ستارۂ شام بن کے آیا، بہ رنگ خواب سحر گیا وہ

Updated: October 03, 2020, 7:33 AM IST | Shahid Latif | Mumbai

گزشتہ روز مہاتما گاندھی کا ۱۵۱؍ واں یوم ولادت تھا۔ اس دن گاندھی جی کو یاد تو کیا جاتا ہے مگر عام دنوں میں بھول جانے کیلئے،جبکہ انہیں یاد رکھنے کی طرح یاد رکھا جاتا تو ملک بہت سے مسائل سے محفوظ رہتا۔ ویتنام کےد ورے پر اس کی راجدھانی ہنوئی میں چند طلبہ سے ملاقات کے دوران مَیں نے اُن سے دریافت کیا تھا کہ اہل ویتنام کی زندگی میں ہو چی من کی کیا اہمیت ہے؟

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ویتنام کےد ورے پر اس کی راجدھانی ہنوئی میں چند طلبہ سے ملاقات کے دوران مَیں نے اُن سے دریافت کیا تھا کہ اہل ویتنام کی زندگی میں ہو چی من کی کیا اہمیت ہے؟ اس کے جواب میں ایک طالبہ نے برجستہ کہا تھا: ’’وہی جو آپ ہندوستانیوں کی زندگی میں گاندھی کی ہے۔‘‘ یہ جواب سن کر مجھے جتنی خوشی ہوئی تھی اُتنی ہی خجالت کا بھی احساس ہوا تھا کیونکہ ویتنامیوں کی زندگی میں جس حد تک ہوچی من موجود ہیں ، ہم ہندوستانیوں کی زندگی میں اس حد تک گاندھی نہیں ہیں ۔ واضح رہے کہ ہوچی من ویتنام کے مقبول انقلابی لیڈر اور خود گاندھی کے پرستاروں میں سے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم اس لئے انقلابی ہیں کہ ہم گاندھی کے معتقد اور شاگرد ہیں ۔ 
 مہاتما گاندھی، جن کی ۱۵۱؍ ویں سالگرہ گزشتہ روز ملک بھر میں منائی گئی،کے تئیں اپنے احترام اور عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے امریکی فکشن نگار پرل ایس بَک نے کہا تھا کہ ’’ارے ہندوستانیو! خود کو اپنے گاندھی کے قابل بناؤ۔‘‘ یہ جملہ اس لئے دل کو لگتا ہے کہ اس میں بڑی سچی بات کہی گئی تھی۔ آزادی کے بعد سے اب تک کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے خود کو گاندھی کے قابل نہیں بنایا۔اُن سے اپنی وابستگی کے حق کو نہ تو سمجھا نہ اُسے ادا کیا۔ ہماری عقیدت ۲؍ اکتوبر اور ۳۰؍ جنوری تک محدود ہوکر رہ گئی۔ہماری اُنسیت سرکاری دفاتر میں کسی دیوار پر اُن کی تصویر ٹانگنےسے آگے نہیں بڑھی۔ گاندھی کو ماننے کی طرح مانا جاتا تو ملک میں فرقہ پرستی پروان چڑھتی نہ بدعنوانی کی جڑیں مضبوط ہوتیں ، نہ تو لوگ اسلاموفوبیا کا شکار ہوتے نہ ہی فروغ انسانیت کی اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کرتے، طبقاتی کشمکش کو تقویت ملتی نہ دلتوں اور اقلیتوں پر تشدد کی تاریخ رقم کی جاتی۔ شرط گاندھی کو دل سے ماننے اور حکمراں طبقے کے ذریعہ ایسا ماحول تیار کرنے کی تھی جس سے تعلیماتِ گاندھی کو عمل میں لانے کی ترغیب ملتی۔ مگر یہ نہیں ہوا بلکہ آزادی کے محض چند ماہ بعد ہی گاندھی کو قتل کرکے یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ اس ملک میں گاندھی کی ضرورت نہیں ہے۔ اُس وقت اتنا ہی سمجھانے پر اکتفا کیا گیا تھا، ۷۰؍ سال بعد چند قدم آگے بڑھ کر یہ سمجھایا جارہا ہے کہ جس ملک میں گاندھی کی ضرورت نہیں تھی اس میں گوڈسے کی ضرورت ہے۔ اسلئے گوڈسے کا مندر بنالیا گیا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ گاندھی کو دیس نکالا دے دیا جائے؟ اس پر تھوڑی دیر بعد گفتگو ہوگی، اس سے پہلے آئیے تعلیمات گاندھی کے چند ورق اُلٹیں ۔
 سیاست اور مذہب اس دور کا اہم موضوع بن گیا ہے۔ گاندھی کا نظریہ اس سلسلے میں بالکل واضح تھا۔ اُنہوں نے ’’ہریجن‘‘ (۱۰؍ فروری ۱۹۴۰ء) میں لکھا تھا کہ ’’میں سیاست سے مذہب کے جدا ہونے کا تصور ہی نہیں کرسکتا۔ در حقیقت مذہب کو تو ہمارے فعل پر حاوی ہونا چاہئے لیکن اس صورت میں مذہب کے معنی فرقہ پرستی کے نہیں ہیں ۔ اس کے معنی تو دُنیا کی ایک منظم اخلاقی حکومت پر اعتقاد رکھنے کے ہیں ۔‘‘ اس اقتباس میں مذہب اور فرقہ پرستی کو پوری شفافیت کے ساتھ علاحدہ علاحدہ کرکے پیش کیا گیا ہے جبکہ دورِ حاضر میں اسے گڈ مڈ کرکے مذہب کو فرقہ پرستی کے فروغ کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ آزادی کے بعد جب تواتر کے ساتھ سیکولر حکومتیں برسراقتدار رہیں ، اُس وقت اس نظریہ کو اولیت دی جاتی اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کو یکساں مواقع دینے کا نظم قائم کیا جاتا نیز فرقہ پرستی کیلئے ملک میں کوئی گنجائش نہ رکھی جاتی تو یہ گاندھی کو سچا خراج عقیدت ہوتا۔ 
 گاندھی نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’لیڈروں کا فرض کیا ہے؟ نئے وزیروں کا کیا فرض ہے؟ ان کو ہمیشہ فرقہ واری ہم آہنگی تلاش کرنی ہے لیکن کبھی دھمکیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اسی کی خاطر (صرف اس لئے کہ وہ اچھی اور ضروری چیز ہے)۔ میں مسلمان اور ہر غیر ہندو کو اپنا خون شریک بھائی سمجھتا ہوں اس لئے نہیں کہ اس کو یہ کہہ کر خوش کروں بلکہ اس لئے کہ وہ بھی اسی مادرِ وطن کے بطن سے پیدا ہوا ہے جس میں مَیں پیدا ہوا ہوں ۔ (ہریجن ۸؍ ستمبر ۱۹۴۶ء) اس اقتباس کی روشنی میں آزادی کے بعد کے حالات کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ شاید ان لیڈروں نے گاندھی کو دیکھا اور اُن کے ساتھ بھی رہے مگر ان کے جذبات و احساسات کو نہیں سمجھ سکے۔ گاندھی نے واضح اور دوٹوک اندازمیں کانگریس کو بھی نصیحت کی تھی کہ ’’اُصولاً انگریس کے اندر کوئی اقلیتی یا اکثریتی فرقہ نہیں ہے،اس کا کوئی مذہب نہیں ، سوائے مذہب انسانیت کے، کانگریس خالصتاً ایک غیر مذہبی سیاسی اور قومی تنظیم ہے۔‘‘ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کانگریس کے لیڈروں کو اپنی پارٹی کی یہ تعریف یاد رہی جو گاندھی جی نے متعین اور بیان کی تھی؟
 اب غور فرمائیے پرل ایس بَک نے ٹھیک ہی کہا تھا ناکہ ’’ہندوستانیو، خود کو اپنے گاندھی کے قابل بناؤ۔‘‘ نہ تو کانگریس نے خود کو گاندھی کے قابل بنایا نہ ملک کو بننے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن عناصر کو طاقت ملتی چلی گئی جنہیں گاندھی سے اس لئے بیر تھا کہ تعلیماتِ گاندھی اُن کے نظام ہضم پر بوجھ تھیں ۔ 
 اب آئیے ا س سوال کی طرف کہ کیا گاندھی کو دیس نکالا دیا جاسکتا ہے؟ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کے بیشتر حصے اور بیشتر لوگوں میں گاندھی فطری طور پر موجود ہے۔ یہ وہ حصے اور لوگ ہیں جو رواداری پر یقین رکھتے ہیں ۔ ایک دوسرے کا اور ایک دوسرے کے مذاہب کااحترام کرتے ہیں ۔ بھائی چارہ ان کی سرشت میں ہے۔ سیاسی طور پر بہکائے جانے کے باوجود ان میں جذبۂ اپنائیت موجزن رہتا ہے۔ ملک میں لاکھوں ایسے لوگ ملیں گے جو تعلیماتِ گاندھی سے واقف نہیں ہیں مگر ان پر عمل پیرا ہیں ۔ ملک کے اس بہت بڑے طبقہ کے ساتھ جڑنا اور اس طرح گاندھی کو مستحکم کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم اوروں سے کہیں اور خود ہی گاندھی کے قابل نہ بنیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK