حقوق کی جدوجہد صرف سڑکوں پر نعرے لگانے تک محدود نہیں رہتی، اسے قانونی معلومات، دستاویزی شواہد اور عدالتی کارروائی کے ذریعے آگے بڑھانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ وہ اس ٹیم کا حصہ رہی ہیں جس نے احتجاج کی حکمت عملی، میڈیا سے رابطے اور مطالبات کی تیاری میں تعاون کیا۔ اکتوبر میں جب وہ احتجاج میں شرکت کیلئے گھر سے نکلیں تو ان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے ان کی گاڑی کو گھیر لیا اور انہیں روکنے کی کوشش کی۔ رتنا نے اس صورتحال کا ویڈیو بنایا اور بعد میں غیر قانونی حراست کے معاملے میں عدالت سے رجوع بھی کیا۔ ان کا کردار اسلئے اہم ہے کہ وہ سڑک پر احتجاج کرنے والوں کی آواز کے ساتھ قانونی سوالات بھی اٹھاتی دکھائی دیں۔ 
دانش علی: طلبہ کے حقوق اور جمہوری نمائندگی کی جدوجہد
جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین کی جوائنٹ سیکریٹری دانش علی بھی طلبہ تحریک کے اہم چہروں میں شامل ہیں۔ وہ آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن سے وابستہ ہیں اور جے این یو کی طلبہ سیاست میں اپنی شناخت قائم کر چکی ہیں۔ تاریخ کے مطالعے سے وابستہ ایک تحقیقی طالبہ ہونے کے ساتھ ان کی سرگرمیاں طلبہ کے مسائل، سماجی انصاف اور تعلیمی اداروں میں جمہوری حقوق کے سوالات سے بھی جڑی رہی ہیں۔ 
دانش علی کا سیاسی سفر اس بات کی مثال ہے کہ یونیورسٹیوں کی طلبہ سیاست محض عہدوں اور انتخابات تک محدود نہیں ہوتی۔ اس کا تعلق ان مسائل سے بھی ہے جن کا سامنا طلبہ کو اپنی روزمرہ زندگی میں کرنا پڑتا ہے۔ تعلیمی سہولتوں کی کمی، اداروں میں جواب دہی، سماجی امتیاز اور طلبہ کی آواز کو اہمیت دینے جیسے معاملات اس سیاست کا حصہ بنتے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں میں محروم اور کمزور طبقات کے حقوق کے سوالات بھی نمایاں رہے ہیں۔  دانش علی کی موجودگی اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ نوجوانوں کی سیاسی سرگرمیوں کو صرف کسی ایک پارٹی یا ایک احتجاج کے زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کیلئے یونیورسٹی بھی ایک ایسی جگہ ہے جہاں جمہوریت، مساوات اور اظہارِ رائے کے تصورات کو عملی شکل دینے کی کوشش ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کے حقوق کی جدوجہد اور ملک گیر شہری احتجاج کے درمیان ایک فکری رشتہ قائم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ 
گرمہر کور: احتجاج کے ساتھ مدد اور سہارا
یوتھ کانگریس سے وابستہ گرمہر کور نے احتجاجی طلبہ کی حمایت میں ایک مختلف مگر نہایت اہم کردار ادا کیا۔ وہ محض سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے والی کارکن نہیں ہیں بلکہ مصنفہ، سماجی کارکن اور عوامی مباحث میں حصہ لینے والی ایک ایسی شخصیت بھی ہیں جو پہلے ہی اظہارِ رائے، امن اور نوجوانوں کے حقوق کے موضوعات پر اپنی شناخت قائم کر چکی ہیں۔ 
گرمہر کور کو قومی سطح پر خاص طور پر۲۰۱۷ء میں اُس وقت پہچان ملی تھی جب دہلی یونیورسٹی کے رام جس کالج میں تشدد کے بعد انہوں نے کیمپس میں امن اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حق میں آواز اٹھائی تھی۔ ان کے والد، کیپٹن مندیپ سنگھ، فوج میں خدمات انجام دیتے ہوئے۱۹۹۹ء میں شہید ہوئے تھے۔ گرمہر نے اس ذاتی صدمے کے باوجود جنگ اور تشدد کے بجائے امن کے حق میں بات کی۔ اس پس منظر نے ان کی عوامی شناخت کو ایک خاص معنی دیا کیونکہ ان کی آواز صرف ایک طالبہ کا احتجاج نہیں بلکہ تشدد کے خلاف ایک اصولی موقف بھی بن کر سامنے آئی۔ حالیہ مظاہروں میں گرمہر کور کا کردار اسلئے نمایاں ہوا کہ انہوں نے احتجاجی طلبہ کیلئے عملی مدد کے انتظامات پر توجہ دی۔ پولیس کارروائی کا سامنا کرنے والے طلبہ کیلئے قانونی، طبی اور بنیادی امداد کا انتظام کرنے کی کوششوں میں وہ شامل ہوئیں۔ کانگریس کی جانب سے طلبہکیلئے قائم کی گئی ہیلپ لائن اور امدادی انتظامات کے سلسلے میں انہوں نے عوامی سطح پر معلومات فراہم کیں۔ انہیں راہل گاندھی کی ٹیم کا اہم رکن قرار دیاجاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اُردو: آئیے ! اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جائیں

گر مہر کےمطابق احتجاج کے بعد سو سے زائد افراد کو پناہ دی گئی جبکہ قانونی مدد، کھانے، طبی امداد اور رہائش کے انتظامات بھی کیے گئے۔ یہ کردار یاد دلاتا ہے کہ کسی تحریک کی طاقت صرف اسٹیج پر تقریر کرنے یا نعرہ لگانے میں نہیں ہوتی، گرفتار ساتھی کیلئے وکیل ڈھونڈنا، زخمی مظاہرین کی مدد کرنا اور بے سہارا نوجوانوں کو محفوظ جگہ مہیا کرنا بھی مزاحمت ہی کی شکلیں ہیں۔ 
ان تمام چہروں کی اہمیت کیا ہے؟
ان شخصیات کی سرگرمیاں یہ واضح کرتی ہیں کہ آج کی نوجوان خواتین احتجاج میں محض علامتی موجودگی نہیں رکھتیں۔ کوئی تحریک کی قیادت کر رہی ہے، کوئی قانونی محاذ سنبھال رہی ہے، کوئی طلبہ کے حقوق کیلئے بھوک ہڑتال میں شریک ہے اور کوئی گرفتاریوں کے بعد متاثرین کی مدد کیلئے وسائل جمع کر رہی ہے۔ یہ کردار ایک دوسرے سے مختلف ضرور ہیں، لیکن ان میں ایک مشترک بات ہے: خوف، دباؤ اور رکاوٹوں کے باوجود عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کا عزم۔ ان ناموں میں ایک اور مماثلت بھی ہے۔ ان کی سرگرمیوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ جمہوریت میں نوجوانوں، خصوصاً نوجوان خواتین، کی سیاسی شرکت کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ کیا کسی احتجاج میں شرکت کرنے والی خاتون کو محض سیاسی کارکن سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ کیا اس کی شکایت کو اسلئے کم اہمیت دی جانی چاہئے کہ وہ حکومت یا پولیس کے خلاف سوال اٹھا رہی ہے؟ اور اگر کسی مظاہرہ کرنے والے کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو کیا اس کا تعلق صرف ایک فرد سے ہے، یا یہ معاملہ شہری حقوق کے مجموعی تحفظ سے بھی جڑ جاتا ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK