Inquilab Logo Happiest Places to Work

تخلیقی قوت و سلیقۂ اظہار کے سبب ادیب اپنے عہد اور انسانیت کا ترجمان بن جاتا ہے

Updated: May 24, 2026, 12:38 PM IST | Ehtsham Hussain | Mumbai

جس ادیب کو عصری رجحانات، قومی تہذیب، قومی افکار کی بنیادوں کا جتنا گہرا شعور ہوگا اتنے ہی منفرد انداز میں وہ حقائق کو پیش کر سکے گا۔ گویا اس کی تخلیقات میں اس کی انفرادیت بھی جلوہ گر ہوگی اور اس کا عہد بھی۔

While studying every writer and poet, one must first see what he took from his own limited environment and what he left behind. Photo: INN
ہر ادیب اور شاعر کا مطالعہ کرتے ہوئے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس نے اپنے ذاتی محدود ماحول سے کیا لیا اور کیا چھوڑا۔ تصویر: آئی این این

دو حقیقتیں ایسی ہیں جن پر نہ کوئی بحث ہوسکتی ہے اور نہ ان کے وجود سے انکار کیا جاسکتا ہے۔ ایک یہ کہ ہر شخص کسی نہ کسی حیثیت سے اپنی ایک کمزور یا قومی انفرادیت رکھتا ہے اور دوسرے یہ کہ ہر شخص کسی نہ کسی جگہ، کسی نہ کسی زمانے میں اور کسی نہ کسی سماج میں پیدا ہوتا ہے۔ بحث اس پر ہوسکتی ہے کہ یہ انفرادیت کس حد تک مطلق اور آزاد ہے یا یہ کہ فرد کا اپنے زمانے اور ادب سے کیا رشتہ ہوتا ہے اور دوسرے عناصر سے کیا اثر قبول کرتا ہے یا یہ کہ ادیب عام افراد سے کس قدر مختلف ہوتا ہے اور اپنے زمانے کی عام زندگی میں کہاں تک شریک اور کہاں تک اس کا مخالف ہوتا ہے۔ فرائڈ کے بعض دلچسپ تصورات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بچہ جب تک ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے، سب سے زیادہ خوش اور آسودہ ہوتا ہے کیونکہ اس کے یہاں کسی قسم کی وہ الجھن جو بیرونی اثرات سے پیدا ہوتی ہے یا خواہشات کی وہ کشمکش جو مختلف حالات میں جنم لیتی ہے، وجود ہی نہیں رکھتی۔ جیسے ہی وہ دنیا میں قدم رکھتا ہے ہر طرف سے تصادم کا شکار ہوجاتا ہے ، کوشش کے باوجود وہ بیرونی اثرات اور جذباتی کشمکش سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ یہ بات درست ہو یا نہ ہو لیکن یہ بات ناقابل انکار ہے کہ پیدا ہوتے ہی انسان کو بہت سے پسندیدہ اور ناپسندیدہ حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے جن میں سے کچھ کو وہ مجبوراً قبول کرلیتا ہے اور کچھ سے علاحدگی اختیار کرنا اس کی زندگی کا اہم ترین مشغلہ بن جاتا ہے۔ ادیب اس حیثیت سے عام لوگوں سے مختلف نہیں ہوتا، بس فرق یہ ہے کہ ادیب تخلیقی قوت اور اظہار کا مالک ہونے کی وجہ سے اپنی پسند اور اختلاف کو برابر ظاہر بھی کرتا رہتا ہے اور اُس دنیا کی تعمیر کرنا چاہتا ہے جسے اس نے اپنے خوابوں میں دیکھا اور خیالوں میں بسایا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’آپ غالب کو غلط سمجھے ہیں‘‘

اگر انسان دیوانہ یا مکمل طور سے بے حس نہ ہو تو گردوپیش کے حالات سے متاثر ہونا اس کے لئے لازمی اور فطری ہے ، یہ اور بات ہے کہ ہر اثر کے متعلق اس کا رویہ یا ردّعمل دوسروں سے مختلف ہو۔ بات یہ ہے کہ ہر انسان کو اُس کے پیدا ہوتے ہی ایک دُنیا ملتی ہے جو زمان و مکان کی پابند ہے۔ اس کے گردوپیش ایک (یاکئی) زبان استعمال کی جاتی ہے، رہن سہن کے کچھ طریقے رائج ہوتے ہیں، کچھ عقائد ورثے میں ملتے ہیں، کچھ تہذیبی روایات سے واسطہ پڑتا ہے، ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کرتا ہے جو اُس زمانے اور اُس سماج میں رائج ہوتے ہیں۔ اس کے بعد انسان کے اپنے ذاتی تجربے ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ زندگی کے نشیب و فراز سے واقفیت حاصل کرتا ہے اور جو دُنیا اسے ملتی ہے اس کے متعلق اپنے تجربات کی روشنی میں نئے سرے سے غور کرتا، سامنے آنے والی نئی چیزوں پر نگاہ ڈالتا، انہیں پرکھتا، جانچتا اور قبول یا رد کرتا ہے۔ اسی درمیان میں مشاہدے اور مطالعے کی مدد سے دوسرے انسانوں کے تجربات اور خیالات سے بھی واقفیت حاصل ہوتی ہے اور حالات کو پرکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ہر نارمل انسان کے ذہنی ارتقاء کی کم و بیش یہ عام صورتیں ہیں۔ انفرادی اثرات و تجربات مشاہدے اور مطالعے سے وسیع تر ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے خیالات میں تدریجی، اضافی یا بنیادی فرق پیدا ہوسکتا ہے۔ یہ بات فرد کے اندر بھی ہوسکتی ہے اور دوسروں کے مقابلے میں بھی اسی اختلاف کی بنیاد پر انفرادیت کے پہلو نمایاں اور واضح ہونے لگتے ہیں اور شخصیتوں کی الگ الگ تشکیل ہوتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’زبانوں میں کوئی تفریق نہیں ہے‘‘

ادیب کی انفرادیت اور شخصیت کا مطالبہ بھی انہی حقائق کی روشنی میں کیا جاسکتا ہے۔ وہ اپنے زمانے اور سماج میں گرفتار بھی ہے اور انفرادی سوجھ بوجھ اور قوت ِ تخلیق و اظہار کی وجہ سے آزاد بھی، حالانکہ یہ آزادی کبھی مکمل اور مطلق نہیں ہوسکتی ۔ مرزا غالبؔ نے پابندی اور اختیار کی اس پیچیدگی کو بڑے دلکش اشاروں میں یوں بیان کیا ہے:

کشاکش ہائے ہستی سے کرے کیا سعی ٔ آزادی

ہوئی زنجیر موجِ آب کو فرصت روانی کی

حقیقت یہ ہے کہ انفرادیت سماجی تعینات ہی کے پردہ میں اپنا اظہار کرسکتی ہے۔ فرد کے محسوسات، جذبات، خیالات اور افکار اس کے اپنے ہوتے ہوئے بھی اُن مادی حالات کی پیداوار ہیں جن میں وہ گھرا ہوا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب وہ ان جذبات اور خیالات کو ظاہر کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی غیرمعمولی تخلیقی صلاحیت کے باوجود اُس زبان اور اُن صوتی علامات کا سہارا لینا پڑتا ہے جن میں احساس و خیال کے پیکر تیار ہوتے ہیں۔ زبان کسی حالت میں بھی سماجی اور عصری ذہن سے آزاد نہیں ہونے دیتی اور اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ اپنی شخصیت کا اظہار کرنے کے لئے یہ پابندی بھی اختیار کی جائے۔ یہ بالکل سچ ہے کہ ہر اچھا ادیب اور شاعر اپنی ایک الگ آواز رکھتا ہے، یہ آواز دوسروں سے مختلف اور منفرد ہوتی ہے، بہت سی آوازوں کے ہجوم میں پہچانی جاسکتی ہے ۔ اس کے پیچھے سے ادیب کی شخصیت کے بعض پہلو جھانکتے رہتے ہیں۔ آواز کی شناحت کبھی اظہار کے طریقوں کی ندرت اور انوکھے پن کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے اور کبھی خیالات اور افکار کی بنیاد پر۔ اشعار کے جھرمٹ میں میرؔ، غالبؔ، مومنؔ، داغؔ ، اقبالؔ، فراقؔ، جوشؔ کے اشعار اپنی الگ جھنکار اور اپنے الگ الگ رنگ روپ رکھتے ہیں اور جنہیں پرکھنے کا کچھ بھی سلیقہ ہے وہ آسانی سے انہیں پہچان لیتے ہیں۔ ان شعراء کی انفرادیت اپنے عہد کے رجحانات اور عام ماحول سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہے تب بھی وہ اس طرح متصادم نہیں ہے کہ اسے عصری حقائق کی روشنی میں پہچانا ہی نہ جاسکے۔

یہ بھی پڑھئے: تخلیقی تحریر کیلئے مصنف کی شخصیت کا تخلیقی ہونا ضروری ہے

کوئی زمانہ اور کوئی سماج ایسا نہیں ہوسکتا جس کو ہر فرد اپنے لئے سازگار پائے بلکہ اکثر تو ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی زمانے میں مختلف رجحانات ہوتے ہیں۔ ظاہری واقعات کے نیچے نیچے مختلف دھارے بہتے ہیں جنہیں حساس دل اور گہری نگاہ والے دیکھ لیتے ہیں۔ہر ادیب اور شاعر کا مطالعہ کرتے ہوئے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس نے اپنے ذاتی محدود ماحول سے کیا لیا اور کیا چھوڑا، اسے قبول کرنے یا رد کرنے کے مواقع ملے یا نہیں، اس تنگ دائرے میں وہ کتنا آزاد تھا اور کتنا پابند۔ پھر اس کے بعد اس پہلو کا مطالعہ کرنا ہوگا کہ اپنے عہد کے سماج سے اس کا کیا رشتہ تھا، یہ رشتہ تعلیم، طبقاتی مقام، نظام افکار اور نصب العین کے لحاظ سے بہت پیچیدہ ہوگا اور اپنی ساری پیچیدگیوں کے ساتھ اس کے ادبی اور شاعرانہ افکار اور طریق اظہار میں کبھی براہ راست اور کبھی علامتوں، استعاروں اور اشاروں کے پردے میں ظاہر ہوگا۔ اگر ان حقائق کو مثالوں سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ ادیب منفرد رہتے ہوئے بھی اپنے عہد کا اور کبھی کبھی ایک بلند تر سطح پر عالم ِ انسانیت کا ترجمان بن جاتا ہے۔

اس کی شخصیت نہ تو اپنے زمانے کے ماحول میں کھوجاتی ہے اور نہ اتنی الگ ہوتی ہے کہ اسکے ماحول کا عکس ہی اس کے افکار میں دکھائی نہ دے۔ شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ جس ادیب کو عصری رجحانات، قومی تہذیب اور قومی افکار کی بنیادوں کا جتنا گہرا شعور ہوگا اتنے ہی منفرد انداز میں وہ حقائق کو پیش کرسکے گا۔ گویا اس کی تخلیقات میں اس کی انفرادیت بھی جلوہ گر ہوگی اور اس کا عہد بھی۔

ان تخلیق کاروں کی تخلیقات پر غور کیجئے!
 عالمی ادب کے عظیم ادیبوں اور شاعروں کو دیکھئے تو ان کی عظمت کا ایک سرا ان کی انفرادیت میں ملے گا اور دوسرا روحِ عصر میں۔ ویاسؔ اور والمیکؔ ہوں یا شیکسپئرؔ اور ملٹنؔ، فردوسیؔ اور حافظؔ ہوں یا کبیرؔ اور تلسیؔ داس، حالیؔ اور آزادؔ ہوں یا اقبالؔ اور اکبرؔ، ہر ایک اپنی انفرادیت رکھتا ہے، ہر ایک اپنی آواز سے پہچانا جاتا ہے، ہر ایک اپنی بات اپنے انداز  سے کہتا ہے لیکن ان میں کوئی ایسا نہیں جس میں خود اس کا عہد، اس کا سماج، اس کے عہد کا شعور نہ بول رہا ہو۔ الف لیلیٰ کی کہانیاں، سروان ٹیزک،  ڈان کوئکزاٹ، ٹالسٹائی کے ناول، جوائس کی تخلیقات، ٹیگور کی نظمیں، برناڈ شا کے ڈرامے سب اپنی حسن کاری، انداز بیان، طرز اظہار اور ادراک ِ حقیقت میں اپنے تخلیق کرنے والوں کی انفرادیت کے نقیب ہیں، لیکن کیا اس سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ الف لیلیٰ عہد عباسی کے بغداد میں، ڈان کوئکزاٹ اسپین کے سانتی عہد میں، وار اینڈ پیس شاہی نظام کے زوال میں، برناڈ شا کے ڈرامے جدید سائنسی تہذیب، سرمائے اور محنت کی کشمکش میں پیدا ہونےو الے اخلاقی تصورات کی گونج اور گرج ہی کے درمیان لکھے جاسکتے تھے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK