مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ وہ سبزیاں جو گیند نما ہوتی ہیں ان کی قیمتوں میں رہ رہ کے اچھا ل آتا رہتا ہے۔کبھی تو یہ اچھا ل ایسا بے پناہ ہوتا ہے کہ مذکورہ سبزی (کرکٹ کے گیند کی طرح)سبزی منڈی کے احاطے کو پار کر کے غائب ہوجاتی ہے۔ان سبزیوں کے دام اچھلنے سے بے چارہ گاہک ساری اچھل کود بھول بیٹھتا ہے۔آئیے کچھ ایسی ہی سبزیوں پر گفتگو کریں۔
مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ وہ سبزیاں جو گیند نما ہوتی ہیں ان کی قیمتوں میں رہ رہ کے اچھا ل آتا رہتا ہے۔کبھی تو یہ اچھا ل ایسا بے پناہ ہوتا ہے کہ مذکورہ سبزی (کرکٹ کے گیند کی طرح)سبزی منڈی کے احاطے کو پار کر کے غائب ہوجاتی ہے۔ان سبزیوں کے دام اچھلنے سے بے چارہ گاہک ساری اچھل کود بھول بیٹھتا ہے۔آئیے کچھ ایسی ہی سبزیوں پر گفتگو کریں۔
لہسن : یہ رس گلے جیسی جو شئے ہے،وہ بہت قیمتی ہے۔ اسے عرفِ عام میں ’ لہسن ‘ کہتے ہیں۔لہسن اپنی ’بُو ‘ کی بدولت دنیا بھر میں ’خوشبو‘ کی طرح مشہور ہے۔ کہتے ہیںایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کردیتی ہے مگر لہسن اپنی ایک قاش سے مچھلی اور گوشت کی بساندھ کو دیکھتے ہی دیکھتے ختم کردیتا ہے۔ پکی ہوئی حالت میں اس کا کھانا مشکل ہے لیکن اسے بڑے دل گردے کے لوگ ہنستے ہوئے کچا چبا جاتے ہیں۔لوگ اس کی بُو سے بھاگتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ اپنی بُو ہی کے ذریعے بعض بیماریوں کو بھگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سال میں ایک آدھ بار یہ بازار خوردسے غائب بھی ہوجاتا ہے۔جب جب یہ غائب ہوتا ہے تب تب عامۃ الناس یعنی آدمیوں (اور عورتوں کو آدمیوں سے زیادہ ) اس کی قدر و قیمت کا احساس ہوتا ہے۔اس کی گمشدگی پر اس کے چاہنے والے اسے ہر قیمت پر خریدنے کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ایسے عالم میں لہسن کی ایک ’قاش‘کے لئے گھریلو عورتیں اپنی (باخبر) پڑوسنوں سے رابطہ قائم کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتیں۔وہ چیزیں جو غائب ہو کر بھی دلوں میں جگہ بنائے رہتی ہیں ان میں لہسن کا شمار بھی ہوتا ہے۔
لیموں: وہ رہا لیموں ، لیموں کو نینبو‘بھی کہتے ہیں۔یہ ایک پھل ہے مگر ترکاریوں کے درمیان رہ کر اپنے چھوٹے قد کے باوجود ہر طرف سے خراج پاتا ہے۔گنّے کے رس کی دکانوں پر لیموں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ اس کا مستحق ہے یا نہیں یہ ایک الگ سوال ہے۔لیموں کو اس حال میں دیکھ کر یہ مصرع بہت یاد آتا ہے’ مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے‘۔لیموںکا یوں خاک ہونا گنّے کے رس میں کیف و سرورپیدا کرنے کا باعث ہوتا ہے۔لیموں ہر جگہ ملتا ہے جہاں نہیں ملتا وہاں اس کی کمی کو ’ لیموں نچوڑ ‘ پورا کر دیتے ہیں۔’لیمو نچوڑمفت خورے کو کہتے ہیں‘۔ ویسے لیموں کو نچوڑنے سے کھٹّا رس نکلتا ہے۔کہتے ہیں یہ ’رس‘ فکر کو رسا کرنے کے ساتھ ساتھ رنج و فکر سے آزاد ی کا سبب بھی بنتا ہے۔ گرمیوں میں جن کی رسائی لیموں رس تک ہو جائے وہ خودکو بڑا خوش نصیب تصّور کرتے ہیں۔بڑے حکیم کہتے ہیں کہ یہ جگر ، پھیپھڑے وغیرہ کے دھبّے دھونے کے علاوہ چہرے پر ملنے سے چہرے کے داغ ، دھبوں ، مہاسوں اور جھائیوں کو بھی دور کرتا ہے۔چونکہ اس کے چاہنے والوں کی کمی نہیں اس لئے مارکیٹ سے ’لیموں ‘ کا داغِ مفارقت دینا معمولی واقعہ نہیں خیال کیا جاتا۔
پیاز : اس سبزی کو دنیا جانتی ہے۔اسے پیاز کہتے ہیں۔یہ ایک پودا بھی ہے اور سودا بھی۔اس کا تنوی حصّہ اندرونِ زمین گیند کی شکل میں رہتا ہے۔ یہ ہنساتی بھی ہے اور ہنستے ہنستے رُلاتی بھی ہے۔یہ غذا بھی ہے اور دوا بھی۔جن گھروں اور جن ملکوں کے باسیوں میں آپس میں پیار و محبت ہو ایسے گھروں اور ملکوں میں پیاز کی کوئی کمی نہیں ہوتی۔ پیاز کا دیکھنا، پیاز کا سونگھنا، پیاز کا کھانا اور پیاز کا رکھنا ان سب کی اپنی اپنی اہمیت ہے۔یہ ہر طرح کے سالن کا اہم جز مانی جاتی ہے۔ یہ سالن میں ایک ہی بار ڈالی جاتی ہے۔ مگر ایک ایسا سالن بھی ہے جس میں اسے دوبار ڈالا جاتا ہے ، اُس سالن کو ’ دو پیازہ ‘ کہتے ہیں۔ ہجر کی رات کی طرح پیاز کی قلّت کے دن کاٹے نہیں کٹتے۔یہ ایام ایک عام آدمی کی زندگی کا یادگار واقعہ ہوتے ہیں۔امسال جب پیاز کا ’’کال‘‘ پڑا تھا تو کسی شاعر نے نہیں خودمیں نے دنیا کے درد کواپنا درد سمجھ کر یوں بیان کیا ؎
یہ بھی پڑھئے: جیفری آرچر: ایسا داستان گو جس کی اپنی زندگی بھی کسی کہانی سے کم نہیں تھی
انجام کہاں ، آغاز کہاں /آواز کہاں ہے ، ساز کہاں
لائی ہے کہاں یہ عمرِ رواں /دوپیازے میں اب پیاز کہاں
آلو:آلو ایک زمین دوز ترکاری ہے۔سال میں کم از کم ایک مرتبہ اس زمیں بوس ترکاری کے دام فلک بوس ہو جاتے ہیں۔یہ ایک میں بھی تنہا اور سو (۱۰۰) میں بھی اکیلی ترکاری ہے۔ہمارے ملک میں آلو اور پیاز کے دام پر عام آدمی کا دام طے ہوتا ہے۔یہ ایک پیمانہ ہے جس سے غربت ناپی جاتی ہے اور غریبی کی سطح کی صورت گری بھی ہوتی ہے ۔بیشتر ترکاریاں آلو کے تعاون ہی کے طفیل اپنا مقام بناتی ہیں۔پلاؤ اور بریانی جیسے شاہی پکوان کی شان آلو ہی کی مرہونِ منت ہواکرتی ہے۔اگر ان میں سے آلو کو نکال دیا جائے تو جو چیز بچ رہتی ہے، یار لوگ اسے بلا تکلف ’بالو‘کہتے ہیں۔چکن بریانی کھانے کے شائق پلیٹ میں آلو کو دیکھ کر ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے کوئی نعمتِ غیر مترقبہ ہاتھ آگئی ہو ۔ باورچی کو بریانی کا آرڈر دیتے وقت تاکید کی جاتی ہے بھائی خدا کے لئے بریانی میں آلو کی مقدار حد سے تجاوز کردینا، بھلا ہوگا۔مگر باورچیوں کو آلو سے نہ جانے کیا کد ہے کہ وہ ہر بار بریانی اور پلاؤ میں اِس کی مقدار خلافِ منشا کم کر کے شکایت کا موقع عنایت کرجاتے ہیں۔مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ نئے آلو کے بازا ر میں آتے ہی پُرانے آلو کی قدر و قیمت بڑھ جاتی ہے۔نیا آلو دیکھنے میں انڈے سے بر آمد ہونے والے چوزے کی مانند ہوتا ہے۔ایسا لگتا ہے وہ اپنے جسم پر جھالر دار چادر اوڑھے ہوئے ہے۔نئے آلو کا ذائقہ شیریں ہوتا ہے۔آلو کو بد مزگی روا لیکن شیرینی زیبا نہیں ہے۔اس لئے جہاں دیدہ نئے آلو سے اجتناب برتتے ہیں اور اسے مجبوری پر ہی منہ لگانے کی زحمت کرتے ہیں۔
ٹماٹر:ٹماٹر کا شمار بھی سبزیوں میں ہوتا ہے۔ جو لوگ اسے معمولی خیال کرتے ہیں ان کو اپنی غلطی کا احساس منڈی میں اس کی عدم موجودگی سے ہوتا ہے۔ٹماٹراصل میں ایک پودے کا پھل ہے۔بازار کی رونق اور سالن میں سواد اسی کے دم سے ہوتا ہے۔ٹماٹر سبز بھی ہوتا ہے اور سرخ بھی ۔ مگر دانا اس کی سبزی اور سرخی پر نہیں بلکہ اس کے ڈیل ڈول پر جاتے ہیں۔اس میں حیاتین ’ ج‘ پایا جاتا ہے۔جب آدمی مدت دراز تک حیاتین ’ ج‘ کا استعمال نہیں کرتا تو وہ ایک دن خستہ ٹماٹر کی مانند ہو جاتا ہے۔سڑے گلے ٹماٹر کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔اس کے ذریعے سیاسی جماعتیں اپنے حریفوں پر حملہ آور ہو تی ہیں۔ یہ حملہ بالعموم کامیابی سے ہمکنا ر ہوتا ہے۔ٹماٹر کا آبائی وطن امریکہ بتلایا جاتا ہے۔امریکیوں کے رنگ و روپ کو نکھارنے میں ٹماٹر کے یوگ دان سے انکار نہیں ۔ امریکی گلاب اور امریکی ٹماٹر ایک سمان ہوتے ہیں۔ متذکرہ سبزیوں کے (ہوش رُبا )بیان کے بعد سبزی منڈی کی سیر یہیں روکی جاتی ہے۔