آج وہ چیخ چیخ کر اپنے محافظوں سے سوال کر رہی تھی، جن کے سامنے آج تک ستارہ نے چوں تک نہیں کی تھی۔ آج وہ اپنے حق کے لئے لڑ رہی تھی، مگر یہ کیا؟ بدزبان اور بے شرم جیسے گھٹیا الفاظ سے اسے نوازا گیا، جس کی اسے کبھی امید نہ تھی۔
EPAPER
Updated: April 16, 2026, 5:11 PM IST | Zeenat Malik | Mumbai
آج وہ چیخ چیخ کر اپنے محافظوں سے سوال کر رہی تھی، جن کے سامنے آج تک ستارہ نے چوں تک نہیں کی تھی۔ آج وہ اپنے حق کے لئے لڑ رہی تھی، مگر یہ کیا؟ بدزبان اور بے شرم جیسے گھٹیا الفاظ سے اسے نوازا گیا، جس کی اسے کبھی امید نہ تھی۔
موسم بڑا ہی خوشگوار تھا۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ سرد ہوا کے جھونکے پورے زور و شور سے اس کے وجود و ضمیر کو ماضی کی یادوں سے جھنجھوڑ رہے تھے۔ وہ بس خاموشی کے ساتھ اندر ہی اندر اپنے زخموں پر مرہم لگا رہی تھی۔ بار بار اس کے دماغ میں ہزاروں سوال گردش کررہے تھے۔
ستارہ.... جسے شاید آسمان میں چمکنے کا کوئی حق نہ ملا۔ اس کے نام کے معنی کے برعکس، اس کی قسمت اندھیروں میں کھو چکی تھی۔ اس کے احساسات، جذبات اور خواہشیں سب ایک زندہ لاش کی مانند ہو چکے تھے۔ اس کے ارمانوں کا خون ہوگیا تھا.... وہ ارمان جو اس نے میٹرک کے بعد دیکھے تھے۔ مگر یہ کیا؟ انٹر کے بعد ہی اس کے اپنے لوگوں نے اس کی خواہشوں کا گلا گھونٹ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سود و زیاں
’’امی، ابو پلیز! میرے ساتھ ایسا نہ کریں۔ مَیں آگے پڑھنا چاہتی ہوں۔ مَیں نے ہمیشہ آپ کا حکم سَر آنکھوں پر رکھا، کبھی آپ کی کوئی بات نہیں ٹالی۔ ہمیشہ اپنے آپ کو عزت، شرم و حیا کے دائرے میں رکھا۔ کبھی ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے آپ کو ذلت یا رسوائی کا سامنا کرنا پڑے۔ اور آپ ہی تو کہتے تھے کہ زمانے میں چاہے لاکھ برائی ہو، مجھے اپنی اولاد پر پورا یقین ہے۔ پھر ابّا جان، آپ نے یہ یقین کیسے توڑ دیا؟‘‘
آج وہ چیخ چیخ کر اپنے محافظوں سے سوال کر رہی تھی، جن کے سامنے آج تک ستارہ نے چوں تک نہیں کی تھی۔ آج وہ اپنے حق کے لئے لڑ رہی تھی، مگر یہ کیا؟ بدزبان اور بے شرم جیسے گھٹیا الفاظ سے اسے نوازا گیا، جس کی اسے کبھی امید نہ تھی۔
’’جلدی جلدی ہاتھ چلاؤ! جس طرح گھر کو سنوارا ہے، اسی طرح اپنے آپ کو بھی سنوار لو۔ آج شام کچھ لوگ آ رہے ہیں!‘‘
فرزانہ بیگم کے اس حکم کو سن کر ستارہ کو دھچکا سا لگا۔ وہ ماضی کی یادوں میں کھو گئی۔
بننے سنورنے کے نام پر ہمیشہ اس کی امی کہتی تھیں ’’بیٹی! اپنا کردار ایسا بناؤ کہ سب لوگ تمہاری سیرت سے پیار کریں، صورت سے نہیں۔ قدرتی حسن ہی حقیقی حسن ہوتا ہے، ستارہ!‘‘
’’ستارہ!‘‘ فرزانہ بیگم کی گرجدار آواز پر وہ چونک گئی۔
’’جی امی....!‘‘
’’کن خیالوں میں گم ہو؟ جلدی جا کر کام ختم کرو، اور ہاں، شام کے لئے....‘‘
بات پوری ہونے سے پہلے ہی ستارہ بول اٹھی ’’جی، مجھے یاد ہے....!‘‘
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: یادوں کی روشنی
***
’’ماشاءاللہ، ماشاءاللہ! بہت ہی پیاری بچی ہے آپ کی بیٹی۔ آپ کا کیا نام ہے؟‘‘ ایک عورت نے اسے گلے لگاتے ہوئے پوچھا۔
وہ جھجکتے ہوئے بولی ’’جی.... ستارہ۔‘‘
’’ارے واہ! بالکل اپنے نام کی طرح پُرکشش چمک ہے تم میں!‘‘
***
پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا، مگر ستارہ کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ میری قسمت تو اندھیروں میں کھو چکی ہے۔
آج حبیب وِلا پوری روشنی میں نہایا ہوا تھا۔ چاروں طرف خوشی کا سماں تھا۔ جس طرح چاند کی روشنی میں ستارے جگمگاتے ہیں، ویسے ہی ستارہ نکاح کے لباس میں جگمگا رہی تھی۔ مگر اس کے دل میں ہونے والی ناانصافی کا درد بار بار اسے بے چین کر رہا تھا۔ ماں باپ کی عزت کی خاطر وہ ہر دکھ کو اپنے اندر چھپائے بیٹھی تھی۔
آخرکار رخصتی کا وقت آگیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو تھم نہیں رہے تھے۔ وہ سوچ رہی تھی کہ معاشرہ کیا کہے گا، لوگ کیا سوچیں گے۔ اپنی ہر خواہش، ہر ارمان، ہر درد، ہر گلہ شکوہ اور تکلیف کو اس نے اپنے سینے میں دفن کر لیا۔ وہ موم کی گڑیا بنی اپنے گھر سے رخصت ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: آجاؤ....
اب سوال یہ ہے کہ کیا لڑکی ہونا واقعی گناہ ہے؟
کیا لڑکیوں کو خواب دیکھنے کا حق نہیں؟
کیا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا صرف لڑکوں کا حق ہے؟
ذرا سوچئے.... یہ صرف ایک ستارہ کی کہانی نہیں، نہ جانے کتنی لڑکیوں کی داستان ہے جو آج بھی تنگ نظری اور چھوٹی سوچ کی وجہ سے پیچھے رہ جاتی ہیں۔
کیا کبھی بدلاؤ آئے گا؟
یا پھر کوئی اور ستارہ ادھورے خواب لئے یوں ہی رخصت ہو جائے گی؟