اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل لبنان میں ممکنہ زمینی کارروائی کی تیاری کے تحت تقریباً ۴؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار ریزرو فوجیوں کو متحرک کرنے کی منظوری دینے پر غور کر رہا ہے۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 8:07 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل لبنان میں ممکنہ زمینی کارروائی کی تیاری کے تحت تقریباً ۴؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار ریزرو فوجیوں کو متحرک کرنے کی منظوری دینے پر غور کر رہا ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت جلد ہی بڑے پیمانے پر ریزرو فوجیوں کی متحرک کاری کی منظوری دے سکتی ہے۔ اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کے اے این کی رپورٹ کے مطابق تقریباً ۴؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار ریزرو فوجیوں کو طلب کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جو ممکنہ طور پر لبنان میں زمینی دراندازی کی تیاریوں کا حصہ ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تجویز کو جلد ہی اسرائیلی کابینہ اور کنیسٹ کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس منصوبے کو منظور کر لیا جاتا ہے تو یہ اسرائیلی فوج کی موجودہ متحرک کاری کی حد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
کے اے این کے مطابق اس وقت حکومت کی جانب سے ریزرو فوجیوں کو بلانے کی مجاز حد تقریباً ۲؍ لاکھ ؍ ۶۰؍ ہزار ہے، جو جنوری میں جاری کیے گئے حکومتی فیصلے کے تحت مقرر کی گئی تھی۔ نئی تجویز اس حد کو تقریباً دو گنا تک بڑھا سکتی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیلی فوج مبینہ طور پر لبنان میں اپنی فوجی کارروائی کو وسعت دینے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے، جن میں زمینی دراندازی بھی شامل ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فورسیز نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں دریائے لیتانی پر واقع ایک پل بھی شامل ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ پل حزب اللہ کے جنگجوؤں کے لیے نقل و حرکت کے راستے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں ایک وسیع بفر زون قائم کرنے کے امکان کا بھی جائزہ لے رہا ہے تاکہ اپنی شمالی سرحد کے قریب سیکوریٹی خطرات کو کم کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں اسرائیل امریکہ کے ساتھ بھی قریبی مشاورت کر رہا ہے۔ خطے میں موجودہ کشیدگی کا ایک بڑا پس منظر ایران کے خلاف جاری اسرائیل اور امریکہ کی فوجی کارروائیاں ہیں۔ ۲۸؍ فروری سے جاری ان حملوں کے دوران ایران میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا، جن میں اعلیٰ سیکوریٹی حکام بھی شامل بتائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسلامو فوبیا مخالف عالمی دن پر او آئی سی کا انتباہ: مسلم مخالف نفرت میں اضافہ
ان حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے جبکہ بعض عرب ممالک میں امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں کئی مقامات پر شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا جس کی متاثرہ ممالک نے شدید مذمت کی۔ دوسری جانب لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے بھی ۲؍ مارچ کو اسرائیلی فوجی اہداف پر حملے شروع کر دیے تھے۔ یہ حملے اس وقت شروع ہوئے جب ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
اسی دن اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں اور جنوبی و مشرقی لبنان میں اپنے فضائی حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق ۳؍ مارچ کو اسرائیلی فورسیز نے جنوبی لبنان میں محدود زمینی کارروائی بھی شروع کی۔ ماہرین کے مطابق اگر اسرائیل واقعی اتنی بڑی تعداد میں ریزرو فوجیوں کو متحرک کرتا ہے تو یہ خطے میں ایک بڑے فوجی تصادم کی علامت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔