حال ہی میں سبکدوش ہونے والے ایسے تجربہ کار اساتذہ سے گفتگو جنہوں نے اپنی تمام مدتِ تدریس طلبہ کو اُردو زباندانی سکھانے میں صرف کی.
EPAPER
Updated: April 06, 2026, 1:23 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai
حال ہی میں سبکدوش ہونے والے ایسے تجربہ کار اساتذہ سے گفتگو جنہوں نے اپنی تمام مدتِ تدریس طلبہ کو اُردو زباندانی سکھانے میں صرف کی.
زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے۔ ٹیکنالوجی سے لے کر زبان و ادب اور تدریس تک سبھی پر اس کے اثرات پڑ رہے ہیں۔ آج سے ۲؍ یا ۳؍ دہائی قبل اردو زباندانی کی تدریس، اس کا نصاب اورطلبہ کارجحان جو اس وقت تھا وہ آج نہیں ہے۔ آج کا دور بالکل مختلف ہے اور اس کا اثر اردو زباندانی کی تدریس پر بھی بلاشبہ پڑا ہے۔ پہلے زبان کی تدریس آسان مرحلہ نہیں تھی۔ اردو کے کلاسیکی سرمائے سے لےکر جدید دور کے ادب تک سب کچھ ایک ٹیچر کے ذہن میں ہوتا تھا۔ اسی کے مطابق اردو کی تدریس ہوتی تھی لیکن ا ب حالات تبدیل ہو گئے ہیں۔ اُس دور میں اور آج کے دور میں اردو زباندانی کی تدریس میں کیا فرق آیا ہے ؟ یہ جاننے کیلئے ہم نے اس دشت کی برسوں تک سیاحی کرنے والے کچھ سینئر اساتذہ سے گفتگو کی۔ واضح رہے کہ یہ اساتذہ حال ہی میں وظیفۂ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے ہیں لیکن اردو کی تدریس کا ان کا تجربہ اب بھی تازہ ہے اور ان کی زبانوں پر اب بھی طلبہ کی بہتری کے کلمے ہیں۔
فاروق ہائی اسکول برائے طالبات جوگیشوری ممبئی سے چند ماہ قبل ہی سبکدوش ہونے والی معروف معلمہ اور کالم نگار شیخ فرزانہ شاہد نے ہمیں بتایا کہ ’’اردو کے ماضی کے نصاب کی بات کریں تو ہم بلاشبہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ بہت معیاری تھا اسی وجہ سےطلبہ میں شعری و افسانوی صلاحیتیں پروان چڑھتی تھیں۔ بہت سے طلبہ اچھے رائٹر بھی بنتے تھے اوراس نصاب کے تحت پڑھی گئی نظمیں، غزلیں یا دیگر کلام تاعمر یاد رہتا ہے۔ ‘‘ فرزانہ شاہد جنہوں نے تقریباً ۳۵؍سال تک اپنے اسکول میں اردو کی تدریسی خدمات انجام دیں، کہتی ہیں کہ ماضی کا نصاب اور پڑھانے کا طریقہ دونوں ہی بہت شاندار ہواکرتے تھے۔ ہم نے جن اساتذہ سے پڑھا انہی کے طریقے کو اپنے تدریسی دور میں اپنانے کی کوشش کی۔ چونکہ نصاب مشکل ہوا کرتا تھا اس لئے تیاری بھی زیادہ کرنی پڑتی تھی لیکن اس کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ ہماری معلومات میں اضافہ ہوتا، ہمیں زائد چیزیں پڑھنے کو ملتیں جس سے ہم طلبہ کو زیادہ بہتر طریقے سے پڑھانے کے قابل ہوجاتےلیکن نئے نصاب میں بہت آسانیاں رکھ دی گئی ہیں۔ فرزانہ شاہد کے مطابق نیا نصاب وقت کے ساتھ تبدیل ہوا اور اسے نئے زمانے کا بنانے کی کوشش بھی کی گئی ہے لیکن ہمیں طلبہ کی جو کھیپ مل رہی ہے وہ بہت کمزور ہے۔ آج سے ۲۰؍ سال قبل تک ۷؍ویں یا آٹھویں کا بچہ اردو زبان کے بہت سے الفاظ کے معنی اور تلفظ سے واقف ہوتا تھا لیکن آج دسویں کے طالب علم کی اردو کی استعداد پانچویں کے طالب علم کے برابر بھی نہیں رہ گئی ہے اس کے باوجود ہمیں ناامید نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ تدریس اب نئے دور کے مطابق ہی کرنی ہو گی۔ دوران گفتگو انہوں نے ایک بات یہ بھی کہی کہ آج کےبچے ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بہت تیز ہیں۔ ایسےمیں ضروری ہے کہ اساتذہ انہیں ٹیکنالوجی کی مدد سےبھی پڑھائیں اور اردو کے قواعد، شعر و شاعری اور دیگر ضروری چیزوں سے واقف کرائیں۔
یہ بھی پڑھئے: جگر کے نغمے زندہ رہیں گے
صلاح الدین ایوبی میموریل اسکول بھیونڈی سے کچھ عرصہ قبل سبکدوش ہونے والے اردو کے استاذ انصاری عبد المجید سرکہتے ہیں کہ ’’ماضی کی تدریس اور آج کی تدریس میں کافی فرق آگیا ہے۔ پہلے کلاس روم میں ٹیکنالوجی نہیں تھی۔ استاد کو بلیک بورڈ پر ہی تمام محنت کرنی ہوتی تھی۔ اسی وجہ سےآڈیو ویژول ذریعہ نہ ہونے کے باوجود اس دور کے اساتذہ اپنے طلبہ کے ذہنوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ آج کے دور کے اساتذہ بھی محنتی ہیں لیکن وہ معدودے چند ہیں۔ ‘‘ عبدالمجید سر کے مطابق جہاں تک نصاب کی بات ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ آج سے ۲۰؍ یا ۳۰؍ سال قبل جو نصاب پڑھایا جاتا تھا اس میں اردو کے کلاسیکی ادب کا بہت وافر ڈوز ہوا کرتا تھا۔ اس سے طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ بھی محظوظ ہوتے تھے۔ مجید سر نے کوئی لاگ لپیٹ نہ رکھتے ہوئےواضح طور پر کہا کہ اب نصاب کے معیار میں کمی آئی ہے اور اس کا اثر اساتذہ پر بھی پڑتا ہے اور طلبہ پر بھی۔ نصاب کے لئے شعراء اور مصنفین کے انتخاب میں بھی گراوٹ آئی ہے۔ پہلے زیادہ زورعالمی شہرت یافتہ ادیبوں کے فن پاروں پر ہوتا تھا لیکن اب علاقائی اور سماجی مساوات پر زور دیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ظاہر سی بات ہے جس درجہ کا نصاب ہونا چاہئے وہ نہیں بن پا رہا ہے۔ حالانکہ مجید سر نے نصاب کے تعلق سےیہ مثبت بات بھی کہی کہ نئے نصاب میں ادب کی مختلف اصناف کو ان کی قسموں کےمطابق ترتیب دیا گیا ہے جس سے طلبہ کو ان اصناف میں فرق کرنے میں آسانی ہو رہی ہے لیکن اس کے علاوہ معیار متاثر ہوا ہے۔ مجید سر نے ان حالات کے لئے جہاں سماجی عوامل کو ذمہ دار ٹھہرایا وہیں ٹیچروں کی تنخواہوں میں بے تحاشہ اضافہ کو بھی موردالزام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پے کمیشنوں نے اس پیشے میں پیسہ کو ضرورت سے زیادہ اہمیت فراہم کردی ہے۔ جب پیسے کی اتنی ریل پیل ہوگی تو پھر تعلیم و تدریس کا معیار متاثر تو ہو گا۔
صافیہ گرلزہائی اسکول بھیونڈی سے چند ماہ قبل سبکدوش ہونے والی معلمہ، کالم نگار اور کریئر کونسلر شاداب مومن نےہمارے سوالوں کے جواب میں کہا کہ’’ ماضی اور آج کے تدریسی معیار میں فرق تو آیا ہے جو واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ وہاٹس ایپ یونیورسٹی نے طلبہ کے معیار کو تو تباہ کیا ہی ہے سوشل میڈیا کی ریٖلز نے اساتذہ کا بھی بیڑہ غرق کیا ہے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پرانے دور میں طلبہ اردو پڑھنا چاہتے تھے اور ان میں وہ ذوق بھی ہوتا تھا جس کی وجہ سے اساتذہ کو بھی دلچسپی سے پڑھانے میں لطف آتا تھا جبکہ اس کے لئے ویسا نصاب بھی دستیاب تھا لیکن اب طلبہ اردو پڑھنا ہی نہیں چاہتے ہیں ۔ ان کا پورا دھیان ٹیکنالوجی والے مضامین پر لگ گیا ہے۔ ایسے میں اگر اساتذہ محنت کریں بھی تو کیسے کریں ؟ پھر مسئلہ نصاب کا بھی ہے جو ماضی کے مقابلے میں نئے زمانے کی ضروریات کے مطابق قرار دیا جاتا ہے لیکن اس میں وہ کشش نہیں ہے کہ طلبہ اور اساتذہ دونوں کو اپنی جانب کھینچے۔ شاداب مومن کے مطابق پہلے اردو کے لئے فضا سازگار بھی تھی اور خوشگوار بھی لیکن آج صرف سازگار فضا رہ گئی ہے خوشگواری ختم ہو گئی ہے۔ شاداب مومن نے مثال دے کر سمجھایا کہ پہلے نصاب میں ’’ابو خاں کی بکری ‘‘ جیسی کہانی تھی جسےپڑھانے کیلئے اور پھر سمجھانے کیلئے ایک ٹیچر کو بھرپور محنت کرنی پڑتی تھی اور اس کا صلہ بھی اسے ملتا تھا کیوں کہ بہت سے طلبہ کہانیاں پڑھنے، لکھنے یا ادب کی دیگر اصناف کی جانب راغب ہوتے تھے لیکن اب اس جیسی بیشتر کہانیوں کو ہٹادیا گیا ہے۔ تقریباً ۳۲؍ برس تک اردو کی تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہونے والی شاداب مومن کے مطابق آج بھی محنتی ٹیچرس موجود ہیں ، وہ پڑھانا چاہتے ہیں لیکن انہیں اتنے سارے غیر تدریسی کاموں میں الجھادیا گیا ہے کہ انہیں پوری یکسوئی سے پڑھانے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اردو کی تدریس اور طلبہ کی صلاحیت کے معاملے میں شہروں میں تو حالات غنیمت ہیں لیکن گائوں کے اسکولوں میں جو حالات ہیں ان کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ ان حالات کے باوجود ہم مایوس نہیں ہیں بلکہ پُر امید ہیں کہ یہ تبدیل ہوں گے۔