Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’یہ ناقابل فہم تھا کہ جو کتاب چھوٹی باجی پڑھ سکتی ہیں وہ میں کیوں نہیں؟‘‘

Updated: August 30, 2026, 3:02 PM IST | Saliha Abid Hussain | Mumbai

اپنی خود نوشت میں یہ سوال صالحہ عابد حسین نے کیا تھا جو خواجہ غلام الثقلین کی بیٹی، مولانا الطاف حسین حالی کی پڑنواسی اور اردو زبان کی مشہور و معروف مصنفہ، ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈراما نویس تھیں۔ اسی ماہ اُن کےیومِ پیدائش (آمد۱۸؍اگست ۱۹۱۳ء انتقال: ۸؍جنوری ۱۹۸۸ء) کی مناسبت سے ان کی یہ تحریر بعنوان ’’ کتابیں میری زندگی‘‘ ملاحظہ کیجئے جس میں انہوں نے بچپن ہی سے مطالعہ کے ذوق پر روشنی ڈالی ہے۔

According to Saleha Abid Hussain, she was less interested in prose and more in poetry. Photo: INN
صالحہ عابد حسین کے بقول انہیں نثر سے کم اور شعر سے زیادہ دلچسپی رہی۔ تصویر: آئی این این

’’مطالعہ کا لپکا کب پڑا، یہ یاد نہیں۔ ہوش سنبھالا تو اپنے کو کتابوں کا شیدا پایا۔ اماں کے پاس کتابیں تھیں۔ چھوٹی باجی کتابیں منگاتی بھی تھیں لائبریریوں سے اور خریدتی بھی تھیں۔ خالہ اماں کے گھر ایک پوری الماری کتابوں کی بھری موجود تھی۔ پھول، تہذیب نسواں، رسالہ خاتون، ظل السلطان (اُس دور کے ماہنامے) وغیرہ کسی نہ کسی بہن یا خالہ کے نام سے جاری تھے۔ بھائی جان کی کتابیں بھی اوپر کے کمرے کی الماری میں موجود تھیں مگر وہ ہمارے بس کی نہ تھیں۔ 
بھائی جان کو یہ شوق تھا کہ جو اچھی کتاب یا رسالہ ہمارے کام کا شائع ہو وہ بہنوں کے لئے خرید کر بھیجیں۔ میں تو خیر بہت چھوٹی تھی مگر چھوٹی باجی کے لئے یہ کتابیں آیا کرتی تھیں۔ کسی بھوکے کے سامنے اتنے خوانِ نعمت ہوں تو وہ کیسے بھوکا رہ سکتا ہے۔ دس بارہ سال کی عمر تک میں ہر قسم کی کتابیں جو میری راہ میں آئیں، پڑھ چکی تھی۔ بچوں کی کتابیں، لڑکیوں کی کتابیں، عورتوں کے لئے لکھی گئی کتابیں، عورتوں کی لکھی کتابیں، جاسوسی کتابیں (یہ شوق جلد دم توڑ گیا) ادبی کتابیں، شاعروں کے دیوان، مثنویاں، مسدس حالی وغیرہ جو بھی کتاب ہاتھ لگ جاتی، سمجھ میں آتی یا نہ آتی، پڑھتی ضرور تھی۔ بعض کتابوں کو ہمیں پڑھنا منع تھا۔ مگر میری سمجھ میں یہ بات نہ آتی تھی کہ جو کتاب چھوٹی باجی پڑھ سکتی ہیں وہ میں کیوں نہیں ؟ عمر میں بڑی ہیں تو ہوا کریں ۔ چنانچہ لُک چھپ کر شرر ؔ اور رسواؔ کے ہی ناول نہیں ، فسانہ آزادؔ تک پڑھا۔ کس طرح؟ یہ ہمارا دل ہی جانتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس وقت اس قسم کے ناولوں کا دس فیصد حصہ بھی پلے نہ پڑتا تھا۔ ہاں خواتین کی لکھی کتابیں اور ان کے لئے جاری کئے رسالے سمجھ میں آجاتے تھے۔ جنگل کی کہانی (یا زلفی)، جو امتیاز علی تاج نے انگریزی سے اخذ کرکے لکھی تھی بڑے شوق سے پڑھی تھی۔ 
عمر کے ساتھ شوق میں ترقی ہوتی گئی۔ ذوق بہترہوا، سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوئی، کہانیوں اور ناولوں کے ساتھ ساتھ شاعروں کو بھی پڑھنا شروع کیا۔ حالیؔ کو تو بہت بچپن سے پڑھا تھا۔ انیسؔ تو پڑھے اور سنے ہی جاتے تھے، مگر اب مسدسؔ اور بیوہ کی مناجاتؔ اور دوسری نظمیں سمجھ میں آتی تھیں اور انیسؔ کے سلام اور مرثیوں کو سمجھنا اور خود تکیہ پر بیٹھ کر پڑھنا شروع ہوچکا تھا۔ پھر اپنے شوق سے میں نے غالبؔ، میرؔ، حسرتؔ، فانیؔ، اختر شیرانیؔ وغیرہ کو پڑھنا شروع کیا۔ میرے پاس اس زمانے کی ایک کاپی ہے جس میں مَیں اپنی پسند کے شعر اور نظمیں غزلیں نقل کیا کرتی تھی۔ اس کاپی میں اقبال، حالی، غالب، حسرت، اختر شیرانی، فانی اور بعض شاعروں کی غزلیں، نظمیں، قطعات اور متفرق اشعار وغیرہ لکھے ہوئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بارہ تیرہ سال کی عمر میں میرا شعری ذوق و شوق خاصا وسیع ہوچکا تھا۔ ۲۸ء اور ۲۹ء میں والدہ اور بہن کی وفات کے بعد اس قسم کے حسب حال شعر اور نظمیں تلاش کرکے ان میں تصرف کرکے اور اپنا نام ڈال کر میں نے اس کاپی میں نقل کرکے گویا اپنے تڑپتے دل کو تسکین دینے کی کوشش کی ہے۔ پسندیدہ اشعار کہیں نہ کہیں لکھ لینے کا شوق کم و بیش ہمیشہ رہا، اب بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ڈاکٹر بانو سرتاج ادبِ اطفال کی دیویندر ستیارتھی تھیں‘‘

شادی کے بعد شعر و شاعری کے ذوق میں عابد صاحب کی صحبت میں وسعت پیدا ہوئی۔ اب صرف مذہبی یا اخلاقی اور اصلاحی چیزیں ہی نہیں دوسری قسم کے شاعروں کو بھی پڑھتی، سمجھتی اور اپنے اندر اس کا ذوق پیدا کرتی رہی۔ پھر ’’آنرز اِن اردو‘‘ کرنے کے زمانے میں تقریباً سبھی کلاسیکل شاعروں کو پڑھا۔ قلی قطب شاہ اور ولیؔ سے لے کر ذوقؔ، میرؔ، اقبالؔ، غالبؔ اور پھر موجودہ دور کے شاعروں کا بہت سا کلام پڑھا۔ غالبؔ اور اقبالؔ کے کلام کے بعض حصے اور ذوقؔ اور سوداؔ کے قصائد عابد صاحب نے خود پڑھائے۔ ریختی اور رنگین شاعری جو مجھے پسند نہ تھی وہ بھی پڑھی۔ اپنے دَور کے شاعروں کا کلام بھی (اچھے شاعروں کا) زیر مطالعہ رہا اور اب بھی رہتا ہے۔ موزوں اور ناموزوں کلام کو کان ہمیشہ سے پرکھ جاتے تھے مگر شعر کو پرکھنے اور برے اور اچھے شعر میں امتیاز کرنے کی پوری صلاحیت عابد صاحب کی صحبت میں حاصل کی۔ ان کا شعری مطالعہ بہت وسیع اور ذوق بہت بلند تھا۔ 
 مگر مجھے نثر سے کم اور شعر سے زیادہ دلچسپی رہی۔ سب سے زیادہ تو ناول، کہانیوں اور ڈراموں سے۔ پھر دل پر جبر کرکے دائرہ وسیع کیا۔ تاریخ ادب اردو، تنقید کی کتابیں، سوانح عمریاں، ادبی کتابیں، ادبی مضامین، کچھ علمی کتابیں بھی پڑھنی شروع کیں۔ عابد صاحب کے دقیق اور علمی کتابوں کے ترجمے بھلا کیسے نہ پڑھتی بلکہ کئی ترجمے تو خود میں نے ان کے ساتھ لکھوائے ہیں۔ سیدین صاحب، ذاکر صاحب، مجیب صاحب کی کتابیں پڑھیں۔ مذہبی یا نیم مذہبی کتابوں سے مجھے خود بھی کافی دلچسپی تھی۔ اس سلسلہ میں مَیں نے مولانا مودودی اور کئی شیعہ عالموں کی کتابوں کا بھی مطالعہ کیا۔ دل کی گیتا (بھگوت گیتا کا ترجمہ بہ خواجہ دل محمد) بھی پڑھی۔ سیدین صاحب کی یہ کوشش رہتی تھی کہ میں سنجیدہ کتابیں تو پڑھتی رہوں، ساتھ ہی انگلش کی کتابیں پڑھنے کی چاٹ بھی انہوں نے ہی مجھے لگائی۔ بچپن میں مجھے انگریزی قصے سناتے اور بتاتے کہ یہ فلاں کتاب میں ہے، فلاں نے لکھا ہے۔ پھر انہوں نے انگریزی کی آسان کتابیں مجھے لا کر دینی شروع کیں۔ عابد صاحب نے بھی کچھ سہارا دیا مگر وہ کہتے تھے کہ ڈکشنریوں سے مدد لو۔ وہ میرے بس کی چیز نہ تھی۔ میری انگلش کی تعلیم ناکافی تھی مگر مطالعہ کی چاٹ نے مجھے انگریزی کے ناول، کہانیاں اور ڈرامے جن میں سے بیشتر کلاسیک ہیں (ان میں شیکسپئر شامل نہیں، اسے میں نے اردو ترجموں ہی سے جانا ہے) پڑھوا ڈالے۔ ’لٹل وومن‘ سے شروع کیا اور ڈکنس، ٹالسٹائی، چیخوف، ترگینف، برناڈ شاہ، شارلٹ برانٹی، جین آسٹن، پریسلے، ارونگ اسٹون اور جانے کتنے بہت سے انگلش میں لکھنے والے یا اس میں ترجمہ ہونے والے مصنفوں کو پڑھتی رہتی ہوں۔ ٹیگورؔ، سرت چندر اور کئی بنگالی اور ہندوستان کی دوسری زبانوں کے مشہور مصنفوں کو بھی میں نے انگریزی میں زیادہ پڑھا ہے۔ اردو میں ترجمے اول تو ہوتے کتنے ہیں اور ہوتے ہیں تو اکثر بہت خراب انگریزی ہوتی ہے۔ بلامبالغہ میں نے سیکڑوں کتابیں پڑھی ہیں ، کچھ پوری سمجھ کر، کچھ ادھوری اور کچھ اٹکل سے مطلب نکال کر۔ رفتہ رفتہ اتنا محاورہ ضرور ہوگیا ہے کہ اب و ہ زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آنے لگی ہیں۔ مثلاً بیس برس پہلے میں نے ڈیوڈ کوپرفیلڈ پڑھی تھی تو جانے کیا سمجھ میں آیا تھا۔ پچھلے دنوں اسے دوبارہ پڑھا اور بے حد لطف آیا۔ میرا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میرا انگریزی کا مطالعہ کوئی قابل ذکر ہے۔ ظاہر ہے کہ زبان جاننے والا صرف ناول، کہانیاں، ڈرامے نہیں پڑھتا اور بھی بہت کچھ پڑھنے کو اس بے مثال زبان میں موجود ہے۔ میں تو اپنے شوق کےہاتھوں اس کٹھن زبان (جی ہاں یہ میرے لئے بہت کٹھن رہی ہے) کی کتابوں کو پڑھتی اور ان سے کچھ جواہرات چنتی رہی ہوں۔ رہی اردو، تو وہ میری مادری زبان ہے، میری محبوب ہے، میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔ میں نے اس میں ہزاروں صفحے لکھے ہیں، لاکھوں پڑھے بھی ہیں۔ اردو کی اتنی کتابیں پڑھی ہیں جن کی گنتی یاد نہیں رہ سکتی۔ ان میں اچھی بھی تھیں، بہت اچھی بھی۔ معمولی بھی، بری بھی۔ اکثر کتابوں کو میں نے بار بار پڑھا ہے یعنی سال دو سال بعد، مثلاً دس پانچ سال بعد منشی پریم چندر، ٹیگور یا سرت چندر یا رسوا یا بعض دوسرے ادیبوں کے عمدہ ناول وغیرہ۔ (کبھی خود اپنی تحریریں بھی) ایک بار اور پڑھ کر دل خوش کرلیتی ہوں کہ بری کتاب سے بہرحال پرانی کتاب اچھی ہوتی ہے۔ لیکن میں بہت معمولی یا آج کل کے نوجوانوں کی زبان میں ’’پھُریری‘‘ کتابیں (ناول وغیرہ) بھی پڑھ لیتی ہوں۔ اس لئے بھی کہ دیکھوں تو کہ یہ نوجوان مرد عورت کہتے کیا ہیں ؟ مگر زیادہ تر ان میں یا تو حسن و عشق کے وہی گھسے پٹے افسانے ہوتے ہیں یا پھر آج کل کے نہ سمجھ میں آسکنے والے الجھے ہوئے خیالات۔ مگر جس طرح لوگ تھکے دماغ کو سکون دینے کے لئے جاسوسی قصے پڑھ لیتے ہیں اسی طرح یہ ہلکے پھلکے یا ’’بے معنی‘‘ ناول پڑھ لیتی، اگرچہ صبح تک کچھ یاد نہیں رہتا کہ اس میں تھا کیا؟ جاسوسی ادب میں مجھے شرلاک ہومز پسند ہے، اُسے میں نے انگریزی اور اردو دونوں میں پڑھا ہے اور بہرام کی گرفتاری، چوروں کا کلب کو بھی شوق سے پڑھا کرتی تھی۔ مگر ویسے جاسوسی ناولوں کا شوق کسی طرح پیدا نہ کرسکی۔ عابد صاحب نے بہت چاہا، ’’چھوٹے‘‘ نے بہت کوشش کی، دوچار کتابیں پڑھیں بھی مگر لطف نہ آیا۔ وقت ضائع ہوا وہ الگ۔ (طویل مضمون سے)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK