Inquilab Logo Happiest Places to Work

محاسن ِکلامِ داغ دہلوی، زبان و محاورہ

Updated: May 31, 2026, 11:22 AM IST | Syed Zameer Hasan | Mumbai

گزشتہ دنوں (۲۵؍ مئی کو) داغ دہلوی کا ۱۲۵؍ واں یوم ولادت تھا۔ اس باکمال شاعر کو اس لئے یاد کرنا اور اس سے سیکھنا چاہئے کہ اس نے زبان کے تحفظ اور فروغ کیلئے بڑا کام کیا ہے۔

Daagh Dehlavi. Photo: INN
داغ دہلوی۔ تصویر: آئی این این

ادب اور شاعری کو مختلف طبقاتِ انام سے قریب تر لانے کے لئے زبان کو سادہ اور سریع الفہم بنانا ضروری ہے۔ ایسی صورت میں اظہارِ خیال اور ادائے مطلب میں پیچیدگی سے بچنے کیلئے بول چال کی زبان، روزمرہ اور محاورے کا استعمال ناگزیر ہوجاتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ روزمرہ اور محاورہ بندی کا نام شاعری نہیں لیکن جو شاعری صرف ایک محدود مخصوص طبقے کیلئے نہ ہو اس میں روزمرہ اور محاورے کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ محاورات وہ ننھے مرقعے ہیں جو کسی سماج کے تجربات، تصورات اور تاثرات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ عوام کیلئے ان میں وہی مجاز و مبالغہ، تشبیہ و تمثیل، مصوری و محاکات اور رمزیت و اشاریت ہوتی ہے جو تربیت یافتہ ذہنو ںکے لئے حسین استعاروں، لطیف تشبیہوں اور معنی خیز تراکیب و الفاظ میں نظر آتی ہے۔ زبان کی خوبی ، اس کی سلاست، عام فہمی، نرمی، موزونی، چھوٹے چھوٹے الفاظ اور بڑے بڑے مطالب پر موقوف ہے۔ عام لوگوں کی زبان کو پایہ  ٔ اعتبار سے گرانا زبان کے زوال اور عدم مقبولیت کا سبب بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’مگر اُس دریچے سے پوچھنا وہ درخت اَنار کا کیا ہوا‘‘ ڈاکٹر بشیر بدر کی رحلت، ہر خاص و عام مغموم

داغؔ دہلوی کے یہاں مجموعی حیثیت سے وہ زبان اور لہجہ ملتا ہے جو بنیادی طور  پر اردو بولنے والوں کی قدرتی زبان او رلب و لہجہ ہونا چاہئے۔ داغؔ کے اکثر اشعار اور مصرعے ایسے ہیں جن میں بول چال کی زبان بالکل اُسی ترکیب اور ترتیب  الفاظ کے ساتھ ملتی ہے جیسا کہ ہم بولتے ہیں یا اُس زمانے کی دہلی میں لوگ بولتے تھے۔ ان کے بہت سے مصرعے اور شعر تو ضرب المثل بن گئے ہیں اور اُنہیں پڑھتے ہوئے یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ وزن اور شعر کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:

جب جوانی کا مزا جاتا رہا/زندگانی کا مزا جاتا رہا

کوئی نام و نشاں پوچھے تو اے قاصد بتا دینا

تخلص داغؔ ہے اور عاشقوں کے دل میں رہتا ہوں

یہ کیا کہا کہ داغؔ کو پہچانتے نہیں

وہ ایک ہی تو شخص ہے تم جانتے نہیں

داغؔ کی شکل دیکھ کر بولے/ایسی صورت کو پیار کون کرے

دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں/جانے والی چیز کا غم کیا کریں

زندگی اور اس زمانے کی/ؕایسے جینے کا کچھ مزا بھی ہے

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا

داغؔ کے کلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ الفاظ کی ترتیب اور نشست ایسی ہوتی ہے کہ اکثر و بیشتر اُس کی نثر نہیں کی جاسکتی۔ کہنے اور سننے میں تو یہ بات شاید زیادہ مشکل معلوم نہ ہو مگر اسے برتنے میں جو ہفت خواں طے کرنے ہوتے ہیں ان کا اندازہ کرنا بھی دشوار ہے۔ داغؔ کی شاعری میں داخلی عناصر کی شمولیت، لب و لہجہ کی نرمی و نغمگی ، شوخی اور رنگارنگی، سوز و ساز، ایک ہلکی پھلکی کیفیت اور محاورات اور روزمرہ کا حسن استعمال ایسی چند خوبیاں ہیں جو  اُنہیں اردو کے دوسرے شعراء سے ممتاز کرتی ہیں اور اُن کی مقبولیت ِ عامہ کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ داغؔ نے اردو شاعری کو ایک مخصوص رنگ و آہنگ دیا جس میں سوز و ساز کی دھیمی کیفیت، ارضیت و نشاط کی طرف ایک میلان، داخلی خارجیت کے ساتھ لطف ِ زبان کی طرف رغبت اور خلوص ِ جذبات پر چھا جانے والی شوخی ٔ تحریر ، الفاظ کی ماہیت، طرز بیان کی قوت اور زبان کی قدرت و قیمت کا احساس بیک وقت موجود ہے۔ داغؔ کی رنگینی ٔ طبع، شوخی ٔ مزاج، لب و لہجے کا تیکھا پن اور گرمی ٔ گفتار دبستانِ شاعری میں ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے جس کی نظیرؔ نہ داغ سے پہلے کہیں دکھائی دیتی ہے اور نہ داغؔ کے بعد اُسے کوئی اُن کی طرح اپنا سکا۔ اردو محاوروں کو پھیلانے، اُن کی نوک پلک درست کرنے اور زبان و شعر میں ان کے حسنِ استعمال کو رواج دینے میں داغؔ نے بہت نمایاں حصہ لیا۔ اسی نسبت سے ان کی شاعری اُن لوگوں کے درمیان مقبول ہوئی جو لطف ِ زبان کے عاشق تھے۔ دلی والے اپنے روزمرہ اور محاورے پر کس قدر ناز کیا کرتے تھے اور فارسی لغات و تراکیب پر  اسے کس حد تک ترجیح دیتےتھے اس کا  اندازہ دلی کی پوری لسانی تاریخ کے مطالعہ سے کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ سعداللہ گلشنؔ کے اُن مشوروں سے جو انہوں نے ولیؔ کو دیئے تھے، دہلی کے ادبی مذاق اور لسانی مزاج کا پتہ چلتا ہے۔ شاہ حاتمؔ نے اپنے منتخب دیوان کے مقدمے میں جو کچھ کہا ہے اُس سے بھی اس امر کا تعین ہوجاتا ہے کہ زبان و بیان کے بارے میں دہلی کا نقطہ ٔ نظر کیا رہا ہے۔ معانی کے مقابلے میں الفاظ کے املا، ہجا اور صوتی آہنگ کی اہمیت محاورے اور روزمرہ کی قدر و قیمت، الفاظ کی مقبول اور مروجہ صورتیں ہی دہلی والوں کے نزدیک توجہ طلب اور ترجیح کا مرکز رہی ہیں۔ اُنہی کو زبان کے صحیح اور فصیح ہونے کا مدار مانا گیا ہے۔ چنانچہ میرؔ کا قمرالدین منتؔ سے یہ کہنا کہ ’’سید صاحب اردوئے معلی خاص دلی کی زبان ہے، آپ اس میں تکلیف نہ کیجئے، اپنی فارسی وارسی کہہ لیا کیجئے‘‘ اور اہل لکھنؤ سے اپنا کلام نہ سنانے کی معذرت کے طور پر کہنا کہ ’’میرے کلام کے لئے فقط محاورۂ اہلِ اردو ہے یا جامع مسجد کی سیڑھیاں‘‘ اسی روایت کے تسلسل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برگزیدہ برگد

اصلاحِ زبان کا یہ جذبہ دہلی سے لکھنؤ منتقل ہوا۔ اہل لکھنؤ کے لسانی نقطۂ نظر میں وقتی طور پر کچھ خاص حالات  کے تحت ایک گونہ شدت پیدا ہوگئی جس کا اظہار ناسخؔ کی زبان سے شعر میں ہوا ہے لیکن صحت زبان اور فصاحت ِ بیان کی اہمیت پر زور دینے کے باوصوف اسلوب کے معاملے میں اہل لکھنؤ خاصے روادار رہے ہیں۔ اس کے برعکس اہل دہلی کے یہاں زبان کی مرکزیت کا جو خیال متقدمین کے عہد میں پیدا ہوا تھا اسے رفتہ رفتہ ایک ادارے کی حیثیت حاصل ہوگئی اور  وہ دہلوی شاعری اور دہلوی نثر کی بنیاد بن گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ دہلی کے دبستان شاعری کی روایتی خصوصیات کو دہلی سے وہ تعلق نہیں جو اردو شاعری اور اردو ادب کی ایک دوسری روایت کو ہے ، یہ روایت زبان کی روایت ہے اور داغؔ اس روایت کے مستحکم، مہتم  بالشان،  منفرد، پہلے اور آخری کامیاب شاعر ہیں جن کی تقلید غالبؔ کی نثرنگاری کی مانند امکانی حدود سے خارج ہے۔ داغؔ کا اندازِ بیان دلی اور خاص دلی والوں کا اندازِ بیان ہے۔ وہ لب و لہجے کے اتار چڑھاؤ، محاورات کی تہذیبی اور طلسمی اثرآفرینی اور بولی ٹھولی کی جادوگری سے خوب واقف ہیں۔ داغؔ کے طرزِ بیان میں مجموعی طور پر جو شیرینی، شگفتگی اور گھلاوٹ ہے وہ خاص اُن کی طبیعت کا رنگ ہے۔ لفظ، تجربات، تاثرات اور مشاہدات کے اظہار کا  خارجی وسیلہ ہیں۔ ان میں وجدان کو متاثر کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن الفاظ سے حسن کا جادو تب ہی جگایا جاسکتا ہے جب تجربات میں رعنائی اور دلکشی موجود ہو اور مزاج میں جمالیاتی احساس پایا جاتا ہو۔ 

داغؔ رنگا رنگ اور باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے۔ نہایت ذہین اور طباع تھے اسی لئے انہو ںنے اپنا راستہ الگ نکالا اور اس میں اتنی جاذبیت اور کشش پیدا کی کہ اس نے اردو غزل گو شعراء کی کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ داغؔ نے غزل کو ایک نئے موڑ پر لاکھڑا کیا۔ داغؔکی شاعری محض فن نہیں، ایک ادارہ ہے۔ یہ اپنے دور کے سماجی اور ثقافتی تقاضوں کی ترجمانی کرتا ہے اور اس کی ایک تاریخی حیثیت ہے۔ داغؔ کی شاعری کا  مشن تھا تمام عمر دہلی کی شستہ و رفتہ زبان کی شیرینی، حلاوت اور لوچ سے تمام ہندوستان کے کام و دہن کی ضیافت کرنا، اس شائستہ زبان کو عوام و خواص میں مقبول بنانا، دہلی کے محاورے اور روزمرہ کا عموماً اور اردوئے معلی کا خصوصاً اپنے کلام میں استعمال کرکے انہیں دوام بخشنا۔ انہوں نے اردو زبان کی گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اجالے کا سفر

فراقؔ صاحب لکھتے ہیں:

’’داغ کی زبان میں فلیتے بھرے ہوئے ہیں جو رہ رہ کر چھوٹتے چلے جاتے ہیں۔ دلی کی بھرپور زندگی داغؔ کے کلام میں کچھ اس طرح جلوہ گر ہوگئی ہے کہ دیکھنے اور سننے والے دیکھتے اور سنتے رہ جاتے ہیں۔ دلی کی بولی ٹھولی اپنی پوری موج زنی کے ساتھ داغؔ کی غزلوں میں لہرا رہی ہے۔ داغؔ کیلئے رائے عامہ بالکل سچائی پر تھی کہ یہ شخص زبان کا لاثانی جادوگر ہے ۔ اردو شاعری نے داغؔ کے برابر کا فقرہ باز آج تک پیدا نہیں کیا اور نہ آئندہ کرسکے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK