بڑے کے گوشت کی آڑ میں شرانگیزی، پولیس نے معاملہ درج کرکے گوشت سے لدا ٹیمپو دیونار لوٹادیا۔ فارینسک لیباریٹری میں جانچ کے لئے نمونہ بھیجا گیا۔
EPAPER
Updated: October 12, 2026, 1:18 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Dharavi
بڑے کے گوشت کی آڑ میں شرانگیزی، پولیس نے معاملہ درج کرکے گوشت سے لدا ٹیمپو دیونار لوٹادیا۔ فارینسک لیباریٹری میں جانچ کے لئے نمونہ بھیجا گیا۔
دیونار سلاٹر ہاؤس سے دھاراوی کے کٹی واڑی علاقے میں بڑے جانور کے گوشت لانے کی آڑ میں ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی، مگر ناکام رہی۔ یہ واقعہ جمعہ کو پیش آیا تھا۔ اس تعلق سے وی ایچ پی کے ممبئی کے منتری راجیو چوبے نے ساہو نگر پولیس میں شکایت کی اور ویڈیو بناکر اسے عام بھی کیا۔ اس پر ایم آئی ایم کی مقامی یونٹ کے عہدیداران اور مقامی لوگ بھی بڑی تعداد میں پولیس اسٹیشن میں جمع ہوگئے۔
دراصل جمعہ کے دن حسب معمول جب دکانوں پر سپلائی کرنے کے لئے ٹیمپو کے ذریعے دیونار سے گوشت لایا گیا تو وی ایچ پی کی شکایت پر پولیس نے ٹیمپو پکڑا اور گوشت سے لدا ٹیمپو دیونار واپس بھیج دیا جہاں فارینسک ٹیم اس کی جانچ کے لئے نمونہ لے گئی، رپورٹ آنے کے بعد کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔
کس نے وی ایچ پی کو حق دیا ہے؟
س تعلق سے ایم آئی ایم کے مقامی ذمہ دار سید منور علی ، فرحان شیخ اور فرید اشرفی کے علاوہ مقامی بڑی تعداد میں ساہو نگر پولیس اسٹیشن پہنچے اور تفصیلی بات چیت کی کہ آخر ضابطے کے تحت دیونار سے لائے جانے والے گوشت کے تعلق سے اس طرح رخنہ اندازی کیوں کی جارہی ہے؟ مسلمانوں کو کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے اور دھاراوی کو پاکستان بنانے کا گھٹیا الزام کیوں عائد کیا جارہا ہے؟ ان حضرات کا سوال یہ بھی تھا کہ کیا وی ایچ پی سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر راجیو چوبے کو ہنگامہ آرائی کرنے اور مسلمانوںکو نشانہ بنانے کی چھوٹ مل گئی ہے اور کیا اسے قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت حاصل ہے؟ اگر نہیں تو اس کے خلاف پولیس سخت ایکشن لے۔ اس پر پولیس نے یقین دلایا اور تحریری شکایت کرنے کی ہدایت دی۔ چناچہ آج پیر کے دن ایم آئی ایم کی جانب سے سینئر انسپکٹر، اے سی پی اور ڈی سی پی سے تحریری شکایت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: غیر قانونی بوٹلنگ پلانٹس کیخلاف کارروائی کا مطالبہ
وی ایچ پی نمائندے کی شکایت اور وضاحت
وی ایچ پی کے عہدیدار راجیو چوبے سے جب انقلاب نے مذکورہ بالا شکایات کے تعلق سے پوچھا تو انہوں نے صفائی دی اور کہا کہ دراصل کٹی واڑی میں جہاں دکانوں کے لئے گوشت ٹیمپو سے نکال کر سپلائی کیا جارہا تھا وہ کھلا ہوا تھا ڈھک کر نہیں لے جایا جارہا تھا جبکہ قریب میں بڑا گنیش مندر ہے۔ اس پر میں نے اعتراض کیا اور ویڈیو بنایا تو ڈرائیور نے بدتمیزی کی اور میرے اوپر گاڑی چڑھانے کی بھی کوشش کی۔
راجیو چوبے سے انقلاب کے پوچھنے پر کہ یہ کہا جاتا ہے کہ آپ وی ایچ پی سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر ہفتہ مانگتے ہیں ، دھونس جماتے ہیں، مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ماحول خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پہلے بھی ایسی حرکتیں کرچکے ہیں ،اسی طرح آپ دھاراوی کو پاکستان نہ بنانے کی دھمکی دیتے ہیں جو کہ ویڈیو میں بھی موجود ہے جبکہ یہاں سبھی مل جل کر بھائی چارے سے رہتے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ یہ غلط اور بے بنیاد الزام ہے، اگر ایسا ہے تو ثبوت پیش کیا جائے کہ میں نے کب ہفتہ وصولی کی، ورنہ الزام لگانے والوں کو جواب دینا ہوگا۔
وی ایچ پی کے نمائندہ نے یہ اعتراف بھی کیا کہ میری شکایت کھلے گوشت لے جانے کی تھی، گوشت کس جانور کا تھا، یہ آگے کا معاملہ ہے اور رپورٹ آنے کے بعد اس کی وضاحت ہوگی۔
پوسٹر چھپواکر بھی گروپ میں بھیجا اور اکسایا گیا
راجیو چوبے کی جانب سے ایک پوسٹر شائع کرکے گروپ میں بھیجا اور اکسایا جارہا ہے ۔ پوسٹر کی سرخی ہے ’کٹر ہندو رکشک راجیو چوبے پر حملہ دھاراوی کراس روڈ پر کیا گیا۔ دیگر تفصیلات کے ساتھ اخیر میں لکھا گیا کہ ’گئوتسکری اور بے ضابطہ گوشت فروخت کرنے والوں پر کارروائی روکو‘، نمایاں طور پر لکھا گیا ہے۔
دیونار جنرل منیجر نے کیا کہا؟
اس تعلق سے دیونار کے جنرل منیجر کلیم پاشا پٹھان نے کہا کہ جس مسئلے کی آپ بات کررہے ہیں، میں اس سے واقف ہوں، یہ گوشت دیونار سے لے جایا گیا تھا اور ضابطے کے تحت رسید وغیرہ بھی دی گئی تھی۔ اگر کسی نے شکایت کی ہے تو رپورٹ آنے کے بعد سب کچھ واضح ہوجائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام ضابطوں کی تکمیل کے بعد سے سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی میں دیونار مذبح میں وہی جانور ذبح کئے جاتے ہیں جن کی قانوناً اجازت ہے ۔