• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

المیہ معلومات کی کمی کا نہیں بلکہ اصلاح سے محرومی کا ہے

Updated: October 24, 2026, 4:02 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

ہم نے علم کے حصول کے لئے دنیا کو اپنی انگلیوں کی پوروں تک سمیٹ لیا ہے، لیکن اگر ہماری انگلیاں دوسروں کی غلطیاں تلاش کرنے میں مصروف رہیں، ہماری زبانیں نصیحتوں کے انبار لگاتی رہیں اور ہمارے اعمال ان نصیحتوں سے خالی رہیں تو یہ ترقی ہمارے لیے کس قدر مفید ثابت ہوگی؟ اس کا جواب پانا مشکل نہیں۔

AI has not only made the transmission of information extremely fast but has also made it universally accessible; in such a scenario, our responsibilities increase significantly. Image: INN
اے آئی نے معلومات کی ترسیل کو انتہائی تیز ہی نہیں بنایا بلکہ اس تک سب کی رسائی کو بھی عام بنا دیا ہے ، ایسے میں ہماری ذمہ داریاں زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

موجودہ زمانے کی ایجادات نے انسانی معلومات میں بے تحاشا اضافہ کیا ہے اور اس سے بھی مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ اب روایتی طور پر بغیر پڑھے لکھے لوگ بھی سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں سے کبھی ارادہ سے اور کبھی بغیر ارادہ  کے معلومات کا خزانہ حاصل کر لیتے ہیں۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، یوٹیوب، فیس بک اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع نے علم و معلومات کے حصول کو اس قدر آسان بنا دیا ہے کہ اب کسی موضوع سے متعلق بنیادی معلومات حاصل کرنے کیلئے نہ طویل سفر درکار  ہے، نہ کتابوں کی تلاش میں سرگرداں ہونے کی حاجت ہے اور نہ ہی ہر معمولی سوال کے جواب کیلئے کسی صاحبِ علم کے دروازہ پر دستک دینے کی ضرورت ہے۔ چند لمحوں میں انسان دنیا کے کسی بھی گوشے میں پیش آنے والے واقعات سے باخبر ہو سکتا ہے، دینی مسائل سے واقفیت حاصل کر سکتا ہے، اخلاقی نصیحتیں سن سکتا ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔ بلاشبہ یہ سہولتیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل و صلاحیت کے حیرت انگیز ثمرات اور انسانی ترقی کے اہم مظاہر ہیں۔ لیکن اس سہولت نے ایک بنیادی سوال بھی پیدا کر دیا ہے کہ کیا معلومات تک ہماری رسائی میں ہونے والے غیر معمولی اضافے نے ہماری زندگیوں میں بھی کوئی مثبت تبدیلی پیدا کی ہے؟ کیا ہماری معلومات کی وسعت کے ساتھ ہمارے کردار میں گہرائی، عبادت میں اخلاص،   معاملات میں دیانت اور اخلاق میں پاکیزگی بڑھی ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ معلومات کی یہ فراوانی اپنی تمام تر چمک دمک کے باوجود ہماری زندگیوں کا سب سے بڑا مسئلہ حل کرنے میں ناکام ہے، اور وہ مسئلہ ہے علم کو عمل میں تبدیل کرنے کا۔
اس پس منظر میں موجودہ دور کا المیہ معلومات کی کمی نہیں، بلکہ معلومات کے باوجود اصلاح سے محرومی ہے؛ مسئلہ راستوں کے نہ ہونے کا نہیں، بلکہ راستہ معلوم ہونے کے باوجود اس پر چلنے کی ہمت نہ کرنے کا ہے۔ ہم نے علم کے حصول کے لئے دنیا کو اپنی انگلیوں کی پوروں تک سمیٹ لیا ہے، لیکن اگر ہماری انگلیاں دوسروں کی غلطیاں تلاش کرنے میں مصروف رہیں، ہماری زبانیں نصیحتوں کے انبار لگاتی رہیں اور ہمارے اعمال ان نصیحتوں سے خالی رہیں تو یہ ترقی ہمارے لئے کس قدر مفید ثابت ہوگی؟  ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا میں ہماری شخصیت کا وزن ہمارے دعوؤں سے نہیں، کردار سے متعین ہوتا ہے، اور آخرت میں بھی انسان کو اپنے اعمال ہی کی جواب دہی کرنی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:نبی کریمؐ پر درود و سلام بھیجنا سنت اور جب اسم مبارک آئے تو پڑھنا مستحب ہے

قرآن مجید نے اس طرز عمل کی پر زور مذمت بیان کی ہے: ’’اے ایمان والو! تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم ایسی بات کہو جو تم کرتے نہیں ہو۔‘‘(سورۃ الصف:۲۔۳)
اس آیت کی روشنی میں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ نیکی کی دعوت دینا اپنی جگہ ایک اہم ذمہ داری ہے، لیکن دعوت دینے والے کو اپنی اصلاح سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔ کسی شخص کی اپنی کمزوری اسے دوسروں کو حق بات بتانے سے مطلقاً نہیں روکتی، البتہ اسے اپنی کوتاہی پر نادم ہوکر اصلاح کی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔ قرآن کی مذکورہ تنبیہ ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محض الفاظ کی خوب صورتی کافی نہیں؛ ہمارے دعوؤں کی صداقت کا امتحان ہماری عملی زندگی میں ہوتا ہے۔ لہٰذاعلم کی کثرت پر فخر کرنے سے پہلے ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہمارے اعمال اس علم کی گواہی بھی دیتے ہیں یا نہیں۔
حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ پہلے کے مقابلے میں لوگ اس زمانے میں زیادہ باعمل ہوتے، کیونکہ پہلے ہر معاملے کا علم آسانی سے مہیا نہیں ہوتا تھا؛ کبھی علماء سے دوری، کبھی کتابوں کی عدم دستیابی اور کبھی تعلیمی وسائل کی کمی کی وجہ سے بہت سے لوگ دینی مسائل سے واقفیت حاصل نہیں کر پاتے تھے۔ کسی مسئلے کو سمجھنے کے لئے عالمِ دین تک پہنچنا، مستند کتاب تلاش کرنا اور متعلقہ معلومات جمع کرنا وقت اور محنت کا تقاضا کرتا تھا۔ اس کے برعکس آج صورتِ حال یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت، ترجمہ و تفسیر، احادیث کی تشریحات، فقہی مسائل، اخلاقی نصیحتیں اور اصلاحی بیانات بڑی آسانی سے دستیاب ہیں۔ اگر کسی شخص کو نماز کے طریقے میں کوئی غلطی معلوم ہو جائے تو وہ اسے درست کر سکتا ہے؛ اگر اسے غیبت کی حرمت کا علم ہو تو اپنی زبان کی حفاظت کا عزم کر سکتا ہے؛ اگر اسے والدین کے حقوق معلوم ہوں تو ان کی خدمت میں کوتاہی سے بچ سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ معلومات کی آسانی نے ہمیشہ عمل کی آسانی پیدا نہیں کی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے علم حاصل کرنے کو اپنی ذمہ داری کا اختتام سمجھ لیا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ ذمہ داری کی ابتدا ہے۔ پہلے علم کی کمی ایک رکاوٹ تھی، آج عمل کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔   
اگر آپ مانتے ہیں کہ یہ باتیں درست ہیں تو معلومات جمع کرنے کے ساتھ ساتھ اعمال سنوارنے کا عہد کرنا ہوگا؛ کیونکہ علم کی حقیقی عظمت معلومات کی فراوانی میں نہیں، عمل کی صالحیت میں ہے؛ اور کامیابی اس شخص کا مقدر بنتی ہے جو جاننے کے بعد مانتا ہے، سمجھنے کے بعد بدلتا ہے اور سیکھنے کے بعد اپنی زندگی کو اس علم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ عمل بہت ضروری ہے بالخصوص وہ جو وقت پر ہو، ٹال مٹول یا تاخیر سے نہیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’ہائے ہماری کم بختی! ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے‘‘

چند تدابیر جو عمل کیلئے کارآمد ہوسکتی ہیں!
روزانہ حاصل ہونے والی معلومات میں سے کم از کم ایک بات منتخب کریں اور اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں۔ 
اگر ہم نے سچائی پر کوئی حدیث سنی ہے تو ہر وقت اور ہر ممکن طریقہ سے  اپنی گفتگو اور معاملات میں سچائی کی حفاظت کریں؛ اگر والدین کے حقوق کے بارے میں پڑھا ہے تو ان کی خدمت، دعا اور دل جوئی کے لئے وقت نکالیں؛ اگر غیبت کی مذمت سنی ہے تو مجلس میں کسی کی برائی کرنے سے رک جائیں۔ 
 معلومات کی کثرت کے بجائے مستند علم اور اس کے فہم کو اہمیت دیں۔ ہر سوشل میڈیا پوسٹ کو دینی حقیقت سمجھ لینا درست نہیں؛ قرآن و حدیث کی تعلیمات کو معتبر علماء کی رہنمائی میں سمجھنا چاہئے، خصوصاً ان مسائل میں جن میں شرعی وضاحت ضروری ہو۔ مستند کتابوں کے مطالعہ کو بھی اپنے معمولات میں شامل کریں۔  ہر رات چند منٹ اپنا محاسبہ کریں: آج میں نے کون سی نیکی کی؟ کس معاملے میں کوتاہی ہوئی؟ کس شخص کا حق اداکیا، کس کا حق ادا نہیں کیا؟ اور کل میں اپنی اصلاح کے لئے کیا قدم اٹھاؤں گا؟ 
 نیکی کے چھوٹے مگر مستقل معمولات بنائیں؛ نمازوں کی پابندی، روزانہ قرآن مجید کی تلاوت، اذکار، صدقہ، حسنِ اخلاق، وعدوں کی تکمیل، لوگوں کے حقوق کی ادائیگی، راست گوئی اور اچھا گمان رکھنے کو زندگی کا حصہ بنائیں۔ 
 دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنی ذات کو مخاطب کریں اور نصیحت پر عمل کیلئے آمادہ کریں، تاکہ اصلاح کا آغاز اپنی ذات اور کردار سے ہو۔ 
 سوشل میڈیا پر دینی مواد شیئر کرنے سے پہلے اس کی صحت کی تحقیق کریں اور جو بات دوسروں تک پہنچائیں، خود بھی اس پر عمل کرنے کی نیت رکھیں ساتھ ہی  اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ نافع علم، صالح عمل اور اخلاص کی دولت عطا فرمائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK