Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’آپ غالب کو غلط سمجھے ہیں‘‘

Updated: May 24, 2026, 12:01 PM IST | Wajahat Ali Sandailvi | Mumbai

اچھا بھلا ایک مکان مل گیا تھا لیکن ابھی اس میں منجملہ اسباب ویرانی میرا لپٹا ہوا بستر بھی ٹھیک سے کھل نہیں پایا تھا کہ محلے کے ماہر غالبیات نے نہیں معلوم کیسے سونگھ لیا کہ میں سخن فہم نہ سہی غالب کا طرفدار ضرور ہوں اور مجھے اپنی غالبانہ گرفت میں ایک صید زبوں کی طرح جکڑ لیا۔

Mirza Ghalib. Photo: INN
مرزا غالب۔ تصویر: آئی این این

ادھر کئی مہینوں سے مکان کی تلاش میں شہر کے بہت سے حصوں اور گوشوں کی خاک چھاننے اور کئی محلوں کی آب و ہوا کو نمونے کے طور پر چکھنے کا اتفاق ہوا تو پتہ چلا کہ جس طرح ہر گلی کے لیے کم سےکم ایک کم تول پنساری، ایک گھر کا شیر کتا، ایک لڑا کا ساس، ایک بد زبان بہو، ایک نصیحت کرنے والے بزرگ، ایک فضیحت پی جانے والا رند، اور حوائج ضروری سے فارغ ہوتے ہوئے بہت سے بچوں کا ہونا لازمی ہوتا ہے، اسی طرح کسی نہ کسی بھیس میں ایک ماہر غالبیات کا ہونا بھی لازمی ہوتا ہے اور بغیر اس کے گردوپیش کا جغرافیہ کچھ ادھورا رہ جاتا ہے۔
اچھا بھلا ایک مکان مل گیا تھا لیکن ابھی اس میں منجملہ اسباب ویرانی میرا لپٹا ہوا بستر بھی ٹھیک سے کھل نہیں پایا تھا کہ محلے کے ماہر غالبیات نے نہیں معلوم کیسے سونگھ لیا کہ میں سخن فہم نہ سہی غالب کا طرفدار ضرور ہوں اور مجھے اپنی غالبانہ گرفت میں ایک صید زبوں کی طرح جکڑ لیا۔ آتے ہی آتے انہوں نےغالب کے متعلق دوچار حیرت انگیز انکشافات کے بعد مجھے پھانسنےکے لئے ایک آدھ ہلکے پھلکے سوالات کر دیئے۔ اب میری حماقت ملاحظہ ہو، کہ دل ہی دل میں اپنے آپ کو بہت بڑاغالبؔ فہم سمجھتا،  میں نے ان کو نرم چارہ سمجھ کر ان پر دوچار منہ مار دیے یا یوں سمجھ لیجئے ان کی دم پر پیر رکھ دیا یعنی ان کے سامنے غالبؔ کو اپنے مخصوص زاویہ نگاہ سے پیش کرنے کی ’’سعی ٔلا حاصل‘‘ کر بیٹھا۔ مجھے کیا خبر تھی کہ میں کسی بارود کے خزانے کے قریب دیا سلائی جلانے کی کوشش کر رہا ہوں؟

یہ بھی پڑھئے: اجالے کا سفر

پھر کیا تھا، ’’آپ غالبؔ کو غلط سمجھے ہیں‘‘ چیخ کر ماہر غالبیات پھٹ تو پڑے مجھ پر اور میری معلومات میں اضافہ کرنے کیلئے فن غالبیات کی ایسی ایسی توپوں اور آتش فشانوں کے دہانے کھول دیے کہ میں سراسیمہ، مبہوت اور ششدر ہو کر ہمیشہ کے لئے عہد کر بیٹھا کہ اب آئندہ کسی اجنبی بزرگ کے سامنے حضرت غالبؔ کا نام اپنی زبان بے لگام سے ہرگز ہرگز نکلنے نہ دوں گا۔ دوسرے ہی دن سے ماہر غالبیات نے ’’آپ غالبؔ کو غلط سمجھے ہیں‘‘ کے عنوان سے میری باقاعدہ تعلیم شروع کردی۔ سویرے میں بستر ہی پر ہوتا کہ وہ ’’لذت خواب سحر‘‘ پردھاوا بولتے آپہنچتے اور پہلے غالبؔ کے کچھ انتہائی سنگلاخ اشعار پڑھ کر ان کے معنی مجھ سے پوچھتے، گویا میرا آموختہ سنتے اور پھر قبل اس کے کہ میں ایک لفظ بھی اپنی زبان سے نکال پاؤں، وہ ’’آپ غالبؔ کو غلط سمجھے ہیں‘‘ فرماکر ان کے معنی اور مطالب خود بیان کرنا شروع کردیتے اور پھر اپنی’’گل افشانی گفتار‘‘ سے جدت آفرینی، حسن تخیل، لطف بیان، شکوہِ  الفاظ، بلند پروازی، ندرت کلام بلکہ پھانس کو بانس اور رائی کو پہاڑ بنانے کے ایسے ایسے ’’گل کترتے‘‘ کہ میرے لئے ’’صاعقہ و شعلہ و سیماب‘‘ کا عالم ہو جاتا اور وہ خود غالب ہی کے اس شعر کی مجسم تفسیر بن کر رہ جاتے:
آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
اور پھر نوبت یہاں تک پہنچتی کہ میں داڑھی بنارہا ہوں اور وہ غالبؔ کا فلسفہ  ٔ حسن سمجھا رہے ہیں۔ میں کنگھا کر رہا ہوں اور وہ ’آرائش جمال سےفارغ نہیں ہنوز‘ میں مسئلہ ارتقا کو پروان چڑھتےدیکھ رہے ہیں۔ میں کپڑے بدل رہا ہوں اور وہ ہیولیٰ برق خرمن کا ہے خون گرم دہقاں کا، پڑھ پڑھ کر اور گاہے بگاہے انقلاب زندہ باد کا نعرہ لگا لگا کر غالبؔ کو ہندوستان کا سب سے پہلا انقلابی ثابت کر رہے ہیں۔ میں جوتے کی ڈوریاں باندھ رہا ہوں اور وہ ’بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لئے‘ والے مصرعے سے فضائے آسمانی پر اسپٹنگ چھوڑ رہے ہیں۔ میں ناشتہ کر رہا ہوں اور وہ ’’مے ہے یہ مگس کی قے نہیں ہے‘‘ دہرا دہرا کر غالبؔ کے علم الغذا پر کچھ اس انداز سے روشنی ڈال رہے ہیں کہ میرے منہ کا نوالہ حلق میں جانے سے انکار کر بیٹھتا ہے۔ میں دفتر جانے کیلئے سائیکل نکال رہا ہوں اور وہ غالبؔ کا فلسفہ ٔ عمرانیات بیان کر رہے ہیں۔ میں سائیکل پر بیٹھ چکا ہوں اور وہ شام کو دفتر سے میری واپسی پر غالبؔ اور ضبط تولید کے موضوع پر اپنے تازہ ترین الہامات کو مجھ پر نازل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’زبانوں میں کوئی تفریق نہیں ہے‘‘

شام کو ظہور پذیر ہوتے تو غالبؔ اور دوسرے شعراء کا موازنہ شروع فرمادیتے اور غالبؔ کے منہ لگنے والے دیگر تمام شعرءا کو قابل گردن زدنی قرار دے کر بھی جب تسلی نہ ہوتی تو غالبؔ کے مختلف شارحین کا پہلے سرکس پھر کشتی شروع کرا دیتے اور کافی دھرپٹخ کے بعد جب ہر شارح کافی پست ہو چکتا تو خود بھی اکھاڑے میں کود پڑتے اور فرداً فرداً ہر شارح کو پچھاڑتے اور پھر ہر شعر کے متعلق اپنی ایک انوکھی، اچھوتی اور عجوبۂ روزگار شرح کا آغاز کر دیتے جس کا انجام غالباً اس وقت تک نہ ہوتا جب تک میں اپنے ہوش و حواس کی قید و بند سے نجات پاکر وہاں نہ پہنچ جاتا جہاں سے خود مجھ کو میری خبر نہ آتی، یعنی بالکل ہی بے سدھ ہو کر اپنے بستر پر گرنہ جاتا۔
میں اکثر خواب میں دیکھتا کہ حضرت غالب ؔاپنا دیوان بغل میں دبائے بے تحاشہ چیختے ہوئے بھاگ رہے ہیں، ’’بچاؤ! بچاؤ! مجھے میرے شارحین اور ماہرین سے بچاؤ۔‘‘ اور ان کے پیچھے شارحین، ماہرین اور پرستاروں کا ایک غول بیابانی ان کا تعاقب کر رہا ہے جس کی قیادت ایک ڈنڈا لئے میرے محلے کے ماہر غالبیات کر رہے ہیں اور اپنے ساتھ مجھے بھی ایک زنجیر میں باندھے گھسیٹ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK