• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: گلاسیز ہونٹ، تاثرات کو تحریر میں بدلیں گے، ہند نژاد نوجوانوں کا کارنامہ

Updated: November 01, 2026, 12:52 PM IST | San Francisco

کمپیوٹر پر پیغام لکھنے کے لیے نہ کی بورڈ دبانے کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی آواز بلند کرکے بولنا پڑے گا۔ ہندوستانی نژاد نوجوان کاروباری افراد آرش یادو اور ارنو کمار کا اسٹارٹ اَپ The Subvocal Company ایسے اسمارٹ گلاسیز تیار کررہا ہے جو خاموشی سے ہونٹ ہلانے پر بننے والے الفاظ کو ڈجیٹل تحریر میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ کمپنی نے Y Combinator اور Afore Capital سمیت سرمایہ کاروں سے ۳ء۱؍ ملین ڈالر کی ابتدائی فنڈنگ حاصل کی ہے۔

Aarush Yadav and Arnav Kumar. Photo: INN
آرُش یادو اور ارنو کمار۔ تصویر: آئی این این

ٹیکنالوجی کی دنیا میں انسانی اور کمپیوٹر کے درمیان رابطے کا ایک نیا طریقہ متعارف کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آرش یادو اور ارنو کمار کا قائم کردہ اسٹارٹ اَپ خاموش گفتگو کو تحریر میں تبدیل کرنے والے پہننے کے قابل آلات تیار کررہا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد لوگوں کو ایسی سہولت فراہم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ دفتر، لائبریری، سفر یا کسی پُرسکون جگہ پر دوسروں کو پریشان کیے بغیر کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت کے نظام سے رابطہ کرسکیں۔ اس منصوبے کے لیے ۳ء۱؍ ملین ڈالر کی پری سیڈ فنڈنگ حاصل کی گئی ہے، جس میں Y Combinator اور Afore Capital کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی طریقۂ کار روایتی Voice Recognition سے مختلف ہے۔ عام طور پر آواز سے تحریر بنانے والے سافٹ ویئر مائیکروفون کے ذریعے بولے گئے الفاظ سنتے اور انہیں متن میں تبدیل کرتے ہیں، لیکن Subvocal کا نظام آواز ریکارڈ کیے بغیر کام کرنے کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ کمپنی کے مطابق چشمے میں موجود Radio Frequency (RF) سینسر چہرے اور بولنے سے متعلق عضلات کی انتہائی معمولی حرکات کو محسوس کرتے ہیں۔ جب صارف خاموشی سے ہونٹوں کو حرکت دے کر الفاظ بناتا ہے تو سینسر ان تبدیلیوں کو شناخت کرتے ہیں اور مصنوعی ذہانت کا نظام انہیں تحریر میں تبدیل کردیتا ہے۔ اس میں کیمرے یا مائیکروفون کے ذریعے ہونٹ پڑھنے یا آواز سننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھئے: ریپبلکن کے وسط مدتی انتخاب میں پیچھے رہنے پر ٹرمپ کا ایران پرحملہ زیرغور: رپورٹ

کمپنی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹیو آرش یادو نے سوشل میڈیا پر اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد لوگوں کو کی بورڈ استعمال کیے بغیر اور آواز نکالے بغیر کمپیوٹر پر لکھنے کی سہولت دینا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ پروٹوٹائپ خاموشی سے بنائے گئے الفاظ کو ۲۰۰؍ الفاظ فی منٹ سے زیادہ رفتار سے تحریر میں تبدیل کرسکتا ہے۔ یہ رفتار عام انسانی ٹائپنگ کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہونے کا دعویٰ ہے، لیکن اس کی آزادانہ جانچ اور مختلف صارفین کے لیے درستگی کے اعداد و شمار ابھی عوامی طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ صارف کو اپنے خیالات محض ذہن میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اسے الفاظ کو خاموشی سے ہونٹوں اور متعلقہ عضلات کی مدد سے ادا کرنا ہوگا۔ کمپنی کے مطابق یہ نظام غیر ارادی خیالات کو نہیں پڑھتا بلکہ صرف ان الفاظ کو شناخت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جنہیں صارف جان بوجھ کر خاموش انداز میں ادا کرتا ہے۔ اس طرح یہ Brain-Computer Interface کی روایتی ٹیکنالوجی سے مختلف ہے، جس میں دماغی سرگرمیوں کو براہِ راست سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’میں اب اسرائیلی ہونے پر فخر محسوس نہیں کرتی‘: اسرائیلی اداکارہ خیلی گولڈن برگ

آرش یادو اور ارنو کمار دونوں کمپیوٹر سائنس کے طالب علم رہے ہیں اور جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں۔ ان کا ابتدائی تجربہ فروری ۲۰۲۶ء میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے TreeHacks ہیکاتھون میں سامنے آیا، جہاں انہوں نے ایک ٹیم کے ساتھ عضلاتی اشاروں کو شناخت کرنے والے سینسرز، مشین لرننگ اور لسانی ماڈلز کی مدد سے ایک ابتدائی پروٹوٹائپ تیار کیا۔ اس تجربے کے بعد دونوں نے اس تصور کو باقاعدہ کاروبار میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور سان فرانسسکو میں کمپنی قائم کرکے اس پر کل وقتی کام شروع کردیا۔ اسٹارٹ اَپ کی فنڈنگ میں Afore Capital کا کردار نمایاں ہے۔ کمپنی کو ابتدائی مرحلے میں تقریباً 5 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ملی تھی، جبکہ Y Combinator کی جانب سے بھی تقریباً ۵؍ لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا گیا۔ دیگر سرمایہ کاروں کی شرکت کے بعد مجموعی فنڈنگ ۳ء۱؍ ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ کمپنی Y Combinator کے Fall 2026 بیچ کا حصہ ہے۔ یہ ادارہ دنیا کے معروف اسٹارٹ اَپ ایکسیلیریٹرز میں شمار ہوتا ہے اور ابتدائی مرحلے کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو سرمایہ، رہنمائی اور کاروباری نیٹ ورک فراہم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: الخلیل: اسرائیلی کارروائی میں بے گھر فلسطینیوں کیلئے شہریوں نے گھر کھول دیئے

کمپنی نے اپنے چشموں کے لیے پری آرڈر بھی شروع کردیے ہیں۔ اس کی ویب سائٹ پر عام قیمت ۶۹۹؍ ڈالر (تقریباً ۷۶؍ ہزار روپے) درج ہے، جبکہ پیشگی خریداروں کے لیے ۴۹۹؍ڈالر کی رعایتی قیمت پیش کی جارہی ہے۔ اس قیمت پر بکنگ کے لیے ۱۹۹؍ ڈالر کی قابلِ واپسی رقم جمع کرانا ہوگی، جبکہ باقی ۳۰۰؍ ڈالر بعد میں ادا کرنے ہوں گے۔ کمپنی نے ابتدائی ترسیل کا اندازہ ۲۰۲۷ء کی پہلی سہ ماہی دیا ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ مصنوعات کی تیاری جاری ہے اور وقت میں تبدیلی ممکن ہے۔ فی الحال پری آرڈر کی سہولت امریکہ میں دستیاب ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمال صرف پیغام رسانی تک محدود نہیں ہیں۔ صارف اس کے ذریعے ای میل لکھنے، نوٹس تیار کرنے، سلیک پر پیغامات بھیجنے اور ChatGPT یا دیگر AI ایجنٹس کو ہدایات دینے جیسے کام کرسکیں گے۔ خاص طور پر ایسے دفاتر میں جہاں آواز سے ٹائپنگ کرنا دوسروں کے لیے خلل کا باعث بن سکتا ہے، یہ نظام ایک متبادل فراہم کرسکتا ہے۔ تاہم اس کی حقیقی کامیابی کا انحصار طویل استعمال کے دوران درستگی، مختلف زبانوں اور لہجوں کی شناخت، آرام دہ استعمال اور روزمرہ کی ضروریات میں قابلِ اعتماد کارکردگی پر ہوگا۔ کمپنی نے ابھی تک ان تمام پہلوؤں کے آزادانہ ٹیسٹ نتائج جاری نہیں کیے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK