Inquilab Logo Happiest Places to Work

عارفانہ اور متصوفانہ اشعار کی تفہیم (۷)

Updated: June 10, 2024, 12:26 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai

میر تقی میرؔ کی مشہور زمانہ غزل کا تجزیہ جس میں عشق کو اعلیٰ ترین مدارج تک پہنچے کا وسیلہ بناکر پیش کیا گیاہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے 
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے 
گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک 
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے 
خانۂ دل سے زینہار نہ جا 
کوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے 
لڑتی ہے اس کی چشم شوخ جہاں 
ایک آشوب واں سے اٹھتا ہے 
بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو 
جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے 
یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم 
جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے 
عشق میرؔ اک بھاری پتھر ہے 
کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے 
مندرجہ بالا غزل میر تقی میرؔ کی ہے جس کے بیشتر شعروں میں کلمۂ استفہام کہاں، کس، کون اور کب استعمال ہوا ہے۔ مطلع میں یہ واضح نہیں ہے کہ شاعر ’’دیکھ تو‘‘ خود سے کہہ رہا ہے یا محبوب سے، مگر یہ طے ہے کہ جس سے بھی کہہ رہا ہے وہ اس سے بے تکلف ہے۔ جس سے بے تکلفی نہ ہو اس سے اس لہجے میں بات کی ہی نہیں جاسکتی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں ہے کہ جس دل یا جاں سے ’’دھواں سا ‘‘ اٹھنے کی بات کہی جارہی ہے اس کا تعلق اسی کے جسم وجاں سے ہے یا کسی اور کے جسم وجاں سے ہے۔ ’’ دھواں سا‘‘ بھی تبھی اٹھ سکتا ہے جب کہیں ’’ آگ سی‘‘ کوئی چیز موجود ہو۔ ’’ آگ سی ‘‘ اور ’’دھواں سا‘‘ دونوں مماثلت کی نشاندہی کرتے ہیں مگر خود ان کی حیثیت و ہئیت واضح نہیں ہے۔ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو ’دھواں سا ‘ کہہ رہا ہے اس کی بھی دل وجان تپش آلودہ ہوسکتی ہے اورجس سے کہہ رہا ہے اس کی بھی۔ اس شعر میں دل، جاں، دھواں ، کلیدی الفاظ ہیں اور ردیف تو ہر شعر میں یہ احساس دلاتی ہے کہ کوئی شے پستی سے بلندی کی طرف اٹھ رہی ہے۔ یہ رمزو ایما ہے جس میں غزل کی روح سمائی ہوئی ہے، اس پر ’دھواں سا‘ کہہ کر شاعر نے رمز و ایما کی چادر کو مزید دبیز بنادیا ہے۔ عشق کی شدت وکیفیت کو واضح کرنے کا یہ انداز دلکش ضرور ہے مگر میرؔ کی اختراع نہیں۔ ان کے پہلے اور بعد کے شاعروں کے کلام میں بھی یہ انداز موجود ہے۔ شیفتہ کا یہ شعر دیکھیے:
شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہؔ
اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی 
’دھواں ‘ بھی ہمارے غزل گو شاعروں کو محبوب رہا ہے۔ میر کا کمال یہ ہے کہ وہ مطلع میں ہی احساس دلا دیتے ہیں کہ شاعر کے دل اور جان کو دھواں جیسی کسی شے نے تپش آلودہ تو بنایا ہے مگریہ تپش سے آلودہ ہونا اس کے لئے وجد و سرور سے خالی نہیں ہے۔ 
دوسرے شعر میں ’گور ‘ اور ’دل جلے‘ کی ترکیب کا استعمال ہنرمندی ہے۔ ’ شعلہ اک صبح ‘ (سورج) زندگی کی علامت ہے۔ پہلے مصرع میں گور اور دل جلے کہہ کر سوال اور دوسرے مصرعے میں سورج کے طلوع ہونے کا اشارہ دے کر جواب، یہ بتانے کیلئے ہے کہ موت یاکسی چیز کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا زندگی کا خاتمہ نہیں تسلسل ہے۔ 
تیسرے شعر میں زینہارکا استعمال تنبیہ بھی ہے اور ’تاکید‘ بھی۔ اس طرح ’ایسے مکان‘ سے مراد وہ خانہ ٔ دل ہے جو عشق کے آزار سے بھی خوشی وسرشاری حاصل کرتا ہے۔ یہاں بھی یہ وضاحت نہیں ہے کہ ان کی تنبیہ یا تاکید کسی شخص کو ہے یا اپنی کیفیت کو؟ مگریہ واضح ہے کہ تنبیہ وتاکید کرنے یا عشق ومحبت کے آزارسے خوشی حاصل کرنے والے کو یہ بھی گوارا نہیں کہ جبرِ وقت اس عمل میں رخنہ ڈالے۔ 
چوتھےشعر میں ’چشم شوخ‘ اور ’لڑتی‘ کہہ کر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ چشم شوخ ٹھیرتی نہیں ، پھرتی رہتی ہے لیکن جب اور جہاں ٹھیرتی ہے وہاں آشوب یعنی بے خودی، جامہ دری، بے تابی، صحرانوردی، دیوانگی اور گریۂ نیم شبی کی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ 
پانچویں شعر کی تشریح طویل بھی ہوسکتی ہے مختصر بھی۔ ایک جملے میں تشریح کرنا مقصود ہوتو یہی کہیں گے کہ جس نے ’محبوب‘ کا درچھوڑدیا پھر وہ کسی درکا نہیں رہا۔ در کے لئے ’آستاں ‘ کا لفظ استعمال کیاجانا در سے زیادہ وسیع معنی پر محیط ہے۔ روضہ کا دروازہ، چوکھٹ، ڈیوڑھی، دروازہ.....سب کچھ مراد لیاجاسکتا ہے۔ اس کا عاشقانہ، عارفانہ، اور متصوفانہ مفہوم بھی لیاجاسکتا ہے مگر ہرمفہوم بس ایک جملے سے واضح ہوجاتا ہے کہ جس نے تیرا در چھوڑ دیا اس کو کسی درپہ جگہ نہ ملی۔ چھٹے شعر میں ’’ اس گلی سے اٹھنے ‘‘ کو’’جہاں سے اٹھنے‘‘ یا موت کے مماثل ہونے کا بیان یہ واضح کرنے کیلئے ہے کہ دنیا سے اٹھنا ہو کہ محبوب کی گلی سے اٹھناکسی کو پسند نہیں مگر سب کو اٹھنا پڑتا ہے کہ یہی مشیت ومقدر ہے۔ جان نکلنے کی اذیت ہی جیسی اس کی گلی چھوڑنے کی اذیت بھی ہے۔ 
مقطع کے پہلے مصرع میں ’عشق‘ کو ’بھاری پتھر‘ کہا گیا ہے۔ عشق غیر مرئی ہے اور پتھر مرئی، دونوں کو مماثل نہیں قراردیاجاسکتا مگر میرؔ نے پتھر کی کیفیت کو عشق کا استعارہ بناکر پیش کیا ہے اور پیغام یہ دیا ہے کہ بھاری پتھر اٹھانا سب کا کام ہے نہ عشق کی آزمائشوں پر پار پانا۔ ایک شبہ یہ ہے کہ میرؔ عشق کو ’بھاری پتھر‘ اور خود کو ناتواں کہہ کر عشق سے دستبردار ہونے کا اعلان کررہے ہیں مگر حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ میر کی پوری شاعری میں عشق کو اعلیٰ ترین مدارج تک پہنچے کا وسیلہ بناکر پیش کیا گیا ہے۔ یہ میر کی کسرنفسی ہے کہ وہ عشق سے نشاط حاصل کرنے کے باوجود
کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
کا اعلان کررہے ہیں۔ یہ ’ناموس عشق‘ کی پاسداری بھی ہے۔ مذکورہ غزل میں دوبہت اہم خوبیاں ہیں۔ پہلی یہ کہ ’اٹھتا ہے ‘کی ردیف شعر میں معنوی وابستگی کا احساس دلاتی ہے اور دوسری یہ کہ غزل کا شعر پڑھ کر قاری کی توجہ صرف خیال پر نہیں ہوتی بلکہ اس کیفیت میں شرکت بھی ہوجاتی ہےجس کیفیت میں یہ شعر کہا گیا تھا۔ شعر کے خالق کی کیفیت کا قاری کی کیفیت بن جانا میرؔ کی شاعری کا کمال ہے۔ شاید اسی لئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے عشق کو کیفیت سے ادب وتہذیب میں ڈھال دیا ہے۔ غزل کی ایک اور خوبی کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ تمام اشعار کا موضوع عشق ہے اور تمام اشعار مسلسل غزل کا حصہ معلوم ہوتے ہیں مگر حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ میرؔ نے اس غزل کے مطلع میں جو بات کہی ہے وہ ایک دوسری غزل میں بھی کہی ہے شاید اس لئے کہ ان کا پورا وجود تپش آلودہ ہے مگر اس تپش آلودگی سے بھی سرور حاصل کرتاہے۔ 
کیا جانئے کہ چھاتی جلے ہے کہ داغِ دل
اک آگ سی لگی ہے کہیں کچھ دھواں سا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK