Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: سود و زیاں

Updated: April 15, 2026, 1:16 PM IST | Hina Farheen Momin | Mumbai

مجھ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے یہ کیا معاملہ ہے؟ کل تک تو میری شکل دیکھنے تک کی روادار نہ تھی اور آج یہ کایا پلٹ.... ’’دھیرج دھیرج بیوی ذرا دھیرج دھرو۔ مَیں جلد ہی گھر پہنچ رہا ہوں، بس دعا کرو راستے میں ٹریفک میں نہ پھنس جاؤں۔‘‘

Photo: INN
تصویر: آئی این این

شام پانچ بجے دفتر سے نکل کر مَیں نے آج پھر سیدھا ساحل سمندر کا رخ کیا تھا۔ تقریباً ہفتے بھر سے میرا یہی معمول تھا۔ یہاں پہنچتے ہی مَیں نے دیکھا سورج سمندر کی آغوش میں اترتے ہوئے جیسے لمحہ بھر کو ٹھہر گیا ہو۔ افق پر پھیلی سنہری، گلابی اور ارغوانی روشنی شام کو ایک دلکش چادر اوڑھا رہی تھی۔ لہریں کنارے سے ٹکرا کر جھاگ بناتیں اور پھر شرمائی ہوئی واپس لوٹ جاتیں، جیسے شام کی خوبصورتی کو چھو کر رکنے کی اجازت نہ ہو۔

مَیں ساحل پر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ آنکھیں شام کے حسن میں الجھنا چاہتی تھیں، مگر دل کی ناراضی آڑے آ جاتی تھی۔ ثانیہ سے ناراض دل اس دلکش منظر سے لطف اٹھانا بھول چکا تھا، حالانکہ فطرت پوری کوشش کر رہی تھی کہ مجھےمنا لے۔ شام کی رنگینیاں میرے چہرے کو چھوتیں، مگر دل کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ جاتیں۔ دور سمندر پر اڑتے پرندے اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے، جیسے سب کو کسی نہ کسی ٹھکانے کی خبر ہو.... سوائے میرے۔ شام حسین تھی، بےحد حسین، مگر اس حسن میں بھی ایک ہلکی سی اداسی تھی، بالکل میرے دل کی طرح۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: یادوں کی روشنی

زندگی جس ڈگر پر چل پڑی تھی وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل ہوتی جا رہی تھی اور میں حقیقتوں سے فرار کے راستے تلاش کر رہا تھا جو منہ پھاڑے میرے سامنے کھڑی تھیں۔ میری کوشش ہوتی رات ۱۲؍ بجے سے پہلے گھر میں قدم نہ رکھوں۔ ثانیہ کی روز روز کی بحث و تکرار سے مَیں تنگ آچکا تھا۔ یہ بحث نہ جانے کب بڑھتے بڑھتے جھگڑے کی شکل اختیار کر لیتی اور مَیں اپنا آپا کھو دیتا ایسے میں ثانیہ پھٹ پڑتی اور میرے معصوم صورت توحید اور ضوفی سہم کر ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگتے۔ اس روز تو ثانیہ نے تمام حدیں پار کرکے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کر ڈالا اور مَیں بھونچکا رہ گیا۔ مجھے خوب اندازہ تھا کہ ماں باپ کی رنجشیں معصوم بچوں کے ذہن پر کیا کچھ اثر ڈالتی ہیں اسی لئے اس صورتحال سے بچنے کی خاطر مَیں نے دیر رات تک گھر سے باہر رہنے کی ٹھانی سو اس طرح اب جب میں گھر پہنچتا ہوں ثانیہ نیند سے نڈھال دروازہ کھولتی ہے۔ مَیں بھی خاموشی سے کچن میں جا کر جو کچھ موجود ہوتا ہے کھا پی کر سو جاتا ہوں۔ میری اس کوشش سے روزانہ کے جھگڑوں میں تو کمی آئی ہے لیکن ذہنی سطح پر ہمارے درمیان دوری ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔

اچانک موبائل کی مخصوص نوٹیفکیشن نے مجھے ثانیہ کے وائس میسیج موصول ہونے کی اطلاع دی یہ میرے لئے حیران کن تھا کیونکہ پچھلے کئی دنوں سے اس کی طرف سے مجھے کوئی پیغام نہیں ملا تھا۔ میں نے بے دلی سے پیغام سنا۔ ثانیہ کے الفاظ کچھ انوکھے تو نہ تھے مگر اس کا لہجہ.... وہ نیا تھا وہ فکر مندی سے کہہ رہی تھی ’’احد آپ کہاں ہیں؟ مَیں آپ کو کال کرنے کی کوشش کب سے کر رہی ہوں مگر شاید نیٹ ورک ٹھیک نہیں، آپ پلیز جلدی گھر آجائیں مَیں اور بچے آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘

مجھے تشویش نے آگھیرا، کہیں بچوں کے ساتھ کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگیا۔ مَیں نے ثانیہ کو کال کرنے کے لئے فون کو جیسے ہی اَن لاک کیا، اسکرین پر ثانیہ کالنگ جگمگانے لگا۔ ’’ہیلو ثانیہ.... ہیلو.... ہاں ثانیہ بولو....‘‘ دوسری جانب سے ثانیہ کی فکر مند سی آواز ابھری ’’ ہیلو! احد آپ.... آپ ٹھیک تو ہیں؟ آپ کہاں ہیں؟ آپ اب تک گھر کیوں نہیں لوٹے، پلیز آپ.... آپ گھر آ جائیے نا.... مجھے آپ سے اپنے تمام قصوروں کی معافی مانگنی ہے۔ پلیز آپ جلدی آجائیے....‘‘ اس کی لرزتی آواز میں آنسوؤں کی آمیزش تھی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: آجاؤ....

مجھ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے یہ کیا معاملہ ہے؟ کل تک تو میری شکل دیکھنے تک کی روادار نہ تھی اور آج یہ کایا پلٹ.... ’’دھیرج دھیرج بیوی  ذرا دھیرج دھرو۔ مَیں جلد ہی گھر پہنچ رہا ہوں، بس دعا کرو راستے میں ٹریفک میں نہ پھنس جاؤں۔‘‘ مَیں نے شوخی سے کہا۔

ثانیہ کے الفاظ سن کر مَیں بالکل ہلکا پھلکا ہوچکا تھا۔ ڈوبتے ہوئے سورج کو الوداع کہتے مَیں نے تیز رفتاری سے اپنے قدم بس اسٹینڈ کی طرف بڑھائے کہ اگر یہ بس نکل گئی تو آدھی رات سے پہلے گھر پہنچنا ممکن نہ ہوگا۔ صد شکر کے بس اسٹینڈ پر بس نکلنے کے لئے تیار کھڑی تھی مشکل سے ہی سہی مجھے بیٹھنے کے لئے سیٹ بھی مل گئی۔

سفر شروع ہوا اور ساتھ ہی میرے ذہن نے ماضی کا سفر بھی شروع کر دیا.... پانچ سال قبل ثانیہ جب میری زندگی میں بہار بن کر آئی تھی تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ حالات کبھی اس رخ پر آجائیں گے کہ معاملہ طلاق کی حد تک جا پہنچے گا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: کچھ کفارے کبھی ادا نہیں ہوتے

مَیں عبدالاحد سیدھا سادا آدمی گریجویشن کے بعد آئی ٹی سے جڑے چند کورسیز کرکے ایک پرائیویٹ کمپنی میں بطور منیجر کام کر رہا تھا۔ میری تنخواہ آج کے اس مہنگائی بھرے دور میں بہت پرکشش تو نہیں تھی لیکن چونکہ قناعت کا سبق اماں کی بدولت گھٹی میں پڑا تھا خیر و عافیت سے گزر رہی تھی۔ برسر روزگار ہوا تو اماں کے دل میں میرے سر پر سہرا سجانے کا ارمان مچل گیا۔ دور نزدیک دیکھا بھالا اور نظر انتخاب ٹھہری ثانیہ پر خوبرو نازک اندام ثانیہ نے میری بے رنگ سی زندگی میں دھنک رنگ بکھیر دیئے۔ اپنے پوتے کا منہ چومتے ہوئے اسے توحید نام دینے والی اماں جب چند دنوں بیمار رہ کر مالک حقیقی سے جا ملیں تب ثانیہ نے ہی محبت اور توجہ سے میرے بکھرے وجود اور میرے بکھرے گھر کو سنبھالا۔ ایک سال کے بعد گلشن حیات میں جب ضوفی نام کا پھول کھلا تو مجھے لگا میری دنیا مکمل ہو گئی۔ ہم دونوں نے طے کیا تھا کہ اپنے بچوں کیلئے مثالی والدین ثابت ہوں گے۔ فیملی بڑھنے سے اخراجات بھی بڑھ رہے تھے۔ انہی دنوں میں نے محسوس کیا کہ ثانیہ کے مزاج میں کوئی تبدیلی سی آرہی ہے۔ آج کل اس کی باتوں میں اس کی نئی سہیلی کا ذکر بڑھنے لگا تھا جو اسے اکثر قریبی پارک میں ملتی جب وہ شام کے وقت بچوں کو ٹہلانے نکلتی۔

اس کے ملبوسات، جویلری اور میک اَپ کو دیکھتے دیکھتے نہ جانے کب ثانیہ کے دل نے بھی ایسی ہی خواہشیں پلنی شروع ہوگئی۔ نتاشہ کسی امیر کبیر خاندان سے تعلق تو نہ رکھتی تھی مگر شاید اسے پہننے اوڑھنے اور نمائش کرنے کا فن خوب آتا تھا۔ وہ ثانیہ کو نہ جانے کیا کیا حکایتیں سناتی رہتی کہ اس کا دل بھی مچل جاتا اور پھر دھیرے دھیرے میرے گھر کا سکون درہم برہم ہونے لگا۔ میری واجبی سی آمدنی میں بچوں کی ضروریات سہولت سے پوری ہو جاتی لیکن جوں جوں ثانیہ کی خواہشات نے اپنے پَر پھیلانے شروع کئے میرا آشیانہ اس کیلئے ناکافی ثابت ہونے لگا۔ آئے دن ہونے والی آن لائن خریداری میرے مہینے بھر کے بجٹ کو اچھا خاصا ڈسٹرب کر دیتی۔ میں کریڈٹ کارڈ کا بل بھرتے بھرتے عاجز آگیا تھا۔

ثانیہ جو پہلے گھر کے سارے کام خوش اسلوبی سے کر لیتی تھی اب اسے ان کاموں کے لئے ہیلپر درکار تھے۔ میں بھی چھوٹے بچوں کے اضافی کاموں کے بوجھ کو سمجھتا تھا اس لئے ایک عدد نوکرانی کا انتظام پہلے ہی کر رکھا تھا لیکن اب اسے کھانا بنانے کیلئے بھی ایک ہیلپر درکار تھا جو میری استطاعت سے باہر کی بات تھی لہٰذا مَیں نے انکار کر دیا اور وہیں سے گھر میں جھگڑوں کی ابتدا ہوئی اور بڑھتے بڑھتے نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ ثانیہ نے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ اس مطالبے نے مجھ پر سکتہ طاری کر دیا۔ پانی سر سے کب اتنا اونچا ہوگیا مجھے اندازہ نہ ہوا۔ میری محبت میں آخر کہاں کمی رہ گئی جو ثانیہ اس حد تک چلی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: منزلیں اور بھی ہیں

میرے دماغ میں ایسے بے شمار سوالات کی یلغار تھی لیکن مَیں نے جانا ان حالات میں ہوشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ مسئلے کا حل تلاشا جائے۔ ایک ٹوٹا بکھرا خاندان میرے معصوم بچوں کی شخصیت کو توڑ کر رکھ دے گا مجھے عقل سے کام لینا ہوگا۔ انہی سوچوں کا نتیجہ تھا کہ مَیں گھر جانے میں دانستہ تاخیر کرتا تاکہ بچے سو جائیں اور ہمارے درمیان ہوئی تلخ کلامی ان تک نہ پہنچ سکے۔ فی الحال مجھے اس کے علاوہ کوئی حل نظر نہ آتا تھا کہ مَیں منظر سے غائب ہو جاؤں۔ ہاں مَیں واقف ہوں کہ یہ حل کوئی دیرپا حل نہیں لیکن مجھے فی الحال اس کے علاوہ کچھ نہ سوجھا۔

اور اسی وقت ڈرائیور نے تیزی سے بریک لگایا۔ بس ایک جھٹکے سے رکی اور مَیں بھی ماضی کے گلیاروں سے حال میں واپس آگیا۔ ثانیہ کی آنے والی کال میرے ذہن پر چھائی ہوئی کلفتوں کو دور کرنے میں کامیاب رہی تھی حالانکہ میں اس کال کے پس پشت موجود حالات و واقعات کو جاننے کے لئے بے چین تھا۔

’’دیکھئے صاحب اس ویڈیو کو دیکھئے کیا کیا ہو رہا ہے آج کل دنیا میں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔‘‘ اچانک میرے بازو کی سیٹ پر موجود مسافر مجھ سے ہم کلام ہوا۔

’’جی....‘‘ مَیں نے چونکتے ہوئے کہا ’’کیا ہوا بھائی؟‘‘ ہم لوگ اگرچہ ایک دوسرے کو جانتے نہیں تھے لیکن روزانہ کے سفر میں ایسے کتنے لوگ ہمیں ملتے ہیں جو محض ہم سفر ہونے کی بنا پر شناسائی کے تعلق میں بندھ جاتے ہیں۔ سلیم صاحب بھی ایسے ہی ایک ہم سفر تھے جن سے اکثر ٹرینوں اور بسوں میں ملاقات ہو جاتی تھی۔

’’دیکھئے ذرا کیسے اس بندے نے خود کشی کرنے سے پہلے اس کی وجوہات بتانے کیلئے یوٹیوب کا سہارا لیا ہے۔‘‘ مَیں نے حیران ہوتے ہوئے ان کے موبائل پر نظر ڈالی۔ کوئی ساحل رانا تھا۔ کسی نیوز چینل پر بریکنگ نیوز آرہی تھی کسی آئی ٹی پروفیشنل نے اپنے گھر میں پھانسی لگا کر خودکشی کر لی تھی۔ چونکانے والی بات یہ تھی کہ اس نے خود کشی کرنے سے پہلے پورے ۵۰؍ منٹ کی ایک ویڈیو ریکارڈ کی تھی جس میں اس نے اپنے انتہائی قدم کی وجہ اپنی بیوی اور اس کے مائکے والوں کو قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: شناخت کا سفر

مَیں نے جھٹ اپنے موبائل فون میں یوٹیوب پر جا کر اس واقعے کو سرچ کرنا شروع کیا وہاں کئی سارے نیوز چینل اس خبر کو کور کر رہے تھے۔ مَیں ساحل کا اصلی ویڈیو دیکھنا چاہتا تھا۔ ذرا سی تلاش کے بعد ۵۰؍ منٹ کا وہ ویڈیو میرے سامنے تھا۔ ویڈیو میں جو نوجوان نظر آیا وہ مایوسی و ڈپریشن کی مکمل تصویر معلوم ہوتا تھا۔ اس کے الفاظ اور لہجے سے وہ ایک سنجیدہ اور باشعور انسان نظر آرہا تھا۔ اس نے اپنی شادی شدہ زندگی کے نشیب و فراز شیئر کرتے ہوئے طلاق تک کے واقعات تفصیل سے بتائے تھے۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ اس کی بیوی کی روز بروز بڑھتی ہوئی ڈیمانڈز اور جھگڑوں کے سبب جب اس نے طلاق لینے کی ٹھانی تب اس کی بیوی نے اس پر کیس دائر کر دیا جس میں اس نے اپنے بیٹے کی کسٹڈی اور نان و نفقہ میں لاکھوں روپوں کی ڈیمانڈ کر دی۔ ساتھ ہی اس نے اپنے شوہر پر گھریلو تشدد کا چارج بھی لگایا۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے ساحل کے اس کیس میں لاکھوں روپے لگا دینے کے بعد بھی بیوی کی مانگیں پوری نہ ہو پا رہی تھیں اور وہ مزید ہرجانہ چاہتی تھی۔ساحل نے اس ویڈیو میں اپنی بیوی اس کے ماں باپ اور بھائی کے ساتھ اس کی وکیل اور سیشن جج پر بھی الزامات عائد کئے تھے جن سب کی ملی بھگت کے نتیجے میں ساحل نہ اپنا بچہ حاصل کرسکا تھا اور نہ ہی کورٹ کا فیصلہ اس کے حق میں آیا تھا بلکہ وہ معاشی طور پر قرض دار ہونے کے ساتھ ہی جذباتی طور پر شکست و ریخت کا شکار تھا اور انہی حالت کے سبب اس نے خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھایا تھا۔

مَیں ویڈیو دیکھنے کے بعد سکتے کی کیفیت میں تھا۔ اسے یوٹیوب پر اَپلوڈ ہوئے دو دن ہوچکے تھے اور اس پر اب تک ملینز میں ویوز آچکے تھے۔ سلیم بھائی کی بدولت بس میں سوار ہر مسافر ہی اس حادثے سے آگاہ ہوچکا تھا اور اپنی اپنی اسکرینوں پر اس واقعے سے متعلق خبریں معلوم کرکے اب تبصروں میں مصروف ہوچکے تھے۔ کوئی اس کی بیوی کو کوس رہا تھا تو کسی کے دل میں ساحل کیلئے ہمدردی کے جذبات امڈ رہے تھے تو کوئی ساحل کے اٹھائے اس قدم کو غلط ٹھہرا رہا تھا۔ میری ذہنی کیفیت بھی ان سب سے جدا نہ تھی۔

وقتی جھٹکے سے مَیں سنبھل چکا تھا اور اب آگے کے حالات جاننے کیلئے مختلف نیوز چینلز کو سرچ کر رہا تھا کہ اتنے میں میرا اسٹاپ جو بس کا بھی آخری اسٹاپ ہی تھا آگیا اور مَیں موبائل کو جیب میں ڈال کر اپنا آفس بیگ کاندھے پر لٹکائے باہر نکل آیا۔

مین روڈ سے چند قدم کے فاصلے پر ہی ہماری رہائشی کالونی تھی۔ مَیں تیز تیز قدم بڑھاتے ہوئے جلد از جلد گھر پہنچنا چاہ رہا تھا۔ میرے ذہن میں ساحل کا چہرہ، اس کا وہ مایوس اور زندگی سے ناراض سراپا گھوم رہا تھا۔ اچانک مَیں نے محسوس کیا علاقے میں ایک عجیب طرح کی خاموشی چھائی ہوئی ہے اور پولیس وین بھی گلی کے سرے پر کھڑی نظر آئی۔ مَیں نے ذرا توجہ دی تو مجھے جگہ جگہ مختلف نیوز چینلز کی وین بھی نظر آنے لگی۔ مجھے تعجب ہوا کہ آخر ماجرا کیا ہے۔ آس پاس نظر دوڑائی کچھ لوگ گروپ کی شکل میں باتیں کرتے بھی نظر آئے۔ مَیں نے سن گن لینے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ قریب ہی موجود گلشن ہاؤسنگ سوسائٹی سے کسی خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے اسی سلسلے میں یہ سارا ہنگامہ مچا ہے۔ مَیں نے گو مگو کی کیفیت میں گھر کی طرف قدم بڑھائے۔ کال بیل بجاتے ہی دروازہ فوراً کھلا۔ سامنے ثانیہ تھی جس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمایاں تھے۔ میرے اندر قدم رکھتے ہی وہ مجھ سے لپٹ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ توحید اور ضوفی بھی سہمے ہوئے اس کے ساتھ ہی لگے کھڑے تھے۔ اس کا رونا میری سمجھ سے بالاتر تھا۔ تاہم، میں نے اس کی پشت کو سہلایا اس کے آنسو پونچھتے ہوئے اس سے تسلی آمیز لہجے میں کہا ’’جان احد! آخر کیا افتاد آ پڑی ہے کچھ پتہ تو چلے؟ آخر کس نے میری بیوی کے مزاج کو یوں برہم کر دیا کہ آنکھوں سے ساون بھادوں جاری ہوگئے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: احساس نامہ

’’احد.... احد.... آپ مجھے معاف کر دیجئے۔ مَیں.... مَیں نادان نہ جانے میری عقل پر پتھر کیوں پڑگئے تھے کہ مَیں نے اپنے اتنے مخلص ساتھی کو دشمن جانا۔ وہ.... وہ.... نتاشہ یاد ہے آپ کو؟‘‘ مجھے فوری طور پر یاد نہ آیا....

’’وہی جس کا ذکر سن کر آپ عاجز آگئے تھے جو مجھے پارک میں ملتی تھی جس کے فیشن اور شاہانہ ٹھاٹ باٹ سے مَیں مرعوب ہوئی جاتی تھی۔‘‘

’’ہاں ہاں! اسے کیسے بھول سکتا ہوں آخر وہی تو وجہ بنی تھی نا میرے ہنستے کھیلتے گھر میں خزاں کے اترنے کی۔‘‘ میرے چہرے پر ناگواری کے تاثرات کو ثانیہ نے فوراً محسوس کیا۔ ندامت سے سر جھکا کر بولی ’’ہاں! اسی کی زرق برق زندگی کو دیکھ کر مَیں اپنے ہاتھوں اپنا آشیانہ اجاڑنے چلی تھی۔ آج اسے پولیس نے گرفتار کر لیا، پتہ ہے کیوں؟‘‘

’’کیوں؟‘‘ مَیں حیران ہوا۔

’’کیونکہ اسکے شوہر نے خودکشی کرلی۔‘‘ 

’’کیا...؟‘‘ میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئی، ’’کیا نام تھا اس کے شوہر کا۔‘‘

’’اس کا نام ساحل تھا۔ آپ نے یوٹیوب پر دیکھا اس کا ویڈیو؟‘‘ ثانیہ کے لہجے میں شرمندگی تھی، ’’مجھے اندازہ بھی نہیں تھا نتاشہ اتنے گھٹیا کردار کی عورت ہوگی۔ مَیں اس کی ظاہری شان و شوکت سے حد درجہ متاثر تھی حالانکہ مَیں نہیں جانتی تھی کہ یہ شاہانہ رکھ رکھاؤ وہ اپنے ایکس ہسبینڈ کے پیسوں سے حاصل کر رہی ہے، اور وہ بیچارہ دیکھیں کس طرح پس رہا تھا اس نامراد کے مطالبات پورے کرتے کرتے کہ زندگی سے آسان اسے موت نظر آئی۔‘‘

’’ہاں! مجھے بھی ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی پتہ چلا اس افسوسناک حادثے کا۔ یقیناً یہ ایک ہوش اڑا دینے والی خبر ہے۔ آج تک ہمارا معاشرہ صرف عورتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان سناتا رہا ہے جبکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی سنگین اور قابل توجہ ہے۔ چلو! بچوں کی حد تک اخراجات کی ادائیگی تو ٹھیک ہے لیکن آخر ایک شادی کی ناکامی کی صورت میں عورت کو یہ اختیار کہاں سے حاصل ہوگیا کہ وہ شوہر سے تاعمر ہرجانہ وصول کرتی رہے! کیا یہ اس کی غیرت اور حمیت کے لئے تازیانہ نہیں کہ ایک مرد جس کے ساتھ وہ کسی جذباتی، معاشرتی و جسمانی تعلق میں تو نہ ہو لیکن پیسوں کا تعلق بنائے رکھے یہ کہاں کا انصاف ہے۔میرے اندر غصے سے ابال اٹھ رہے تھے۔

’’بالکل درست کہہ رہے ہیں آپ اور دیکھئے مَیں کتنی کم عقل، اس کم ظرف کی باتوں میں آکر آپ پر کتنا دباؤ ڈالتی رہی، یہاں تک کہ اپنی بسی بسائی دنیا اجاڑنے کو تیار تھی۔ نہ جانے اب اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا پولیس والوں کا!‘‘

’’ہونا کیا ہے.... تھوڑے دنوں میں ضمانت اور پھر ہر کوئی سب کچھ بھول بھال کر اپنی زندگی میں مگن۔ ہم جیسے روزی روٹی کے دھندوں میں الجھے لوگوں کی یادداشت یوں بھی کمزور ہوتی ہے۔ ہم جیسے مصروف لوگ اپنی زندگی کی الجھنوں میں ایسے الجھے رہتے ہیں کہ بڑے سے بڑا کوئی واقعہ بھی چند دنوں بعد ذہن سے محو ہو جاتا ہے۔‘‘ میرا بے لاگ اور بے رحم تبصرہ سن کر ثانیہ تاسف سے سر جھکا کر رہ گئی۔ کمرے کی فضا میں ایک سوگوار سکوت چھایا تھا۔ جسے توڑتے ہوئے مَیں نے کہا ’’مگر مجھے اس بات کا اطمینان ہے کہ تمہیں یہ احساس ہوگیا کہ تم غلطی پر تھیں اور یقین جانو ہر غلطی قابل معافی ہے اگر وہ مان لی جائے۔ غلطی کرنا انسانی فطرت ہے مگر اس پر ڈٹ جانا شیطانی فطرت ہے۔دیکھو نا زندگی کے سود و زیاں کے اس سفر میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں اور کبھی کبھی دوسروں کی آزمائشوں سے سبق حاصل کرلینا بھی ہمیں خسارے کا سودا کرنے سے بچا لیتا ہے اور یہی ہماری کامیابی ہوتی ہے۔‘‘ مَیں نے ثانیہ کو نرمی کے ساتھ اس کی غلطی کا احساس دلایا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ : درد سے مسکراہٹ تک

سچ کہہ رہے ہیں آپ.... مجھے آپ کی ہر بات سے اتفاق ہے۔‘‘ ثانیہ نے دھیرے سے کہا ’’احد! ہم دوبارہ شروع کرسکتے ہیں نا؟‘‘ مَیں نے محبت سے اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔ اس لمحے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے بکھرتے ہوئے گھر کی دیواریں پھر سے مضبوط ہو رہی ہوں، جیسے زندگی نے ہمیں ایک اور موقع دیا ہو۔

توحید اور ضوفی بھی آہستہ آہستہ ہمارے قریب آگئے۔ ان کے معصوم چہروں پر اب وہ خوف نہ تھا، بلکہ ایک انجانی سی تسکین جھلک رہی تھی۔ مَیں نے جھک کر دونوں کو اپنے ساتھ لپٹا لیا۔ اس چھوٹے سے دائرے میں مجھے اپنی پوری دنیا سمٹی ہوئی محسوس ہوئی۔

کمرے کی فضا اب بدلی ہوئی تھی۔ باہر گلی میں شور، نیوز چینلز کی ہلچل اور دنیا کے مسائل اپنی جگہ موجود تھے، مگر ہمارے گھر کے اندر ایک نئی شروعات ہوچکی تھی۔ ایک ایسی شروعات جس میں مقابلہ نہیں، قناعت تھی.... شکوہ نہیں، شکر تھا!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK