Updated: August 30, 2026, 4:08 PM IST
| New Delhi
اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نفاذ کو تقریباً ایک دہائی مکمل ہونے کے بعد ہندوستان کا بالواسطہ ٹیکس نظام اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جی ایس ٹی کونسل کا ۵۷؍واں اجلاس ہندوستان کے بالواسطہ ٹیکس نظام کی ترقی میں ایک اہم مرحلہ ثابت ہوسکتا ہے۔
جی ایس ٹی۔ تصویر:آئی این این
اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نفاذ کو تقریباً ایک دہائی مکمل ہونے کے بعد ہندوستان کا بالواسطہ ٹیکس نظام اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جی ایس ٹی کونسل کا ۵۷؍واں اجلاس ہندوستان کے بالواسطہ ٹیکس نظام کی ترقی میں ایک اہم مرحلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ اجلاس میں صرف ٹیکس شرحوں کو معقول بنانے کے بجائے ٹیکس تنازعات کم کرنے، ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کے نظام کو مضبوط بنانے، پرانے ٹیکس کریڈٹ سے متعلق مسائل حل کرنے اور ٹیکنالوجی پر مبنی کمپلائنس نظام تیار کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
گرانٹ تھورنٹن بھارت کے پارٹنر اور ٹیکس ڈسپیوٹ مینجمنٹ کے سربراہ منوج مشرا کے مطابق جی ایس ٹی کے دوسرے عشرے میں داخل ہونے کے موقع پر یہ اجلاس انتہائی اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی کونسل کی اگلے مرحلے کی اصلاحات میں سب سے زیادہ ضرورت ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد، وضاحت اور آسانی پیدا کرنے کی ہے۔ اسی سمت میں چھ بڑی اصلاحات اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اہم شعبوں میں سے ایک جی ایس ٹی سے متعلق مقدمات اور تنازعات کو کم کرنا ہے۔ جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد مختلف شعبوں میں بڑی تعداد میں ٹیکس تنازعات سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:جاپان: ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی میں ۱۱؍ سالوں میں پہلی بار پیدائش میں اضافہ
خاص طور پر آن لائن گیمنگ انڈسٹری میں گیمز کرافٹ کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تقریباً ۵ء۲؍ لاکھ کروڑ روپے کی ممکنہ ٹیکس ڈیمانڈ کا معاملہ زیر بحث ہے۔صنعت کا موقف ہے کہ وہ کئی برسوں سے رائج قانونی تشریح کے مطابق پلیٹ فارم فیس پر ۱۸؍ فیصد جی ایس ٹی ادا کرتی رہی ہے۔ ایسے میں جی ایس ٹی کونسل مستقبل میں اس طرح کے معاملات کے حل کے لیے واضح طریقہ کار متعارف کراسکتی ہے، جس سے طویل قانونی تنازعات میں کمی آئے گی۔
ایک اور اہم شعبہ ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (آئی ٹی سی ) ہے۔ موجودہ نظام میں خریدار کا ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کئی مرتبہ اس بات سے منسلک ہوجاتا ہے کہ فروخت کنندہ نے حکومت کو ٹیکس جمع کرایا ہے یا نہیں۔اس صورتحال کی وجہ سے دیانتدار ٹیکس دہندگان کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ وہ اپنے سپلائر کی ٹیکس کمپلائنس کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کرسکتے۔ اگر خریدار کے پاس درست ٹیکس انوائس ہو، اس نے ادائیگی بینکنگ ذرائع سے کی ہو اور وہ کسی ملی بھگت میں شامل نہ ہو تو اسے قانونی تحفظ ملنا چاہیے۔ اس سے تنازعات کم ہوں گے اور جی ایس ٹی کا بنیادی تصور مزید مضبوط ہوگا۔
یہ بھی پڑھئےنکھل اڈوانی کی تاریخی ڈرامہ سیریز ’’دی ریوولوشنریز‘‘ ۱۱؍ ستمبر کوریلیز ہوگی
کئی صنعتیں اب بھی کمپنسیشن سیس (Compensation Cess) سے متعلق کریڈٹ اور ایڈجسٹمنٹ کے مسائل پر وضاحت چاہتی ہیں۔فروری ۲۰۲۶ء سے بعض اشیا پر کمپنسیشن سیس ختم کرنے کی سفارش کے بعد کمپنیاں پرانے کریڈٹ کے استعمال اور تصفیے کے حوالے سے یقین دہانی چاہتی ہیں۔جی ایس ٹی کونسل اس معاملے پر واضح رہنما اصول جاری کرسکتی ہے، جس سے صنعتوں کے زیر التوا خدشات دور ہوں گے۔
پیٹرول، ڈیزل، ایوی ایشن فیول اور قدرتی گیس اب بھی جی ایس ٹی کے دائرے سے باہر ہیں۔ اس کی وجہ سے ٹیکس کا بوجھ مختلف سطحوں پر بڑھ جاتا ہے اور سپلائی چین میں ٹیکس پر ٹیکس کا اثر برقرار رہتا ہے۔ان مصنوعات کو مرحلہ وار جی ایس ٹی کے دائرے میں شامل کرنے سے مینوفیکچرنگ، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس شعبوں کی لاگت کم ہوسکتی ہے اور مربوط ٹیکس نظام مزید مضبوط ہوسکتا ہے۔ تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی ڈجیٹل معیشت ایک اور اہم شعبہ ہے جہاں کاروباری ادارے زیادہ وضاحت چاہتے ہیں۔