• Mon, 12 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۸؍ کروڑ۲۶؍ لاکھ آبادی اورپیدائش/موت کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کیلئے محض ایک لاگ اِن!

Updated: October 12, 2026, 1:29 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

شہریوں کووارڈ آفس اور ضلع پریشد کے محکمہ صحت کے دفتر کا چکر لگانا پڑ رہا ہے ،برتھ /ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے ۳؍ تا ۴؍ ماہ لگ رہے ہیں۔

People standing in line in Mumbra to obtain civic certificates. Photo: Inquilab
ممبرا میں شہری سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے قطار میں کھڑے ہیں۔ تصویر: انقلاب
 مرکزی اور ریاستی حکومت نے تھانے میونسپل کارپوریشن کو ہدایت جاری کی ہے کہ نیا اور پرانا پیدائش اور موت کا سرٹیفکیٹ کا ڈیجیٹل اور کیو آر کوڈ والا ہی جاری کریں اور اسے جاری کرنے کیلئے تھانے ضلع پریشد کے ہیلتھ آفیسر کی منظوری حاصل کریں، وہاں سے منظوری ملنے کے بعد ہی برتھ اور ڈیتھ کا سرٹیفکیٹ جاری کریں لیکن تقریباً۸؍کروڑ ۲۶؍ لاکھ آبادی والے تھانے ضلع کیلئے محض ایک افسر کو اختیار اور لاگ ان دیاگیا ہے جبکہ پورے ضلع کی ۶؍ میونسپل کارپوریشن اور متعدد ضلع پریشد سے مذکورہ افسر کو یومیہ ۵؍ ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہو رہی ہیں،ان سبھی کو چیک کرنا اور انہیں منظوری دینا ایک افسر کیلئے ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایک برتھ یا ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے شہریوں کو ۳؍ تا ۴؍  ماہ کا وقت لگ رہا ہے اور شہریوں کو وارڈ آفس کے چکر کاٹنے پڑ رہے ہیں۔ انتظامیہ کی اسی بدنظمی کے سبب متعدد شہری اپنے بچوں کو اسکول میں داخلہ نہیں کروا پارہے ہیں اور اسی طرح برتھ /ڈیتھ سرٹیفکیٹ نہ ملنے سے دیگر کام بھی رک گئے ہیں۔
 
 
اس سلسلے میں تھانے میونسپل کارپوریشن معذور کی رابطہ کمیٹی کے رکن محمد یوسف خان نے  ضلع پریشد کے ہیلتھ آفیسر سے ملاقات کی اور میمورنڈم دے کر درج ذیل مطالبات کئے:
ضلعی سطح پر برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی جانچ اور منظوری کیلئے لاگ ان اور اس کام کیلئے افسران کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ شہریوں کو ۳؍تا ۴؍ مہینے انتظار نہ کرنا پڑے۔
شہریوں کیلئے ہیلپ ڈیسک: مقامی سطح پر ہیلپ ڈیسک شروع کیا جائے جہاں شہری اپنی درخواست کے تعلق سے معلومات حاصل کر سکیں۔
ضلع اور میونسپل کارپوریشن کی سطح پر افسران اور ملازمین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔
تھانے ضلع پریشد کی محکمہ صحت کی آفیسر سپریہ دریکر نے یوسف خان کو یقین دلایا ہے کہ انہوں نے بھی ریاستی حکومت سے افسران اور لاگ ان کی تعداد میں اضافہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK