Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’اِس الیکشن میں بہت خاموشی ہے!‘‘

Updated: May 16, 2024, 12:50 PM IST | Mumbai

جو راز امیٹھی کے چائے خانے پر موجود ایک معمر شخص نے افشاء کیا، وہ راز نہیں ہے۔ امیٹھی بھی تبدیلی کیلئے کمربستہ ہے اور بقیہ اُترپردیش بھی، یہ اشارہ بہت سے صحافتی حلقوں سے مل رہا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایک معاصر انگریزی اخبار نے گزشتہ روز اپنی ویب سائٹ پر ایک رپورٹ آویزاں کی ہیں جس کی سرخی کچھ اس طرح ہے: ’’اُتر پردیش کے ووٹروں میں تبدیلی کی سرگوشیاں ہیں !‘‘۔ اِس سرخی کے ذیل میں ایک منظر اور ایک مکالمہ ہے:
’’امیٹھی میں چائے کے ایک اسٹال پر مَیں چند لوگوں سے باتیں کررہا ہوں۔ ایک معمر شخص کہتا ہے: ’اس الیکشن میں بہت خاموشی ہے۔ ‘جب مَیں خاموشی کے بارے میں استفسار کرتا ہوں تو وہ میرے سوال کا جواب دیتا ہے مگر بی جے پی کے ایک مقامی عہدیدار کے وہاں سے رُخصت ہونے کے بعد۔ معمر شخص کہتا ہے: ’خاموشی اسلئے ہے کہ تبدیلی آنے والی ہے۔ ‘ وہاں موجود لوگ سر ہلاتے ہیں۔ ‘‘
مین اسٹریم میڈیا ایسی خبرو ں کو جگہ نہیں دیتا اِس کے باوجود اخبارات میں چند ایک خبریں اور رپورٹیں، جو حقیقت ِ حال کی غماز ہوتی ہیں، شائع ہو ہی جاتی ہیں۔ جو راز امیٹھی کے چائے خانے پر موجود ایک معمر شخص نے افشاء کیا، وہ راز نہیں ہے۔ امیٹھی بھی تبدیلی کیلئے کمربستہ ہے اور بقیہ اُترپردیش بھی، یہ اشارہ بہت سے صحافتی حلقوں سے مل رہا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں : سب سے بڑی وجہ اقتدار مخالف رجحان ( اینٹی اِن کمبینسی ) ہے جو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ لوگ مرکزی حکومت سے اُکتائے ہوئے ہیں جس نے بے شمار وعدے کئے مگر اُن کی تکمیل پر توجہ نہیں دی بلکہ حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی کے نشے میں چو‘ر رہی کہ وزیر اعظم کی ایک آواز پر رائے دہندگان بی جے پی کی کامیابی کیلئے پولنگ بوتھوں پر جمع ہوجائینگے۔ اب تک کی کم پولنگ نے اس خود اعتمادی کو دہلا دیا ہے۔ 
دوسری وجہ: مہنگائی، بے روزگاری، نئی بھرتیوں کا نہ ہونا، مقابلہ جاتی امتحانوں کے پرچے لیک ہونا، زراعت سے متعلق مسائل، اگنی ویر یوجنا، آئین بدلنے کا اندیشہ اور ایسے ہی دیگر مسائل اور حکمراں جماعت کی پالیسیاں جن سے عوام بدظن اور بددل ہوئے ہیں اور اب بی جے پی کی جانب سے نگاہیں پھیرنے پر مجبور ہیں مگر خاموش ہیں اور دل کی بات زبان پر لانے سے کتراتے ہیں۔ 
تیسری وجہ: انڈیا اتحاد کی تشکیل اور عوام کے سامنے ایک طاقتور متبادل کا پیش ہونا۔ کل تک لوگ یہ سمجھتے اور کہتے تھے کہ کوئی ’’وِکلپ‘‘ نہیں ہے۔ اب اُن کے سامنے وکلپ آگیا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ نیا نیا اتحاد طاقت اور مضبوطی کے ساتھ الیکشن لڑرہا ہے یعنی بی جے پی کو مات دے سکتا ہے۔ 
چوتھی وجہ: بی جے پی نے ۲۰۱۴ء میں کانگریس کی بدعنوانی کو مو ضوع بنایا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ بدعنوانی کو جڑ سے اُکھاڑ کر کالے دھن کا قلع قمع کردیگی۔ اس سے ملنے والی خطیر رقم کو عوام میں تقسیم کردیگی۔ اس سے عوام میں اُمیدیں جاگیں مگر گزشتہ دس سال میں عوام نے دیکھ لیا کہ بی جے پی خود ہی بدعنوانی کی سرغنہ بن گئی ہے۔ اُسے اُن لیڈروں سے اتحاد میں پس و پیش نہیں ہے جن پر بدعنوانی کے سنگین الزامات تھے۔ عوام نے یہ بھی دیکھا کہ اس نے الیکٹورل بَونڈ اسکیم جاری کی جو اپنے آپ میں بہت بڑا اسکینڈل ہے۔ 
پانچویں وجہ: اس الیکشن میں کوئی لہر نہیں ہے جو عوام کو بہا لے جاتی ہے۔ اس بار لوگ سوجھ بوجھ کے ساتھ ووٹ دے رہے ہیں، اسی لئے خاموش ہیں اور اپنی وابستگی کے اظہار میں احتیاط کررہے ہیں۔ بلاشبہ لہر نہیں ہے مگر زیریں لہر (اَنڈر کرنٹ) ہے۔ امیٹھی کے معمر شخص نے جو کہا ہم اس سے صد فیصد متفق ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK