Inquilab Logo Happiest Places to Work

برگزیدہ برگد

Updated: May 25, 2026, 3:05 PM IST | Mumbai

جنگل سے تھوڑی دور ی پر یہ برگد کا گھنا درخت تھا ۔ جنگل میں جنگل کا راج تھا ۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اُصولوںپر سارا جنگل عمل پیرا تھامگر حکمراں طبقے نے جمہوریت کا نقاب اُوڑھ کر سارے جنگل کو بے وقوف بنانےکا سلسلہ جاری رکھاتھا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

جنگل سے تھوڑی دور ی پر یہ برگد کا گھنا درخت تھا ۔ جنگل میں جنگل کا راج تھا ۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اُصولوںپر سارا جنگل عمل پیرا تھامگر حکمراں طبقے نے جمہوریت کا نقاب اُوڑھ کر سارے جنگل کو بے وقوف بنانےکا سلسلہ جاری رکھاتھا۔

یہ بھی پڑھئے : اجالے کا سفر

 برگد جمہوری اصولوںکی پاسداری کو فوقیت دیتا تھا اس  لئے جنگل کے باسی اسی گھنے برگد کی چھاؤں میں پناہ لینے آجاتے تھے ۔ جنگل سے دور ہونے کی وجہ سے یہاں جنگل راج نہیں تھا اور یہی بات جنگل کے پُرانے گِدھوںکوپھوٹی آنکھ نہ بھاتی تھی۔ اُنہوںنے ا س برگد کی جڑیںکاٹنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ اُ ن دو گِدھوں نے جنگل کے باسیوں کو مجبور کردیا تھا کہ اس برگد سے کوئی تعلق نہ رکھے مگر جنگل کے سبھی جانور امن پسندتھے۔ ویسے تو سارا جنگل ان دو گِدھوں سے پریشان تھا ۔ ہر کوئی ان سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتا تھامگر ان دو گِدھوں نے اپنی سلطنت کی جڑیںکچھ اس طرح سے پھیلا رکھی تھیں کہ ساراپانی ان کی سلطنت کی جڑیں حاصل کرلیتی تھیں ۔ان دونوں سے نجات نا ممکن تھی۔

’’بھائی ہم نے ہر طریقہ اپنا لیا مگر یہ برگداپنی حرکتوںسے باز نہیں آتا‘‘ چھوٹا گِدھ اپنا منہ ٹیڑھا کرکے بڑے گِدھ سے مخاطب ہوا۔ ’’آئے گا چھوٹے یہ ضرور اپنی حرکتوں سے باز آئے گا ۔سارے جنگل پر ہمارا دبدبہ ہے کسی کی مجال نہیں جو ہماری بات نہ مانے مگر پتہ نہیں یہ برگد کس مٹی کا بنا ہے جو ہماری کوئی بات ماننے کو تیا ر نہیں ‘‘  فکری مندی کی لکیریںبڑے گِدھ کی آنکھوں میں صاف پڑھی جاسکتی تھیں ۔’’بھائی اگرایسا ہی ہوتا رہا تو آپ کی چودھراہٹ جو سارے جنگل پہ چھائی ہوئی ہے بہت جلد ختم ہوجائے گی‘‘چھوٹا گِدھ مسلسل بڑے گِدھ کو اُکساتا رہا۔

یہ بھی پڑھئے : ’’زبانوں میں کوئی تفریق نہیں ہے‘‘

بڑے گِدھ نےچھو ٹے گِدھ کی طرف اپنی لمبی گردن گھمائی اوربڑی رعونت سے بولا’’تمہاری دِلی تمنا ضرور پوری ہوگی بس تھوڑا اور انتظار کرو۔‘‘ دونوں گِدھوں کی آنکھیں شعلے برسا رہی تھیں ان کےہر انداز سے غصہ مترشح ہورہا تھا ۔دو کانٹے دار جھاڑیاں ان گِدھوں کا مسکن تھیںحالانکہ ان دونوں جھاڑیوں کے درمیان بہت فاصلہ تھا مگر مشترکہ لالچ اور مفاد پرستی اور سارے جنگل پرحکمرانی کے جذبے نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے جوڑ رکھا تھا ۔ برگد بہت پرانا تھا ۔اس  لئے اس کے تعلقات سارے جنگل سے تھے ۔یہ بات بھی ان دو گِدھوں کوبالکل پسند نہیں تھی۔سارے جنگل میں برگد کے یہی دو دشمن نہیں تھے بلکہ گِدھوں کی فطر ت و ذہنیت سے مطابقت رکھنےوالے بہت سے قبر بجّو ، بچھوّ ،لومڑی سانپ اور چوہے وغیرہ ایسے چھپے دشمن بھی تھے جو برگدکیلئے دل میں دشمنی کا جذبہ رکھتے تھےکیونکہ ان کے مفاد گِدھوں سے وابستہ تھے۔ یہ گِدھ ان کو ہر جائز و ناجائزکام میںمعاونت کرتے تھے اور دیگر عیش و آرام کی چیزیں آسانی سے مہیا کردیا کرتے تھےاور آنےو الے خطرات میںان کی حفاظت کا ذمہ بھی ان ہی گِدھوں نےلے رکھا تھاحالانکہ وہ خطرات انہی دو گِدھوںکی جانب سے پیدا کردہ ہوتے ۔ 

برگد اور گِدھوں کے مابین نظریاتی  اختلاف وہی تھے جو حق وباطل کے مابین تھے  ۔ ابلیس کے چیلے گِدھ  ابلیسی قوتو ں سے بہت ساری مراعات حاصل کرتے تھے۔ابلیس کا فرمان تھاکہ سارے جنگل میںاس کا قانون چلے مگر برگد نمائندۂ  حق تھا۔ سارا جنگل دو حصوں میں تقسیم ہوچکا تھا۔برگد بھی اکیلا نہیں تھا اسی کےعلاقے کے دو مخلص دوستوں کاساتھ بھی اسے حاصل ہوچکا تھا مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس کی آستین میں ایک ایسا احسان فراموش چھپادشمن بھی ہے جو اس سے سارے فائدے حاصل کرتا ہے مگر وقت بوقت دشمن کی مہمان نوازی بھی قبول کرلیتا ہے۔برگد کے مخلص دوست اس کی ہر ممکن مدد کرنا چاہتے تھےمگر یہ کا م وہ کُھل کر نہیںکرسکتے تھے کیونکہ وہ جنگل کے سربراہان کے سامنے جوابدہ تھے ۔

یہ بھی پڑھئے : الفاظ کی اپنی انوکھی دُنیا ہے اور ان کی آپ بیتی میں حیرت انگیز موڑ ہیں

جنگل کے سربراہان بھی مخلص نہیں تھے۔ان کی عیاشیاں ، مفاد پرستی اور دولت و اقتدار کی ہوس اُنھیںکُھل کی برگد کی حمایت کی اجازت نہیں دیتی تھی۔حق کی سربلندی کی اس جنگ میں برگد اکیلا تھا ۔ اپنے خاندان والوں سے بھی اس نے بار بار مدد طلب کی مگر خاندان کے لوگ بھی در پردہ باطل کے طرفدار تھے۔ اُنھیں ابدی کامیابی کی بجائے آج کی عیاشیاںعزیز تھیں ۔ اس لئے وہ جنگل کے تمام حالات سے واقف ہونے کے باوجود برگد کا کھل کر ساتھ نہیں دیتے تھے ۔تمام کوششوں کے باوجود گِدھ اپنی سازشوں میںناکام ہوگئے’’بڑا گِدھ چھوٹے گِدھ سے مخاطب ہوکر کہنے لگا ’’چھوٹے اب ان ہلکے حملوں سے کچھ نہیں ہوگا اب کچھ بڑا سوچنا ہوگا ‘‘پھر دونوں گِدھوں کے شیطانی دماغ چلنے لگے ،ان گِدھوں نے برگد کے گھر میں سیندھ لگائی ۔برگد کے مخلص ساتھیوںکو ورغلایا۔ اُنہیں اپنے ساتھ ملالیا ۔قبر بجّو ، بچھو ، سانپ ، لومڑی اور چوہےنیز ابلیس کے دیگر ہر کاروں نے گِدھو ں کو کامیاب کرانےکے  لئے سر دھڑکی بازی لگادی اور طاغوتی قوتوںکے سامنے اکیلا برگد سینہ سپر تھا۔

یہ بھی پڑھئے : باقی سب خیریت ہے

سارا جنگل سہماہوا تھامگر برگد کے حوصلے کی داد دے رہاتھا کیونکہ وہ ان کی بھی لڑائی تھی جو تنہا برگد لڑ رہاتھا۔ اکیلابرگد دونوں گِدھوں کےسینے پر مونگ دَل رہا تھا۔ برگد کی ہمت و حوصلے کو دیکھ کر دونوں گِدھ پریشان تھے ۔ اُنھیں اطلاعات مل رہی تھیںکہ برگد دن بدن مضبوط ہورہا ہے۔اس کے ہم خیال لوگو ںکا حلقہ وسیع ہوتا جارہا ہے۔ اُنھیں   اپنا ابلیسی مشن ناکام ہوتا نظر آرہا تھا ۔ ان کو یہ فکر ستائے جارہی تھی کہ اپنے آقاؤں کو کیا جواب دیں گے ؟

گِدھوںکی کوششیں کا میاب ہوئیں ۔اُنہوںنےگھر کا بھیدی لنکا ڈھائے والی پالیسیوںپر عمل کیا ۔گِدھوں نے کچھ ایسا جال بچھایا کہ برگد کے کچھ ساتھی گِدھوں کی حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ قبر بجّو ، بچھو،سانپ ، لومڑی اورچوہوں نے اچانک برگد کی جڑوں پر حملہ کردیا ۔ یہ حملہ اتنا شدید تھا کہ قدیم برگد زمیں بوس ہوگیا ۔ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔سارا جنگل سہم کر خاموش ہوگیا ۔سارے جنگل سے آہیں و کراہیںاُٹھ رہی تھیں۔سبھی برگد کی شہادت پرخون کے آنسوبہارہے تھے۔سب کے سامنے اب ایک ہی سوال تھا۔اب ہمارا کیا ہوگا ؟برگزیدہ برگد کو معلوم تھا کہ ایک دن اسے فنا کا جام پینا ہے۔ اس لئے اس نے اپنے جیسے بے شمار برگد کے پودے پہلے ہی زمین کےسینے میںگاڑ دیے تھے۔ ان میں سے کچھ پودے تناور درختوں کی شکل اختیا ر کر چکے تھے۔گِدھوں کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی مگراس فاتحانہ مسکراہٹ میں تشویش ، ڈر اور خوف کا عنصر بھی ملاہوا تھا ۔مستقبل میں کیا ہوگا ؟اس اندیشے نے ان کے چہرو ںکا رنگ بھی پھیکا کر دیا تھا۔ دونوںتذبذب کا شکار نظر آرہے تھے۔آسمان پر سیاہ مرغولے چھائے ہوئے تھے اورسارے جنگل پر ایک ویرانی چھائی ہوئی تھی ۔شام  کی شفق سیاہی میں ڈھل رہی تھی ۔ گِدھوں کے چہرے بڑے خوفناک نظر آرہے تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK