Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت ختم، ٹرمپ کا توسیع سے انکار

Updated: August 19, 2026, 1:16 PM IST | Agency | Washington/Tehran

قطر نے کہا کہ ثالث ممالک ایران اور امریکہ کو دوبارہ مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اردگان نے کہا ترکی اہم کردار ادا کرنے کیلئے تیار۔

Donald Trump. Picture: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ اور کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ختم ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں توسیع کرنے سے انکار کرتے ہوئے تہران سے سفید جھنڈا لہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت میں توسیع کا خواہاں نہیں، جو پیر کو اپنی مدت پوری کرچکی ہے۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے ہتھیار ڈال دے۔امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی ٹیم ایران کی پاسداران انقلاب سے مذاکرات کر رہی ہے تاہم ایرانی پاسداران انقلاب نے اس دعوے کی تردید کردی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ڈلہوزی: پہاڑوں، آبشاروں اور نوآبادیاتی حسن کے درمیان ایک دلکش سفر

دوسری جانب ایرانی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی مدت ختم ہونے کے بعد ایران امریکہ کے خلاف زیادہ سخت حکمت عملی اختیار کرسکتا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث مذاکرات کیلئے مقرر کردہ ۶۰؍ روز کی مدت اب بے معنی ہوچکی ہے۔ان کے مطابق ایران کسی دباؤ یا دھمکی کے تحت اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرے گا اور حملے کی صورت میں جواب دینے کے لیے تیار ہے۔یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی برقرار ہے اور امریکہ کی جانب سے اس اہم گزرگاہ پر کنٹرول کے دعوؤں نے خطے میں تشویش مزید بڑھا دی ہے۔

دریں اثناءقطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرنے والے ممالک آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان معاہدے کے اعلان کا اعلان کر رہے ہیں۔ماجد الانصاری کے مطابق اس معاہدے کے بعد ہی واشنگٹن اور تہران کو جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔قطر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایرانی پائلٹوں سے متعلق معاملے پر ایرانی وفد کو قطر آنے کی دعوت اب بھی برقرار ہے، تاہم تہران نے تاحال اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔گزشتہ ہفتے ایران نے قطر پر الزام عائد کیا تھا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں طیاروں کے گرنے کے بعد اس نے ایرانی فضائیہ کے تین پائلٹوں کو حراست میں رکھا ہوا ہے۔تاہم قطر نے ان الزامات کی دوٹوک تردید کی ہے۔ایک چوتھا پائلٹ حادثے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ قطری حکام نے اس کی لاش برآمد کر کے ایران کے حوالے کر دی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: جین زی کا ایک گروپ اب بھی کورونا دور کی تنہائی میں زندگی گزار رہا: رپورٹ

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ترکی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

عمان مذاکرات کے آڑے آیا تو اس پر حملہ کر دیں گے:ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ-ایران مذاکرات میں مداخلت کرنے کی صورت میں عمان کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے، جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے حکام کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے۔فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب ٹرمپ سے ایران اور آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات میں عمان کے کردار کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر عمان نے رکاوٹ ڈالی، تو ہم انہیں تباہ کر دیں گے۔ ایران نے سنیچر کے روز اعلان کیا تھا کہ ہفتوں کے تکنیکی مذاکرات کے بعد اس نے آبنائے ہرمز کیلئے  نیوی گیشن روٹ میپ پر عمان کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK