Inquilab Logo Happiest Places to Work

وہ سہ رُکنی خاندان جوتاریخ ِ انسانیت کا روشن مینار ہے

Updated: May 28, 2026, 10:20 AM IST | Suhail Amir Shaikh | Mumbai

حضرت ابراہیم ؑ، حضرت ہاجرہ ؓ اور حضرت اسماعیلؑ پر مشتمل اس خاندان نے دکھایا کہ ایمان صرف دعوے کا نام نہیں بلکہ آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے کا نام ہے، جوانی، بڑھاپا، ہجرت، تنہائی، بھوک، پیاس، بے آب و گیاہ وادی، اور پھر بڑھاپے میں ملنے والے لختِ جگر کی قربانی، یہ سب امتحانات اس خاندان پر آئے، مگر کہیں شکوہ نہیں تھا۔

Islamic Family.Photo:INN
اسلامی خاندان۔ تصویر:آئی این این

جب  ہم عید الاضحی کی بات کرتے ہیں تو اکثر ہماری نگاہ صرف جانور کی قربانی پر مرکوز ہوتی ہے حالانکہ قربانی رسم نہیں ایک مکمل طرزِ حیات، ایک فکر، ایک تربیت، اور ایک ایسی تحریک ہے جس کی بنیاد حضرت ابراہیم ؑ، حضرت ہاجرہؓ اور حضرت اسماعیلؑ کے عظیم خاندان نے اپنے عمل سے رکھی۔
یہ تین رکنی خاندان دراصل تاریخِ انسانیت کا وہ روشن مینار ہے جس نے دکھایا کہ ایمان صرف دعوے کا نام نہیں، آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔ جوانی، بڑھاپا، ہجرت، تنہائی، بھوک، پیاس، بے آب و گیاہ وادی، اور پھر بڑھاپے میں ملنے والے لخت ِجگر کی قربانی۔ یہ سب امتحانات اس خاندان پر آئے، مگر کہیں شکوہ نہیں، کہیں ناشکری نہیں، کہیں مایوسی نہیں، کہیں تقدیر سے بغاوت نہیں۔ گویا کہ مومن کی پوری زندگی کامل اطاعت اور فرمانبرداری میں گزرتی ہے ۔ قرآنِ مجید نے حضرت ابراہیم ؑکے بارے میں فرمایا : ’’بیشک ابراہیمؑ (تنہا ذات میں) ایک اُمت تھے۔‘‘(سورۃ النحل: ۱۲۰)
گویا ایک فرد اپنی استقامت، اپنے یقین، اپنے اعلیٰ اخلاق اور اپنے اخلاص و للہیت سے پوری امت کے برابر ہو سکتا ہے۔
اس عظیم خاندان کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ ہر فرد اپنے مقام پر استقامت کا پہاڑ تھا۔ باپ اللہ کے حکم پر سر جھکائے کھڑا ہے، ماں صبر و شکر کی تصویر بنی ہوئی ہے، اور بیٹا اطاعت و فرمانبرداری کی ایسی مثال قائم کر رہا ہے۔
قرآن اس عظیم منظر کو یوں بیان کرتا ہے:  ’’(ابراہیمؑ نے) فرمایا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں سو غور کرو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ (اسماعیل ؑ نے) کہا: ابّاجان! وہ کام (فوراً) کر ڈالیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔ اگر اﷲ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ (سورۃ الصافات:۱۰۲)
یہاں غور طلب پہلو یہ ہے کہ آخر وہ کون سی تربیت تھی جس نے ایک نو عمر نوجوان کو اتنا مضبوط بنا دیا کہ وہ اپنی جان اللہ کی رضا کیلئے پیش کرنے کو تیار ہو گیا؟علامہ اقبالؒ نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
وہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی
سچی بات یہ ہے کہ جب باپ ابراہیم ؑ جیسا کامل ایمان رکھتا ہو، اور ماں ہاجرہؓ جیسی صبر و توکل کی پیکر ہو، تو پھر اسماعیلؑ جیسے فرمانبردار، باوفا اور بلند کردار بیٹے ہی پیدا ہوتے ہیں۔
آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم اولاد تو چاہتے ہیں مگر اولاد کو ابراہیمی کردار کیلئے تیار نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے دین کے داعی بنیں، مگر ہمارے گھروں میں قرآن کی آواز سے زیادہ دنیا کا شور و غل سنائی دیتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان باحیا اور باکردار ہوں، مگر گھروں میں حلال و حرام کی تمیز ختم ہوتی جا رہی ہے۔ والدین اپنی اولاد کو بہترین لباس، بہترین تعلیم اور بہترین سہولیات تو دینا چاہتے ہیں مگر بہترین ایمان اور تربیت دینے کی فکر کم ہوتی جا رہی ہے۔
اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘ (صحیح بخاری)یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خاندان صرف خون کے رشتوں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ذمہ داری، ایک امانت اور ایک عظیم مشن ہے۔قران کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔‘‘ (سورۃ التحریم:۶)۔ گویا کہ اسلامی خاندان اور مثالی گھرانہ وہ ہوتا ہے جہاں ایک فرد دوسرے کو اللہ کے راستے پر آگے بڑھنے کی ترغیب دے، جہاں شوہر بیوی کے ایمان کو مضبوط کرے، جہاں ماں اپنی اولاد کے دل میں اللہ کی محبت پیدا کرے، اور جہاں اولاد والدین کی اطاعت کو سعادت سمجھے۔ الغرض جہاں اجتماعی ماحول تربیت اور تزکیہ کیلئے سازگار ہو ۔

یہ بھی پڑھئے:ای ڈی نے کیرالا کے سابق وزیر اعلیٰ کے ۲۴۲؍ بینک کھاتوں کو فریزکیا


آج ہمیں خاص طور پر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اصل قربانی اپنی خواہشات کی قربانی ہے، اپنے نفس کی قربانی ہے، گناہوں کو چھوڑنے کی قربانی ہے، حرام تعلقات، بے حیائی، جھوٹ، دھوکہ، حسد، تکبر اور فضول مشاغل کو اللہ کے لئے چھوڑ دینا ہی حقیقی قربانی ہے، اور یہی اسوۂ ابراہیمی کی اصل پیروی ہے ۔
جانور کے گلے پر چھری پھیر دینا یقیناً آسان ہے مگر اپنے نفس کے گلے پر تقویٰ کی چھری چلانا بہت مشکل ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان کا امتحان شروع ہوتا ہے۔
آج اگر ہمارے گھروں کے مرد خلیل اللہ کا کردار اپنالیں، اگر ہماری مائیں ہاجرہ کی سیرت کو اختیار کرلیں، اگر ہمارے نوجوان اسماعیل ؑ جیسی اطاعت، حیا اور وفاداری کو اپنا شعار بنا لیں، تو بعید نہیں کہ امت ایک بار پھر دنیا کی رہنمائی کرنے لگے۔

یہ بھی پڑھئے:ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کررہا ہے: ورلڈ پینل کی رپورٹ


ہمیں اس عید الاضحی پر صرف قربانی کے جانور نہیں خریدنے ہیں بلکہ اسی کے ساتھ ہمیں اپنے گھروں کے ماحول کو اسلامائز کرنے کی فکر بھی کرنی ہے۔اپنے دلوں کو بدلنا ہے، اپنے گھروں میں قرآن کی روشنی واپس لانی ہے، اپنی نسلوں کو ایمان، حیا، صبر اور یقین کی دولت دینی ہے۔کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ عظیم قومیں اچانک پیدا نہیں ہوتیں، بلکہ عظیم ماؤں کی گود میں تربیت پاتی ہیں۔ باکردار اور عظیم نصب العین رکھنے والے باپ کی موجودگی اولاد کو ایک نئی سمت سفر عطا کرتی ہے ۔یہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی خاندان کو اسلامی خاندان بناتے ہیں ۔
آج امت کو پھر ابراہیمی نظر کی ضرورت ہے۔ ایسی نظر جو دنیا کے فائدوں سے بے نیاز اور بلند ہو کر صرف اللہ کی رضا کو دیکھے، ایسی نسل کی ضرورت ہے جو قربانی کو صرف تہوار نہ سمجھے بلکہ اپنی زندگی کا مقصد بنا لے۔ کیا ہم اس کی فکر کرنا چاہیں گے؟ کیا اس کی فکر کئے بغیر فلاح دارین حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK