Inquilab Logo Happiest Places to Work

الہاس نگر کی برکاتیہ مسجد اور مدرسہ کو عدالت سے بڑی راحت

Updated: July 15, 2026, 12:34 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Ulhasnagar

میونسپل کارپوریشن کی انہدامی کارروائی پر روک، اسٹے برقرار۔

Barakatiya Mosque and Madrasa in Ulhasnagar. Photo: INN
الہاس نگر میں واقع برکاتیہ مسجد اور مدرسہ۔ تصویر: آئی این این

برسوں پرانی برکاتیہ مسجد، مدرسہ اور امام کی رہائش گاہ سے متعلق جاری قانونی تنازع میں الہاس نگر کورٹ نے ایک اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ ٹرسٹیان کو بڑی راحت فراہم کی ہے۔ عدالت نے الہاس نگر میونسپل کارپوریشن کو متنازعہ نوٹس اور انہدامی احکامات کی بنیاد پر فوری کارروائی سے روک دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ قانون میں مقرر مکمل طریقۂ کار پر عمل کئے بغیر مسجد، مدرسہ اور امام کی رہائش گاہ کے خلاف کوئی انہدامی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

تفصیلات کے مطابق الہاس نگر میونسپل کارپوریشن نے برکاتیہ مسجد، مدرسہ اور امام کی رہائش گاہ کو مبینہ طورپر غیر قانونی تعمیر قرار دیتے ہوئے شو کاز نوٹس اور انہدامی احکامات جاری کئے تھے۔ ان احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے متعلقہ ٹرسٹیان نے الہاس نگر کورٹ میں دیوانی مقدمہ دائر کیا تھا جس میں عبوری اور مستقل تحفظ کے ساتھ اعلانیہ ریلیف کی درخواست کی گئی تھی۔مدعیان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ کئی دہائیوں سے قائم یہ مسجد، مدرسہ اور امام کی رہائش گاہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ مقامی مسلم برادری کی دینی، تعلیمی، سماجی اور روحانی زندگی کا اہم مرکز ہے جہاں برسوں سے نماز، قرآن مجید کی تعلیم، دینی تدریس اور دیگر مذہبی سرگرمیاں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بی ایل او بھی تاریخ میں توسیع کے خواہاں

درخواست گزاروں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بعض فرقہ پرست اور سماج دشمن عناصر کے دباؤ میں اس مذہبی مقام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ میونسپل کارپوریشن کی مجوزہ کارروائی آئینی اصولوں اور قدرتی انصاف کے مسلمہ اصولوں کے منافی ہے۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران فریقین کے درمیان کئی مراحل پر تفصیلی بحث ہوئی۔ مدعیان کی جانب سے ایڈوکیٹ عزیر نجے نے مؤثر قانونی دلائل پیش کرتے ہوئے آئین ہند میں مذہبی آزادی سے متعلق بنیادی حقوق ،انہدامی کارروائی کے قانونی ضوابط، سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹ کے فیصلوں اور قانون کے مطابق اختیار کیے جانے والے لازمی طریقۂ کار پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ احمد قاضی اور سالوی اینڈ اسوسی ایٹس نے بھی قانونی معاونت فراہم کی۔

یہ بھی پڑھئے: سونیترا پوار کو دئیے گئے نوٹس میں کوئی ٹھوس بات اور سچائی نہیں ہے: سنیل تٹکرے

دوسری جانب الہاس نگرمیونسپل کارپوریشن نے بھی اپنا مؤقف عدالت کے سامنے رکھا جس کے بعد ایڈوکیٹ عزیر نجے نے جوابی دلائل پیش کرتے ہوئے کارپوریشن کے تمام قانونی اور واقعاتی نکات کا تفصیلی جواب دیا۔فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر عدالتی احاطہ غیر معمولی سرگرمی کا مرکز بنا رہا۔کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے کئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ عدالت کا کمرہ وکلاء، مختلف بار اسوسی ایشن کے اراکین، الہاس نگر میونسپل کارپوریشن کے اعلیٰ افسران، ڈپٹی میونسپل کمشنر اور دیگر سینئر انتظامی افسران سے بھرا ہوا تھا۔ عدالتی حکم کے بعد موجود افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے قانون کی بالادستی اور منصفانہ عدالتی عمل کی اہم توثیق قرار دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK