• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

بائیڈن انتظامیہ میں بغاوت کے سُر

Updated: November 22, 2023, 1:11 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

امریکہ میں مظاہرین اب نیتن یاہو کے ساتھ ساتھ بائیڈن کو بھی غزہ کی نسل کشی کا ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں۔ پچھلے ہفتےکیلیفورنیا ڈیموکریٹک کنونشن کے دوران ہزاروں پارٹی ورکرز نے احتجاج کرتے ہوئے اپنے لیڈروں کو تقریر کرنے سے روک دیا۔

There is a worldwide protest against the Zionist atrocities on the Palestinians. Photo: INN
فلسطینیوں پر ہونے والے صہیونی مظالم کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج ہورہا ہے۔تصویر:آئی این این

اگر آپ سچائی اور انصاف کی بات نہیں  کریں  گے، اگر مفاد پرستی اور مصلحت کوشی سے کام لیں  گے اور اگر آپ مظلوم کے بجائے ظالم کی حمایت کریں  گے تو آپ کے گھر کے لوگ ہی آپ سے اختلاف کرنے لگیں  گے۔ اگر آپ ان کے خیالات کو نظر انداز کرکے اپنی ضد پر اڑے رہے تو ممکن ہے کہ آپ کے خلاف بھی آوازیں  اٹھنے لگیں  اورآپ کو اپنے ہی کنبے کے اراکین کی بغاوت کا سامنا بھی کرنا پڑے۔ جو بائیڈن حکومت کی اسرائیل کی اندھی اور یکطرفہ حمایت کی وجہ سے امریکہ میں  کم و بیش ایسی ہی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے سابق عہدے دار اورمشرق وسطیٰ کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر کے مطابق بائیڈن کو حکومت کے اندر ہونے والی تنقیدوں  کی شدت نے انہیں  چونکادیا ہے کیونکہ انہوں  نے اس سے قبل ایسی صورتحال پہلے کبھی نہیں  دیکھی تھی۔
سات اکتوبر کو حماس کے حملوں  کو جواز بناکراور’’اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق ہے‘‘کا فیصلہ صادر کرکے جو بائیڈن اور ان کے یورپی اتحادیوں  نے در اصل بنجامن نیتن یاہو کو غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے اور محصور فلسطینیوں  کے قتل عام کی کھلی چھوٹ دے دی تھی لیکن جب صہیونی فوج کے ہاتھوں  غزہ کی عمارتیں  ملبوں  میں  اور تاریخی فلسطینی شہر’’بچو ں  کے قبرستان‘‘ میں  تبدیل ہوگیا تو دیگر اقوام کے ساتھ امریکی عوام بھی اس حیوانیت پر چیخ اٹھے۔
ایک وقت تھا جب فلسطینیوں  پر ہونے والے صہیونی مظالم کے خلاف دنیا بھر کے مسلمان احتجاج کرتے تھے: آج ساری دنیا احتجاج کر رہی ہے۔ آج رنگ، نسل، مذہب اور زبان کی تنگ حد بندیوں  کو توڑ کر دنیا بھر کی قومیں  ایسے پلے کارڈ جن پر لکھا ہے ’’فلسطین کی حمایت کے لئے آپ کا مسلمان ہونا نہیں  آپ کا انسان ہونا ضروری ہے‘‘ ہاتھوں  میں  اٹھائے، جنگ بند کروانے کے لئے آوازیں  بلند کررہی ہیں ۔اسرائیل کی حمایت کی وجہ سے دنیا بھر میں  امریکہ کی ساکھ بری طرح متاثر ہورہی ہے اورغزہ میں  جاری اسرائیلی درندگی پر ساری دنیا میں  ہورہی مذمت کا بائیڈن کو بھاری سیاسی خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق ۶۸؍فیصد امریکی عوام فوری جنگ بندی چاہتے ہیں  اور۴۰؍فیصد عوام چاہتے ہیں  کہ وہ مشرق وسطیٰ کے اس بحران میں  غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کریں ،نیتن یاہو کے حمایتی کا نہیں ۔ 
 امریکی عوام ہی نہیں  امریکی وزارت خارجہ کے افسروں  نے بھی میمو آف ڈیسنٹ (اختلافی نوٹس)اور خطوط لکھ کر اسرائیل اور غزہ پراپنی ہی حکومت کے موقف کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کی صرف زبانی حمایت نہیں  کی بلکہ اسے مہلک اسلحے بھی بھیجے ہیں  اور اس طرح وہ بے گناہوں  کے قتل عام میں  حصہ دار بن گیا ہے اور یہ بات بائیڈن حکومت کے انصاف پسند، باضمیر اور غیر جانبدار اہلکاروں  کیلئے ناقابل قبول ہوگئی ہے۔ وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدے دارجوش پال نے فلسطینی بچوں  کے قتل عام کیلئے ہتھیار وں  کی فراہمی پر احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔ جوش پال اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیورو برائے سیاسی اور فوجی امور کے ڈائرکٹر تھے۔
امریکی ادارہ ’’ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ‘‘ کے ایک ہزار افسروں  نے غزہ میں  فوری جنگ بندی کے لئے ایک دستخطی مہم چلائی ہے۔ وزارت خارجہ کے افسران بائیڈن پر نہ صرف جنگ بندی کے لئے بلکہ اسرائیل کی جارحیت کی سرزنش کے لئے بھی دباؤ ڈال رہے ہیں ۔حال میں  نیشنل سیکورٹی کونسل اور جسٹس ڈپارٹمنٹ سمیت بائیڈن انتظامیہ کے متعدد شعبوں  کے پانچ سو سے زیادہ افسران نے ایک خط لکھ کر غزہ میں  امریکی صدر کی پالیسی پر سخت تنقید کی ہے۔ امریکہ میں  مظاہرین اب نیتن یاہو کے ساتھ ساتھ بائیڈن کو بھی غزہ کی نسل کشی کا ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں ۔ پچھلے ہفتےکیلیفورنیا ڈیموکریٹک کنونشن کے دوران ہزاروں  پارٹی ورکرز نے احتجاج کرتے ہوئے اپنے لیڈروں  کو تقریر کرنے سے روک دیا۔ا مریکہ کے قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے تسلیم کیا کہ بائیڈن کو اندازہ ہے کہ ملک میں  جذبات بے قابو ہورہے ہیں ۔ عرب دنیا میں  تعینات امریکی سفارت کاروں  نے بھی حکومت کو وارننگ دی ہے کہ نیتن یاہو کے جنگی جرائم کی پشت پناہی کی وجہ سے پورے مشرق وسطیٰ میں  امریکہ مخالف جذبات بھڑک رہے ہیں ۔
چالیس دنوں  سے بے بس اور نہتے شہریوں  پر ہورہی صہیونی بمباری اور غزہ میں  انسانی حقوق کی دھجیاں  اڑائے جانے سے ساری دنیا میں  فلسطینیوں  کے لئے ہمدردی اور حمایت کا سیلاب آگیا ہے اور اسرائیل کے خلاف غم وغصہ بڑھتا جارہا ہے۔ عالمی ضمیرجاگ رہا ہے اور لوگ اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکہ پر تھو تھو کررہے ہیں ۔ آج انجلینا جولی جیسی ہالی ووڈ سپر اسٹار یہ اعلان کررہی ہیں  کہ اسرائیل جان بوجھ کر شہریوں  کا قتل عام کررہا ہے۔ جولی کے بقول سلامتی کونسل میں  جنگ بندی کی مخالفت کرکے عالمی رہنما اسرائیل کے جنگی جرائم میں  شریک کار بن ہوگئے ہیں ۔ جولی کی طرح ہالی ووڈ اور دیگر شعبہ جات کے ان گنت نامور افراد جیسے بیلا حدید، کم کردشیان،جسٹن بیبر، زین ملک، بن ایفلیک، بریڈلی کوپر،مائیکل مور، سارہ جیکب، مارک رفالو، سیلینا گومزنے بھی فلسطین کے حق میں  آواز بلند کی ہے۔ یہ امریکہ کے بااثر لوگ ہیں  اورانہوں  نے اسرائیل۔غزہ ایشو پر جوموقف اختیار کیا ہے وہ اپنی حکومت کی پالیسی سے متصادم ہے۔ یہی نہیں  انہوں  نے اسرائیل مخالف موقف اس ملک میں  اپنایا ہے جہاں  یہودیوں  کا سکہ چلتا ہے۔ بائیڈن خود اپنی حکومت کے اندر اٹھنے والی اختلافی آوازوں  اور امریکہ کے خاص و عام کی رائے کو زیادہ دنوں  تک نظر انداز نہیں  کرسکیں  گے۔ 
 مغرب کے دوسرے سربراہان کو بھی عوامی جذبات کا احساس ہورہا ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے تل ابیب میں  نیتن یاہو کی پیٹھ تھپتھپاکر غزہ میں  صہیونی جارحیت کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ میکروں  کے سر بدل گئے او ر انہوں  نے یہ اعلان کیا ’’شہریوں  کی ہلاکتوں  کو کسی قیمت پر جائز نہیں  ٹھہرایا‘‘ جاسکتا ہے۔ فرانس نے تو مغربی کنارہ میں  اسرائیلی آباد کاروں  کے تشدد اور تخریب کاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینیوں  کو گھر سے بے گھر کرنے کی اسرائیل کی’’دہشت گردانہ پالیسی‘‘ قرار دیا ہے۔کنیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے نیتن یاہو کو انتباہ کیا کہ دنیا غزہ میں  عورتوں  اور بچوں  کا قتل عام دیکھ رہی ہے اور’’ موت کا یہ کھیل بند ہونا چاہئے۔‘‘ برطانیہ میں  تو اسرائیل۔غزہ ایشو پر حکومت میں  اختلافات اتنے بڑھ گئے کہ وزیر اعظم رشی سونک کو وزیر داخلہ سوئیلا بریورمین کو برخاست کرنا پڑا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK