شہریوں کووارڈ آفس اور ضلع پریشد کے محکمہ صحت کے دفتر کا چکر لگانا پڑ رہا ہے ،برتھ /ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے ۳؍ تا ۴؍ ماہ لگ رہے ہیں۔
ممبرا میں شہری سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے قطار میں کھڑے ہیں۔ تصویر: انقلاب
مرکزی اور ریاستی حکومت نے تھانے میونسپل کارپوریشن کو ہدایت جاری کی ہے کہ نیا اور پرانا پیدائش اور موت کا سرٹیفکیٹ کا ڈیجیٹل اور کیو آر کوڈ والا ہی جاری کریں اور اسے جاری کرنے کیلئے تھانے ضلع پریشد کے ہیلتھ آفیسر کی منظوری حاصل کریں، وہاں سے منظوری ملنے کے بعد ہی برتھ اور ڈیتھ کا سرٹیفکیٹ جاری کریں لیکن تقریباً۸؍کروڑ ۲۶؍ لاکھ آبادی والے تھانے ضلع کیلئے محض ایک افسر کو اختیار اور لاگ ان دیاگیا ہے جبکہ پورے ضلع کی ۶؍ میونسپل کارپوریشن اور متعدد ضلع پریشد سے مذکورہ افسر کو یومیہ ۵؍ ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہو رہی ہیں،ان سبھی کو چیک کرنا اور انہیں منظوری دینا ایک افسر کیلئے ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایک برتھ یا ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے شہریوں کو ۳؍ تا ۴؍ ماہ کا وقت لگ رہا ہے اور شہریوں کو وارڈ آفس کے چکر کاٹنے پڑ رہے ہیں۔ انتظامیہ کی اسی بدنظمی کے سبب متعدد شہری اپنے بچوں کو اسکول میں داخلہ نہیں کروا پارہے ہیں اور اسی طرح برتھ /ڈیتھ سرٹیفکیٹ نہ ملنے سے دیگر کام بھی رک گئے ہیں۔
اس سلسلے میں تھانے میونسپل کارپوریشن معذور کی رابطہ کمیٹی کے رکن محمد یوسف خان نے ضلع پریشد کے ہیلتھ آفیسر سے ملاقات کی اور میمورنڈم دے کر درج ذیل مطالبات کئے:
ضلعی سطح پر برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی جانچ اور منظوری کیلئے لاگ ان اور اس کام کیلئے افسران کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ شہریوں کو ۳؍تا ۴؍ مہینے انتظار نہ کرنا پڑے۔
شہریوں کیلئے ہیلپ ڈیسک: مقامی سطح پر ہیلپ ڈیسک شروع کیا جائے جہاں شہری اپنی درخواست کے تعلق سے معلومات حاصل کر سکیں۔
ضلع اور میونسپل کارپوریشن کی سطح پر افسران اور ملازمین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔
تھانے ضلع پریشد کی محکمہ صحت کی آفیسر سپریہ دریکر نے یوسف خان کو یقین دلایا ہے کہ انہوں نے بھی ریاستی حکومت سے افسران اور لاگ ان کی تعداد میں اضافہ کرنے کی درخواست کی ہے۔