• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

خالد شاہین: بچوں کے ڈراموں کا ایک روشن چہرہ

Updated: September 28, 2026, 4:26 PM IST | Iqbal Niazi | Mumbai

وہ ایک ہشت پہلو شخصیت کے مالک تھے، وہ ٹیچر بھی تھے، شاعر بھی، ڈرامانگار بھی ، ہدایتکار بھی، صحافی بھی اور فلموں کے اسکرپٹ رائٹر بھی۔ انہوں نے بچّوں کیلئے۵۰؍سے زائد بہترین ڈرامے لکھے۔

Khalid Shaheen (in the roles of Inset and Marwari) with Iqbal Niazi (left) in the play "Nau Man Charbi". Photo: INN
ڈرامے ’’نو من چربی ‘‘ میںخالد شاہین (انسیٹ اور مارواڑی کے کردار میں) اقبال نیازی (بائیں) کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

ایک باب ختم ہوا...سات دہائیوں کی انتھک جدّوجہد نے سانس روک لی!بچّوں کا تھیٹر اپنے رہنما کی وِداعی پر اشک فشاں ہے۔خالدؔ شاہین کا وہ معصوم تھیٹر جس کے پاس خوشیوں کی ’’ہوم ڈلیوری ‘‘ کا معقول انتظام تھا......خالدؔ شاہین نے ۹۲؍ برس کی طویل عُمر پائی اور اُس میں ۷۵ ؍برس تو وہ بچّوں کے درمیان بچّوں کی طرح ہمکتے رہے،مچلتے رہے، اٹھکیلیاں کرتے رہے۔ میں نے اُنھیں اسکول میں بچّوں کے ڈراموں کی ریہرسل کرواتے دیکھا ہے۔ بچّے جتنا لُطف اندوز نہیں ہوتے اُس سے کہیں زیادہ خالدؔ شاہین اُن کے ساتھ کام کرکے مزے لُوٹتے، ناچتے، گاتے، بچّوں کے ساتھ خوب ہنسی مذاق کرتے۔ ایسا لگتا ہی  تھا کہ یہ اسکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں۔ خالدؔ شاہین کی اِس خوبی کی جب میں نے تعریف کی تو اُنھوں نے کہا۔’’اقبال ! تہیں پتہ ہے جب میں بچّوں کے لیے ڈراما لکھتا ہوں تو پتہ نہیں کہاں سے میرے اندر بہت سارے بچّے شرارتیں کرنے لگتے ہیں اور پھر میں بھی بچّہ بن جاتا ہوں، گھر والے میری عجیب و غریب حرکتوں پر ہنستے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:نئے پرانے چراغ: مہاراشٹر کی اُردو محفلوں کو نئی روشنی کی ضرورت

خالد ؔ شاہین بلا شبہ ایک ہشت پہلو شخصیت تھی، وہ ٹیچر بھی تھے، شاعر بھی، ڈرامانگار بھی ، ہدایتکار بھی، صحافی بھی اور فلموں کے اسکرپٹ رائٹر بھی۔ بچّوں کیلئے لکھے گئے اُن کے ۵۰؍سے زائد ڈراموں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ خالصتاً بچّوں کیلئے لکھے گئے ہیں، بچّہ بن کر لکھے گئے ہیں، ورنہ آج کل عموماً بچّوں کیلئے لکھے گئے ڈرامے بہت زیادہ ’’میچور‘‘ اور بچّوں کی عمر سے زیادہ سنجیدہ موضوعات پر مبنی ہوتے ہیں۔ خالدؔ شاہین کے تحریر کردہ ڈرامے اُن کی شخصیت کی طرح، شریر، منچلے، شوخیوں سے بھرے ہوئے اور اتراتے ہوئے لگتے ہیں۔ اِ س لیے اُن میں ایک فِطری بے ساختگی پائی جاتی ہے، مِزاح کا عنصر غالب ہے مگر ایک پُر اثر پیغام بھی۔ اُن کے اہم اور قابل ذکر ڈراموں میں ’’اندھیر نگری، مِلک سینٹر، اسکائی لیب کا ہوّا، میں بھی جج بنوں گا، داخلہ جاری ہے، چُوں چوں کا مربہ‘‘ بیحد مقبول ہوئے۔ یہ ڈرامے میونسپل کارپوریشن کے بالک اُتسو مقابلوں میں کئی کئی بار کھیلے گئے اورہر بار خوب انعامات بٹورے۔ خالد شاہین کے اِن ڈراموں کی بے پناہ مقبولیت کو دیکھ کر بالک اُتسو میں مراٹھی اسکولوں نے بھی اپنا ٹرینڈ تبدیل کیا اور وہ بھی کامیڈی ڈرامے کھیلنے لگے اور اُنھیں بھی کامیابی ملنے لگی۔ہمارے گروپ کِردار آرٹ اکیڈمی کے پہلے پروفیشنل فل لینتھ ڈراما ’’کتّے‘‘ اور ’’نومن چربی‘‘ میں خالد شاہین نے اہم کردار نبھائے اور اپنی منفرد اداکاری سے لوگوں کے ذہنوں پر انمٹ نقوش چھوڑ ے۔ بعد ازاں ۱۹۸۰ء میں ایک کمر شیل ڈراما ’’میری جان‘‘ میں بھی انھوں نے مرکزی کِردار نبھایا۔

ایک ملاقات جو ۵ سال قبل ہوئی، خالد شاہین گھنٹوں اپنے بارے میں بتاتے رہے اور بہت بے تکلفی سے، بے تکان بولتے رہے۔ اُنھوں نے بتایا تھا کہ محض ۱۶ برس کی عُمر میں جب وہ اسمٰعیل بیگ محمد ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھے تو چھٹی کی درسی کتب میں منشی پریم چند کی ایک کہانی ’’نادان دوست‘‘ پر اُنھوں نے ڈراما تیار کیا اور اپنی چال میں ہی رہنے والی ایک لڑکی اور پڑوسن کو تیار کرکے اِس کہانی پر ڈراما بنایا۔ چال کی عورتیں اور بچّے ہی اِس ڈراما کے ناظرین تھے۔  اِس ڈراما کی پسندیدگی سے اُنھیں حوصلہ ملا اور پھر یہ اُن کا معمول بن گیا۔  باتوںباتوں میں ایک بہت ہی خوبصورت بات اُنھوں نے کہی تھی کہ ’بچّوں کے لیے ڈراما کرتے ہوئے اپنے اندر کی بنجر زمینوں میں بھی اعتماد کی کونپلیں پُھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔‘‘خالد شاہین کو بہت ہی شفیق ، محترم ، باذوق اساتذہ کی رہنمائی اور محبت حاصل تھی، جن میں دلالؔ صاحب ، پرنسپل اے آر داؤد، عبدلغفار چورگھے، جالبؔمظاہری اور فصیح احمدصدیقی نے اُن کی ڈرامانگاری اور اداکاری کے شوق کو جلا بخشی اور خوب سراہا۔

یہ بھی پڑھئے:الگورتھم۶۶۶

خالد شاہین نے بچّوںکیلئے کہانیاں اور مضامین بھی لکھے جو تواتر سے ۱۹۵۰ء کی دہائی میں روزنامہ انقلاب میں ’’بچّوں کی دُنیا‘‘صفحہ پر شائع ہوتے رہے۔ اُن دنوں اکرمؔ الٰہ آبادی (جاسوسی ناوِل نگار) روزنامہ انقلاب کے نیوز ایڈیٹر تھے اور ’’بڑے بھیّا‘‘ کے نام سے ’’بچّوں کی دُنیا‘‘ مرتب کرتے تھے۔ خالد شاہین کی کہانیاں ، نظمیں انقلاب کے علاوہ کھلونا اور پیام ِ تعلیم  میں بھی شائع ہوتی رہیں اور افسانے ہفت روزہ  کہکشاں میں شائع ہوئے۔ اُن کا تحریر کردہ ایک رُومانی ناول ’’جاگتے خواب‘‘ دو برسوں تک ’’کہکشاں‘‘ میں قسط وار شائع ہوا تھا۔ خالد شاہین سے گفتگو کے دوران ہی اِس مضمون نگار کو یہ بھی پتہ چلا کہ اُنھوں نے ایک قلمی رسالہ ’’کھیل‘‘ بھی شروع کیا تھا جس کی کتابت، تصاویر، کارٹون اور سرِورق کا ڈیزائن سب وہ خود تیار کرتے تھے اور یہ قلمی رسالہ اسکولوں میں خوب پڑھاجاتا تھا۔

خالد شاہین کا تقرر ۱۹۵۸ء میں بحیثیت مدرس میونسپل کارپوریشن میں ہوا۔ اُسی سال روزنامہ ہندوستان( ممبئی) میں بچّوں کا صفحہ ’’کھلتی کلیاں‘‘ کی ترتیب و تزئین کی ذمہ داری اُنھیں دی گئی اور تقریباً ۲۰ ؍ برسوں تک نہایت خوش اسلوبی سے یہ کام وہ انجام دیتے رہے۔ بچّوں کی فنکارانہ صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کیلئے بزمِ کھلتی کلیاں کے زیر ِ اہتمام ممبئی میں پہلے انٹر اسکول ڈراما مقابلے کا آغاز ہوا۔ ۱۹۶۰ء سے ۶۶ء تک  یہ نہایت کامیابی سے  جاری رہا ۔ بائیکلہ ممبئی میں جیجا بائی ادّیان (رانی باغ) کے اوپن ایئر تھیٹر میں یہ مقابلے خالد شاہین کی رہنمائی میں ہوتے تھے اور ہال تماش بینوں سے کھچا کھچ بھرا ہو تا تھا۔ اِن مقابلوں میں بطور مہمان اور کبھی بطور جج غلام احمد خاں آرزو، عبدالحمید انصاری (بانی روزنامہ انقلاب) زاہد شوکت علی، مولانا حامداللہ انصاری، معین الدین حارِث، ساحرؔ لدھیانوی، مجروحؔ سلطانپوری، خمار بارہ بنکوی، شورؔ نیازی، شکیب بنارسی، کامریڈ عبدالجبار، اعجازؔ صدیقی (مدیر شاعر)، تاجدار احتشام، علی ایم شمسیؔ، ایم اے حجازیؔ ، قاضی مشتاق احمد، عیشؔ کنول، فلم اسٹار تبسّم، اکرم الٰہ آبادی اور قادر خان ہر سال بلا ناغہ شریک ہوا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: مجروح (سلطانپوری) منفرد شاعر، کامیاب نغمہ نگار اور عمدہ شخصیت

خالد شاہین مرحوم نے بہت کام کیا اور مُسلسل کیا، لیکن اپنے کام کی کبھی تشہیر نہیں کی ۔ اُن سے گفتگو کے بعد راقم حیران تھا کہ اِس شخص نے بغیر شور مچائے کتنا کام کردیا، کتنے فعال اور سرگرم تھے ۔ بچّوں کے  لئے خود کو وقف کردینے والے خالد شاہین کو کئی ریاستی و ملکی سطح کے اہم ایوارڈ و اعزازت حاصل ہوئے۔ بچّوں کیلئے مزاحیہ ڈرامے لکھ کر اور اُنھیں اسٹیج کرکے بچّوں کے تھیٹر کو ایک اعتبار و وقار بخشنے والے ، ایک نئی راہ دکھانے والے اور بعد کی نسلوں کو اُسی راہ پر چلنے کی ترغیب دینے والے خالدؔ شاہین کتنی خاموشی سے اَبدی نیند سو گئے۔ کہتے ہیں وہی انسان کامیاب ہوتا ہے جس کے اندر ’’خون‘‘ نہیں ’’جنون‘‘ دوڑتا ہے۔  یہ بات خالد شاہین کیلئے بھی کہی جاسکتی  ہےکہ اُن کے اندر خُون نہیں جنون دوڑتا تھا، بچّوں سے محبت کا، وابستگی کا، ڈراما کا جنون  اور اُن کا یہ جنون نئی نسل میں پوری آب وتاب کے ساتھ منتقل ہو، ہم یہی دُعا کرسکتے ہیں۔

ایک خلاق ذہین فنکار خالد شاہین کا ایک بڑا اور ناقابل فراموش کارنامہ یہ ہے کہ بچّوں کیلئے لکھے اور ہدایت سے سجے اُن کے ڈرامے مُسلسل سات برس (۱۹۷۳ء سے ۱۹۷۹ء تک) میونسپل کارپوریشن کے بالک اُتسو میں لگاتار اوّل اِنعام حاصل کرتے رہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے جو اب تک نہیں ٹوٹا۔
خالد شاہین کے سمدھی اور معروف افسانہ نگار سلام بن رزّاق اور اقبال نیازی کے بیحد اِصرار پر اُن کے ڈرامے مجموعہ کی شکل میں منظر ِ عام پر آئے جن میں چُوں چوں کا مربّہ، اے میرے دِل کہیں اور چل، ماں کا خواب، کولہو کے بیل، ٹوٹے ہوئے تارے (بچّوں کا ناوِل) ندامت کے آنسو(کہانیاں اور نظمیں) کتابی شکل میں شائع ہوکر مقبول ہوئے اور محفوظ بھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK